اسلامیات

پب جی گیم اور اس کے مورتی کے سامنے جھکنے کا شرعی حکم

امانت علی قاسمی استاذ و مفتی دارالعلوم وقف دیوبند

پب جی ایک آن لائن ملٹی پلیٔر گیم ہے یعنی ایک ایسا گیم جس میں کھلاڑی بناکسی ہتھیار کے اترتے ہیں اور گیم کے اندر ہتھیار شیلڈ گاڑیاں اور دیگر چیزیں حاصل کرکے اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہیں۔ آخری بچ جانے والا کھلاڑی فاتح قرار پاتا ہے۔ اس گیم میں دو ٹیموں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے اور ایک کھلاڑی سے لے کر سو کھلاڑیوں تک کی ٹیم ہوتی ہے جو انٹرنیٹ کے ذریعہ ایک دوسرے سے جڑتی ہے۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی جہاز سے زمین پر اتر کر پہلے اسلحہ تلاش کرتے ہیں اور پھر سامنے والے کھلاڑی پر فائرنگ کرکے مارتے ہیں۔

پب جی گیم بہت سی قباحتوں پر مشتمل ہے یہ ایک ایسا کھیل ہے جو صرف لہو و لعب پر مشتمل ہے ؛بلکہ ذہن و دماغ کو بھی متاثر کرتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے کھیلنے کی وجہ سے کھیلنے والے کا ذہن منفی بن جاتا ہے اور جس طرح کھیل میں وہ ماڑدھاڑ کرتا ہے اسی طرح خارجی زندگی میں بھی ایسا کرنے کو سوچنے لگتا ہے ،یہ گیم محض لا یعنی ہے، اس میں وقت، صحت اور دماغی قوت وطاقت کی بربادی کے علاوہ کوئی قابل ذکر دینی یا دنیوی فائدہ نہیں ہے۔ جو شخص اس گیم میں لگتا ہے، وہ اس کا ایسا رسیہ اور عادی ہوجاتا ہے کہ اُسے نماز وغیرہ کیا؟ بہت سے دنیوی ضروری کاموں کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ اور اسلام میں اس طرح کا کوئی کھیل جائز نہیں اگرچہ اس میں بے شمار ظاہری فوائد ہوںاور اب جو اس کی تفصیلات سامنے آرہی ہیں اس سے کفر کا بھی اندیشہ ہے اس لیے پب جی کھیلنا درست نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: