اسلامیات

پاکی کا بیان

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (1) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ

جہاں نماز کے مسائل کا جاننا ضروری ہے، وہاں طہارت کے مسائل کا جاننا بھی ضروری ہے۔
بدن اور کپڑے اور مکان کی صفائی اور اس کی پاکیزگی کا اہتمام مذہب اسلام نے جس قدر کیا ہے، اس کی مثال کوئی مذہب پیش نہیں کرسکتا ہے۔ پاکیزگی کو مذہب اسلام نے جزو ایمان قرار دیا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:
اَلطہورُ شطرُالایمان: الحدیث (رواہ مسلم عن مالک الاشعری )
پاکیزگی جزو ایمان ہے۔
جزو ایمان ہی نہیں۔ بلکہ نصف ایمان ہے۔ چنانچہ سرکار دوعالم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الطہور نصف الایمان(رواہ الترمذی عن رجل من بنی سلیمٖؓ وقال ھٰذا حدیث حسن) زجاجہ ص۶۸۔
پاکی آدھا ایمان ہے۔اس کے بغیر مسلمانوں کی اہم عبادت جو نماز ہے جو حصول جنت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، بغیر طہارت صحیح نہیں ہوتی ۔چنانچہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا :
مفتاحُ الجنۃِ الصلوٰۃُ و مفتاحُ الصلوٰۃِ الطہورُ(رواہ احمد عن جابر)زجاجہ ص۶۷
جنت کی کنجی نماز اور خود نماز کی کنجی طہارت ہے۔
طہارت پاکی حاصل کرنے کو کہتے ہیں اور پاکی نجاست ہی سے حاصل کی جاتی ہے اس لیے پہلے نجاست سے بحث کی جاتی ہے۔
نجاست کا بیان
نجاست گندگی اور ناپاکی کو کہتے ہیں اس کی دوقسمیں ہیں: حقیقیہ اور حکمیہ۔
بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اس کا خون وغیرہ کا گندہ اور ناپاک ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اسی کو نجاست حقیقیہ کہتے ہیں۔ اور بعض چیزیں ہیں جن کا گندہ اور ناپاک ہونا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے ہیں، کیوں کہ اس پر ظاہری نجاست نہیں ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ناپاک قرار دیا ہے، جیسے بدن کا ناپاک ہونا، اس وجہ سے نہیں کہ اس پر ناپاکی لگی ہے؛ بلکہ اس وجہ سے کہ وضو یا غسل کی حاجت ہے، اسی کو نجاست حکمیہ کہتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: