زبان و ادب

چلو اپنی آبادیوں کو اردو بستی بنائیں

اردو کو فروغ دے کر اپنی تہذیبی ورثے کی حفاظت کیجیے

عبدالغفار صدیقی
9897565066
اردو زبان و ادب کی ضرورت اور اہمیت کا اقرار ہر اس شخص کو ہے جو کسی زبان سے تعصب نہیں رکھتا۔جو لوگ تعصب کی عینک سے زبانوں کو دیکھتے ہیں ان کی بات چھوڑئیے انھیں تو اپنی زبان کے علاوہ کچھ اچھا نہیں لگتا۔یہ الگ بات ہے کہ وہ بھی اپنی بات چیت میں اردو الفاظ اور جملوں کا استعمال کرتے ہیں اور انھیں خبر تک نہیں ہوتی۔اردو زبان کی حلاوت،چاشنی اور شیرینی کے تمام اہل زبان قائل رہے ہیں۔گوپی چند نارنگ اردو کو”زبانوں کا تاج محل“ کہا کرتے تھے۔پنڈت آنند موہن زتشی گلزار دہلوی مرحوم کہا کرتے تھے کہ میری خواہش ہے کہ میں مرجاؤں تو ”شہید اردو“ کہلاؤں۔آج بھی اہل دانش و بینش کا بڑا طبقہ اردو کو نہ صرف پسند کرتا ہے بلکہ اس کا مداح ہے۔ہر دھڑکتے دل کی تمنا ہے کہ وہ اردو بولے،مشاعرے میں جتنے سامعین ہوتے ہیں خواہ ان کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو مشاعرہ سننے کے بعد شاعر بننے کی آرزو ان کے سینے میں مچلنے لگتی ہے۔لیکن برا ہو تنگ نظر سیاست کا کہ اس نے ہر اس چیز کو جس کا تعلق مسلمانوں سے ہے اسے اپنی عداوت کا نشانہ بنالیا ہے۔وہ تاریخی عمارتیں جس پر ملک فخر کرتا تھا اب وہی غلامی کی نشانی بن گئی ہیں،وہ سڑکیں اور وہ ریلوے اسٹیشن جن کو کسی مسلم بادشاہ یا کسی مسلم مجاہد آزادی کے نام منسوب کیا گیا تھا ان کے نام بدلے جانے لگے۔مسجد کے مناروں سے بھی دشمنی ہوئی اور مدرسوں کی عمارتوں سے بھی،کہنے کو تو اردو کئی ریاستوں میں دوسری زبان کا درجہ رکھتی ہے لیکن عملاً اردو کا شمار کہیں نہیں ہوتا۔پرائمری اسکوں میں پورے سال اردو کی کتابیں مہیا نہیں کی جاتیں۔زبردستی سنسکرت پڑھائی جاتی ہے۔اردو اساتذہ سے دوسرے مضامین جبراً پڑھوائے جارہے ہیں۔اردو دشمنی میں صرف زعفرانی پارٹیاں ہی نہیں بلکہ وہ سیاسی جماعتیں بھی جن کو سیکولر ہونے کا دعویٰ ہے پیش پیش ہیں۔ ان کے یہاں بھی اردو کے ساتھ سوتیلا رویہ ہے۔ماضی میں کانگریس نے بھی اردو کو مٹانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔
ان حالات میں اردو کو بچانے کی ذمہ داری صرف اور صرف مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔وہ برادران وطن جو اردو میں شاعری کرتے ہیں،اردو کو پسند کرتے ہیں ان کی اکثریت رسم الخط ہندی کا استعمال کرتے ہیں،جب کہ زبان اپنے رسم الخط سے ہی زندہ رہتی ہے۔بعض مسلم شاعروں کو بھی ہندی میں لکھتے دیکھا ہے۔مجھے ہندی سے کوئی نفرت نہیں ہے۔وہ میرے ملک کی راشٹر بھاشا ہے۔میں ہندی کا احترام کرتا ہوں اور حسب ضرورت خود بھی لکھتا اور بولتا ہوں۔ایک ہندی ہی کیا تمام زبانوں کو پھلنے پھولنے کا موقع دینا چاہئے۔زبانیں پھولوں کی طرح ہیں،چمن تبھی اچھا لگتا ہے جب ہر رنگ کے پھول کھلے ہوں۔اسی طرح ہمارے ملک کا حسن اسی میں ہے کہ اس میں اختلاف رنگ و زبان ہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے ایک زبان کو تھوپنے کی جو درون خانہ کوششیں اور سازشیں ہورہی ہیں وہ مناسب نہیں ہیں۔ہر زبان اپنے ساتھ اپنی تاریخ اور تہذیب رکھتی ہے۔محبان اردو سے میری گزارش ہے کہ وہ اردو سے صرف زبانی محبت نہ کریں،اسٹیج پر اردو کی محبت میں طول طویل لیکچر دینے والے بھی اکثر اپنے گھروں پر اردو کا اخبارتک نہیں منگواتے۔میں جس شہر میں رہتا ہوں وہاں کی آبادی پچاس ہزار سے زیادہ ہے جس میں تیس ہزار مسلمان رہتے ہیں،چالیس مسجدیں ہیں،ایک درجن سے زائد مدرسے ہیں،لیکن اردو کا ایک اخبار آتا ہے اس کی تعداد بھی صرف تیس ہے۔جب کہ جس شخص کے پاس اخبار کی ایجنسی ہے وہ بھی مسلمان ہے۔کوئی غیر مسلم ہوتا تو ہم کہہ دیتے کہ یہ اخبار منگانا ہی نہیں چاہتا۔اس کو میں نے کئی بار کہا کہ بھئی اردو کے مزید اخبارات منگوائیے۔لیکن وہ کہہ دیتا ہے کہ اردو والے پیسے دینے میں پریشان کرتے ہیں۔میں سمجھتا ہوں جیسا میرے شہر کا حال ہے ایسا ہی دوسروں کا بھی ہوگا۔
اردو کے نام پر بلا شبہ ہزاروں انجمنیں ہیں،سوسائیٹیاں اور ٹرسٹ ہیں۔حکومت کی اسکیمیں ہیں جن کے تحت کروڑوں کا بجٹ ہے۔لیکن اردو کا حال دن بدن ناگفتہ بہ ہے۔اس صورت حال میں سارا قصور حکومت کا ہے ایسا نہیں ہے کچھ قصور وار ہم خود بھی ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے قصور معاف کرالیں اور اپنی غلطیوں کی اصلاح کرلیں تب بھی ہر طرف اردو نظر آئے گی۔مجھے تعجب ہوتا ہے کہ آٹھ سو سال مسلم سلطنت رہی،کئی سو سال فارسی سرکاری اور درباری زبان رہی،لیکن جیسے ہی آزادی کا بگل بجا پہلی ہی پارلیمنٹ میں اردو اور ہندی برابری پر آگئیں۔ ایسا لگا جیسے ہر گھر میں ہندی پرورش پاتی رہی اور وقت آتے ہی گھر سے سڑک پر آگئی،آزادی کو سو سال نہیں ہوئے کہ ہندی کچھ علاقوں کو چھوڑ کر پورے ملک میں لکھی اور سمجھی جانے لگی،وہ تو شکریہ ادا کیجیے جنوبی ہند کی علاقائی زبانوں کا انھوں نے ہندی کو اپنے یہاں گھسنے سے روک رکھا ہے ورنہ پورا ملک ہندی کے رنگ میں رنگ گیا ہوتا۔اس کا سبب یہ ہے کہ سلطنت کے دور میں بھی ہندی بولنے والوں نے اپنے گھر کی حدود میں ہندی کا راج قائم رکھا۔ان کے گروکل ہندی سکھاتے رہے،ان کے پنڈت ہندی بولتے رہے۔میں ہندی کا تحفظ کرنے والوں کو مبارک باد دیتا ہوں اور دوسری زبانوں کے ماننے والوں سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان سے سبق سیکھیں۔
اردو کے فروغ اور تحفظ کی ایک ہی شکل ہے کہ ہم اردو لکھیں،پڑھیں اور بولیں۔کم سے کم اپنے آپسی معاملات اور دستاویز اردو میں تیار کریں،اس معاملے میں شمالی ہندوستان کی صورت حال بڑی مضحکہ خیز ہے۔میں اپنے قرب و جوار میں دیکھتا ہوں کہ جاہل افراد اپنے شادی کے کارڈ انگریزی میں چھپواتے ہیں۔میں نے ایک دو لوگوں سے پوچھا ”بھائی تم نے اپنے کارڈ انگریزی میں کیوں چھپوائے ہیں؟“ وہ کہنے لگے اصل میں اردو کوئی پڑھتا نہیں۔میں نے کہا ”ہندی میں چھپوالیتے؟“ بولے۔میاں ہندی ہماری زبان نہیں ہے وہ تو کافروں کی زبان ہے۔آپ اس جواب پر اپنا ماتھا پیٹئے۔ایسا لگتا ہے جیسے انگریزی سب پڑھتے اور سمجھتے ہیں اور انگریزی کسی پیر پیغمبر کی زبان رہی ہے۔کٹھ ملاؤں کے جاہلانہ رویہ نے مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔آزادی کے بعد ایک طویل مدت تک مدارس نے ہندی زبان کو اچھوت سمجھا۔اس کو پڑھنے لکھنے کو گناہ تصور کیا۔عوام کے ذہنوں میں بدگمانیاں پیدا کردیں۔قرآن پاک کے ہندی ترجمے تک کو نظر انداز کیا گیا۔شکر ہے آج ان کو عقل آئی۔کل ایک تصویر دیکھی جس میں حضرت مولانا ارشد مدنی مد ظلہ ہری دوار میں آچاریہ مہامنڈلیشور سوامی کیلاش نند گری کو ہندی قرآن دے رہے ہیں،دیر سے ہی سہی حضور نیند سے جاگے تو۔اب تو کم سے کم مسلمان عوام کو اپنے ذہنوں سے یہ بات نکال دینا چاہئے کہ ہندی کافروں کی زبان ہے اور قرآن کو ترجمے سے پڑھنا یا غیر مسلم کو دینا گناہ ہے۔
اردو کے فروغ کے بارے میں میرے ذہن میں ایک خاکہ یہ آیا کہ ہم اپنے گاؤں اور شہروں کو اردو کے رنگ رنگ دیں،یعنی اپنے بستیوں کوا ردو بستی بنائیں۔ہر بستی اور شہر میں اردو کی انجمنیں ہیں۔کچھ اردو سے محبت کرنے والے بھی ہیں۔کچھ اردو کی خدمت کا دم بھرنے والے بھی ہیں ان میں مسلم و غیر مسلم سب ہیں۔وہ یکجا ہوں اور اپنی آبادی کا جائزہ لیں۔اس کے بعد شہر کے داخلی دروازوں،چوراہوں،سڑکوں پر بنے اشاروں،سرکاری عماررتوں پر لگے ہورڈنگس پر اردو لکھی جائے۔اگر آپ اپنے خرچ پر لکھیں گے تو شاید کسی کو اعتراض نہ ہو۔جتنی بھی دکانیں ہیں ان پر دکانوں کے نام لکھے ہوئے ہیں،اس وقت وہ ہندی اور انگریزی میں ہیں،خال خال اردو میں ہیں،ہم ان پر اردو میں لکھوائیں۔اگر متعلقہ دوکاندار مسلمان ہے تو وہ ضرور اپنا خرچ دے گا۔برادران وطن کے لیے ہم تحفے کے طور پر یہ کام کریں۔ہم طے کریں کہ اپنے دروازوں پر اردو کی تختی لگوائیں۔وہ دیواریں جہاں لکھنا یا بینر لگانا ممنوع نہ ہو وہاں ہم اردو زبان میں اشعار اور اقوال زریں لکھوائیں۔شہر کی جملہ مساجد اور مدارس کے بورڈ اردو میں بنوائیں۔اردو کی تعلیم کے لیے ہر محلے میں اردو تعلیم کا مرکز بنائیں،جہاں اتنی اردو سکھادیں کہ اخبار پڑھنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے۔اردو پڑھنے والوں کو اردو اخبار خریدنا چاہئے۔مساجد کے ائمہ اور مدارس کے دارالمطالعہ میں اردو کا اخبار لازمی آنا چاہئے۔علماء اور ائمہ کو ملک کے حالات سے آگاہی کے لیے اردو اخبارات ضرور پڑھنا چاہئے۔ڈیجٹل میڈیا کے زمانے میں بھی پرنٹ میڈیا کی اہمیت کم نہیں ہوئی ہے۔سرمایہ داروں کو اردو اخبارات و رسائل کے لیے پیسہ خرچ کرنا چاہئے۔ہر مسجد اور مدرسہ کے حلقہ میں کئی کئی اہل مال لوگ رہتے ہیں۔کیا وہ ایک اخبار یا بچوں کے ایک رسالہ کو خرید کر مسجد اور مدرسہ کو نہیں دے سکتے؟ہمارے بچے چاہے جہاں پڑھیں ہمیں ان کو اردو سکھانے کا نظم کرنا چاہئے۔اپنی زبان کی حفاظت کرنا اپنی تہذیب کی حفاظت کرنا ہے۔اردو کو فروغ دے کر اپنی تہذیبی ورثے کی حفاظت کیجیے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: