اہم خبریں

ڈراموں کے ذریعے اصلاح معاشرہ کاکام لیاجاسکتاہے:انیس انصاری

نوشادسنگیت ڈیولپمنٹ سوسائٹی کے زیر اہتمام ڈرامہ’خداخیر کرے‘کی دلکش پیشکش

پریس ریلیز
لکھنؤ، 19 فروری، وزارت ثقافت، حکومت ہند کے اشتراک سے نوشاد سنگیت ڈیولیپمنٹ سوسائٹی کی جانب سے والمیکی رنگشالہ گومتی نگر میں مزاحیہ ڈرامہ’خدا خیر کرے‘ نے ناظرین کوخوب ہنسایا۔ اس موقع پر، ڈاکٹر انل رستوگی اور وجے واستو،راجہ اوستھی،پربھات کمار بوس،آفاق احمد،اقبال نیازی، وامق خان،ڈاکٹرشالنی وید،نواب جعفرمیرعبداللہ،بی این اوجھاسمیت متعدد فنکاروں کومہمانِ خصوصی سبکدوش آئی ایس افسر ڈاکٹر انیس انصاری اور مہمانان اعزازی وسماجی کارکن سابق ایم ایل سی سراج مہدی اور ڈاکٹر وکرم سنگھ نے ”نوشاد سمان“ سے نوازا۔
مہمان خصوصی ڈاکٹر انصاری نے کہا کہ اپنی ثقافت اور روایات ہمارے لئے زیادہ اہم ہیں۔ ڈرامہ’خداخیرکرے‘ایک شانداراورپُرکشش مزاحیہ ڈرامہ ہے اور اس ڈرامے کے ذریعے سماج کی عکاسی کی گئی ہے۔دونوں حضرات نے مزیدکہاکہ ہندی اور اردو کے ادبی اورثقافتی ڈراموں کے ذریعے سماج کی اصلاح کا کام بخوبی لیاجاسکتاہے اور لیاجاتا بھی ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ شہر ادب لکھنؤ میں اردو-ہندی ڈراموں سے متعلق مختلف مقامات پر ورکشاپ منعقد ہوں تاکہ ڈرامہ میں نئے فنکار آسکیں اوراس کے ذریعے سماج کی اچھائیوں اور برائیوں کوناظرین کے سامنے اجاگر کیاجاسکے۔اسلئے ضرورت اس بات کی بھی ہے کہ موجودہ دور کے ادیب نئے طرزوفکرکے ڈرامے بھی تشکیل دیں تاکہ قدیم وجدیم کا بھی سنگم قائم ہوسکے۔انہوں نے مزید کہاکہ غیر ملکی ڈراموں کے مقابلے مٹی سے وابستہ اپنی روایات اورتہذیب وثقافت کا خوبصورتی سے استعمال اسٹیج ڈراموں کو یقینی طور پر فروغ دیگا۔
مہمان اعزازی سراج مہدی،ڈاکٹروکرم سنگھ اورڈاکٹرانل رستوگی نے کہا کہ آج تھیٹر پہلے کی نسبت بڑا ہوچکا ہے، اس کا مثبت استعمال کرنا اچھا ثابت ہوگا۔سراج مہدی نے اطہر نبی کے ذریعہ ادب کے حوالے سے کئے گئے کارہائے نمایاں کوسراہاکہ کس طرح انہوں نے،مشاعروں،سمیناروں اور ڈراموں کے ذریعہ لکھنوی تہذیب کو زندہ رکھا ہواہے۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندی-اردو اور قومی یکجہتی کے فروغ میں بھی اطہر نبی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ دیگر مہمانوں میں ضیاء اللہ صدیقی،رفیع احمد،ڈاکٹرمسیح الدین،اورڈاکٹریاسرجمال وغیرہ بھی موجودتھے۔
اس سے قبل، سوسائٹی کے صدر اطہر نبی نے کہا کہ یہ ان کیلئے بڑے فخرکی بات کہ آج اہم شخصیات اورفنکاروں کواعزازاو ر’نوشادسمان‘سے نوازاگیاہے۔ ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں اور انہوں نے موسیقار نوشاد کے ساتھ گزارے ہوئے اپنے خوب صورت لمحات کو یاد کرکے ان کوخراج عقیدت پیش کی،اطہرنبی نے کہا کہ نوشاد جیسی شخصیات صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈرامے کا معیار انفرادیت رکھتا ہے اسلئے کہ وہ ایک متحرک فنکار کو ناظرین کے سامنے پیش کرتا ہے اور اسے کہانی یا کسی واقعے سے جوڑتا ہے۔ آج ملک میں چھ سو سے زیادہ یونٹ ڈرامہ کے میدان میں مستقل طور پر سرگرم عمل ہیں۔
بڑے شہروں میں کرائے کے مکانات کی پریشانیوں کے تناظر میں،اس کہانی میں ایک جھوٹ کے پیچھے چھپے سوجھوٹ ناظرین کو متواتر قہقہے لگانے پر مجبور کرتے رہے۔شادی شدہ نوجوان شرافت نوکری کرنے دوسرے شہر میں جاتا ہے،مکان ملنے میں دقتیں دیکھ کرشرافت مکان مالک نواب صاحب سے خود کو غیر شادی شدہ بتاکر مکان کرائے پر لے لیتا ہے۔کچھ دنوں تک سب ٹھیک چلتا ہے،مگر ناظرین کے قہقتے اس وقت بے قابو ہوجاتے ہیں جب شرافت کی بیوی شمیم اچانک وہاں آجاتی ہے اور شمیم کوشرافت اپنی آپابتاکر نواب سے تعارف کراتے ہیں۔اوردوسری طرف نواب صاحب اپنی اکلوتی بیٹی پمی سے شرافت کی شادی کراکر اس کو گھرجمائی بنانے کی سوچتے ہیں۔ساتھ ہی دھیرے دھیرے شمیم سے یک طرفہ عشق کر شادی کرنے کے خواب بھی دیکھنے لگتے ہیں۔بات کچھ اور آگے بڑھے اس سے پہلے شمیم کے والد میر صاحب اپنے بیٹے عمران کے ساتھ آدھمکتے ہیں۔پھر ناظرین کے قہقہوں کے درمیان دلچسپ طریقے سے سارے راز فاش ہوتے ہیں۔اور عمران کی شادی پمی سے پکی ہوجاتی ہے۔
آتمارام ساونت کے لکھے ہوئے اصلی مراٹھی ڈرامہ ‘خدا خیر کرے’ کا شری دھر کے ذریعہ کئے گئے ہندی ترجمہ معروف تخلیق کار حسن کاظمی کی ہدایت کاری میں پیش کیاگیا۔ڈرامہ میں شرافت – اشوک لال، مٹھو – شیکھر پانڈے، نواب صاحب – طارق اقبال، شمیم – دیپیکا شریواستو، میر صاحب – آنند پرکاش شرما، پمی – شردھا بوس، نانا ماما – گیریش ابھیشٹ اورنوکر – سچن کمار شاکیہ بن کرڈرامہ میں اسٹیج پر اترے اورناظرین کوخوب ہنسایا۔ اسٹیج کے اطراف میں وزٹر ڈیزائننگ چندرانی مکھرجی، سیٹ ڈیزائن کیلاش کنڈپال اور محمد حامد،محمد راشد، میک اپ سبھیتا بھارتی،وسلمہ بانو،ملبوسات کوثر جہاں، ترتیب، عبد المعروف اور انور حسین کا پریزنٹیشن کنٹرول، آڈیٹوریم کنٹرول قمر سلطانہ اور چودھری یحییٰ، اعلان حسن کاظمی اور ورکشاپ اور پیش کش اطہر نبی کی تھی۔نواب مسعود عبداللہ اورایس این لال نے بھی ڈرامے کے تئیں اپنی خدمات پیش کیں۔آخرمیں مہمان اور ناظرین کاشکریہ ضیاء اللہ صدیقی نے اداکیا۔

معروف خان
میڈیا انچارج

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: