اسلامیات

پاکی کا بیان

مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ قسط اول

جہاں نماز کے مسائل کا جاننا ضروری ہے، وہاں طہارت کے مسائل کا جاننا بھی ضروری ہے۔
بدن اور کپڑے اور مکان کی صفائی اور اس کی پاکیزگی کا اہتمام مذہب اسلام نے جس قدر کیا ہے، اس کی مثال کوئی مذہب پیش نہیں کرسکتا ہے۔ پاکیزگی کو مذہب اسلام نے جزو ایمان قرار دیا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلام ﷺ نے فرمایا:
اَلطہورُ شطرُالایمان: الحدیث (رواہ مسلم عن مالک الاشعری)
پاکیزگی جزو ایمان ہے۔
جزو ایمان ہی نہیں۔ بلکہ نصف ایمان ہے۔ چنانچہ سرکار دوعالم صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الطہور نصف الایمان(رواہ الترمذی عن رجل من بنی سلیمٖؓ وقال ھٰذا حدیث حسن) زجاجہ ص۸۶۔
پاکی آدھا ایمان ہے۔اس کے بغیر مسلمانوں کی اہم عبادت جو نماز ہے جو حصول جنت کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، بغیر طہارت صحیح نہیں ہوتی۔چنانچہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
مفتاحُ الجنۃِ الصلوٰۃُ و مفتاحُ الصلوٰۃِ الطہورُ(رواہ احمد عن جابر)زجاجہ ص۷۶
جنت کی کنجی نماز اور خود نماز کی کنجی طہارت ہے۔
طہارت پاکی حاصل کرنے کو کہتے ہیں اور پاکی نجاست ہی سے حاصل کی جاتی ہے اس لیے پہلے نجاست سے بحث کی جاتی ہے۔
نجاست کا بیان
نجاست گندگی اور ناپاکی کو کہتے ہیں اس کی دوقسمیں ہیں: حقیقیہ اور حکمیہ۔
بعض چیزیں ایسی ہیں کہ اس کا خون وغیرہ کا گندہ اور ناپاک ہونا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، اسی کو نجاست حقیقیہ کہتے ہیں۔ اور بعض چیزیں ہیں جن کا گندہ اور ناپاک ہونا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے ہیں، کیوں کہ اس پر ظاہری نجاست نہیں ہے؛ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ناپاک قرار دیا ہے، جیسے بدن کا ناپاک ہونا، اس وجہ سے نہیں کہ اس پر ناپاکی لگی ہے؛ بلکہ اس وجہ سے کہ وضو یا غسل کی حاجت ہے، اسی کو نجاست حکمیہ کہتے ہیں۔
نجاست حقیقیہ کے اقسام
نجاست حقیقیہ کی دو قسمیں ہیں:غلیظہ اور خفیفہ۔
جس چیز کے پاک اور ناپاک ہونے میں نص کا ٹکراؤ ناہو، بلکہ نص سے صرف نجس ہونے کا ہی ثبوت ہوتاہو، تو اس کو نجاست غلیظہ کہتے ہیں۔
اور جس چیز کے پاک اور ناپاک ہونے میں نص کا ٹکراؤ ہو، یا ایک حدیث سے ناپاک ہونا ثابت ہوتا ہے اور دوسری آیت یا حدیث سے اس کا پاک ہونا معلوم ہوتا ہے؛ لیکن نجاست کا ثبوت راجح ہو تو اس کو نجاست خفیفہ کہتے ہیں۔(زیلعی)
نجاست غلیظہ میں یہ چیزیں داخل ہیں:شراب انگوری، مردار جانور کا گوشت، چربی اور اس کی کچی کھال،سور بتمامہا،مچھلی،مچھر، پسو، کھٹمل کے سوا ہرقسم کے جانور کا بہتا ہوا خون۔
اِنَّمَا الخَمرُ وَالمَیسِرُ وَ الاَنصَابَ وَالاَزلَامُ رِجسٌ۔ (سورۃ المائدۃ: آیۃ)
بات یہی ہے کہ شراب اور جوا اور بت وغیرہ اور قرع کے تیر یہ سب گندی چیزیں ہیں۔
اِلَّا اَن تَکُونَ مَیتَۃً اَو دَمَاً مَسفُوحَاً فَاِنَّہُ رِجسٌ۔ (سورۃ الانعام، آیۃ:)
جن چوپاؤں کا گوشت کھانا حرام ہے ان کا پیشاب اور آدمی کا پیشاب خواہ دودھ پیتا بچہ ہی کیوں نہ ہو۔ ہرقسم کے چوپاؤں اور آدمی کا پاخانہ، مرغی، بطخ اور مرغابی کی بیٹ۔جن جانوروں کا گوشت کھانا حرام ہے، اس کا لعاب اور پسینہ؛ مگر گدھے، خچر کا پسینہ پاک ہے۔ ہر وہ چیز جو ناقض وضو یا موجب غسل ہو، جیسے منہ بھر قے،زخم کا بہتا ہوا پانی،پیپ،کچہ لہو اور منی، مذی وغیرہ۔یہ سب نجاست خفیفہ میں داخل ہیں۔ جن جانوروں کا گوشت کھانا حلال ہے، ان کا پیشاب اور گھوڑے کا پیشاب، اور جن پرندوں کا گوشت کھانا حرام ہے، ان کی بیٹ اور جن پرندوں کاگوشت کھانا حلال ہے، مرغی اور بطخ اور مرغابی کے سوا سب کی بیٹ پاک ہے۔
نجاست غلیظہ اگر گاڑھی ہو تو ساڑھے چار ماشہ وزن تک معاف ہے۔ اور اگر پتلی ہو تو ہتھیلی کی گہرائی کی مقدار معاف ہے، یعنی اگر اس کے رہتے ہوئے نماز پڑھ لے، تو نماز ہوجائے گی؛ لیکن مکروہ تحریمی ہوگی۔اس لیے اس کا دھونا اس پر واجب ہوگا۔ اور اگر اس سے کم ہے تو نماز مکروہ تنزیہی ہوگی، اس لیے اس کا دھولینا مسنون ہوگا۔اور اگر مقدار عفو سے زائد ہو، تو نماز صحیح نہیں ہوگی۔(درمختار)
اور نجاست خفیفہ اگر کسی عضو پر ہوتو چوتھائی عضو اور کپڑے پر ہو، تو اس کپڑے کی چوتھائی سے کم اور اگر کسی چیز پر ہو تو اس چیز کی چوتھائی سے کم ہو،تو معاف ہے، یعنی اس کے رہتے ہوئے نماز پڑھ لے تو نماز ہوجائے گی۔ لیکن اگر نجاست خفیفہ پانی میں پڑجائے،تو پانی کو نجس کردے گی۔پیشاب کی چھینٹ سوئی کی نوک کے برابر بدن یا کپڑے میں پڑے،تو وہ معاف ہے۔
نجاست حکمیہ کے اقسام
جس طرح نجاست حقیقیہ کی دو قسمیں تھیں، اسی طرح نجاست حکمیہ کی بھی دو قسمیں ہیں: چھوٹی نجاست حکمیہ اور بڑی نجاست حکمیہ۔چھوٹی نجاست حکمیہ کو حدث اصغر اور بڑی نجاست حکمیہ کو حدث اکبر کہتے ہیں۔حدث اصغر کی صورت میں وضو اور حدث اکبر کی صورت میں غسل کرنا پڑتا ہے۔
یہاں تک ہر قسم کی نجاستوں کا بیان ہوا۔ اب آگے ان سے پاکی حاصل کرنے کی صورتوں کا بیان ہوگا۔
اول نجاست حکمیہ سے طہارت حاصل کرنے کی جو صورتیں ہیں، ان کو بیان کرتے ہیں۔ یہ پہلے لکھ چکے ہیں کہ چھوٹی نجاست حکمیہ وضو کرلینے سے دور ہوجاتی ہے اور بدن پاک ہوجاتا ہے، اس لیے اول وضو کا بیان ہوتا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: