اہم خبریں

پولیس والوں غفلت سے باہر آو

زین العابدین ندوی دارالعلوم امام ربانی ؒ، نیرل ۔ مہاراشٹر

بھارت کےموجودہ حالات انتہائی تشویشناک اور تکلیف دہ ہیں ، پورا ملک جھلس رہا ہے اور عوام پولیس کی بربریت کی شکار ہے ، معصوم انسانوں پر جس بے رحمی کے ساتھ تشدد بھرا برتاو کیا جا رہا ہے ، بھارت کی تاریخ ایسے منحوس دنوں سے خالی ہے ، پولیس جس بربریت کا ثبوت دے رہی ہے اس نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے ۔
پولیس کیا ہے ؟ اس کا کا م کیا ہے ؟ اور اس وقت وہ کیا کر رہی ہے ؟ اور ایسا کیوں کر رہی ہے ؟ اس کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے ، پولیس وہ عملہ ہے جو عام انسانوں کی حفاظت اور ان کے جائز مطالبات دلانے میں ان کا ساتھ دیتی ہے ، اور ظالموں کو ان کے ظلم سے باز رہنے کی ترتیب اپناتے ہوئے مظلوموں کا سہارا بنتی ہے ، انہیں مقاصد کے پیش نظر ان کو تعینات کیا جاتا ہے ، تاکہ ظلم پنپنے نہ پائے ، نا انصافی اور بے ایمانی کا بازار گرم نہ ہو سکے ، جس کی بدولت ایک بہتر سے بہتر سماج اور ملک وجود میں آتا ہے ، اس کا کام یہ تھا کہ وہ ظالموں کا پنجہ مروڑ کر رکھ دے ، اور قانون کا سہارا لیتے ہوئے ان کو بھولا سبق یاد دلائے ، مگر اس وقت پولیس بھاجپائی حکومت کی ناجائز حمایت میں کیا کچھ کر رہی ہے وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے ، جن صوبوں میں بھاجپا کی حکومت ہے اس کا کیا حشر بنا رکھا ہے ؟ دفعہ ۱۴ / کا سر عام خاتمہ کرنے کے بعد دفعہ / ۱۴۴ کا نفاذ کیا جا رہا ہے جو سراسر ظلم ہے ، اس کو ہماری پولیس کیوں نہیں سمجھتی ، ایسا اس لئے ہو رہا ہے اور پولیس اس بات کو اس لئے نہیں سمجھ رہی ہے ، کہ انہوں نے اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے ، اور بے حسی کے شکار ہو چکے ہیں ، یا تو انہیں اپنی نوکری پیاری ہے یا انہیں استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ غنڈوں کا ٹولہ ہے ، جسے ان جیسی حرکتوں کے لئے تیار کیا گیا ہے ، لیکن ان سب معاملات کے باوجود اگر اب بھی پولیس نے ہوش کے ناخن نہیں لئے تو انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ وہ اپنی نوکری کو پروف بناتے ہوئے این آر سی میں داخل نہیں ہو سکتے ، اور انہیں ایسے ہی نکال باہر کیا جائے گا جیسے مکھی کو دودھ سے نکال دیا جا تا ہے ،پولیس اب بھی اگر غفلت سے با ز نہیں آتی ہے تو اسے اپنی بربادی کے لئے تیار ہو جانا چاہئے ، اس لئے کہ جس کو انسان ہلاک نہیں کر سکتا اس کی ہلاکت اور بربادی کے فیصلہ آسمان سے صادر ہوتے ہیں جسے کوئی ٹال بھی نہیں سکتا ، اس لئے ابھی بھی وقت ہے کہ وہ انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے ظلم کرنے سے باز آجائے ، حق اور نا حق کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے قدم بڑھائے ، ورنہ انجام برا ہو کر رہے گا ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: