مضامین

پیرطریقت حضرت حافظ سید صفدر حسین صاحب ہیرواڈیہ ؒ

مولانا ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

حافظ صفدرحسین صاحب مقام شیخوپورہ پٹنہ بہارکے رہنے والے تھے، وہ خاندانی سید تھے اشاعت دین کے لئے اپنے آبائی وطن سے ہجرت کرکے ببورہ ضلع بھاگلپور تشریف لے آئے تھے اور یہیں مقیم ہوگئے تھے ببورہ سے قریب مقام ہیرواڈیہ میں ان کی کافی زمین تھی اس لئے انہوں نے وہاں لمباچوڑا مکان تعمیر کیا تھا وہ آبادی سے دور سنسان جگہ ہے لیکن حضرت حافظ صاحب کی وجہ سے بہت بارونق ہوگئی تھی۔ یہیں ان کی ایک چھوٹی سی خانقاہ تھی اور مکتب بھی تھا جس میں شائقین تعلیم وتربیت حاصل کرنے آتے تھے اور وہ اس وقت علاقائی علما وصلحاء وار عوام کے لئے مرجع عام بنی ہوئی تھی۔
اس مدرسے میں فارسی اور تصوف کی تعلیم بہت پختہ ہوتی تھی حافظ صاحب کی کئی کرامات بہت مشہور تھیں اس لئے عوام کا رجوع بہت زیادہ تھا۔
حافظ صاحب کی وفات غالباً 1930ء؁ میں ہوئی اورببورہ میں سپرد خاک کئے گئے، ان کے دو صاحبزادے تھے (۱)مولوی امیرالدین (۲)مولوی ممتاز صاحب اور ایک لڑکی تھی جس کے شوہر کا نا ماسٹر نور حسن تھا یہ فارسی میں بہت باصلاحیت آدمی تھے۔
والد صاحب کی وفات کے بعد مولوی امیرالدین صاحب ان کے جانشین ہوئے اور اب حافظ صاحب کی جگہ یہی علاقے میں تشریف لاتے تھے اور عوام وخواص کو رشدوہدایت کی تلقین فرماتے تھے، لوگ ان کے تعویذ کے بہت معتقد تھے، شیطان وجنات کو نکالنے اور باندھنے میں ان کو بڑی مہارت تھی ہیضہ کے زمانے میں گاؤں م بندھوانے کے لئے مولوی امیرالدین کو ہی لوگ لاتے تھے، میرے بچپنے مں ی کھٹی خصوصی طور پر لائے جاتے تھے۔ غالباً 1961؁ میں ان کا انتقال ہوا، ان کو ایک لڑکا نذیر عالم ہے، جو ابھی ضلع گھورکھپور یوپی میں اپنی لڑکی کے یہاں زندگی بسر کررہے ہیں، خانقاہ اس وقت بندہوگئی ہے۔
سید شمس الدین صاحب کی طرح ان دوبزرگوں نے بھی علاقائی مسلمانوں کی بڑی خدمت کی ہے اور جہالت کی شب تار میں علم وحکمت کی روشنی پھیلاتے رہے ہیں۔

خدابخشے بہت کچھ خوبیاں تھیں مرنے والے میں

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: