مضامین

پورا اسلام اور ادھورا مسلمان !

✍️مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

Faiyazsiddiqui536@gmil.com
____====____
محترم قارئین!

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوقِ یقیںپیدا – – – تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

کہنے کو ہم ماشاء اﷲ پیدائشی مسلمان ہیں پیدا ہوتے ہی ہمیں ایک سند مل جاتی ہے کے ہم مسلمان ہیں پھر آگے چاہے کام اور عمل جیسا بھی ہو سند تو مل گئی ہے لیبل لگ چکا ہے کیا محض مسلم گھرانے میں پیدا ہونا ہی کافی ہے مسلمان ہونے کے لئے؟؟ ہمارا عمل ہمارا رہن سہن ہمارے مسلمان ہونے کی گواہی کیوں نہیں دے رہا؟اﷲ اور اسکے رسول ﷺ اور قرآنِ مجید کو جھٹلا کر ہم خود کو مسلمان کہتے ہیں؟ہمارا نماز نہ پڑھنا روزہ نہ رکھنا دینی تعلیمات پر عمل نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہم جھٹلانے والوں میں سے ہیں لیکن ہمیں اس کا شعور نہیں ہے یہ ہمارا طرزِ عمل منافقت کے زمرے میں آتا ہے کہ اقرار تو کر لیا لیکن جب کچھ کرنے کو کہا جائے تو آئیں بائیں شائیں۔ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں منافقیں کا یہی طرز تھا مان لیتے تھے لیکن عمل نہیں تھاقرآنِ کریم میں اﷲ ارشاد فرماتے ہیں”وہ خدا کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں در حقیقت وہ خود دھوکے میں ہیں”ہم واقعی دھوکے میں ہیں ہم کہاں جا رہے ہیں اسکی ہمیں خود بھی خبر نہیں ہم جب بھی ہم قرآن پڑھتے ہیں کوئی ایسی آیت جس میں اﷲ اپنے غیض و غضب کا ذکر کرتے ہیں یا ان قوموں کا ذکر جنہوں نے جھٹلا دیا تو ہم سندیافتہ مسلمان یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ تو کافروں کے لیے ہے یہ ذکر انکا ہے ہم یہ کیوں نہیں سوچتے کہ قرآن ہدایت ہے اور ہدایت کسی ایک قوم کے لئے مختص نہیں ہے اگر ہم عمل نہیں کرتے تو ہم بھی اسی قوم سے ہیں جو جھٹلاتی تھی جو بھی قرآنِ کریم سے منہ پھیرے دینی احکامات کو پسِ پشت ڈالے وہ جھٹلانے والوں میں سے ہوگیااﷲ نے جن جن چیزوں سے روکا جن کو بھی حرام قرار دیا وہی چیزیں آج کل ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہیں اﷲ کریم ارشاد فرماتے ہیں شبِ قدر میں بھی شرابی کی کوئی معافی نہیں کوئی مغفرت نہیں اور شراب آج کل ہماری محفلوں کی شان ہے آج اگر کوئی آ کے کہہ بھی دے ہمیں کہ "فلاں بندہ شراب پی رہا ہے”ہمارے نزدیک اس بات کی کوئی قدر نہیں ہوگی ہمارا جواب یہی ہوگا پینے دو آج کل ہر کوئی پیتا ہے پھر کیا ہم جھٹلانے والے نہ ہوئے؟ اللہ نے نماز کا حکم دیا ہم میں سے کتنے ہیں جو پوری نمازیں ادا کرتے ہیں؟اﷲ بڑا رحیم و کریم ہے کہہ کر چھوڑ دیتے ہیںہم کیوں بھول جاتے ہیں فرائض کی کوئی معافی نہیں ہوتی محض کہہ دینا قابلِ قبول نہیں ہے اﷲ کو ہمارے قول و قرار کی نہیں ہمارے عمل کی ضرورت ہے ہم اﷲ کو بس مانتے ہیں
اﷲ "کی” نہیں مانتے ابھی قرآن ہمارے دلوں میں نہیں اترا ہم نے اسکی تاثیر کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا رمضان آتا ہے ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو وجہ بنا کر روزہ چھوڑ دیتے ہیں کہتے ہیں کہ جان بچانا تو فرض ہے روزہ بھی تو فرض ہے بیشک اسلام اجازت دیتا ہے کوئی بہت خطرناک مسئلہ ہے آپ فدیہ دیں یا بعد میں رکھ لیں روزہ لیکن ہم سندیافتہ مسلمان کیا کرتے ہیں؟؟اسلام تو پیار سکھاتا ہے لوگوں کو اپنا بنانے کا ہنر دیتا ہے ہم نے کیا کِیا؟ہم نے اپنوں کو ہی دور کر دیا ۔ہم نے خود کو ہی فرقوں میں بانٹ لیا ہے تو ہم اپنے دینِ اسلام کو کیا سر بلند کریں گے؟قرآنِ کریم میں فرمایا گیا ہے کہ "جب تک تم ہدایت پے ہو سر بلند رہو گےہم سر بلند تو نہیں ہیں ہمارا سفر تو پستی کی طرف رواں دواں ہے ہم نے اپنی ہدایت کہاں رکھ چھوڑی ہے؟آج اگر کوئی شخص ہمیں کہ دے فلاں جگہ خزانہ چھپا ہوا ہے ہم موسم کی شدت کی بھی پرواہ نہیں کریں گے زمین کی تہوں کو چیر کر بھی خزانہ حاصل کر لیں گے جبکہ بھول کر بھی قرآن کے نزدیک نہیں جائیں گے قرآن تو سب سے بڑا خزانہ ہے اس خزانے کو حاصل کرنے کی کوشش ہوں کیوں نہیں کرتے؟ہمارا ایمان اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ ہم اپنے اقرار پر ہی سینہ ٹھونک کر خود کو مسلمان کہتے پھرتے ہیں جبکہ ہمیں مسلمان کی صحیح تعریف کا بھی علم نہیں ایک سچا مسلمان مجسمِ قرآن ہوتا ہے مسلمان اس کو کہتے ہیں جسکو دیکھ کر بس اﷲ یاد آئے۔ہم کون سے والے ہیں؟فیصلہ آپ کی سوچ پے چھوڑتے ہیں!!

یہی مقصود فطرت ہے، یہی رمز مسلمانی

اخوت کی جہانگیری محبت کی فراوانی

تبان رنگ و خون کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا

نہ تو رانی رہے باقی نہ ایرانی نہ افغانی

ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو

اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہوجا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: