مضامین

پولیس زندہ باد!

اداریہ انڈین ایکسپریس ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)

پچھلی جمعرات کو نئی دہلی میں ہر کسی کا اپنا راستہ راج گھاٹ کی طرف مہاتما گاندھی کے قتل کی برسی منانے پر تھا۔ ایک نوجوان جس کی دو مہینے کم اٹھارہ سال عمر ہے وہ جامعہ ملیہ کی روڈ کے باہر کھڑا ہوا جہاں لڑکے اپنی صف بندی کیے ہوئے تھے۔ یہ لڑکا زور سے چلا کر کہنے لگا ”یہ لو آزادی“ اور پھر لڑکوں کی صف بندی پر فائر کر ڈالا۔ تب وہ پلٹ کر دلی پولیس کی طرف جو وہاں تماش بین کی طرح کھڑی ہوئی تھی۔ چونکہ اس کا نام اور عمر معلوم نہ تھی اس لیے کچھ نہ کیا گیا۔ لیکن جب اُسے پکڑ کر گٹھری کی شکل میں پولیس کار میں ڈال دیا گیا تو اُس نے اپنی خود کی شناخت ”رام بھکت“ بتائی اور نعرے لگانے لگا کہ ”دلی پولیس زندہ باد“ کسی کو بھی اس معاملہ میں نہ شرم آنی چاہیے نہ سکتہ میں آنا چاہیے جو کچھ بھی وہاں ہورہا ہے۔
دیڑھ مہینہ پہلے کی بات ہے اسی علاقہ میں دلی پولیس نے غیر مسلح طلبہ پر لاٹھی چلائی، بلکہ اُن کو ٹارگیٹ کرتے ہوئے اُن کی لائبریری اور ہاسٹل میں گھس کر نکالا۔ دو ہفتے پہلے کی بات ہے دلی کے مسلح نوجوانوں کے گروپ نے جے این یو کے طلبہ پر حملہ کر ڈالا۔ گرلز ہاسٹل ہی نہیں بلکہ یہاں وہاں کی لائبریری میں بھی گھس پیٹھ کی اور دلی کی پولیس دیکھتی رہی تقریباً اُن کے ساتھ مروت کا برتاؤ تھا۔ بہت سے حملہ کرنے والوں کی شناخت ہوئی کہ وہ اے بی وی پی کے ممبرس ہیں جو آر ایس ایس کی ایک شاخ کے طور پر کام کرتی ہے۔ لیکن آج تک اُن میں سے کسی کو بھی گرفتار نہ کیا جاسکا۔ ایک واحد ایف آئی آر جو داخل کیا گیا ہے وہ بھی جے این یو ایس یو کی صدر آئشی گھوش کے خلاف، جو اُس حادثہ میں ناقابل برداشت چوٹوں کی وجہ سے زخمی ہوچکی تھی۔ اب دلی پولیس نے اپنی وکٹ کو اس ہفتہ بہت ہی خوبصورتی کے ساتھ اپنی عمل آوری کے ذریعہ شرجیل امام کو اُس کی بغاوت والی تقریروں کے الزام میں گرفتار کیا۔ رام بھکت ہی ہے اکیلے جو دلی پولیس کے بارے میں نعرے لگاتے ہیں کہ ”پولیس زندہ باد۔“
لیکن صرف دلی پولیس کو الزام لگانے سے بھی وہ بڑی تصویر سامنے نہیں آتی ہے اس لیے کہ جامعہ اور جے این یو میں جو تشدد برپا ہوا تھا وہ ترجیح کی بناء پر طے شدہ تھا جو مہم کے دوران جسے بائیں بازو کے گروپ اور بی جے پی کے سینئر لیڈر چلا رہے تھے۔ بشمول اُن کے جن کا تعلق پبلک آفس سے بھی تھا۔ جو بہت ہی مہارت اور تیزی کے ساتھ اسٹوڈنٹس کو ٹارگیٹ کررہے تھے اور نوجوانوں کے خلاف غل غپا ڑ کیمپس میں مچا رہے تھے۔ اور اس طرح یونیورسٹی کو ”اربن نیکسل“یا ”جہادیوں“کا ٹھکانہ بتایا گیا۔ الیکشن کمیشن نے پچھلی جمعرات کو ہی مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر اور بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ پرویش صاحب سنگھ ورما کو اُن کی نفرت انگیز تقاریر کی وجہ سے مہم سے روک دیا تھا۔ لیکن یہ سب اُتنے زیادہ رکاوٹ یا دھمکی والی نہیں تھی یقینا مرکزی وزیر داخلہ شاہ نے جب اعلان کیا کہ اُس بندوق بردار کے خلاف سختی سے کارروائی کی جائے گی، یہ اعلان اُنہوں نے اُس ریلی میں کہا جہاں الیکشن ہونے جارہا ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ آپ کو اس موقع پر دونوں میں کسی ایک بات کو منتخب کرنا ہے کہ وزیر اعظم جو پاکستان کے خلاف سختی سے مقابلہ کرتے ہیں یا پھر اُن کی تائید میں جو شاہین باغ کی حمایت میں کھڑے ہوتے ہیں۔ شاہ ماضی سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ ہندوستان کے انتخابات میں پاکستان کا ہاتھ ہوتا ہے۔ لیکن اب وہ بطور وزیر نے اس پر نشانہ لگایاہے۔ اس لیے کہ اب امولیہ پٹنایک وہاں کے پولیس کمشنر ہیں جنہیں توسیعی رخصت پر بھیج دیا گیا ہے۔ اس لیے کہ یہ پولیس کی جو حرکت ہوئی ہے لیکن کیا پولیس یا اور کوئی بھی کیا کچھ کرے گا جب کہ اُن کے ماسٹر س ہی کسی بھی اجتماع کو پاگل پن قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ”مارو گولی سالو کو“ اور اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ووٹنگ کے وقت بٹن اس زور سے دبایا جائے کہ اُس کا شاک شاہین باغ کو لگے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: