اہم خبریں

چین جانے والے میڈیکل اسٹوڈنٹ کو سرکار نے کیا آگاہ

چین سے آنے والے ہندوستانی میڈیکل طلبا میں سے صرف 16فیصد ہی پاس کرسکے طب کی مشق کا امتحان
نئی دہلی ،15ستمبر: جب سےکورونا کی وبائی بیماری شروع ہوئی ہے، وزارت خارجہ نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے تمام خدشات کو انتہائی جامع انداز میں حل کیا جائے۔ وزارت خارجہ سب سے پہلے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلباسے متعلق کسی بھی مسئلے کو حل کرتی ہے۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس۔ جے شنکر نے 25 مارچ کو چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی تھی ،تاکہ چین سے ہندوستانی طلباء کی واپسی میں آسانی ہو۔
بیجنگ میں ہندوستانی سفارت خانے نے 8 ستمبر کو چینی میڈیکل اسکولوں میں پڑھائی کے حوالے سے ایک تفصیلی ایڈوائزری جاری کی، کیوں کہ بیجنگ میں ہندوستانی سفارت خانے کو ممکنہ ہندوستانی طلبا کے داخلے کے حوالے سے متعدد سوالات موصول ہو رہے تھے جو چین میں اپنی تعلیم مکمل کرنا چاہتے ہیں۔ایڈوائزری میں، ہندوستان کے سفارت خانے نے نیشنل بورڈ آف ایگزامینیشنز کے ذریعہ کئے گئے ایک مطالعہ کے بارے میں اعداد و شمار کا اشتراک کیا، جس میں انکشاف کیا گیا کہ 2015 سے 2021 تک، چین میں تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبا میں سے صرف 16فیصد نے ہی ایف ایم جی سی امتحانات میں کامیابی حاصل کی ۔یہ کامیابی کی کافی کم شرح ہے، جو چین میں طبی تعلیم کے خراب معیار کی عکاسی کرتی ہے۔
چین میں تعلیم کے معیار کے سبب بہت کم طلباء ڈاکٹر بن رہے ہیں، دیگر اہم مسائل بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک زبان کی رکاوٹ کا مسئلہ ہے۔ نصاب انگریزی میں ہونے کے باوجود، چین میں تعلیم حاصل کرنے والے سابقہ ہندوستانی طلباء نے بتایا کہ انہیں پروفیسرز کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ وبائی مرض کے آغاز سے لے کر اب تک ایک اور بڑا مسئلہ چین کی ’ ڈائنامک زیرو کوویڈ پالیسی ہے‘، جو نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کرتی ہے اور پڑھائی کو متاثر کر سکتی ہے، پالیسی مسلسل بدلتی رہتی ہے، جس سے گھر سے دور رہنے والے طلبا کو کافی پریشانی ہوتی ہے۔چین نے اس سے قبل ویزا پابندیاں عائد کی تھیں جس کی وجہ سے چینی یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والے 23,000 ہندوستانی طلباء پھنسے ہوئے تھے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی مسلسل کوششوں اور اپنے چینی ہم منصب سے مسلسل بات چیت کے بعد ہندوستانی طلباء کے واپس آنے اور اپنی تعلیم مکمل کرنے پر پابندی ہٹا دی گئی ںتھیں ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: