مضامین

چلائومجھ پہ گولیاں،جلائو میراآشیاں !

فیاض احمد صدیقی رحیمی

گولیاں چل رہی ہیں، لاشیں گررہی ہیں۔لاٹھیوں کے وار سے مرد ہی نہیں خواتین کے نازک تن بھی لہولہان ہورہے ہیں۔ نوجوانوں کو ملک سے غداری کے الزام میں گرفتار کیا جارہا ہے،ننھے ننھے بچوں پر بھی کیس درج ہورہے ہیں مگر پھر بھی شہریت قانون کی مخالفت میں کمی آنے کے بجائے شدت آرہی ہے۔’آزادی ‘ اور ’انقلاب زندہ باد‘کے جن نعروں نے سات سمندر پار سے آئے انگریزوں کوبھاگنے پر مجبور کیا تھا،آج ایک بار پھر وہی نعرے پوری شدت کے ساتھ ملک میں گونجنے لگے ہیں۔شہریت قانون کی مخالفت کی آوازاتنی زوردار ہے کہ اب اس کی گونج مغرب ومشرق کے جمہوری ایوانوں تک پہنچنے لگی ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کے کئی اہم ممالک نے بھارت کی حکومت کو اس قانون کے تعلق سے انتباہ دیا ہے۔ یوروپین یونین کی پارلیمنٹ میں اس کے خلاف ایک ریزولیوشن لایا گیا ہے جب کہ اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی بھی اس معاملے کو لے کراپریل میں ایک اہم اجلاس کرنے والی ہے۔ بھارت بے حد دبائو میں ہے اورجس حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ،وہ بہت تیزی سے پیچھے قدم ہٹارہی ہے۔وزیرداخلہ امت شاہ لگاتار کہتے آئے ہیں کہ این آرسی ہرحال میں لاکر رہینگے اور گھس پیٹھیوں کو ملک سے باہر نکالیں گے مگر اب ان کی وزارت نے ہی پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ این آرسی لانے کا فی الحال کوئی ارادہ نہیں ہے۔ظاہر ہے کہ حکومت کو اندازہ نہیں تھا کہ سی اے اے اور این آرسی کی مخالفت اس قدر بڑھے گی کہ لوگ سرسے کفن باند ھ کر میدان میں اترجائینگے اور یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بن جائے گا۔ شہریت قانون کے خلاف اٹھنے والی آواز کی شدت نے حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے اور ظاہر ہے کہ اس کا سہرا ان خواتین کو جاتاہے جنھوں نے گھر کی چہاردیواری کو چھوڑ سڑک پر آنے کا فیصلہ کیا۔ لکھنو سے اعظم گڑھ تک اوربنگلور سے دلی تک جنھوں نے حکومت کے مظالم سہے۔ لاٹھیاں کھائیں اور گولیاں کھانے کو تیار بیٹھی ہیں۔
چلائو مجھ پہ گولیاں،جلائو میرا آشیاں
ابھی نہیں مرونگا میں، کبھی نہیں مروںگا میں
یہ خون ناحق رنگ لائے گا
شہریت قانون کے خلاف اب تک درجنوں افراد اپنی جانوں کی قربانیاں پیش کرچکے ہیں اورسب سے زیادہ جانیں اترپردیش میں گئی ہیں۔ 20 دسمبر کو یوپی کے فیروز آباد میں شہریت ترمیمی ایکٹ کے تعلق سے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ جس کی تصاویر قومی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیں اور پولس تشدد کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں۔یہاں بہت سے خاندانوں کی زندگیاں تباہ ہوگئیں۔ 16 سالہ مقیم کی ماں کی آنکھوں میں اب بہانے کے لئے آنسوبھی نہیں بچے ہیںجو 20 تاریخ کو گولی لگنے سے زخمی ہوگیا تھا اور 23 دسمبر کی رات نو بج کر تیس منٹ پراس کی موت ہوگئی۔ مقیم کے چچا کہتے ہیں کہ وہ اس دن میٹھی سپاری لینے گھر سے نکلا تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ فائرنگ ہو رہی ہے تو وہ گھر کی طرف بھاگا مگراسی وقت ایک گولی چلی جو اس کے پیٹ سے پار نکل گئی۔ اس کے بعد مقیم کو آگرہ کے اسپتال میں داخل کرایا گیا ، جہاں اس کی حالت تشویشناک ہونے کے بعد اسے دہلی ریفر کردیا گیا اور صفدرجنگ اسپتال میں اس کی موت ہوگئی۔فیروزآباد کے ہی نبی جان ، راشد اور ارمان 20 تاریخ کو واقعہ کے دن ہی شہیدہو گئے تھے مگر پولس، ان کے قتل کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں۔محمد شفیق (36) ولد عبدالرشید قریشی گھر آرہے تھے۔ اسی دوران ، گولی لگنے سے زخمی ہوگئے ۔ انھیں علاج کے لئے ضلع اسپتال لے جایا گیا۔ جب حالت تشویشناک ہوگئی تو آگرہ لے جایا گیا۔ وہاں سے دہلی کے صفدرجنگ اسپتال ریفر کردیا گیا۔ دہلی میں علاج کے دوران ، ان کا انتقال ہوگیا۔ ہارون (30سال)کو بھی گولی لگی تھی اور علاج کے دوران موت ہوگئی۔اترپردیش کی یوگی سرکار کی پولس نے ہی معصوموں کی جانیں نہیں لی ہیں بلکہ بی جے پی کی حکمرانی والے کرناٹک میں بھی احتجاج کرنے والوں پر گولیاں چلائی گئیں اور کئی افراد شہید ہوگئے۔ابھی حال ہی میں جب دلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ایک جلوس پارلیمنٹ تک مارچ کے ارادے سے نکلا تو پولس نے اسے روک دیا اور نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو بری طرح پیٹا۔ حد یہ کہ ان کی شرم گاہوں پر لاٹھی سے وار کیا گیا۔دلی پولس بھی مرکز کی مودی سرکار کے ماتحت ہے۔
وہ ظلم بھی اب ظلم کی حد تک نہیں کرتے
آخر انہیں کس بات کا احساس ہوا ہے
خواتین پرشب خوں
شہریت قانون کے خلاف یوں تو پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے ہورہے ہیں مگر پولس اور حکومت کے مظالم کے معاملے میں اترپردیش سب سے اوپرہے۔ لکھنؤ کے گھنٹہ گھر میں شاہین باغ کی طرز پر خواتین کی جانب سے شہریت ترمیمی قانون کے خلاف پرامن احتجاج جاری ہے۔حالانکہ یوگی سرکار کی پولیس نے ان کے خلاف سخت موقف اختیار کر رکھا ہے اور خواتین پر سخت دفعات کے تحت معاملے درج کئے ہیں۔پولیس کاروائی پر مشہور شاعر منور رانا نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ہٹلر نے بھی اتنا برا قانون نہیں بنایا۔ آج ملک کی عورتیں رو رہی ہیں اور آپ انہیں رونے بھی نہیں دے رہے ہیں۔ اسی بیچ لکھنو میں وزیرداخلہ امت شاہ بھی آئے اور کہہ گئے کہ کسی بھی حال میں سی اے اے واپس نہیں ہوگا۔ ادھر سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا ہے کہ’ آزادی‘ کا نعرہ لگانے والوں کو ملک کا غدار سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کاروائی ہوگی۔ یوگی کے بیان کے بعد خواتین کا غصہ مزید بڑھ گیا ہے اور گھنٹہ گھر پر آزادی آزادی کے نعروں کی گونج بڑھ گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یوگی انھیں گرفتار کریں،جیل بھیجیں،وہ پیچھے نہیں ہٹنے والی۔اس بیچ اعظم گڑھ کے بلریاگنج میں دھرنے پر بیٹھی خواتین پر پولس نے رات کے اندھیرے میں لاٹھیاں برسائیں جس میں کئی خواتین زخمی بھی ہوگئیں۔ ایسا ہی معاملہ کانپور میں بھی ہوا۔ یہاں بھی احتجاج کرنے والے ،پولس مظالم کی زد میں آئے اور ان پر لاٹھیاں برسائی گئیں۔
یہ ظلم دیکھیے کہ گھروں میں لگی ہے آگ
اور حکم ہے مکین نکل کر نہ گھر سے آئیں
نفرت کی آگ
بھارت ایک آزاد اور جمہوری ملک ہے ،جہاں اگر حکومت کو کوئی قانون بنانے کا حق ہے تو اس کے خلاف احتجاج کا عوام کو بھی حق حاصل ہے مگر شہریت قانون کے خلاف جو لوگ آواز اٹھا رہے ہیں،ان پر گولیاں برسائی جارہی ہے اور لاٹھیاں چلائی جارہی ہیں۔حکومت کے ارکان اور بی جے پی کے لیڈران کا کلیجہ پھر بھی ٹھنڈا نہیں ہورہا ہے۔ وہ زہریلے اور نفرت انگیز بیانات سے پیچھے نہیں ہٹ رہے ہیں۔ مغربی بنگال بی جے پی کے صدر دلیپ گھوش نے پچھلے دنوںکہا تھا کہ جس طرح شہریت قانون پر پرتشدد مظاہروں کے دوران اترپردیش میں شرپسندوں کو گولی مار دی گئی ، اسی طرح بنگال میں بھی ، وہ انتشار پسند عناصر کو کتے کی طرح گولی مار دیں گے۔دلی میں بی جے پی کے ایک منتری انوراگ ٹھاکر نے تو ایک انتخابی جلسے میں نعرہ لگوایا تھا کہ ’گولی مارو سالوں کو‘ اوریوپی سے بی جے پی ممبراسمبلی سنگیت سوم نے توجوتے مارنے کی بات کہی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہی نفرت وعداوت ہے جو سنگھیوں کے ذہنوں میں شاکھائوں میں بھری جاتی ہے۔
حالات خوں آشام سے غافل نہیں لیکن
اے ظلم ترے ہاتھ پہ بیعت نہیں کرتے
عدالتوں کے ہاتھ میں جمہوریت کی لاج
احتجاج کا حق عوام کو ملک کے آئین نے دیاہے اور پرامن احتجاج سے لوگوں کو روکا نہیں جاسکتا۔ حالانکہ حکومت اور پولس وانتظامیہ لوگوں کو احتجاج سے روک رہی ہیں۔ ایسے میں کورٹ ہی ہے جو جمہوریت کی لاج بچاسکتا ہے۔ حالانکہ گزشتہ کچھ دنوں میں کئی ایسے فیصلے سپریم کورٹ آف انڈیا دے چکا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بھی حکومت کے دبائو میں ہے۔ اس کے باجودنچلی عدالتوں نے احتجاج سے روکنے کے سبب پولس کو پھٹکار لگائی ہے۔ جامع مسجد کے سامنے احتجاج کرنے والوں کو گرفتار کرنے کے خلاف بھی دلی کی ایک عدالت نے پولس کی خبرلی تھی۔ اگر سوچوتو یہ پھٹکار وزیرداخلہ امت شاہ کے لئے ہے جن کے ماتحت دلی پولس کام کرتی ہے۔اسی طرح اترپردیش میں جن احتجاجیوں کو بلوہ کے جھوٹے مقدموں میں پھنسایا گیا تھا،انھیں بھی اترپردیش کی عدالتوں سے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ کورٹ نے پولس کو پھٹکار بھی لگائی کہ ثبوت نہیں تھا تو گرفتار کیوں کیا؟گویا ملک کی عدالتیں تسلیم کر رہی ہیں کہ حکومت عوام پر ظلم کر رہی ہے اور پولس کے ذریعے لوگوں کو ان کے جمہوری حق سے روکا جارہا ہے۔بہرحال عوام کو احتجاج سے روکنا ایک خطرناک رجحان ہے جو صرف ان ملکوں میں دیکھا جاتا ہے جہاں ڈکٹیٹرشپ ہے۔ جمہوری ملکوں میں عوام کو نہیں روکا جاتا۔ ویسے کئی پرانی مثالیں موجود ہیں کہ عوام کی آواز کو دبانے کی جس قدر کوششیں ہوئیں،اسی قدر حکومت کی مخالفت بڑھی ہے اور اس کا سائڈ ایفکٹ حکومت کو دلی کے اسمبلی انتخابات کے نتیجوں میں یقینا نظر آیا ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: