اسلامیات

پردے پر اعتراض کیوں؟ (معترضین کو مسکت جواب)

باسمہ تعالے
پردے پر اعتراض کیوں؟
(معترضین کو مسکت جواب)

خالد سیف اللّٰہ صدیقی
اسلام ایک برحق دین ہے۔ اسلام ایک سچا مذہب ہے۔ اس کا ہر حکم مبنی بر حکمت! اس کا ہر قانون پر از فائدہ! اس میں کوئی خامی نہیں! اس میں کوئی خرابی نہیں! اس میں کوئی نقص و عیب نہیں! ایسا اس لیےکہ اسلام خدا کی طرف سے نازل کردہ دین ہے۔اس خدا کی طرف سے جو علیم ہے، خبیر ہے،حکیم ہے۔
اسلام نے عورتوں کے لیے پردے کو ضروری قرار دیا ہے؛ چناں چہ قرآن حکیم میں ہے: ‘اے نبی! اپنی بیویوں، بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے فرما دیجیے کہ اپنے چہرے پر اپنی چادر کا کچھ حصہ لٹکاءے رکھیں‌'(یاایھاالنبی قل لازواجک وبناتک ونساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن،الاحزاب:٥٩)
اسی طرح کہا گیا ہے: ‘اور انہیں (عورتوں کو) چاہیےکہ اپنی اوڑھنیوں کے آنچل اپنے گریبان پر ڈال لیا کریں’۔
اس کے علاوہ قرآن حکیم کی بہت سی آیات اور نبی برحق کی بہت ساری احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پردہ عورتوں کے لیے لازم اور ضروری ہے۔یہ تو خیر اسلام کی بات تھی۔اسلام کے علاوہ دیگر ادیان و مذاہب میں بھی پردے پر بڑا زور دیا گیا ہے؛چناں چہ ‘تلمود’ جو یہودیوں کی مشہور و معروف اور مستند کتاب ہے،اس میں لکھا ہے: ‘مرد کبھی اپنے سر چھپا بھی سکتے ہیں اور کبھی کھلا بھی رکھ سکتے ہیں؛ لیکن عورتیں ہمیشہ اپنا سر چھپائیں گی، اور نابالغ بچیاں سر نہ چھپاءیں’۔
Gillion beattie women and marriage in Paul and his early Interpreters new york:continuum international publishing.group 2005 p:44
(اسلام پر بے جا اعتراضات:٥٤٧، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی)
اسی طرح ہندو دھرم کی مقدس اور بنیادی کتاب ‘وید’ میں پردے کا بہت واضح حکم ملتا ہےکہ: ‘چوں کہ برہم(خدا) نے تمہیں عورت بنایا ہے؛ اس لیے اپنی نظریں نیچی رکھو، اوپر نہیں! اپنے پیروں کو سمیٹے ہوئے رکھو اور ایسا لباس پہنو کہ کوئی تمہارا جسم دیکھ نہ سکے’ (حوالہ سابق:٥٤٥، بہ حوالہ:رگ وید:٨ /١٩ -٣٣-)
فی الوقت صرف ایک دو حوالے ہیں دیے جا سکے ،ورنہ اگر اس موضوع پر کتابیں کھنگالی جائیں اور مزید تحقیق کی جائے تو یقینا بہت سارے ادیان و مذاہب کی کتابوں سے بے شمار حوالے اور ثبوت پیش کیے جاسکتے ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ پردہ صرف ادیان و مذاہب کی ہی تعلیم نہیں ہے؛بلکہ یہ عین فطرت کے بھی مطابق ہے اور ہاں! یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ پردہ صرف بے چاری عورتیں ہی نہیں کرتیں؛بلکہ مرد بھی کرتے ہیں۔ فرق دونوں کے پردوں میں بس اتنا ہے کہ عورتیں اپنے جسم کے زیادہ حصوں کو چھپاتی ہیں اور مرد کم حصوں کو۔ خیر! تو بات چل رہی تھی کہ پردہ عین فطرت کے بھی مطابق ہے، عورتوں کی فطرت کے مطابق بھی،اور مردوں کی فطرت کے مطابق بھی! مردوں کی فطرت کے مطابق اس طرح ہے کہ مرد ہر وقت ناف سے گھٹنوں تک اپنے بدن چھپائے رکھتے ہیں، اور عورتوں کی فطرت کے مطابق اس طرح کہ عورت خواہ کتنی ہی بے حیا اور بے غیرت ہو جائے پورے بدن کو نہ سہی،بدن کے کچھ حصوں کو وہ ضرور چھپائے رکھتی ہے۔اس کے علاوہ بہت سارے علاقوں اور ملکوں کی وہ مسلم و غیر مسلم عورتیں جن کے پاس مطلق علم نہیں ہوتا،جو بالکل ان پڑھ اور گنوار ہوتی ہیں، وہ بھی پردہ کرتی ہیں،ان کا سارا خاندان اور سارا کنبہ قبیلہ پردہ کرتا ہے، اور پشتہا پشت سے ایسا ہوتا آیا ہے، اور ایسا وہ کسی مجبوری یا دباؤ کی بنا پر نہیں کرتیں؛بلکہ ازخود کرتی ہیں، اور بہ رضا و رغبت کرتی ہیں ،اوراس سے بڑھ کر یہ کہ ان کےماحول اور معاشرے میں پردے کو شرافت و حیا کا معیار تصور کیا جاتا ہے؛چناں چہ اس کے خلاف کرنے والی عورتوں کو اس ماحول میں اچھا نہیں سمجھا جاتا! خود ہم نے بعض دفعہ بعض علاقوں کی غیر مسلم عورتوں کو پردے کا بہت زیادہ اہتمام کرتے دیکھا تو دل میں آیا کہ یہ تو غیر مسلم عورتیں ہیں، پھر اتنا پردے کا اہتمام کیوں کرتی ہیں ؟مگر کیا کیجیے!فطرت ہے۔ فطرت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ فطرت کے آگے سپرانداز ہیں۔ فطرت کی مخالفت کی کس میں ہمت ہے؟
آخر راز کیا ہے؟ پردے میں ایسی کیا خوبیاں ہیں؟ پردے میں ایسی کیا خصوصیات ہیں کہ ادیان و مذاہب سمیت فطرت بھی پردے کی حمایت میں کھڑی ہوگئی؟ یہ حمایت ‘حمایت بےجا تو نہیں؟ یہ حمایت بے وجہ تو نہیں؟ یہ حمایت خواہ مخواہ تو نہیں؟نہیں! نہیں! یہ حمایت نہ حمایت ‘بےجا’ ہے، نہ بے وجہ ہے، نہ خواہ مخواہ ہے! پھر کیا معاملہ ہے؟ یہ حمایت اور تائید بہت سے اسباب کی بنا پر ہے۔
پہلا سبب تو یہ ہے کہ خدا نے تخلیقی طور پر انسان کو شرمیلا اور حیا دار بنایا ہے۔ نیز اس کے بدن میں کچھ ایسے اعضا بنا دیے کہ وہ انہیں چھپانا چاہتا ہے، انہیں دوسروں کی نگاہوں سے پوشیدہ رکھنا چاہتا ہے۔اور عورت چوں کہ زیادہ حیا دار ہوتی ہیں اس لیے وہ اپنے جسم کے زیادہ (بلکہ پورے) حصے کو چھپانا چاہتی ہیں (چھپائے رکھتی ہیں)
دوسرا سبب یہ کہ پردہ عورتوں کا محافظ ہے. پردہ عورتوں کی عزت و آبرو کی حفاظت کرتا ہے۔ اس کو ہم ایک مثال سے سمجھانا چاہتے ہیں۔ دو نوجوان لڑکیاں راستے پر چل رہی ہیں۔ ایک کے جسم پر پردہ ہے، سارا بدن کپڑے سے ڈھکا ہوا ہے۔ دوسری کے بدن پر کپڑا ہے؛ مگر بہت کم! سر کھلا ہوا ہے، بازو کھلے ہوئے ہیں، لمبےلمبےبال کندھے اور بازوؤں پر لٹک رہے ہیں، پنڈلیاں عریاں اور ننگی ہیں۔ سوچ کر بتاءیےگا! کہ لوگوں کی نگاہ کس پر جائے گی؟لوگ کس کی طرف مائل ہوں گے؟آوارہ اور اوباش لڑکے کس کو گھوریں گے؟ہوس پرستوں کی ہوس بھری نگاہیں کس پر گڑ جائیں گے؟ خدا نہ خواستہ اگر کوئی بد نیت چھیڑے گا تو کس کو چھیڑے گا ؟ظاہر ہے یہ سب دوسری والی کے ساتھ ہوگا۔ننگے سر،کھلے بازو اور عریاں پنڈلیوں والی کے ساتھ ہوگا!
یہاں پر ایک واقعہ یاد آیا۔ کسی شخص نے ایک بزرگ کے سامنے اعتراض کیا کہ ‘آپ لوگ عورتوں کو پردے میں کیوں رکھتے ہیں؟’ بزرگ نے بڑا معقول جواب دیا کہ ‘اگر گرمی کا موسم ہو، دوپہر کا وقت ہو، گرمی سخت پڑ رہی ہو اور تمہارے سامنے لیموں کاٹا جائے تو کس طرح تمہارے منہ میں پانی آجاتا ہے، اسی طرح عورتوں کو دیکھ کر مردوں کے منہ میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’
معترض لاجواب ہو گیا۔
تیسرا سبب یہ ہے کہ ماحول اور معاشرہ بد نگاہی، بدنظری اور اس طرح کی دیگر برائیوں سے پاک رہتا ہے۔ نوجوان لڑکے اور مرد فتنوں سے محفوظ رہتے ہیں۔
ان کے علاوہ اور بھی مختلف اسباب ہو سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جب پردے کے اتنے فائدے ہیں تو پھر لوگ پردے پر اعتراض کیوں کرتے ہیں؟ لوگ پردے کی مخالفت کیوں کرتے ہیں؟
پہلی بات تو یہ ہے کہ دنیا میں کون سی چیز ہے جس پر لوگوں کو اعتراض نہ ہو؟ ہر چیز پر لوگوں کو اعتراض ہے۔ ساری کائنات و موجودات کی سب سے بڑی حقیقت و صداقت خدا کا وجود ہے؛ مگر لوگ سب سے زیادہ اسی کے منکر! لوگ سب سے زیادہ اسی کے مخالف! لوگ سب سے زیادہ اسی پر معترض!
لوگوں کا اعتراض کسی چیز کے صحیح یا غلط ہونے کی دلیل نہیں ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ معترضین کا خیال ہے کہ یہ سائنس کا زمانہ ہے، ترقی کا زمانہ ہے، آزادی کا زمانہ ہے، حجاب اور پردہ پرانے زمانے کی چیز ہے،اس زمانے میں اس کے لیے کوئی گنجائش نہیں! یہ عورتوں کے ساتھ ظلم ہے! نا انصافی ہے! ان کو قیدی بنانا ہے! اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ترقی کی راہ میں حائل ہے!
جناب! یہ بات تو تسلیم کہ یہ زمانہ سائنس کا، ترقی کااور آزادی کا ہے؛ مگر ترقی یا آزادی کا یہ مطلب کہاں ہے کہ اپنی ماؤں بہنوں کے لباس ان کے جسموں سے اتار پھینکا جائے! انہیں عریاں اور بے لباس کر دیا جائے! ان کی شرم و حیا اور غیرت کو چیلنج کردیا جائے! اگر آپ کی نظر میں ترقی اور آزادی کا یہی مطلب ہے تو ہم ایسی ترقی اور آزادی کے مخالف ہیں! ہم ایسی ترقی اور آزادی کے دشمن ہیں!شدید ترین دشمن ہیں!!
بات رہی کہ یہ عورتوں کے ساتھ ظلم ہے،نا انصافی ہے، ان کو قیدی بنانا ہے، تو جناب! ایسا نہیں ہے! یہ غلط فہمی آپ کو اس لیے ہوئی کہ آپ کا خیال ہے کہ عورتیں بھی مردوں کے دوش بہ دوش چلنے کا حق رکھتی ہیں، وہ بھی بن سنور کر ہوٹلوں، بازاروں، تفریح گاہوں،میلوں جھمیلوں، تھیٹروں اور سنیما ہالوں میں جانے کی حقدار ہیں۔
سب سے پہلے آپ اپنے ذہن و دماغ سے اس نظریے کو کھرچ پھینکیےکہ عورتوں کو مذکورہ قسم کی آزادی یا اختیارات دیے گئے ہیں، پھر ہم آپ کو بتائیں گے عورتوں کو کیا اختیارات دیے گئے ہیں اور کیا نہیں؟ نیز یہ بتائیں گے کہ مردوں اور عورتوں کا دائرہ کار کیا ہے؟
دیکھیے!مذہب (اسلام) نے عورتوں اور مردوں، دونوں کے دائرہ کار اور اختیارات کی ایک حد مقرر کی ہے۔ عورتوں کا دائرہ کار صرف گھر ہے(مجبوری کے اوقات مستثنی ہیں) ان کو گھر کا ملکہ بنایا گیا ہے۔ ان کو گھر کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں! اور مردوں کا دائرہ کار گھر سے باہر کی دنیا ہے۔ ان کو گھر سے نکلنا ہے، کام کاج کرنا ہے، کمانا ہے، اور لا کر گھر کی ملکہ کے حوالے کرنا ہے۔
یہ کتنا معقول اور فطری قانون ہے کہ عورت گھر کی محافظ بن کر عزت و آبرو کے ساتھ گھر میں بیٹھی رہیں اور مرد کما کما کر لاکر انہیں دیں! کیا اس میں آپ کو عورتوں کے لیے آسانی نظر نہیں آتی؟ کیا اس میں آپ کو عورتوں کے ساتھ ہم دردی اور خیرخواہی نظر نہیں آتی؟ کیا اس میں آپ کو عورتوں کے لیے راحت و سکون نظر نہیں آتا؟ کیا اس میں آپ کو عورتوں کی صنفی اور جنسی حیثیت کی رعایت نہیں معلوم ہوتی؟ کیا اس میں آپ کو عورتوں کا مکمل اور منظم تحفظ نظر نہیں آتا؟
اب ہم آتے ہیں آپ کے سب سے بڑے اعتراض کی طرف کہ پردہ ترقی کی راہ میں حائل ہے!
محترم! کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ پردہ کس طرح ترقی کی راہ میں حائل ہیں؟بتا سکتے ہیں آپ؟نہیں!آپ نہیں بتا سکتے! بتانا آپ کا کام نہیں ہے۔ آپ کا کام صرف اعتراض کرنا ہے۔ آپ کا کام صرف مخالفت کرنا ہے۔ آپ کا کام صرف شرانگیزی ہے!
آپ کا اعتراض کتنا سطحی، پچکانہ اور مضحکہ خیز ہے، ابھی ہم اس کو الم نشرح کیے دیتے ہیں۔
جناب! کوئی کام کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں اور عقل و فہم ہی تو درکار ہوتا ہے؟ آپ سے سوال یہ ہے کہ کیا پردے کی وجہ سے عورتوں کے ہاتھ پاؤں بندھ جاتے ہیں؟ کیا پردے کی وجہ سے ان کےہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پیروں میں بیڑیاں پڑ جاتی ہیں؟کیا سر پر اوڑھنی اور دوپٹہ ڈالنے سے عقل و فہم اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوجاتی ہے؟کیا پردے کی وجہ سے عورتیں اندھی،بہری،گونگی،لولی،لنگڑی اور اپاہج ہو جاتی ہیں؟ کیا پردے کی وجہ سے عورتیں بالکل نکمی اور ناکارہ ہو کر رہ جاتی ہیں؟
جناب! واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہوتا! ہاتھ، پاؤں بھی کھلے رہتے ہیں، آنکھ،کان اور زبان بھی صحیح سالم رہتے ہیں، اور عقل و فہم اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی برقرار رہتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ پردے کی وجہ سے کوئی چیز متاثر نہیں ہوتی! پردہ کسی منفی اثر کا سبب نہیں بنتا!
کیا آپ کو اپنے اعتراض کی حقیقت معلوم ہو گئی؟ کیا آپ کو اب بھی پردے پر اعتراض ہے؟ کیا آپ اب بھی پردے کی مخالفت کریں گے؟
ہمارے خیال میں شاید آپ کو ہماری بات سمجھ میں آگئی ہوگی! اور اگر خدا نہ خواستہ اس طول طویل مذاکرے اور مکالمے کے باوجود بھی آپ کو ہماری بات سمجھ میں نہ آ سکی، اور آپ کو اب بھی پردے پر اعتراض ہے۔ آپ اب بھی پردے کی مخالفت پر تلے ہوئے ہیں۔ تو ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ ہمیں اپنی حالت پر چھوڑ دیا جائے! ہماری ماؤں، بہنوں اور بچیوں کو چھیڑا نہ جائے! ہم جیسے ہیں، اچھے ہیں۔ ہمیں آپ کی غم خواریاں نہیں چاہیے! ہمیں آپ کی ہم دردیوں کی حاجت نہیں! ہمیں آپ کی فکر مندیاں مثبت نہیں معلوم ہوتیں! ہمیں اور ہماری ماؤں، بہنوں اور بچیوں کی نظروں میں آپ کی ہم دردیاں مشکوک ہیں! آپ ہمیں خیر خواہ نہیں لگتے!!

صاحب کو اعتراض ہے پردے کے باب میں
شاید پتہ نہیں کہ ہے عزت حجاب میں
(سیف صدیقی)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close