مضامین

پروفیسر رضوان قیصر جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا

پروفیسر رضوان قیصر
جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا

علم اللہ، نئی دہلی

ان دنوں فیس بْک کھولتے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے کسی عفریت نے اس پر قبضہ جما لیا ہے اور ’کتاب چہرہ‘کے ذمہ اب صرف موت کی خبریں نشر کرنا رہ گیا ہے۔ یہ کیسی باد سموم چلی ہے کہ مضبوط تناور درختوں کو بھی اکھاڑ پھینک رہی ہے۔ سب کے دلوں میں مہلک وباکا خوف اور موت کاامکانی خطرہ پنجہ گاڑے ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے ہم صرف نوحہ لکھنے کے لیے باقی رہ گئے ہیں، اور ہمارے درمیان موجود قیمتی موتی یکے بعد دیگرے بکھرتے چلے جارہے ہیں۔ یہ کیسا وقت آن پڑا ہے کہ لوگ فیصلہ نہیں کر پا رہے کہ جانے والوں پر گریہ کریں یا خدا سے شکوہ سنج ہوں؛ کہ خدایا اب بس بھی کر دے؟

اس وبا نے ایک اور جان لے لی،ہمارے درمیان اب ممتاز مؤرخ،دانش ور، ہمارے استاد اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر رضوان قیصر نہیں رہے۔ یکم مئی2021کو دہلی میں انھوں نے آخری سانس لی اور وہیں سپرد خاک کئے گئے۔ یقین نہیں ہوتا کہ پروفیسر رضوان قیصر دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے جدا ہو گئے۔ابھی تو انھیں ہماری سر پرستی کرنی تھی۔آنے والے دنوں کے لئے ایسی نسل تیار کرنی تھی جو باطل طاقتوں سے لڑ سکے۔ لیکن ہائے وہ ہمیں منجدھار میں ہی چھوڑ کر چلے گئے۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گذرا، جامعہ میں میری ان سے تفصیلی ملاقات رہی تھی۔یہ جان کر کہ میں نے پی ایچ ڈی میں داخلہ لے لیا ہے، بڑی خوشی کا اظہار کیا تھا۔ان کی رحلت صرف جامعہ برادری ہی نہیں بلکہ پوری علمی دنیا کے لیے اندوہناک صدمہ ہے۔

پروفیسر رضوان قیصر 10 مارچ 1960کو بہار کے ضلع مونگیر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وہیں کے ضلع اسکول سے حاصل کی۔ پھر بھاگلپور یونیورسٹی سے بی اے کیا اور مزید تعلیم کے لئے جے این یو میں داخلہ لے لیا، جہاں سے انھوں نے پروفیسر بپن چندر، مرڈولہ مکھرجی، کے این پانیکر، سبیاسچی بھٹاچاریہ، اور بہت سے دوسرے جید مؤرخین جنھیں جدید ہندوستان کی تاریخ پراتھارٹی تسلیم کیا جاتا تھا،سے جدید ہندوستانی تاریخ اور ثقافت پر تربیت حاصل کی تھی۔ جے این یو سے انھوں نے ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔1989 میں لیکچرر کی حیثیت سے جامعہ میں اپنی خدمات کا آغاز کیااور2011 میں پروفیسر بنے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ تاریخ و ثقافت کے سربراہ(صدر شعبہ) کی حیثیت سے بھی اپنی ذمہ داری بطرز احسن نبھائی۔
پروفیسر رضوان قیصر سے مجھے باضابطہ تلمذ کا شرف حاصل رہا ہے، اس لئے میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے بہت قیمتی ہیرا کھودیا ہے۔ ع
’اب انھیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر‘

ہائے کیسی کیسی ہستیاں ہم سے جدا ہوتی جا رہی ہیں۔ دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستی ہیں۔ پروفیسر رضوان ایک اچھے اور ذمہ دار استاد تھے، وہ اس رمز سے بخوبی واقف تھے کہ ایک استاد یا گرو پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ وہ پوری تیاری اور ذمہ داری کے ساتھ کلاس لیتے۔ ان کے پڑھانے کا انداز بالکل نرالا تھا۔پینتالیس منٹ کی کلاس میں پہلے وہ انگریزی میں لیکچردیتے اور اخیر میں ہندی اور اردو بیک گراؤنڈ کے طلبا کاخیال رکھتے ہوئے اس کا خلاصہ اردو زبان میں بیان کرتے۔ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ پڑھاتے نہیں گھول کر پلاتے تھے۔ سخت سے سخت سوالات کا بھی انتہائی صبر و سکون کے ساتھ مسکراتے ہوئے جواب دیتے۔

جامعہ کمیپس میں بحث و مباحثہ کے ساتھ ساتھ ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنے اور مثبت احتجاج کا ماحول پیدا کرنے میں بھی ان کے کردار سے شاید ہی کسی کو انکار ہو۔ کیمپس میں ہر جگہ ان کی موجودگی نے مثبت آوازا اور متحرک ماحول پیدا کیا۔ وہ یونیورسٹی کیمپس میں اکیلے کم ہی دیکھے جاتے، اکثر یا تو وہ طلبا کے ساتھ کسی موضوع پر گفتگو کرتے دکھائی دیتے یا پھر کتاب اور فائل اٹھائے لائبریری یا کلاس کے لیے جاتے نظر آتے۔ وہ تیز چلتے، سلام کا جواب دیتے، مسکراتے، حال چال پوچھتے اور گذر جاتے۔ طلبہ کے لیے وہ سہل الحصول تھے، اسی لیے ان کے گرد ہمیشہ کوئی نہ کوئی طالب علم موجود رہتا۔

وہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے پروردہ تھے، مگرچھاپ جامعہ اور علی گڈھ مسلم یونیورسٹی والی بھی بدرجہ اتم ان کی شخصیت پر تھی۔انھوں نے لگ بھگ تیس سال جامعہ کے شعبہ تاریخ و ثقافت میں تدریسی خدمت انجام دی، ملک و بیرون ملک کے تحقیقی مجلات میں ان کے درجنوں قیمتی مقالے شائع ہوئے اور سیکڑوں قومی و بین الاقوامی سمیناروں اور مذاکروں میں شریک رہے۔ پروفیسر رضوان قیصرہندوستانی تاریخ و سماجیات کا وسیع مطالعہ ہی نہیں رکھتے تھے بلکہ اس کے مختلف پہلوؤوں پر گہری نگاہ کے حامل عالم تھے۔ خصوصاً تحریک آزادی اور اس ضمن میں ہندی معاشرے میں رونما ہونے والے انقلابات و تحریکات پر ان کی گرفت قابلِ رشک تھی۔

آج ہم جس عہد میں جی رہے ہیں، لوگ، سر سید، شبلی، آزاد، گاندھی، جوہر اور اس جیسے بزرگوں کا نام تک لینا گوارا نہیں کرتے لیکن پروفیسر رضوان قیصر تقریبا ًاپنی ہر گفتگو اور تقریرمیں ان بزرگوں کو یاد کرنا نہیں بھولتے تھے۔ انھیں جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڈھ مسلم یونیورسٹی سے محبت نہیں عشق تھا، جس کا اظہار کرتے ہوئے وہ کبھی ڈرتے اور گھبراتے نہ تھے۔

ایک ایسے وقت میں جب گودی میڈیا نے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ملک دشمن اور غنڈوں کے راج والی یونیورسٹی قرار دینے پر تلا ہوا تھا، چند ایک کو چھوڑ کر دونوں اداروں کے سینئر ترین اساتذہ یونیورسٹی کی ترجمانی اور موقف رکھنے کیلئے تیار نہیں تھے، پروفیسر رضوان قیصر نام نہاد وطن پرستی کا نعرہ لگانے والوں کے درمیان پوری جرأت اور طاقت کے ساتھ اقلیتی اداروں کی اہمیت، ان کی تاریخ، روایت اور تہذیب کی کہانی بیان کرنے کے لئے آگے آئے اور بغیر لاگ لپیٹ کے کھل کر اپنی بات رکھی۔

معاملہ خواہ بٹلہ ہاؤس انکاونٹر کا ہو، جامعہ اور علی گڑھ کے اقلیتی کردار کا، این آر سی اور سی اے اے کا یا پھر جامعہ میں پولسیا دہشت گردی اور لاٹھی چارج کا، رضوان قیصر ہر جگہ دیکھے جاتے۔جب جامعہ سے این آر سی کا معاملہ اٹھا تو جو اساتذہ طلبہ کی قیادت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے، ان میں آپ کا نام نمایاں تھا۔

ٹیچر ایسو سی ایشن نے پہلی مرتبہ این آر سی کے خلاف جامعہ میں پروگرام کا انعقاد کیا تو سب سے پہلے خطاب کرنے والے رضوان قیصر ہی تھے۔ جنھوں نے ہزاروں طلبہ کے مجمع کومخاطب کرتے ہوئے مودی حکومت کو چیلنج کیا اور کہا تھا اگر این آر سی کا نفاذ ہوتا ہے تو اس سے ملک کا تانا بانا بکھر جائے گا۔ اس سے صرف مسلمانوں کا ہی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس کی زد میں ہندو بھی آئیں گے، اس لئے سب کو مل جل کر یہ لڑائی لڑنی چاہیے۔ انھوں نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ باضابطہ اس پر مضامین لکھے جو متعدد مین اسٹریم میڈیا میں شائع ہوئے۔ انھوں نے ٹیلی ویژن مباحثوں میں حصہ لیا اورپوری قوت اور دلیل کے ساتھ اپنے موقف کو پیش کیا۔

رضوان قیصر کی یہی وہ خوبیاں تھیں جن کی وجہ سے وہ جامعہ کے اندر اور باہر بھی تدریسی اور غیر تدریسی طبقے میں ایک بے باک اور بے خوف انسان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔وہ صرف مسلم ہی نہیں بلکہ دلت،سماج کے دبے کچلے لوگوں اور اشرافیہ طبقے کے پروگراموں میں بھی شریک ہوتے اور قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔وہ تاریخ کو محض روایت کی روشنی میں دیکھنے کے قائل نہیں تھے بلکہ اس کو منطقی اور سائنسی انداز میں دیکھتے اور طلبہ کو بھی اسی کی تلقین کرتے تھے۔

انھوں نے مولانا آزاد پر کام کیا تھا اور ان کے وہ محض مرید ہی نہیں بلکہ ان کے فن میں غواصی کرکے ہیرے نکالنے والوں میں سے تھے، یہی وجہ تھی کہ انھیں ایک آزاد شناس کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔انھوں نے مولانا آزاد پر بہت مستند کام کیا تھا،اس موضوع پر اس کی حیثیت تاریخی اور دستاویزی ہے۔اردو میں مولانا آزاد پر بہت کچھ لکھا گیا ہے، مگر انگریزی میں ان کے سیاسی افکار اور جدوجہد پر کوئی معتبر اور قابلِ استناد مواد نہیں ملتا تھا، اس کمی کوانھوں نے تقریباً چار سو صفحات پر مشتمل کتاب’مولانا آزاد اینڈ دی میکنگ آف دی انڈین نیشن‘ کے ذریعے دور کیا، جس کی حیثیت برطانوی استعمار کے خلاف ہندوستانیوں کی جدوجہد، فرقہ وارانہ سیاست کے پس منظر اور ہندوستانی قوم کی تشکیلِ نو میں مولانا ابوالکلام آزاد کے کردار کے حوالے سے ایک نادر حقیقی مواد کی ہے۔

اس کتاب میں انھوں نے ایک مؤرخ اور ماہر تجزیہ نگار کی طرح جائزہ لیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مولانا آزاد اور ان کا فلسفہ کہیں سے بھی ناکام نہیں ہوا، جیسا کہ دوسرے مؤرخین وی این دتا اور ایان دوگلس وغیرہ نے ان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ آزادی کا پروانہ ملنے کے بعد مولانا آزادکانگریس کی سربراہی میں اپنے ہم مذہبوں کو ساتھ لے کر نہیں چل سکے۔ پروفیسررضوان قیصر نے ان جیسے متعدد سوالوں کے جوابات بڑے مثبت اور مدلل انداز میں اپنی کتاب میں دیا۔

انھوں نے پہلی مرتبہ مولانا ابوالکلام آزاد کو ایک مؤرخ اور سیاست داں کے طور پر اپنی تحریروں کے ذریعے متعارف کرایا ورنہ ان سے قبل تک مولانا ابوالکلام آزاد کو لوگ ایک ادیب یا محض ایک مذہبی عالم یا سیاسی فردکے طور جانتے تھے۔انھوں نے اپنی کتاب میں فرانسس رابنسن، پیٹر ہارڈی یا پال براس کی تحریروں پر سخت تنقید کی،جنھوں نے مولانا آزاد کو معتوب ٹھہرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔اسے مصنف کی کامیابی سے ہی تعبیر کیا جائے گاکہ یکے بعد دیگرے اس کتاب کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔ پہلا ایڈیشن 2001میں جبکہ دوسرا2013میں اور تیسرا ایڈیشن 2018 میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔کتاب کی موضوعی اہمیت و وقعت کے پیشِ نظر اس کا عربی ترجمہ جامعہ ملیہ میں شعبہ عربی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر صہیب عالم نے ”ابوالکلا م آزاد و تشکل الامۃ الہندیہ“کے نام سے کیا، جس کی پہلی اشاعت مؤسسۃ الفکر العربی، بیروت سے 2013 میں عمل میں آئی۔ وہ ہندوستانی قوم کی تشکیل کے حوالے سے مرتبہ کتاب’کانگریس اینڈ دی میکنگ آف انڈین نیشن‘ کے شریک مدیر بھی رہے۔

افسوس جب ملک اپنا 75 واں یوم آزادی منانے جا رہا ہے، قومی تحریک کے ایک نہایت ہی عمدہ، خوبصورت تاریخ دان اور استاد ہمارے ساتھ نہیں ہیں۔ جب کبھی ہم اجتماعی شعور کے لئے اپنی جنگ لڑیں گے تو اس عظیم استاد کی عدم موجودگی ہمیں شدت سے ستائے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: