مضامین

چاہے اشیاء کی بات ہو یا اشخاص کی، ان کی تفہیم سنجیدہ اور صحیح منظر میں جا کر ہی ہو سکتی ہے،

چاہے اشیاء کی بات ہو یا اشخاص کی، ان کی تفہیم سنجیدہ اور صحیح منظر میں جا کر ہی ہو سکتی ہے،
گاندھی، نہرو ،دونوں عظیم شخصیات میں سے ہیں، دونوں متضاد و متحد ہیں، ایک کٹر مذہبی دوسرے غیر مذہبی، لیکن گاندھی نے اعلانیہ کہہ دیا تھا کہ ہمارا سیاسی وارث جواہر لعل نہرو ہے، دونوں سے پوری طرح الگ رکھنا یا ساتھ ہونا عقلمندی نہیں ہے ،پوری طرح تو معصوم انسان خالق کے نمائندے کے ساتھ ہو سکتا ہے اور پوری علیحدگی ابلیس سے ہو سکتی ہے، باقی کے سلسلے میں عقل سلیم اور ادراک صحیح کا استعمال کرتے ہوئے اخذ و ترک پر عمل ہونا چاہیے، معروف شخصیات کے متعلق احترام و ہمدردی کے ساتھ، اخذ و استفادہ کی راہ پر چلنا ہی اعتدال و احتیاط اور سلامتی کی بات ہے، آزادی کے بعد ڈاکٹر سید عابد حسین نے ایک کتاب،” گاندھی اور نہرو کی راہ” لکھی تھی، یہ انجمن ترقی اردو علی گڑھ سے شائع ہوئی تھی، اس میں سب کچھ نہیں ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس میں بہت کچھ ہے، کتاب کا پیش لفظ ڈاکٹر ذاکر حسین نے لکھا تھا، ڈاکٹر عابد حسین اور ڈاکٹر ذاکر حسین دونوں گاندھی، نہرو کے از حد عقیدت مند تھے، لیکن ایک طالب علم کے لیے، تعلق کے ساتھ پرکھ اور تنقید و تجزیے کی راہ ہی مفید و معتبر ہے،
گاندھی جی کے برہمچریہ، گائے، گاؤں، سدیشی تحریک، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، وغیرہ کے معاملے میں ہمیں خود آگاہ اور بیدار ذہن رہنا چاہیے، ان میں بہت کچھ ان کی ذاتی پسند اور سوچ کا دخل ہے، انسانی سماج کے عام رویے سے زیادہ تعلق نہیں ہے اور نہ ہی سماج کے مشترک رویے سے، عدم تشدد بھی ضرورت پر مبنی عمل ہے نہ کہ گاندھی جی کی طرح عقیدہ، عقیدہ بنا لینے سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، خود گاندھی جی کو اس سے گزرنا پڑا ہے، برٹش سرکار کی فوج میں بھرتی، اذیت ناک حالت میں بچھڑے کو انجکشن لگا کر مارنے اور آشرم میں بندروں کی یلغار پر ان کو مار بھگانے کی مثالیں ہیں، ظاہر ہے کہ یہ عدم تشدد کے عقیدے کے خلاف ہے لیکن ضرورت کے تحت عمل سے مسائل کا رخ بدل جاتا ہے، عدم تشدد کے پیش نظر رام، راون جنگ اور مہا بھارت کی لڑائی اور دیگر جنگوں کی کوئی توضیح و تعبیر پیش کرنا مشکل ہے، سناتن ہندو روایات جن سے گاندھی جی جڑے ہوئے تھے، میں دیوتاؤں، راکشسوں کی لڑائیوں کی طویل فہرست ہے، ویدوں تک میں سوروں، آسوروں کی جنگوں کے حوالے ہیں، ہمیں باتوں کو وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے، نہرو کی بھی ملک و قوم کے لیے بڑی خدمات ہیں، فرقہ پرستوں کے سطحی تبصرے سے متاثر ہو جانا انصاف و اعتدال اور خود اعتمادی کے منافی ہے، جدید بھارت کی تعمیر و ترقی میں نہرو کا بڑا رول ہے، انہوں نے عموماً تاریخ و شخصیات کے مطالعے میں بھی انصاف و آزادی سے کام لیا ہے، اس کا پتا، تلاش ہند، میری کہانی، تاریخ عالم کی جھلکیاں اور دیگر تحریروں سے چلتا ہے، مذہبی معاملے میں گاندھی اور نہرو میں کامل عقیدے اور موہوم خیالات اور گمان کا فرق ہے، مذہبی معاملے میں نہرو کے موقف سے کائنات اور سماج کے بہت سے امور کی توجیہ و توضیح نہیں ہو سکتی ہے، اس کے پیش نظر گاندھی، نہرو کو پوری طرح یکساں اور ایک ساتھ رکھنا راست رویہ نہیں ہے اور نہ پوری طرح الگ الگ رکھنا، موجودہ نسل کے لیے دونوں میں کشش ہے، لیکن نئ زندگی کی تعمیر اور فرقہ پرستی کی یلغار میں بہتر راستہ نکال کر آگے بڑھنے کا مسئلہ بھی درپیش ہے، مستقبل کے بھارت اور بھارت کے مستقبل کے حوالے سے بہت سی باتوں میں اخلاقی قوت، اقدار، ذہنی بصیرت، سماجی مقاصد کی تکمیل میں دونوں کا فکر و عمل کس طرح اور کس حد تک مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ ذہنی ساخت اور قابل توجہ مقاصد کے تعلق سے دونوں میں بہ ظاہر فرق ہے، تاہم باہمی رفاقت، محبت اور احترام کے رشتوں کے توسط سے کسی نہ کسی نتیجے تک پہنچنے میں ہمیں اپنی قوت فہم و بصیرت کا استعمال کرنا ہی پڑے گا، اس میں دیگر رہنماؤں سے روشنی و رہنمائی لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، مولانا آزاد رح ،مولانا مدنی رح، مولانا سجاد رح ،جیسے بہت سے بزرگ ہیں، ہمارے لیے تو راہیں کھلیں اور وسیع ہیں، بندھن کے ساتھ آزادی کی کھلی فضائیں ہیں، بھارت جیسے ملک میں ذہن و فکر کو از حد وسیع کرنا ضروری ہے ورنہ جسموں میں اسیر ہونے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی، یہاں کے بیشتر لوگ تاریخی اور کائناتی قوتوں کو بھی شخصیتوں میں مجسم دیکھنے کے عادی ہیں، خیر و شر کی قوتوں اور علامتوں کو مجسم شکل دینے میں بھارت جیسے ملک کے لوگ دیر نہیں لگاتے ہیں، بھگوان تک کو انسانی شکل میں، بیوی بچوں سمیت سامنے لے آتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس سے لامحدود ذات محدود ہو جائے گی، گاندھی، نہرو نے کم از کم یہ نہیں کیا ہے، گاندھی، نہرو ،ٹیگور کے ساتھ مولانا روم اور اقبال و آزاد کو ملا کر دیکھنے سے دیوار کی چمک اور تصویر نظر میں صاف صاف آ جاتی ہے، گاندھی کی بے خوفی، نہرو کا مہذبانہ طرز، ٹیگور کی انسانی برادری، رومی رح کا وجدان، اقبال کا تصور خودی، آزاد کی بصیرت کو نظرانداز کرنے کا کوئی مطلب نہیں ہے ،یہ تو محرومی کی بات ہوگی، زمین کے پنکھ کا آسمان کی ندا کو لبیک کہنے کا کوئی نہ کوئی معنی و مطلب تو یقیناً ہوگا، بلکہ ہے،
ہمارے یہاں گاندھی ،نہرو کو پیش کرتے ہوئے ان کے بالمقابل لوگوں کو نظرانداز کرنے سے انحراف و انتشار پیدا ہونے کے ساتھ حالات و مسائل کی تفہیم بہتر طور سے نہیں ہو سکی ہے، اس کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے، ( سلیم و شاہین اور شیام کے نام، سے، 26جنوری 2015)
عبدالحمید نعمانی، 5/8/2021 ،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: