اسلامیات

پیشاب پاخانہ کے آداب

پاکی اور نماز کے مسائل مدلل، قسط (26) تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی (04-مئی-1919_00-جون-1976) نور اللہ مرقدہ

پیشاب کے لیے جب بیٹھے تو پہلے بسم اللہ پڑھے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا: جب پاخانہ جائے ، تو جن کی آنکھوں سے پردہ انسان کی شرمگاہ کے لیے بسم اللہ ہے۔
(ھذا حدیث غریب اسنادہ لیس بقوی قال علی القاری: و مع ھذا بہ فی فضائل الاعمال سیما ، و قد رواہ احمد والنسائی عنہ، و رویٰ الطبرانی عن انس نحوہ)
یعنی بسم اللہ پڑھ کر ستر کھولا جائے تو انسان کی بے ستری جنوں کو نظر نہیں آتی ہے ، اس لیے جب پیشاب پاخانہ کے لیے بیٹھے تو بسم اللہ پڑھ لے۔بلا ضرورت پیشاب کھڑے کھڑے کرنا مکروہ تنزیہی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جو شخص یہ بیان کرے کہ نبی کریم ﷺ کھڑے ہوکر پیشاب کرتے تھے تو تم اس کی بات کو نہ مانو۔ آپ ﷺ ہمیشہ بیٹھ کر پیشاب کرتے تھے۔
رواہ احمد و الترمذی والنسائی و اسنادہ حسن جید قال الترمذی: حدیث عائشۃ احسن شئی فی ھذا الباب و اصح)
البتہ ضرورت سے کھڑے ہوکر پیشاب کرنے میں کوئی کراہت نہیں ہے۔
اتیٰ النبی ﷺ سباطۃ قوم فبال قائما۔ (بخاری و مسلم)
نبی کریم ﷺ قوم کی کوڑی پر آئے اور کھڑے ہوکر پیشاب کیا۔
اور یہ آپﷺ کا کھڑے ہوکر پیشاب کرنا ضرورت ہی کی وجہ سے تھا ، ورنہ آپ ﷺ کا معمول وہی تھا جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا۔ علمائے کرام نے مختلف عذر آں حضرت ﷺ کا بیان کیاہے۔
پیشاب پاخانہ کے لیے جب بیٹھے تو قبلہ رخ نہ بیٹھے، نہ قبلہ کی طرف پیٹھ کرے ۔ پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منھ کرنا یا پیٹھ کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
اذا ذھب احدکم الیٰ الغائط او البول فلایستقبل القبلۃ ولایستدبرھا (رواہ النسائی)
جب تم سے کوئی پاخانے پیشاب کو جائے تو قبلہ کی طرف منھ نہ کرے اور نہ پیٹھ کرے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
اذا اتیتم الغائط فلاتستقبلوا القبلۃ ولا تستدبرواھا۔ (بخاری و مسلم)
جب تم پاخانہ کو آؤ تو تم قبلہ کی طرف منھ نہ کرو اور نہ پیٹھ کرو۔
اسی طرح مسجد کی دیوار کے پاس مسجد کے رخ میں پیشاب نہ کرے ، ایسا کرنا مکروہ ہے۔
نھیٰ رسول اللّٰہ ﷺ ان یبال فی قبلۃ المسجد۔ (رواہ ابو داؤد فی مراسلہ مرسلا)
آں حضرت ﷺ نے مسجد کے رخ میں پیشاب کرنے سے منع فرمایا ہے۔
پیشاب کرتے وقت ذکر کو دائیں ہاتھ سے نہ پکڑے، بلکہ بائیں ہاتھ سے پکڑے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لایمسکن احدکم ذکرہ بیمینہ وھو یبول۔ (مسلم)
پیشاب کرتے وقت تم میں سے کوئی اپنے ذکر کو دائیں ہاتھ سے ہرگز نہ پکڑے۔
حضرت ابو قتادہؓ سے روایت ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پانی پیے، تو چاہیے کہ برتن میں سانس نہ لے ۔ اور جب پاخانہ جائے تو اپنی شرم گاہ کو اپنے داہنے ہاتھ سے نہ چھوئے اور نہ اپنے داہنے ہاتھ سے استنجا کرے۔ (بخاری ، کتاب الوضو، ص؍ ۵۱)
پیشاب نرم زمین میں کرے تاکہ چھینٹیں نہ اڑے۔
عن ابی موسیٰ قال: کنتُ مع النبی ﷺ ذات یوم، فاراد ان یبول فاتیٰ دمثا فی اصل جدار فبال ثم قال: اذا اراد احدکم ان یبول فلیرتد لبولہ۔ (رواہ ابو داؤد)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا تو آپ ﷺ نے پیشاب کرنے کا ارادہ کیا، تو آپ ﷺ دیوار کی جڑ میں ایک نرم زمین کے پاس آئے اور آپ ﷺ نے پیشاب کیا، پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی پیشاب کا ارادہ کرے تو پیشاب کے لیے ایسی جگہ تلاش کرے۔
پیشاب غسل خانہ میں نہ کرے ۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
لایبولن فی مستحمہ۔ (ابو داؤد)
ہرگز کوئی غسل خانہ میں پیشاب نہ کرے اور اس میں نہائے۔
اسی طرح سوراخ میں پیشاب نہ کرے ، ممکن ہے کوئی جانور موذی ہو ، وہ نکل کر ڈس لے ۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
لایبولن احدکم الیٰ جحر۔ (ابو داؤد)
ہرگز کوئی سوراخ میں پیشاب نہ کرے۔
پیشاب سے فارغ ہونے کے بعد ڈھیلے سے استنجا کرے اور اتنا چہل قدمی کرے کہ پیشاب کے اترنے کا سلسلہ بند ہوجائے ۔ پیشاب کے بعد صرف پانی سے دھولینا یا مٹی ڈھیلے سے پوچھ لینا اگرچہ درست ہے ۔
عن مولیٰ عمر یسار بن نمیر قال: کان عمر اذا بال قال ناولنی شئیا استنجی بہ فاناولہ العود او الحجر او یاتی حائطا یمسح بہ او یمسہ الارض ولم یغسلہ۔ (رواہ البیھقی و قال انہ اصح ما فی الباب نقلہ فی رسائل الارکان و کذا نقل الشیخ عبدالحق)
حضرت عمرؓ کا غلام یسار ابن نمیر کا بیان ہے کہ جب حضرت عمر پیشاب کرتے تو فرماتے کہ کوئی چیز لاؤ کہ استنجا کروں تو میں آپ ﷺ کو لکڑی یا پتھر دیتا یا دیوار میں آکر پوچھ لیتے، یا زمین سے رگڑ لیتے اور اس کونہیں دھوتے بھی۔
لیکن چوں کہ اس زمانہ میں عموما لوگوں کے مثانے کمزور ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے دیر تک پیشاب کے اترنے کا سلسلہ رہتا ہے ، اس لیے ممکن ہے پانی سے دھونے کے بعد یا ڈھیلے سے پونچھنے کے بعد پیشاب کا قطرہ آجائے ، اس صورت میں اگر پہلے وضو کیا ہے تو وضو صحیح نہیں ہوگا، ورنہ کم از کم کپڑا نجس ضرور ہوگا، جس کی وجہ سے نماز صحیح نہ ہوگی ، اسی لیے آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
اکثر عذاب القبر من البول۔ (رواہ ابن ماجہ و آخرون و صححہ الدار قطنی والحاکم)
زیادہ تر عذاب قبر پیشاب ہی کی وجہ سے ہوتا ہے۔
پاخانے کے لیے ایسی جگہ بیٹھے جہاں پردہ ہو۔ سب سے بہتر بیت الخلا ہے ۔ اگر بیت الخلا نہ ہوتو پھر پردہ کی جگہ تلاش کرے۔ اگر نزدیک میسر نہ ہو تو دور نکل جائے ۔ لوگوں کی نگاہوں کے سامنے نہ بیٹھے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب پاخانہ کا ارادہ فرماتے تو آپ ﷺ اتنادور نکل جاتے کہ کوئی آپ ﷺ کو نہ دیکھتا۔ (ابو داؤد) اور آپ ﷺ نے فرمایا:
من اتیٰ الغائط فلیستتر (ابو داؤد)
جو پاخانہ میں آئے، اس کو چھپنا چاہیے۔
اور جب پاخانہ کے لیے بیٹھے تو کپڑا اس وقت اٹھائے جب کہ زمین سے قریب ہوجائے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو کپڑا اس وقت اٹھاتے جب زمین سے قریب ہوجاتے۔ (ترمذی، ابو داؤد، دارمی) ۔
پاخانہ پھیرتے ہوئے دوسرے سے باتیں نہ کرے ۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایاکہ شرم گاہ کھول کر جب پاخانہ کر رہا ہو تو اس حالت میں دو شخص آپس میں باتیں نہ کرے، اس پر اللہ تعالیٰ بڑا ناراض ہوتا ہے۔ (احمد، ابو داؤد، ابن ماجہ)
پاخانہ میں گھسنے سے پہلے اور میدان میں ستر کھولنے سے پہلے یہ دعا پڑھے:
اللّٰھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث۔ (بخاری، کتاب الوضو)
جب پاخانہ سے فارغ ہوجائے تو اس کے بعد ڈھیلے سے استنجا کرے ۔ ڈھیلے سے استنجا کرنا سنت ہے، خواہ جتنے ڈھیلے سے مخرج صاف ہوجائے۔ تین یا پانچ یا سات ڈھیلوں کا استعمال کرنا مستحب ہے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
من استجمر فلیوتر، من فعل فقد احسن ومن لا، فلا حرج۔ (رواہ ابو داؤد، وابن ماجہ، والدارمی، وابن حبان فی صحیحہ وھو حدیث حسن)
جو شخص ڈھیلے سے استنجا کرے تو چاہیے کہ بے جوڑ ڈھیلے استعمال کرے، جس نے ایسا کیا بڑا اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کچھ حرج نہیں کیا۔
استنجا بائیں ہاتھ سے کرے۔ آں حضرت ﷺ نے فرمایا:
یستنج بشمالہ۔ (ابن ماجہ)
استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہیے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
لایتمسح من الخلاء بیمینہ۔ (مسلم)
پاخانہ سے فارغ ہونے کے بعد دائیں ہاتھ سے نہ پونچھے۔
اگر نجاست مخرج سے آگے نہیں بڑھا ہے تو پانی سے استنجا کرنا مستحب ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ بیت الخلا میں داخل ہوتے تو میں اور میری طرح ایک لڑکا پانی کا برتن اور چھوٹا نیزہ اٹھاتے اور آپ ﷺ پانی سے استنجا کرتے۔ (بخاری و مسلم)
اگر نجاست مخرج سے آگے بڑھا ہے ، مگر ایک درم سے مقدار میں کم ہے تو پانی سے استنجا کرنا سنت ہے ۔ اور اگر مقدار درم تک تجاوز کرگیا ہے تو پھر دھونا واجب ہے ۔ اور اگر اس سے بھی زیادہ لگ گیا ہے تو دھونا فرض ہے ۔ (کبیری)
جب پانی سے دھوکر فارغ ہوجائے تو ہاتھ کو مٹی سے دھوئے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب آپ ﷺ بیت الخلاتشریف لے جاتے تو میں آپ ﷺ کے لیے لکڑی یا چمڑے کے برتن میں پانی لاتا تو آپ ﷺ استنجا کرتے ۔ پھر ہاتھ کو زمین پر رگڑتے۔ پھر دوسرے برتن میں پانی لاتا اور آپ ﷺ وضو کرتے ۔ (ابو داؤد، دارمی، نسائی)
گوبر اور ہڈی سے استنجا کرنا مکروہ ہے ۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے پیچھے چلا اور آپ ﷺ اپنی حاجت (رفع کرنے) کے لیے نکلے تھے اور آپ ﷺ (کی عادت تھی) ادھر ادھر نہ دیکھتے تھے تو میں آپ ﷺ سے قریب ہوگیا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے پتھر تلاش کردو، تاکہ میں اس سے پاکی حاصل کروں۔ (پارس کے مثل کوئی لفظ فرمایا) اور ہڈی میرے پاس نہ لانا اور نہ گوبر ۔ (بخاری، کتاب الوضو؍۵۲)۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: