اسلامیات

چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے

مفتی امانت علی قاسمی

   E-mail:  aaliqasmi1985@gmail.com

محمد الرسول ﷺ کی شخصیت ، کائنات میں سب سے محبوب اور عظیم ہے،آپ سے افضل نہ کوئی آیا ہے تو نہ آئے گا آپ کی شان خود قرآن میں اللہ رب العزت نے بیان کی ہے ۔ آپ کے اخلاق کی بلندی کو بیان کرتے ہوئے اللہ نے انک لعلی خلق عظیم(آپ اخلاق کی بلندی پر فائز ہیں ) فرمایا، آپ کی رفعت شان کو بیان کرتے ہوئے اللہ رب العزت نے ورفعنالک ذکرک (ہم نے آپ کے ذکر کو بلند کردیا ہے )فرمایا، آپ کے ناموس پر بات آئی تو اس کے جواب اور دفاع کی ذمہ داری حق تعالی شانہ نے خود اداکی۔ ایک موقع پر آپ کی انگلی زخمی ہوگئی اور اس کے بعد چند دنوں وحی کا سلسلہ رک گیا تو مشرکین نے طعنہ دینا شروع کردیا کہ محمد (ﷺ)کو ان کے خدا نے چھوڑ دیا اور ان کا خدا ان سے ناراض ہوگیا اس موقع پر اللہ تعالی نے سورہ ضحی نازل فرمائی اور صاف لفظوں میں مشرکین کو جواب دیا: ما ودعک ربک وماقلی (آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو رخصت کیا ہے اور نہ ہی بیزار ہوا ہے)اور آپ ﷺ کو انعامات خداوندی بیان کرنے کا حکم دیا واما بنعمۃ ربک فحدث (بہر حال آپ اپنے پروردگار کی نعمتوں کوبیان کیجیے )ابولہب نے آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے تبا لک یا محمد کہا تو اللہ تعالی نے آپ کا دفاع کرتے ہوئے فرمایا تبت یدا ابی لہب (ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک و برباد ہوجائیں)آپ ﷺ کے صاحبزادے قاسم کے انتقال پر عاص بن وائل اور بعض دوسرے مشرکین نے طعنہ دیا کہ آپ کی نسل نہیں چلے گی اور جلد ہی آپ کا نام و نشان مٹ جائے گااس موقع پر اللہ تعالی نے سورہ کوثر نازل فرمائی اور مشرکین کے طعنہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا :ان شانئک ہو الابتر(بیشک آپ کے دشمن کی جڑ کٹی ہوئی ہے) غور فرمائیں آپ ﷺ کے ذکر کو اللہ تعالی نے کس قدر عظمت و رفعت عطا فرمائی کہ آپ ﷺ عہد مبارک سے آج تک آپ کا ذکر مسجد کے میناروں سے کیا جاتاہے ،آخرت میں آپ کو شفاعت کبری اور مقام محمود حاصل ہوگا اوردنیا کی تاریخ پر نظر ڈال لیں کیا کوئی شان رسالت میں گستاخی کرنے والوں کو عزت و احترام سے نام لیتادکھائی دیتاہے۔
چشم اقوام یہ نظارہ ابد تک دیکھے
رفعت شان رفعنا لک ذکر ک دیکھے

 آپ ﷺ کی عظمت کی گواہی اپنوں نے نہیں ؛بلکہ غیروں نے بھی دی ہے۔ انگریز مصنف مائیکل ہارٹ نے سو عظیم انسان پر کتاب لکھی اس میں انہوں نے سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ کا تذکرہ کیا۔اور یہ ثابت کیا کہ کائنات میں اول درجے کی شخصیت اگر کوئی ہے تو محمدﷺ کی ہے ۔ایک مرتبہ غار حراء سے آپ تشریف لائے اور آپ پر خوف کے آثار تھے ، آپ نے حضرت خدیجہ ؓ سے اپنے غم کا اظہار فرمایا تو حضرت خدیجہ نے جوآپ کے اوصاف بیان کیے اس میں آپ کی سیرت و شخصیت کا عکس دکھائی دیتاہے ۔ حضرت خدیجہ فرماتی ہیں خدا کی قسم اللہ تعالی آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا ، آپ رشتے ناطے جوڑتے ہیں ، سچی باتیں کرتے ہیں مہمانوں کی ضیافت کرتے ہیں،دوسروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور مظلوموں کی مدد کرتے ہیں ۔ایسے عظیم انسان کو اللہ کس طرح رسوا کرسکتاہے؟ یہ آپ کی سیرت کے ابتدائی نقوش ہیں ، ورنہ آپ کی سیرت سے معلوم ہوتاہے کہ آپ مکہ میں کمزور ی اورکسمپرسی میں تھے تو آپ نے ظلم سہا،تکلیفیں جھیلیں؛ لیکن جب بدلے کا وقت آیا اور آپ مکہ میں فاتحانہ داخل ہوئے تو آپ نے انتقام کے بجائے عفو و درگزر سے کام لیا، جن لوگوں نے بے انتہاء اذیتیں دی تھیں ان کو آپ نے معافی کا پروانہ دے دیا۔آپ نے اخلاق کا جو نمونہ پیش کیا وہ کسی بھی پیشوایان مذہب میں اورتاریخ کے کسی بھی عہد میں دکھائی نہیں دیتاہے ، جنہوں نے آپ کے چچا کا کلیجہ چبایا تھا تو آپ نے ان کو بھی معاف کردیا ،جس نے نماز کی حالت میں آپ پر جانور کی اوجھ ڈالی تھی اسے بھی بخش دیا۔ آپ نہ صرف اپنوں اور مسلمانوں کے ساتھ ہی رحم و کرم کا معاملہ فرماتے تھے ؛بلکہ آپ نے ان لوگوں کے ساتھ بھی ہمیشہ حسن و سلوک کیا جنہوں نے آپ کے مذہب کو ٹھکرا دیا تھا، غیر مسلموں کے جنازہ کے احترام میں بھی آپ کھڑے ہوجاتے تھے ، چچا ابوطالب جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا پھر بھی آپ ان کے جلوس جنازہ میں تشریف لے گئے اور مقام تدفین تک پہونچے ، آپ نے حضرات صحابہ کو بھی اپنے غیر مسلم رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم فرمائی ، ایک یہودی نوجوان جوآپ کے پاس آیا جایا کرتا تھا جب وہ بیمار پڑا تو آپ اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے ۔
آپ کی ذات اور آپ کے اخلاق کریمانہ کا حال یہ تھا کہ مکہ میں جب قحط پڑا اور اہل مکہ نے آپ سے دعا کی درخواست کی تو آپ نے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے قریب چار سال تک آپ کا دانہ پانی بند کردیا تھا ان کے لیے دعا بھی کی اور تعاون کا ہاتھ بھی بڑھایا۔مکہ میں نجد کی طرف سے مال آیا کرتاتھا وہاں کے سردار ثمامہ بن اثال جب مسلمان ہوئے توانہوں نے مکہ کی طرف غلہ بھیجنا بندکردیااور کہا جب تک حضور کی اجازت نہیںہوگی ایک دانہ بھی مکہ نہیں جائے گا آپ ﷺ نے ان کو ایسا کرنے سے منع کردیا اور غلہ بھیجنے کا حکم دیا ۔
آپ کے انہی اخلاق کریمانہ کی وجہ سے حضرات صحابہ آپ کے دیوانے تھے، اور حد درجہ آپ سے محبت کرتے تھے، عروہ بن مسعود ثقفی کو قریش نے صلح حدیبیہ سے پیشتر اپنا سفیر بناکر حضور ﷺکی خدمت میں روانہ کیا۔ انہیں سمجھایا گیا تھا کہ مسلمانوں کے حالات کو ذرا غور سے دیکھے اور قوم کو آکر بتائے، عروہ نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے ہیں تو آپ کے وضو کے پانی پر صحابہ یوں گرتے ہیں گویا ابھی لڑپڑیں گے، اور زمین پر گرنے سے پہلے کوئی نہ کوئی اپنے ہاتھ پر روک لیتا ہے اور اپنے چہرے پر مل لیتا ہے، حضور کوئی حکم دیتے ہیں تو تعمیل کے لیے سب دوڑے پھرتے ہیں، حضور کچھ بولتے ہیں تو سب چپ ہوجاتے ہیں ،تعظیم کا یہ حال ہے کہ حضور کی جانب آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھتے، عروہ نے یہ سب کچھ دیکھ کر قوم سے بیان کیا اے لوگو! میں نے کسریٰ کا دربار بھی دیکھا ، قیصر کا تخت و تاج بھی دیکھا، نجاشی کی فرماں روائی بھی دیکھی، مگر اصحاب محمد جو محمد کی تعظیم کرتے ہیں وہ تو کسی بادشاہ کو بھی اپنے دربار اور ملک میں حاصل نہیں۔
یہ تو صحابہ کے عشق نبی کا حال تھا لیکن سچائی یہ ہے کہ ہر ایمان والے کے دل میں آپ ﷺ سے حد درجہ محبت ہوتی ہے چاہے وہ اس محبت کا اظہار کرسکے یا نہ کر سکے ، حدیث میں ہے آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتاہے جب تک کہ میں ان کی نگاہ میں اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں ، اگر کسی کو آپ ﷺ سے زیادہ اپنی اولاد سے یا اپنے مال سے محبت ہے تو حضور ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق اس کا ایمان کامل نہیں ہے یہی وہ حقیقت ہے جسے بعض لوگ آج تک سمجھنے سے قاصر ہیں ، کوئی اس کا برملا اظہار کرتا ہے اور کوئی نہیں کرتالیکن یہ حقیقت ہے اگر وہ ایمان کا دعویدار ہے تو محمد کی غلامی اس کے لیے شرط اول ہے:
محمد کی غلامی دین حق کی شرط اول ہے 
 اسی میں ہو اگرخامی سب کچھ  نامکمل ہے 
  ناموس رسالت کے حالیہ واقعہ نے ہندوستانی مسلمانوں کو ہی نہیں؛ بلکہ پوری دنیا میں بسنے والے ایمان والوں کو بے چین کردیا ہے،اس لیے کہ مسلمان ناموس رسالت پر آنچ آنے کو برداشت نہیں کرسکتے ہیں ، اسی لیے پوری دنیا میں مسلمانوں نے اس کے خلاف احتجاجات کئے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے ،لیکن ہر شر سے خیر کا پہلو نکلتاہے، اور دین اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ ہوتاہے ، اسلام کا پودہ اسی طرح کی قربانیوں کے بعد ہر ا ہوتاہے، ایمان والے کے لیے یہی موقع ہوتاہے اپنے ایمان کے امتحان کا ، اور یہ جانچنے کا كہ عشق نبی کی چنگاری دلوں میں موجزن ہے یا نہیں ؟ الفت کا دعوی زبانی اور کھوکھلا ہے یا دل عشق نبی کی بھٹی سے گرم ہے؟ لہو میں ایمانی حرارت باقی ہے یا اس کا ایمانی خون خشک ہوچکاہے ،الفت کے بازار میں عشق نبی کا خریدار ہے یا مادیت کی منڈی میں دنیا کا پرستار ہے ، یقینا جن کے دلوں میں اس واقعے سے بے چینی ہوئی ہے یہ اس بات کی علامت ہے اس کے دل میں ایمان کی شمع روشن ہے ، ا سے اس پر خوش ہونا چاہیے اور جنہوں نے محسوس کیا کہ یہ کوئی واقعہ ہی نہیں ہے تو انہیں اپنے ایمان کی خیر منانی چاہیے ۔
اس موقع پر پوری دنیا کے مسلمانوں کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں نے جس عزیمت کا مظاہرہ کیا ہے اور عشق نبی کے لیے جس عزم و حوصلے کا ثبوت دیا ہے ، وہ ایمانی غیریت و حمیت کا غماز ہے ، مدثر جو رانچی کے احتجاجی مظاہرے میں شہید ہوگیا اس کی زندگی کے آخری جملے اور اس کی ماں کے قابل فخر بیان نے ہر مسلمانوں کے دلوں میں عشق نبی کی دبی چنگاری کو شعلہ جوالہ بنادیا ہے۔ ان کا بیان ’’اسلام زندہ تھا ، زندہ ہے اور قیامت تک زندہ رہے گا مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے اس نے حضور ﷺ کی خاطر اپنی جان دے دی ‘‘ اس بیان نے صحابیہ حضرت خنسا کی یاد تازہ کردی اس جرأت و ہمت کو سلام کرنا چاہیے اتنے بڑے حادثے کے وقت اس قدر جرأت و عزیمت کا بیان حوصلے کی عظیم بلندی پر فائز خاتون ہی دے سکتی ہیں ۔ہمیں یہاں رک کر سوچنا اور اپنا محاسبہ کرناضروری ہوگا کہ ہم عاشق نبی کیا صرف زبان سے عشق نبی کا دعوی کرکے اپنی محبت میں کامیاب ہوجائیں گے ، کیاہم نبی کی سیرت آپ کے کردار سے چشم پوشی کرکے، نبی ﷺ کے اخلاق سے پہلو تہی کرکے حوض کوثر پر حضور کی سفارش کے طلب گار بن جائیں گے ہمیں اس کا محاسبہ کرنا چاہیے اور اپنے عمل میں بھی نبی ﷺ کی سیرت کو ملحوظ رکھنا چاہیے ۔
شر سے خیر کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ نائن الیون کے بعدجب امریکہ نے دہشت گردی کا رخ مسلمانو ں کی طرف کردیا اور مسلمانوں کو دہشت گردی سے کو جوڑ کر دیکھا جانے لگا اور مختلف پروپیگنڈے حکومت کے چشم ابرو سے وجود میں آنے لگے ، امریکہ کے مسلمانوں کا امریکہ میں دم گھٹنے لگا اور ان کے لیے اپنی شناخت کو باقی رکھنا مشکل ہوگیا تو اسی شر سے خیر کا پہلو یہ نکلا کے وہاں کے مسلمانوں نے سمجھداری اور دانش مندی کا ثبوت دیا ، اور مومنانہ فراست سے حالات کا رخ موڑنے میں کامیابی حاصل کی ، وہاں کے مسلمانوں نے اسلام کے تعارف کی ہر ممکن کوشش کی ، عام لوگوں کو visit to our mosque کے ذریعہ مسجدوں میں بلایا اور اسلام کا تعارف پیش کیا ، چھوٹے چھوٹے رسالوں کے ذریعہ لوگوں کو اسلام سے قریب کیا، مدارس کے بارے میں پروپگنڈہ چلایا گیا تو وہاں کے پروفسیر ڈاکٹر ابراہیم موسی نے what is a Madrasa کتاب لکھی جس میں انہوں نے مدرسہ کے داخلی نظام ، نصاب اور طریقہ تعلیم کا مکمل تعارف کرایااور بتلایا کہ مدرسہ کس طرح کی تعلیم دیتے ہیں ۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام اور خالی الذہن شہریوں نے اسلام اورقرآن کا مطالعہ شروع کیا اورجو لوگ پروپیگنڈہ پر یقین نہیں رکھتے ہیں انہوں نے حقیقت جاننے کی کوشش کی اور ریسرچ اور تحقیق کے ذریعہ اسلام کو سمجھنا چاہا، تاریخ گواہ ہے کہ اس قلیل عرصے میں جتنے مسلمانوں نے وہاں اسلام قبول کیا کئی دہائی میں اتنے لوگ اسلام کی طرف نہیں آئے ۔
ٹھیک اس واقعہ کے بعد ہندوستان سمیت پوری دنیا میں آپ ﷺ کی سیرت کو پڑھنے اور سمجھنے کا ایک رجحان بڑھ رہاہے انٹرنیٹ پر بہت زیادہ لوگ آپ کی سیرت کو پڑھنے اور سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں یہ ایک نیک فال ہے جس کے ان شاء اللہ اچھے اثرات مرتب ہوں گے لیکن یہاں پر ہم لوگو ں کی طرف سے بھی کچھ کوتاہیاں ہوئی ہیں جس کی تلافی کا یہ بہت مناسب وقت ہے۔عام ہندوستانیوں کی مادری زبان ہندی ہے یا علاقائی زبان ہے اورعلم و تحقیق کی زبان انگریزی ہے ،ہم نے انگریزی ،ہندی اورعلاقائی زبان میں آپ ﷺ کی سیرت پر اتنا کام نہیں کیا جس قدر ضرورت تھی آج جب لوگ انٹرنیٹ پر یا بک اسٹال پر سیرت کی کتاب تلاش کر نے جاتے ہیں تو انہیں مستند علماء کی کتابیں نہیں ملتی ہیں ، انٹرنیٹ پر مستشرقین نے آپ ﷺ کی سیرت کے تعلق سے جو ا عتراضات کئے ہیں اور جس طرح زہرفشانی کی ہے وہ اہل علم سے مخفی نہیں ،آج بہت زیادہ لوگ مستشرقین کی تحریروں سے متاثر ہورہے ہیں آج بہت مناسب وقت ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت کے مختلف گوشوں کو مختلف زبانوں میں تحریر کرایا جائے ، اسے بڑی تعداد میں شائع کیا جائے اور انٹرنیٹ پر بھی اپلوڈ کیا جائے ۔اس وقت مثبت اور تعمیری کاموں میں اس جانب خصوصی توجہ کی ضرورت ہے ان شاء اللہ اس شر سے خیر وجود میں آئے گا اور بڑی تعداد میں آپ ﷺ کی سیرت کو پڑھ کر متاثر ہوں گے ۔
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں 
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: