زبان و ادب

پر شکوہ اسلوب

محمد یاسین جہازی 9891737350

پر شکوہ اسلوب اس اسلوب کو کہاجاتاہے، جس میں رفیع الشان خیالات، پر شوکت الفاظ اور دل کش اسلوب میں اس طرح بیان کیے جاتے ہیں کہ پڑھنے والا متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا اور مضامین اس کے دل ودماغ میں اترتے چلے جاتے ہیں۔
خیال کی رفعت وبلندی سے یہ مراد نہیں ہے کہ کوئی ایسی عجیب وغریب اور انوکھی بات کہی جائے، جو معمولی سمجھ سے بالاتر ہو، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ خیال رکیک اور عامیانہ نہ ہو،بلکہ لطیف اور شریفانہ ہو، جیسے:
نثرکی مثال:
”انسانی ضمیر کی روشنی جب کہ ظلمت و ضلالت سے چھپ گئی تھی، فطرت کے حسن ازلی پر جب انسان نے بداعمالیوں کے پردے ڈال دیے تھے، تو زمین الہی کا احترام اٹھ گیا تھا اور طغیان وسرکشی میں خدا کے رسولوں کی بنائی ہوئی عمارتیں بہہ رہی تھیں ’ظہرالفساد فی البر والبحر بما کسبت أیدی الناس‘ اس وقت یہ پیغام صداقت دنیا کے لیے نجات اور ہدایت کی ایک بشارت بن کر آیا۔ اس نے جہل وباطل پرستی کی غلامی سے دنیا کو دائمی نجات دلائی۔افضال وانعام الہیہ کے فتح باب کا مژدہ سنایا“۔ (مولانا ابو الکلام آزادؔ)
نظم کی مثال: ؎
یکا یک ہوئی غیرت حق کو حرکت
بڑھا جانب بو قبیس ابر رحمت
ادا خاک بطحا نے کی وہ و دیعت
چلے آئے تھے جس کی دیتے شہادت
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہو یدا
دعائے خلیل اور نوید مسیحا
(مولاناحالی)
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مضمون نگار ابتدائے مضمون میں رفیع الشان خیالات کو پر شکوہ اسلوب میں بیان کر تاہے لیکن وہ جو ں جوں آگے بڑھتا ہے، توں توں تخیل کی رفعت میں پستی آتی جاتی ہے اور طرز نگارش کی بلندی گھٹتی چلی جاتی ہے، جیسے:
”ان سب شاعر وں کو سامنے سے ہٹاؤ، جو گلاب کے پھولوں پر مرتے ہیں۔سینکڑوں برس سے ایک ہی چیز کے طلب گار ہیں، یہ سب لکیر کے فقیر ہیں،مقلد ہیں، سنی سنائی باتوں پر جان دیتے ہیں۔ میں کچھ اور دیکھتا ہوں، مجھ کو ایک اور آنکھ ملی ہے، جو ان سب سے اونچی ہے۔ میرے دل کی ہم نشینی اور ہم سری کے ان میں سے ایک بھی قابل نہیں۔ میں بندہ ہوں، سب بندوں کے مثل، میں بشر ہوں، تمام بنی آدم کے برابر درجہ لے کر آیا ہوں“۔ (خواجہ حسن نظامیؔ)
اس مضمون میں ابتدائی تخیل نہایت بلندہے،جس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ مضمون نگار انسانیت کے مرتبے سے کہیں زیادہ بلند ہے؛ لیکن آخر میں اتنی پستی آگئی ہے کہ ”میں بندہ ہوں، سب بندوں کے مثل، میں بشر ہوں، تمام بنی آدم کے برابر درجہ لے کر آیا ہوں“۔
اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تخیل میں کوئی خاص رفعت نہیں ہوتی؛ مگر مضمون نگار عبارت آرائی اور جادو بیانی سے اس میں سحر آفرینی کی کوشش کرتا ہے، جس سے مضمون مواد سے خالی ہوجاتا ہے اور صرف عبارتوں اور لفظوں کا مجموعہ بن جاتا ہے، جیسے:
”اے میری بلبل ہزارداستاں! اے میری طوطیِ شیوہ بیاں! اے میری قاصد! اے میری ترجمان! اے میری وکیل! اے میری زبان! سچ بتا، تو کس درخت کی ٹہنی ہے اور کس چمن کا پودا ہے کہ تیرے ہر پھول کا رنگ اور تیرے ہر پھل میں مزا ہے، کبھی تو ایک ساحر فسوں ساز ہے جس کے سحر کا رد، نہ جادو کا اتار۔ کبھی تو ایک افعی جاں گداز ہے، جس کے زہر کی دوا، نہ کاٹے کا منتر“۔ (مولاناحالیؔ)
لہذا پر شکوہ اسلوب میں ان دونوں خامیوں (پستی وعبارت آرائی) سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرنا ضروری ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: