زبان و ادب

چند مغربی اصناف شاعری کا تعارف

محمد یاسین جہازی

سانیٹ
سانیٹ مغربی شاعری کی ایک قدیم صنفِ سخن ہے۔یہ ایک ایسی نظم ہوتی ہے،جس میں دو بند ہوتے ہیں۔ پہلے بند میں آٹھ اور دوسرے بند میں چھ مصرعے ہوتے ہیں۔اس میں کسی بنیادی جذبہ یا ایک ہی خیال کو پیش کیا جاتا ہے۔پہلے بند میں خیال کا پھیلاو ہو تا ہے اور دوسرے میں اس کی تکمیل ہوتی ہے۔ کہیں کہیں پہلا بند بارہ مصرعوں کا اور دوسرا بند دو مصرعوں کاہوتا ہے؛مگر مصرعوں کی کل تعداد چودہ سے زیادہ نہیں ہوتی۔سانیٹ میں کسی بحر کی پابندی نہیں کی جاتی۔یہ سانیٹ دیکھیے:
ٹیگور
سفید ریش مسافر نے گیت گائے تھے
سرائے دہر کے اک پر بہار گوشے میں
تصورات کے افسوں طراز سائے میں
بیک نگاہ فسانے کئی سنائے تھے
لرزتے ہاتھ میں مطرابِ شاخ ِ گل لے کر
وفورِشوق میں سازِ حیات چھیڑا تھا
حریمِ ناز کا اک ایک راز کھولا تھا
پردۂ سلک تخیل میں تاب دار گہر
نہ جانے کون سی بستی کو چل دیا راہی
ابھی بہاروں کے ہونٹوں پہ اس کے نغمے ہیں
کلی کلی کے تبسم میں شوخ جلوے ہیں
سرائے دہر میں ہر ایک سمت گونجیں گے
سفید ریش مسافر کے سرمدی نغمے
ترائیلے
ترائیلے فرانسیسی شاعری کی صنف ادب ہے۔یہ ایک بند کی نظم ہوتی ہے،جو آٹھ مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں صرف دو قافیے ایک خاص ترتیب سے استعمال ہوتے ہیں،وہ ترتیب اس طرح ہوتی ہے: الف، ب، الف،الف،الف،ب،الف،ب۔اس ترتیب کے مطابق ہم قافیہ مصرعوں کی صورت یہ بنتی ہے:پہلا، تیسرا، چوتھا،پانچواں،ساتواں۔دوسرا،چھٹا،آٹھواں۔اس کی ایک مثال دیکھیے۔ ؎
پس و پیش
مجھے گھر لوٹ جانا چاہیے تھا
(مگر اب لوٹ کر بھی کیا کروں گا)
یہی نا’آب ودانہ چاہیے تھا
مجھے گھر لوٹ جانا چاہیے تھا
تھکن میں کچھ ٹھکانہ چاہیے تھا
کہیں سائے میں رک جایا کروں گا
مجھے گھر لوٹ جانا چاہیے تھا
(مگر اب لوٹ کر بھی کیا کروں گا)
(رؤف خیر)
ہائیکو
ہائیکوجاپانی شاعری کی صنفِ سخن ہے۔یہ سترہ ارکان پر مشتمل،تین مصرعوں کی ایک نظم ہوتی ہے۔ارکان کی ترتیب اس طرح ہوتی ہے:پہلے مصرعے میں پانچ۔دوسرے میں سات اور تیسرے میں پانچ۔ہائیکو میں مشاہدۂ فطرت اور مناظرِقدرت کو عنوان بنایاجاتاہے۔مثال کے طور پرعلیم صبا نویدی کے یہ دو ہائیکو کا مطالعہ کیجیے:
(۱)
روشنی میں سیاہیوں کا سفر
آسمانوں پر لاش سورج کی
وقت کے ہاتھ میں کھلا خنجر

(۲)
آنگن آنگن خلوص کے چہرے
گھر کی دہلیز تک وفا کی بات
اور بازار میں غلط چہرے
نثری شاعری
نثری شاعری ایک ایسی شاعری ہوتی ہے،جو ردیف،قافیہ،وزن،بحر غرض ہر چیز کی قید سے آزاد ہوتی ہے۔اسی طرح اس میں مصرعوں اور موضوعات کی بھی کوئی قید نہیں؛لیکن ہم آہنگی اور شعریت و غنائیت کا پایاجا نا ضروری ہے۔علی اور خورشیدالاسلام کی علی الترتیب یہ نثری شاعری ملاحظہ کیجیے:
ننگوں
اور بھوکوں کا
یہ انسانی کوڑاکرکٹ
سڑک پر
کس نے بکھیرا ہے؟

اگر
انسان کی
آنکھ نہ ہوتی
تو کائنات اندھی ہوتی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: