زبان و ادب

پرزور اسلوب

محمد یاسین جہازی 9891737350

پر زور اسلوب اس اسلوب کا نام ہے، جو انسان کے فہم کو اپیل کر تا ہے، اس کے ذہن ودماغ کو متوجہ اور جذبات خفتہ کو بیدار کرتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کے اندر جوش کی کیفیت بھی پیدا کردیتا ہے۔اس اسلوب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مضامین اور الفاظ دونوں پر زور ہوتے ہیں، جیسے:
”سیاست ایک آگ ہے،جو پہلے خود بھڑکتی ہے پھر بھڑکا ئی جاتی ہے۔ اور دل جب تک لذت آشنائے درد نہ ہو، برف کی ایک قاش ہے، جو پانی تو بن سکتی ہے؛ لیکن آگ میں جلا نہیں کرتی۔ اب جو قدم اٹھ چکے ہیں، انھیں بیاباں نہیں روک سکتے کہ ہم نے تلوے سہلالیے ہیں اور خار مغیلاں کی مدارات کے لیے آبلے حاضر ہیں۔ اب سمندروں کی موجوں میں ہمارے لیے کوئی خوف نہیں، ہم ان سے کھیل سکتے ہیں۔پہاڑوں کی چوٹیاں، ہمارے عزم کے سامنے خاک کا تودہ ہیں۔جب قوم سر بکف ہوکر آزادی کے سفر کو نکلتی ہے، تو اس کے لیے موانعات کے انبار، پرکاہ ہوکر رہ جاتے ہیں، اور نصب العین کی سچائی، منزل تک پہنچ کر رہتی ہے“۔ (مولانا ابو الکلام آزادؔ)
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مضمون نگار پر زور اسلوب اختیار کرتا ہے، لیکن مضامین بھی کچھ کمزور ہوتے ہیں اور الفاظ کی بندش بھی کچھ ڈھیلی رہ جاتی ہے، جن سے کلا م میں ’پھسپھسا پن‘پیدا ہو جاتا ہے اوراس تحر یر کو پڑھ کر قاری کے جذ با ت بھی نہیں ابھر تے۔اسی طرح مضمو ن نگا ر اس اسلوب کے سہا رے مضا مین کی ادا ئیگی میں غیر ضروری طوالت، لفا ظی اور مبا لغہ آرا ئی سے کا م لیتا ہے،جیسے: ؎
بجلیاں میری اگر کھینچ آئیں میرے راگ میں
ناطقہ تبدیل ہو جائے دہکتی آگ میں
سننے والے جل اٹھیں شورفغاں اٹھنے لگے
پڑھنے والے کی رگ و پے سے دھواں اٹھنے لگے
نقطہ نقطہ بر ق خا طف بن کے ضود ینے لگے
حرف گل جا ئیں،لب گفتار لو دینے لگے
اس اسلو ب میں یہ دونوں (پھسپھسا پن اور لفا ظی کی) خامیاں عمو ما در آتی ہیں، اس لیے ان سے بچنے کی کوشش کرنی چا ہیے۔
کلام میں زور پیدا کرنے کے طریقے
متعدد طریقوں سے کلام میں زور پیدا کیا جاتا ہے۔ ان میں سے چندطریقے ذیل کی سطروں میں درج ہیں:
(۱)الفاظ کی عمومی ترکیب کو اس طرح بدل دینا کہ نہ تو اس سے معنی کی کوئی خرابی لازم آئے اور نہ ہی جملوں کی بندش ڈھیلی پڑے، جیسے:
”مکان کی چھت کا نہیں؛ بلکہ بنیاد کا سوال ہے، پھر دیواریں جتنی ٹیڑھی ہیں، اس لیے جب تک ازسر نو تعمیر نہ،ہوگی، درستگی کی امید نہیں“۔ (مولاناابو الکلام آزادؔ)
اسی جملے کو صرف الفاظ کی نشست تبدیل کر کے اس طرح لکھا جائے کہ ”مکان کی بنیاد کا سوال ہے، چھت کا سوال نہیں ہے، پھر دیواریں جتنی ٹیڑھی ہیں، اس لیے درستگی کی(جب تک تعمیر از سرے نو نہ ہوگی) امید نہیں“۔ تو کلام کا سارا ز ورخاک میں مل جاتا ہے، حالاں کہ الفاظ بھی وہی ہیں اور خیالات بھی وہی ہیں۔
(۲)کلام میں ربط وتسلسل برقرار رکھنے کے لیے کثرت سے حروف ربط لانے سے بھی کلام میں زور پیدا ہوتا ہے، جیسے:
”اے مغرور انسان! یاتو خدا بن جا،یا خدائے حقیقی کے آگے سرنگوں ہو جا“۔
(مولاناابوالکلام آزداؔ)
(۳)تکرار لفظی اور تکرار معنوی سے بھی کلام پر زور ہوتا ہے، جیسے:
تکرار لفظی کی مثال:
”ہندستان لرزتا ہے، کون ہے جو اس کو تھامے؟ ہندستا ن مضطرب ہے، کون ہے، جو اس کو تسکین دے؟ ہندستان وقف فریادہے، کون ہے، جو اس کی فریاد رسی کو آمادہ ہو“؟ (مولانا ابواکلام آزادؔ ؔ)
تکرار معنوی کی مثال:
”ربانی خم خانہئ عشق کا آخری ہو ش مند سرشار، ریاض محبت کی بہار جاوداں کا آخری نغمہ خواں عندلیب، نظارہئ جمال حقیقت کا پہلا مشتاق، مستور ازل کے چہرہئ زیر نقاب کا پہلا بند کشا؛ زندگی کے آخری گھنٹوں میں ہے“۔ (جناب مولانا سید سلیمان ندویؒ)
(۴)مرصع زبان، تشبیہات واستعارات کے مناسب استعمال سے بھی کلام پرزور بن جاتاہے:
”شاید ہماری جوانی کا عہد ختم ہو چکا، اب’صد عیب پیری‘کی منزل سے گذر رہے ہیں۔ ہمارا بچپن جس قدر حیرت انگیز اور جوانی کی طاقتیں جس درجہ زلزلہ انگیز تھیں، دیکھتے ہیں، تو بڑھاپے کے ضعف ونقاہت کو بھی اتنا ہی تیز پاتے ہیں۔شاید اب اس کے بعد منزل فنا درپیش ہے۔ چراغ تیل سے خالی ہوتا چلا جاتا ہے، اور چولہا خاکستر سے بھر تا چلا جاتا ہے۔ گذشتہ باتوں کی صرف ایک بات یاد رہ گئی ہے، اور جوانی کے افسانے خواب وخیال معلوم ہوتے ہیں؛ لیکن اگر ہمیں مٹنا ہی ہے، تو مٹنے میں دیر کیوں؟ صبح فنا آگئی ہے، تو شام سحر کو بجھ ہی جانا ہے۔ جس بزم اقبال وعظمت میں اب ہمارے لیے جگہ نہیں رہی، بہتر ہے کہ اوروں کے لیے اسے خالی کردیں“۔ (مولانا ابو الکلام آزادؔ)
نظم کی مثال: ؎
کشور ہندوستاں میں رات کو ہنگام خواب
کروٹیں رہ رہ کے لیتا ہے فضا میں انقلاب
گرم ہے سوز بغاوت سے جوانوں کا دماغ
آندھیاں آنے کو ہیں اے بادشاہی کے چراغ
تندرو دریا کے دھارے کو دبا سکتے نہیں
نوجوانوں کی امنگوں کو دبا سکتے نہیں
مدح اب ڈر ڈر کے کرتے ہیں یوں سرکار کی
جیسے کوئی دھار چھوتا ہو اُپی تلوار کی
(جوش ملیح آبادی)
(۵)طنزسے بھی کلام میں زور پیدا ہوتا ہے۔ طنز کا مطلب یہ ہے کہ الفاظ کچھ بولے جائیں اور مطلب کچھ اور لیا جائے، جیسے:
”میں مانتا ہوں کہ وہ احمق ہے، میں یہ بھی مانتا ہوں کہ وہ بزدل ہے، اور اگر آپ کہیں تو میں یہ بھی ماننے کے لیے تیارہوں کہ وہ باغی ہے، لیکن ہمیں اپنے مخالفوں کے ساتھ انصاف کر نا چاہیے، ہمیں یہ بات فراموش نہ کرنی چاہیے کہ وہ ایک اول درجے کا بدمعاش بھی ہے“۔ (رشید احمد صدیقیؔ)
نظم کی مثال: ؎
شیخ جی پر یہ قول صادق ہے
چاہ زمزم کے آپ مینڈک ہے
شیخ جی کو جو آگیا غصہ
لگے کہنے یہ پھینک کر وہسہ
تم ہو شیطان کے مطیع و مرید
تم کو ہر ایک جانتا ہے پلید
ہے تمھاری نمود بس اتنی
جس طرح ہو پڑی پریڈ پہ لید
(۶)طنزکے ساتھ مزاحیہ عنصر شامل کرنے سے بھی کلام پر زور ہوتاہے، جیسے: ؎
لیٹے ہوئے تھے ریل کے ڈبے میں ایک بزرگ
گویا کہ پوری برتھ وہی لے چکے تھے مول
ٹوکا کسی نے ان کو تو کہنے لگے جناب
نہرو نے کہہ دیاہے کرو ”برتھ کنٹرول“
(دلاورفگارؔپاکستانی)
(۷)یکساں ترکیب والے متوازن جملے استعمال کرنے سے بھی کلام میں زور پیدا ہوتا ہے، جیسے:
”آج کی صبح وہی صبح جاں نواز، وہی ساعت ہمایوں، وہی دور فرخ فال ہے۔ارباب سیر اپنے محدود پیرایہئ بیان میں لکھتے ہیں کہ آج کی رات ایوان کسرہ کے چودہ کنگرے گر گئے، آتش کدہئ فارس بجھ گیا، دریائے سادہ خشک ہوگیا؛ لیکن سچ یہ ہے کہ ایوان کسریٰ نہیں؛بلکہ شان عجم، شوکت روم، اوج چین کے قصرہائے فلک بوس گرپڑے، آتش فارس نہیں؛ بلکہ حجیم شر، آتش کدہئ کفر، آذر کدہئ گمراہی سرد ہوگئے، صنم خانوں میں خاک اڑنے لگی، بت کدے خاک میں مل گئے، شیرازہئ مجوسیت بکھر گیا، نصرانیت کے اوراق خزاں دیدہ ایک ایک کر کے جھڑ گئے۔ توحید کا غلغلہ اٹھا، چمنستان سعادت میں بہار آگئی، آفتاب ہدایت کی شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں، اخلاق انسانی کا آئینہ پر تو قدس سے چمک اٹھا“۔
(مولانا شبلی نعمانی)
(۸)کلام میں زور پیدا کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ شروع میں ایک مختصر سا جامع جملہ لکھ دیا جائے، جس میں پورے مضمون کا نچوڑ ہو، پھر اس کے بعد اس کی تفصیل و توضیح کی جائے، جیسے:
”قومی زندگی کی مثال بالکل افراد واشخاص کی سی ہے، بچپنے سے لے کر عہد شباب تک کا زمانہ ترقی اور عیش ونشاط کا دور ہوتاہے۔ ہر چیز بڑھتی ہے۔ہر قوت میں افزائش ہوتی ہے۔ جو دن آتا ہے، طاقت وتوانائی کا ایک نیا پیام لاتا ہے۔ طبیعت جوش وامنگ کے نشہ میں ہر وقت مخمور رہتی ہے، اور اس سرخوشی وسرور میں جس طرف نظر اٹھتی ہے، فرحت وانبساط کا ایک بہشت زار سامنے آجاتاہے۔ اس طلسم زار ہستی میں انسان سے باہر نہ غم کا وجود ہے اور نہ نشاط کا، البتہ ہمارے پاس دو آنکھیں ضرور ہیں، جو اگر غمگین ہوں، تو کائنات کا ہرظہور غم آلود ہے، اور اگر مسرور ہوں، تو ہر منظر مرقع انبساط ہے۔ عہدِ شباب وجوانی میں آنکھیں سرمست ہوتی ہیں، اور دل جوش وامنگ سے متوالا۔ غم کے کانٹے بھی تلوے میں چبھتے ہیں، تو یہ معلوم ہوتاہے کہ صبح بہار سامنے آکھڑی ہوگئی ہے، لیکن بڑھاپے کی حالت اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔پہلے جو چیزیں بڑھتی تھیں، اب روز بروز گٹھنے لگتی ہے۔ جن قوتوں میں ہر روز افزائش ہوتی تھی، اب روز بروز ان میں اضمحلال ہوتاہے، طاقت جو اب دے دیتی ہے، اور عیش ومسرت کنارہ کش ہوجاتے ہیں، جو دن آتا ہے، موت وفنا کا نیا پیغام لاتا ہے۔
قوموں کی زندگی کا بھی یہی حال ہے، ایک قوم پیدا ہوتی ہے، بچپنے کا عہد بے فکری کاٹ کر جوانی کی طاقت آزمائیوں میں قدم رکھتی ہے، یہ وقت کاروبار زندگی کا دور اور قومی صحت وتندرستی کا عہدبے نشاط ہوتا ہے، جہاں جاتی ہے، اوج و اقبال اس کے ساتھ ہوجاتا ہے۔ اور جس طرف قدم اٹھاتی ہے، دنیا اس کے استقبال کے لیے دوڑتی ہے؛ لیکن اس کے بعد جو زمانہ آتا ہے، اس کو پیری وصد عیب کا زمانہ سمجھیے کہ قومیں ختم ہونے لگتی ہیں، اور چراغ میں تیل کم ہونا شروع ہوتا ہے، طرح طرح کے اخلاقی وتمدنی عوارض روز بروز پیدا ہونے لگتے ہیں، جمعیت واتحاد کا شیرازہ بکھر جاتا ہے، اجتماعی قوتوں کا اضمحلال، نظام ملت کو ضعیف وکمزور کردیتا ہے“۔ (مولانا ابو الکلام آزادؔ)
(۹)موقعہ بہ موقعہ ضرب الامثال، اقوال زریں اور کہاوتوں کے استعمال سے بھی کلام میں زورپیدا ہوتا ہے۔
”ہر چند کہ تعصبات لغو کی کوئی حدنہ تھی، بایں ہمہ انگریزی حکومت جیسی ان دنوں کی مطمئن تھی، آئندہ تابقائے سلطنت انگریزوں کو خواب میں بھی نصیب ہونے والی نہ تھی، لوگوں کو مفید ومضر کے تفرقے، برے بھلے کا امتیاز کا سلیقہ نہ تھا، سرکار بمنزلہ مہربان باپ کے تھی، اور بھولی بھالی رعیت بجائے معصوم بچوں کے، انگریزی کا پڑھنا ہمارے بھائی بندوں کے لیے کچھ ایسا ناسزا وار ہوا، جیسے آدمی اور اس کی نسل کے حق میں گیہوں کا کھانا، گئے تھے نماز بخشوانے، الٹے روزے اور گلے پڑے، انگریزی زبان کو اوڑھنا بچھونا بنایا تھا، اس غرض سے کہ انگریزوں کے ساتھ لگاوٹ ہو، مگر دیکھتے ہیں تو لگاوٹ کے عوض رکاوٹ ہے اور اختلاط کی جگہ نفرت، حاکم و محکوم میں کشیدگی ہے کہ بڑھتی چلی جاتی ہے، دریا میں رہنا اور مگرمچھ سے بیر، دیکھیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے“۔ (مولوی نذیراحمد)۔
منزل قوت میں شاید آج تم رہتے نہیں
جس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لیے کہتے نہیں
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کی کاغذ سدا چلتی نہیں
(جوش ملیح آبادی)
(۰۱)جملے کو تین حصوں میں تقسیم کرکے پہلے حصے میں پر زورالفاظ، دوسرے حصے میں خفیف اور تیسرے حصے میں پر زور ترین الفاظ لانے سے بھی کلام میں حد درجہ کا زور پیدا ہوتاہے، جیسے:
نثر کی مثال ؎
پرزور
خفیف
پر زور ترین
اے مجروحین کانپور!
تم نے
گولیاں کھائی ہیں،
نیزوں سے
تمھارے سینوں میں
سوراخ کیا گیا ہے،
تمھاری آنکھوں میں
سنگینیں
بھونکی گئی ہیں،
تمھارے ایک ایک عضو کو
زخموں سے
چور چور کیا گیا ہے۔
(مولانا ابو الکلام آزادؔ)
نظم کی مثال ؎
ّٖپر زور
خفیف
پر زور ترین
نکل کے صحرا سے
جس نے روما کی
سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدوسیوں سے
میں نے
وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا
سفینہئ برگ گل
بنالے گا قافلہ
مور ناتواں کا
ہزار موجوں کی ہو کشا کش
مگر یہ
دریاکے پار ہوگا
(علامہ اقبال)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: