امریکہمضامین

چین امریکہ اور کورونا وائرس

اسماعیل کرخی

عالمی میڈیا میں بائیولوجیکل وار سے متعلق خبریں شائع ہونے لگی ہیں، اور کورونا وائرس کی تخلیق کا الزام امریکہ پر رکھا جارہا ہے، جب کہ واشنگٹن پوسٹ اور دیگر یورپی اور امریکی اخبارات اور ایجنسیاں اس طرح کی الزام تراشیوں کو خطرناک بتا رہی ہیں کہ عالمی طور پر مختلف ممالک کے مابین تعلقات خراب ہونگے، در اصل تاریخ میں اس طرح کی جنگوں کی ہزاروں مثالیں موجود ہیں کہ اپنے مخالف طاقت کے خورد ونوش میں زہر یا اس جیسی کوئی جان لیوا وبا پھیلا دی جاے جس سے انکی فوجی عوامی اور معاشی طاقت ٹوٹ جاے، ماضی قریب میں طاعون اور ایبولا وائرس بھی اسی کی ایک کڑی تھی،۔
کورونا وائرس جو کچھ بھی ہو بحر حال یہ اللہ کی طرف سے عذاب اور آزمائش دونوں ہے، البتہ ایک بات قابل غور ہے کہ بعض لوگوں نے اسے ایک مرتبہ پھر موضوع بحث بنا لیا ہے کہ امریکہ نے چین کے خلاف ایسا کیوں کیا؟ یا کیا بھی کہ نہیں؟ اور کچھ لوگوں نے بالخصوص پاکستانی عوام نے تو چائنہ کو مظلوموں کی صف میں لا کھڑا کردیا حالانکہ چائنہ خود بھی اپنے ملک میں مذہبی دہشت گردی کی تمام حدیں پار کرچکا ہے، لیکن کیا وجہ ہے کہ روس کے خلاف امریکہ کا بایاں ہاتھ بن کر افغانیوں کی مدد کا کریڈٹ لینے والا اور پھر امریکہ ہی کے ساتھ ملک مل کر یا اسے زمینیں فراہم کر کے افغانستان کو تباہ کرنے میں ہاتھ بٹانے والا پاکستان آج چائنہ کی فکر میں ہے؟ اگرچہ امریکہ نے جو کچھ تباہی پوری دنیا میں مچا رکھی ہے اور گزشتہ 30 سالوں سے مسلسل مچا رہا ہے چائنہ اس سے مقابلے میں فی الحال کچھ بھی نہیں لیکن کیا چائنہ کو پاور ملنے کے بعد وہ وہی نہیں کرسکتا جو کچھ وہ اپنے ملک میں مسلمانوں کے ساتھ کررہا ہے؟ لہذا اس معاملہ میں چائنہ کا سپورٹر بننا تھالی کا بیگن بننے والی بات ہے،۔
کورونا وائرس سے اب تک 7 ہزار سے زائد لوگ مر چکے ہیں جو انتہائی خطرناک ہے، اسی لئے دنیا بھر کے ادوائیات اور صحتیاتی ادارے اسے قابو کرنے کے لئے جی جان سے لگے ہوے ہیں، بعض عرب ممالک میں تو خوف اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ جماعت سے نماز تک کو روک دیا گیا، جبکہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کے اعلان کے بعد دعائیہ تقریبات منعقد کی جارہی ہیں مزید دنیا بھر کے تعلیمی اداروں پر تالا لگا ہوا ہے، بازار میں بھیانک مندی چھائی ہوئی ہے بڑی بڑی کارپوریٹ کمپنیوں نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے کہ تمام افراد اپنے گھروں پر رہ کر ہی کام کریں وہیں ویکسین کمپنیوں کی پروڈکشن میں کافی اضافہ ہوا ہے خاص طور پر سناٹائزر کی کمی پوری دنیا محسوس کررہی ہے جس سے انکا منافع کئی گنا بڑھ گیا، یہ خوف و ہراس کا ایسا ماحول اس سے پہلے شاید ہی دیکھا گیا ہو، لوگ اتنے گھبرا گئے ہیں کہ اپنے ہاتھوں کو اس طرح گھس گھس کر دھوتے ہیں گویا وہ چمڑیاں ہی چھل بیٹھیں گے۔ حالانکہ اتنا گھبرانے کی ضرورت نہیں خاص طور پر ہم مسلمانوں کے لئے اللہ کی رحمت ہے کہ ہم دن میں پانچ مرتبہ وضو کرتے ہیں جس میں ہاتھوں کا دھونا کلی کرنا، ناک صاف کرنا، ہاتھ پاؤں دھونا اور انگلی کا خلال شامل ہے، اس کے علاوہ ہمیں کھانسنے چھینکنے اور دیگر تمام کاموں میں سنت کو اپنا لینا چاہئے کہ یہی طریقے ہمیں بچائیں گے، جہاں تک بات ہے ایک دوسرے سے ہاتھ نہ ملانے کی تو یہ بات عجیب سی لگتی ہے، چونکہ HIV اور کینسر جیسی خطرناک بیماریاں بھی بسا اوقات مچھر کے کاٹے لینے کے سبب بھی منتقل ہوجایا کرتی ہیں لیکن ہاتھ ملانے سے نہیں ہوتیں لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ مشئیت الہی کے سبب ہی بیماریاں منتقل ہوتی ہیں اور ایک ظاہری سبب ہارمونس کی کمزوری بھی ہے کہ جس شخص کے اعصاب جتنے کمزور ہونے اسے بیماریاں اتنی جلدی پکڑ سکتی ہیں، ایسے موقعوں پر ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو پوری طرح اپنے سامنے رکھنا چاہیے، اور حالات کے مطابق معقول حد تک اپنی صحت کا خیال رکھنا چاہئے اور اس بحث سے نکل کر کہ کورونا کی ایجاد کس نے اور کس کے خلاف کس مقصد سے کی ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: