مضامین

ڈاکٹر کفیل خان

ابوبکر صدیق

ڈاکٹر کفیل خان ایک باشعور، حساس دل، نڈر ،بے باک،راست گو،اور راہ خدامیں بے دریغ خرچ کرنے والے ایک سخی انسان ہے خدا نے انہیں بےشمار خوبیوں سے نوازا اور بے انتہا مال و دولت عزت و شرافت عطاکی مگر افسوس کہ گردش ایام نے انہیں جیل کی خاک چھاننے پر مجبور کردیا
صرف اس جرم میں کہ انکا نام کفیل خان ہے اور وہ مسلمان ہے
وہ تن تنہا ہر مرض اور بیماری سے لڑنے کے عادی تھے انکو اپنے اوپر حدسے زیادہ بھروسہ ہوتا گویا وہ یہ محسوس کرتے کہ وہ اکیلے ہی بڑی سی بڑی بیماری اور وبائی مرض کو شکست دے دیں گے
انکا یہی عزم و حوصلہ انہیں فتح و کامیابی کی دہلیز تک پہنچانے میں معین و مددگار ثابت ہوتے
انہوں نے اپنی زندگی میں بہت سے اتار چڑھاؤ دیکھے مگر پااستقامت کو کبھی متزلزل نہ ہونے دیا اور اور قوم و ملت کی ہمیشہ آگے بڑھ کر خدمت انجام دی یہی وجہ ہے کہ وہ جب جیل کی سلاخوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں تو بلا تفریق مذہب و ملت انکے سینکڑوں حامی انکی رہائی کے صدائیں بلند کر رہے ہیں
ڈاکٹر کفیل خان ایک مردمجاہد کی طرح ہر بیماری اور مرض کو دور کرنے کے لیے اپنی جان کی پرواہ کیےبغیر اکیلے ہی میدان عمل میں کود پڑتے سینکڑوں مریضوں کو شفاء یابی سے ہمکنار کرتے
وہ انتہا سے زیادہ جدوجہد اور کوشش کرتے چنانچہ انہیں اپنی کوشش و جدوجھد میں بہت حد تک کامبی بھی حاصل ہوی
انہوں نے اترپردیش کے باباراگھوداس کالج میں جب آکسیجن کی کمی کیوجہ سے بچے دم توڑرہے تھے تو انہوں نے فورا اپنی جیب خاص سےآکسیجن سلینڈر کاانتظام کیا اور اور دم توڑتے ہوے بچوں کی جان میں جان پھونک دی
وہ صرف مالی امداد کے لیے ہی ہاتھ نہیں بڑھاتے تھے بلکہ جان کی بازی پر بھی اترجاتے تھے
جب اترپردیش اور بہار میں بچوں پر چمکی بخار کا قہر آیا تو یہ مرد خدا اپنے بیوی بچوں کی پرواہ کیے بغیر لوگوں کی خدمت انجام دہی کےلیے اپنی جان کی بازی لگادی اور سینکڑوں بچوں کی روح پرواز کرتی ہوی جان میں جان ڈالدی
انہوں نے قوم و ملت کی خدمت کے لیے یوپی بہار کا ہی سفر نہیں کیا بلکہ انہوں نے جہاں اپنی ضرورت محسوس کی وہ وہاں پہنچ کر لوگوں کو راحت پہنچائ چنانچہ ملک میں جب نیپاہ وائرس اپنے پاؤں پسار رہاتھا تواسوقت انہوں نے کیرالہ کے وزیراعلیٰ پینا وائی جین سے کی صحتیابی اور انکی امداد کے لیے دراخواست کی اور خود کیرالہ پہنچ کر بیماروں اور مریضوں کی خدمت کی جس کے بعد وزیراعلیٰ نے انکے لیے تعریفی کلمات کہے
خیر انہیں جب بھی موقع ملتا لوگوں کی دلکھول کر خدمت کرتا مگر افسوس کروناوائرس کی اس مہماری میں وہ خادم قوم ملت جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں
اللہ رب العزت انکے لیے خیر کا معاملہ فرماۓ آمین ثم آمین
دعاؤوں کا طالب
ابوبکر صدیق

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: