مضامین

ڈکٹیٹر اول کی گرفتاری: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر(16)

محمد یاسین جہازی 9891737350

دائرہ حربیہ کے پہلے ڈکٹیٹر خود حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب تھے۔
”دہلی 12مارچ۔ کل (11مارچ)بعد نماز جمعہ جامع مسجد دہلی میں مسلمانان دہلی کا ایک عام جلسہ منعقد ہوا، جس میں پندرہ ہزار مسلمانوں نے شرکت کی۔ حافظ عبدالغفار صاحب نے قرآن عزیز کی تلاوت کی۔ مولانا مولوی الحاج عبد الحلیم صاحب صدیقی نے بعض آیات پاک کی تلاوت فرماکر ان کے مطالب کی تشریح کی اور اس کے بعد صدارت کے لیے حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کا نام نامی پیش فرمایا۔ حضرت علامہ نے نہایت رقت آمیز اور درد انگیز لہجہ میں تقریبا پونے دو گھنٹے تک تقریر کی، جس میں خاص طور پر صوبہ سرحد کے مظالم کا تذکرہ کیا اور کشمیر کے سلسلہ میں فرمایا کہ مصالحت نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری حکومت پنجاب کے ارباب حل و عقد پر عائد ہوتی ہے۔ اور گول میز کانفرنس کی ناکامی اور مسلم مندوبین کی مایوسی کا مفصل ذکر فرمایا اور مسلمانوں سے دریافت کیا کہ جب حالات اس قسم کے ہوں تو آپ ہی بتائیں کہ اب ہم کو کیا کرنا چاہیے۔
حضرت علامہ کی تقریر اس قدر پر تاثیر اور حقائق سے مملو تھی کہ تمام حاضرین اشکبار تھے اور زارو قطار رو رہے تھے۔ آخر میں ایک قرار داد منظور کی گئی، جس میں آر ڈینینسوں کی واپسی اور صوبہ سرحد کی آزاد تحقیقات کی اجازت کا مطالبہ تھا۔
زبردست جلوس
جلسہ کے بعد ایک زبردست جلوس مرتب کیا گیا، جس کی قیادت حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور دیگر سر برآوردہ علمائے کرام نے فرمائی۔ معلوم ہوا ہے کہ تین بجے یہ جلوس جامع مسجد سے چلا اور چاوڑی بازار، لال کنواں، فتح پوری، چاندنی چوک کا گشت کرتا ہوا آزاد پارک میں جاکر ختم ہوا۔ جلوس کے ہمراہ انسانوں کا ایک زبردست ہجوم اللہ اکبر، مفتی کفایت اللہ زندہ باد، آر ڈی نینس واپس لو، صوبہ سرحد میں آزاد تحقیقات کرنے کی اجازت دو، کے فلک رسا نعرے لگا رہا تھا۔
کمپنی باغ میں مسلح پولیس
جب یہ جلوس چار بجے سے کچھ قبل کمپنی باغ میں پہنچا تو پولیس کی ایک زبردست مسلح جمعیت پہلے سے موجود تھی۔ لیکن اس وقت تک پولیس نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ جس میدان میں جلسہ ہونے والا تھا، اس کے قریب پولیس کانسٹبلوں کے علاوہ مسٹر ڈیگیل سینر سپرنٹنڈنٹ پولیس، مسٹر بی وائی علی، ملک دیوی دیال ڈپٹی سپرنڈنٹ پولیس، سردار عبد الصمد سٹی مجسٹریٹ اور متعدد سب انسپکٹر بھی موجود تھے۔ پولیس لاٹھیوں اور سنگینوں سے مسلح تھی اور بندوقیں بھی بعد میں آگئی تھیں۔ پولیس کی جمعیت دو سو سے زائد تھی۔ ٹھیک چار بجے مسٹر ڈیگیل سینئیر سپرنڈنٹ پولیس مع مسٹر عبد الصمدو دیگر افسران پولیس آزاد پارک میں پہنچے اور مسٹر عبد الواحد سب انسپکٹر نے یہ اعلان کیا کہ اگر اس جلسہ میں آر ڈی نینسوں کے خلاف کوئی متشددانہ بات کہی گئی، تو یہ جلسہ خلاف قانون قرار دے دیا جائے گا۔ اس اعلان پر جلسہ میں شوروغل مچ گیا اور بعض لوگوں نے کہا کہ آر ڈی نینسوں کے خلاف ضرور کہا جائے گا۔
جلسہ کو خلاف قانون قرار دیے بغیر لاٹھی چارج
قبل اس کے کہ پلیٹ فارم سے اس اعلان کا کوئی جواز دیا جاتا، آر ڈی نینسوں کے خلاف کوئی تقریر کی جاتی، یا جلسہ شروع کیا جاتا، پولیس نے جلسہ کے خلاف قانون ہونے کا اعلان کیے بغیر اور لوگوں کو منتشر ہونے کا موقع دیے بغیر لاٹھی چارج شروع کردیا اور اس قدر لاٹھیاں چلائیں کہ شاید دہلی میں اس سے قبل کبھی نہ ہوا تھا۔ لوگ بے تحاشہ بھاگے، مگر پولیس نے دور تک ان کا تعاقب کیا۔ یہ لاٹھی چارج تقریبا چار مرتبہ ہوا، جس میں ساٹھ ستر آدمی زخمی ہوئے۔
پلیٹ فارم پر لاٹھی چارج
جس وقت پولیس نے مجمع کو لاٹھیاں برسا کر منتشر کردیا،تو درمیان میں ایک تکیہ دار بینچ پر صرف حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند، مولانا الحاج عبد الحلیم صاحب صدیقی، مولانا ہلال احمد صاحب زبیری بی اے ایڈیٹر الجمعیۃ اور مولانا حفظ الرحمان صاحب آصفؔ (فرزند اکبر حضرت مفتی صاحب) باقی رہ گئے تھے۔ خیال تھا کہ حسب دستور جلسہ کا پلیٹ فارم پولیس کی یورش سے محفوظ رہے گا؛ مگر یہ خیال غلط نکلا اور سب سے پہلے مسٹر ڈیگیل نے حضرت مولانا عبد الحلیم صاحب پر حملہ کیا، جو حضرت مفتی صاحب کے بائیں جانب تشریف فرما تھے۔ اور کانسٹبلوں نے ایڈیٹر صاحب الجمعیۃ پر، جو حضرت مفتی صاحب کے دائیں جانب تشریف رکھتے تھے، لاٹھیاں چلائیں اور انھیں دھکا دے کر ایک طرف گرادیا۔ اگر اس موقع پر حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب حضرت مفتی صاحب کے سامنے آکر کھڑے نہ ہوجاتے اور مسلسل و پیہم لاٹھیاں اپنی پیٹھ پر نہ کھاتے، تو سامنے سے حضرت مفتی صاحب پر بھی کانسٹبلوں نے حملہ کیا تھا اور اس کا قوی امکان تھا کہ حضرت مفتی صاحب کے شدید ضربات آتیں۔ آصف صاحب پر تقریبا دس بارہ لاٹھیاں پڑیں۔ ایڈیٹر الجمعیۃ کے دائیں دوش پر اور بائیں کلائی پر سخت ضربات آئیں۔
حضرت مفتی صاحب کی گرفتاری
جس وقت یہ حملہ جاری تھا، ملک دیوی دیال ڈپٹی سپرنڈنٹ پولیس نے آکر حضرت مفتی صاحب کو حراست میں لے لیا اور اس کے بعد حضرت علامہ گرفتار کرکے موٹر میں کوتوالی پہنچا دیے گئے۔
زخمیوں کی تعداد
زخمیوں کی تعداد کا اندازہ لگانا دشوار ہے۔ اکثر لوگ شفا خانہ میں داخل نہیں ہوئے ہیں۔ صرف ایک شخص مولوی عبد اللہ امام مسجد امن واقع برف خانہ سخت مجروح ہوکرہسپتال میں داخل کیے گئے ہیں، جن پر پولیس متعین ہے۔ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ پولیس ان پر مقدمہ چلانا چاہتی ہے۔ مولوی صاحب موصوف بھوپال کے رہنے والے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ مسٹر ڈیگیل پر بھی کسی شخص نے حملہ کیا تھا اور یہ مقدمہ سیاسی حملہ کے سلسل میں ہوگا۔
رات کے وقت حضرت مفتی صاحب کا کھانا اور بستر جیل میں پہنچا دیا گیا۔
شہر میں مکمل ہڑتال
مفتی صاحب کی گرفتاری اور لاٹھی چارج کے بعد رات کو بازاروں میں لاٹھی چارج اور گرفتاری کے خلاف بطور احتجاج کے ہڑتال کا اعلان کیا گیا۔ چنانچہ آج تمام دہلی میں ہندو مسلمانوں کی مشترکہ ہڑتال منائی گئی۔ چاندنی چوک، صدر بازار، لال کنواں، چاوڑی بازار اور دیگر بڑے بڑے بازار بالکل بند ہیں۔
مسلمانوں میں جوش و خروش
دہلی کے تمام مسلمانوں میں لاٹھی چارج اور مفتی صاحب کی گرفتاری پر سخت جوش و خروش ہے اور پولیس کی اس بربریت پر ہر طرف نفرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔ انجمن تہذیب الکلام کے جلسہ میں حضرت مفتی کی گرفتاری پر مبارک باد پیش کی گئی اور پولیس کی بربریت اور وحشیانہ لاٹھی چارج پر اظہار ملامت کیا گیا۔
خانہ تلاشیاں
کل (11مارچ 1932) صبح ۷ بجے تھانہ ۳ کے سب انسپکٹر انچارج سید علی شاہ صاحب بکاری اور لالہ کیشور لال صاحب انسپکٹر سی آئی ڈی معہ نو دس کانسٹبلوں کے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے مکان پر آئے اور کہا کہ تلاشی لینی ہے۔ کوئی وارنٹ نہیں دکھایا؛ بلکہ کہا کہ یہ تلاشی آ پ کے اعلان نمبر ایک و دو کے لیے بسلسلہ تفتیش مقدمہ 55مورخہ 20جنوری 1932جرم زیر دفعہ 23ایکٹ 18،1931عمل میں آرہی ہے۔
مراد احمد کانسٹبل نے سب انسپکٹر ان اور مفتی صاحب اور گواہوں کے مواجہ میں تلاشی لی۔ کونہ کونہ چھان مارا، مگر کوئی قابل اعتراض دستاویز برآمد نہیں ہوئی اور پولیس کوئی چیز قبضہ میں لیے بغیر بے نیل مرام واپس ہوئی۔
اسی طرح معلوم ہوا ہے کہ دفتر جمعیت علمائے ہند، و دفتر مجلس احرار اور حضرت مولانا عبد الماجد صاحب کے مکان کی بھی تلاشیاں ہوئیں۔ مگر کوئی چیز خلاف قانون برآمد نہیں ہوئی۔“ (الجمعیۃ 16مارچ1932)
مقدمہ کا فیصلہ
ڈسٹرکٹ جیل میں مسٹر پول ایڈیشنل مجسٹریٹ کے سامنے 17مارچ1932کو پیش ہوا۔ آپ پر یہ الزام لگایا گیا کہ مسٹر جانس ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے 9مارچ کو ہنگامی اختیارات کے آر ڈی نینس کے ماتحت جو نوٹس آپ کے نام پر جاری ہوا تھا، آپ نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔
دہلی17مارچ۔ آج ڈسٹرکٹ جیل میں مسٹر پول ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے سامنے حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند کا مقدمہ پیش ہوا۔ آپ پر الزام لگایا گیا ہے کہ مسٹر جانسن ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی طرف سے 9مارچ کو ہنگامی اختیارات کے آر ڈی نینس کے ماتحت جو نوٹس آپ کے نام جاری ہوا تھا، آپ نے اس کی خلاف ورزی کی ہے۔
استغاثہ کی جانب سے مجسٹریٹ مسٹر امجد علی کورٹ انسپکٹر پیروکار تھے۔ حضرت کی طرف سے کوئی مدافعت نہیں کی گئی۔ کارروائی کے آغاز میں کورٹ انسپکٹر نے مولانا کو مطلع کیا کہ آپ کے خلاف یہ مقدمہ اس لیے چلایا گیا ہے کہ آپ نے ہنگامی اختیارات کے ماتحت جاری کردی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک جلوس کی قیادت کی اور اسی مقصد کے لیے ایک جلسہ کا انعقاد کیا۔ گواہان استغاثہ کے بیانات سے قبل حضرت مفتی صاحب نے دریافت فرمایا کہ میرے مقدمہ کا ریمانڈ میری عدم موجودگی میں کیوں لیا گیا؟ عدالت نے جواب دیا کہ ریمانڈ کوتوالی میں لیا گیا تھا اور اس بات کی ضرورت نہ سمجھی گئی کہ آپ کو جیل سے بلاکر تکلیف دی جائے۔
عاشق علی ہیڈ کانسٹبل کی شہادت
عاشق علی ہیڈ کانسٹبل سی آئی ڈی نے کہا کہ گزشتہ جمعہ کو جمعیت کا ایک جلسہ منعقد کیا گیا، جس میں پانچ ہزار آدمی شریک تھے۔ جلسہ میں مفتی صاحب نے سرحدی معاملات میں ایک تقریر کی۔ مقرر نے دوران تقریر میں آر ڈی نینسوں کی واپسی اور صوبہ سرحد کے مظالم کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ یہ تقریر ایک خاص مقصد کے لیے کی گئی تھی، یعنی مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ وہ باہر نکل کر اپنے مذہب اور حقوق کی حفاظت کریں۔
اس کے بعد یہ جلسہ ایک جلوس کی شکل میں نکلا، جس کی قیادت مفتی صاحب نے کی۔ کمپنی باغ میں مجمع نیچے بیٹھ گیا اور مولانا بینچ پر بیٹھ گئے۔ چند منٹ کے بعد تمام مجمع نعرے لگانے لگا۔ مجمع کا رویہ سخت اشتعال انگیز تھا۔ پولیس کی جمعیت بھی موقع پر موجود تھی۔ حاضرین کی تعداد ڈھائی ہزار کے قریب تھی۔ تین ہزار کے قریب تماشائی باغ کے کنارے کھڑے ہوئے جلسہ کا تماشہ دیکھ رہے تھے۔
حضرت مفتی صاحب کے سوالات
مولانا نے گواہ پر جرح کرتے ہوئے چند سوالات کیے۔
مولانا: کیا آپ کو یاد ہے کہ میں نے جامع مسجد میں حاضرین کو تلقین کی تھی کہ نعرے کس قسم کا لگانا؟، یعنی اللہ اکبر۔ آر ڈی نینس واپس لو۔ صوبہ سرحد کے لیے آزاد تحقیقات کی اجازت دو۔
گواہ: ہاں آپ نے حاضرین کو یہی فرمایا تھا۔
مولانا: کیا آپ کو یاد ہے کہ میں نے لوگوں کو یہ بھی تلقین کی تھی کہ ان کے سوا کسی قسم کے نعرے نہ لگانا؟
گواہ: جی ہاں میں نے اپنی رپورٹ میں بھی اس کو لکھ لیا ہے۔
مولانا: میں نے لوگوں سے یہ بھی کہا تھا کہ جلوس کو نہایت پرامن اور باضابطہ کرنا چاہیے۔ چنانچہ جلوس ے معلوم ہوگیا کہ وہ اپنے سرحدی بھائیوں کی ہمدردی پر ماتم کناں تھا؟
گواہ: ہاں۔
کورٹ انسپکٹر کے جواب میں گواہ نے کہا کہ مولانا نے لوگوں کو تین نعروں کے علاوہ اور نعرے لگانے سے منع نہیں کیا۔
سردار عبد الصمد خاں سٹی مجسٹریٹ
سردار عبد الصمد خاں سٹی مجسٹریٹ نے کہا کہ جلوس جس وقت کمپنی باغ میں پہنچا، تو وہ اس وقت بہت مشتعل تھا۔ اس پر کورٹ انسپکٹر نے سردار صاحب سے دریافت کیا کہ آپ کو مجمع کا مشتعل ہونا کس طرح معلوم ہوا؟ اس کے جواب میں سردارصاحب نے کہا کہ علاوہ اللہ اکبر اور مفتی کفایت اللہ زندہ آباد کے نعروں کے مجمع نے آر ڈی نینس واپس لو، حکومت برباد، انقلاب زندہ باد وغیرہ کے نعرے بھی لگائے۔ جوں ہی مجمع میدان میں جمع ہوا اور مولانا اپنی جگہ بیٹھے،تو مجھے معلوم ہوگیا کہ مجمع کا رویہ مخالفانہ اور دھمکی آمیز تھا۔ اس پر لوگوں سے کہا گیا کہ اگر انھوں نے آر ڈی نینسوں یا حکومت کے خلاف کچھ کہا تو ان کو منتشر کردیا جائے گا۔ اس تنبیہہ نے مجمع کو اور زیادہ مشتعل کردیا۔ اور اس نے بآواز بلند کہنا شروع کردیا کہ ہم ایسا ہی کریں گے، ہم ضرور کریں گے، ہم ضرور ایسا کریں گے۔ چوں کہ اس موقع پر نقض امن کا اندیشہ تھا، اس لیے میں نے مجمع کو طاقت سے منتشر کرنے کا حکم دے دیا۔ مولانا صاحب بینچ پر بیٹھے رہے۔
کورٹ انسپکٹر کے جواب میں گواہ نے کہا کہ میں نے مسٹر ڈیگیل پر کسی کو حملہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ اس بات کی رپورٹ ہوئی ہے کہ ڈیگیل پر حملہ کیا گیا ہے۔
سید علی شاہ سب انسپکٹر
سید علی شاہ سب انسپکٹر انچارج فیض بازار پولیس اسٹیشن نے اپنی گواہی میں کہا کہ میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا نوٹس لے کر ملزم کے پاس گیا؛ مگر ملزم نے لینے سے انکار کردیا۔ اس پر میں نے نوٹس کو ملزم کے مکان کے دروازہ پر چسپاں کردیا۔
عبد الرشید کانسٹبل نے کہا کہ صدر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے جو اعلان نمبر ایک اور نمبر دو شائع ہوا تھا، اس نے ان کو دیواروں سے اکھاڑا تھا۔ مفتی صاحب کے جواب میں گواہ استغاثہ نے کہا کہ اعلانات 15اور 16مارچ کو دیواروں سے اکھاڑے گئے۔
مجسٹریٹ: لیکن ملزم تو جیل میں تھا، کیا اس نے یہ اعلان جیل سے شائع کیے تھے؟ مجسٹریٹ نے مزید کہا کہ یہ ثابت کرنا چاہیے کہ ملزم نے یہ اعلان شائع کیے تھے۔
مولانا نے اقرار کیا کہ جمعیت علمائے ہند کا صدر ہوں۔ نیز مولانا نے فرمایا کہ ۹/ مارچ کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا ایک نوٹس مجھے موصول ہوا تھا۔
سوال: کیا آپ نے ان دونوں اعلانوں کو بحیثیت صدر جمعیت علما شائع کیا تھا؟
مولانا: میں نے ان اعلانات کا مسودہ تیار کیا تھا؛ لیکن ان کی اشاعت سے پیشتر میں گرفتار کرلیا گیا۔
سوال: کیا ان کی اشاعت کے آپ ذمہ دار ہیں؟
مولانا: یہ اعلانات اشاعت کی ہی غرض سے لکھے گئے تھے۔ اگر میں جیل سے باہر ہوتا تو ان کو شائع کرتا۔
اس کے بعد کورٹ انسپکٹر نے مولانا سے مندرجہ ذیل سوالات کیے:
سوال: کیا آپ نے جامع مسجد میں کوئی تقریر کی تھی، جس میں آپ نے لوگوں سے آرڈی نینسوں کے خلاف احتجاج اور صوبہ سرحد میں حکومت کی کارروائی کی مذمت کرنے کی درخواست کی تھی؟
مجسٹریٹ: کیا یہ جرم ہے؟
کورٹ انسپکٹر: آر ڈی نینس کے خلاف کہنا حکومت کے خلاف نفرت پھیلانا۔
مولانا: یہ میں بیان کرچکا ہوں کہ صوبہ سرحد کی حالت خطرناک ہے۔ حکومت نے اطلاعات کے تمام ذرائع مسدود کردیے ہیں؛ لیکن دیگر ذرائع سے جو حالات معلوم ہوسکے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سرحد کی حالت خراب ہے اور حکومت کو ایک تحقیقات کمیٹی کی اجازت دے دینی چاہیے، تاکہ لوگوں کا اضطراب دور ہو اور خصوصا مسلمانوں کا اضطراب۔
سوال: کیا آپ کو کچھ اور کہنا ہے؟
مولانا: میں ایک تحریری بیان دینا چاہتا ہوں۔
مجسٹریٹ: آپ نے اس عرصہ میں اپنا بیان کیوں تیار نہیں کرلیا؟
مولانا: بغیر اس بات کو معلوم کیے میرے خلاف مقدمہ کس قسم کا ہے، میں کس طرح بیان تیار کرلیتا؟
چنانچہ مجسٹریٹ نے مولانا کو بیان تحریر کرنے کے لیے مہلت دے دی اور مقدمہ آئندہ 18مارچ(بروز جمعہ) کے لیے ملتوی کردیا گیا۔
عدالت میں مفتی صاحب کا بیان
دہلی19مارچ۔ کل ڈسٹرکٹ جیل دہلی میں مسٹر پول کی عدالت میں حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند نے اپنا تحریری بیان پیش فرمایا۔ عدالت نے بیان کے اس حصہ کی اشاعت کی اجازت دے دی، جس کا تعلق مقدمہ سے ہے۔ مولانا نے اپنے بیان میں ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی، جو استغاثہ نے مولانا کی نسبت پھیلائی تھی۔ آپ نے فرمایا کہ گواہان استغاثہ کے بیانات مختلف پہلووں سے غلط ہیں۔ جلوس اور جلسہ پرامن طریقہ سے منائے گئے اور حکومت نے ان پر کوئی پابندی بھی عائد نہیں کی تھی۔ خود پولیس بھی جلوس کے ہمراہ تھی؛ مگر اس نے نہ تو اس کو خلاف قانون قرار دیا اور نہ منتشر کیا۔ جامع مسجد کی میری تقریر بہت سادہ تھی، جس میں آرڈی نینسوں کی واپسی اور صوبہ سرحد کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اگر یہ جرم ہے، تو بے شک میں مجرم ہوں۔ آپ نے آزاد پارک میں پولیس کے بے پناہ لاٹھی چارج کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پولیس نے مجمع کو منتشر ہونے کی مہلت نہیں دی اور مسافروں اور بھاگنے والوں پر لاٹھیاں برسانی شروع کردیں۔
مفتی صاحب کے اعلانات
مسٹر امجد علی کورٹ انسپکٹر نے دوسرے مقدمہ کے مختصر حالات بیان کیے اور مفتی صاحب کے دو اعلانوں کو پڑھ کر سنایا۔ کورٹ انسپکٹر نے کہا کہ پہلے اعلان میں مسلمانوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ اپنے علما کی پیروی کریں۔ دوسرے اعلان میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہر ماہ کے پہلے جمعہ کو جلسے منعقد کریں، جس میں آر ڈی نینسوں کی واپسی کا مطالبہ کیا جائے۔ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک پروگرام بھی درج کیا گیا ہے، جو بدیشی کپڑوں، شراب، تھیٹر، سینما اور عدالتوں کے بائیکاٹ پر مشتمل ہے۔ نیز پروگرام میں پنچایتوں کے قیام پر بھی زور دیا گیا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خطوط، تار اور ریلوے کا استعمال کم کردیں۔ اعلان کے ان اجزا پر کورٹ انسپکٹر نے عدالت کی توجہ مبذول کرائی اور کہا کہ مفتی صاحب نے نوٹس کی تعمیل نہیں کی، جس کا مقصد یہ تھا کہ حکم کی خلاف ورزی کی جائے۔ کمپنی باغ میں مجمع کو منتشر کرنے کے معاملہ میں میں پڑنا نہیں چاہتا۔ مفتی صاحب کے جرم کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ انھوں نے نوٹس کی خلاف ورزی کی۔
عدالت: یہ کس طرح ثابت ہوا؟
کورٹ انسپکٹر: مفتی صاحب نے جلوس میں حصہ لیا۔ نیز آپ نے پبلک سے درخواست کی کہ وہ اس جدوجہد میں حصہ لے، جو پبلک کے امن و امان کے منافی ہے۔
عدالت: مفتی صاحب نے اس قسم کی درخواست کہاں کی؟
کورٹ انسپکٹر: اپنے دو اعلانوں میں۔
عدالت: تو ہمیں اپنی توجہ بھی ایک امر کی طرف رکھنی چاہیے نہ کہ جلسہ کے انتشار وغیرہ امور کی طرف۔
حضرت علامہ نے فرمایا استغاثہ اپنے مقصد میں ناکام رہا ہے۔ میں 11مارچ کو گرفتار کیا گیا؛ لیکن اعلانات کی کاپیاں پولیس نے 15اور 16مارچ کو برآمد کیں۔
عدالت: لیکن آپ نے اپنی گرفتاری سے پیشتر اعلانوں کا مسودہ تیار کرلیا تھا۔
مولانا: وہ گرفتاری سے پہلے لکھے گئے تھے؛ لیکن استغاثہ کو تو یہ ثابت کرتا ہے کہ میں نے ان اعلانات کو شائع کیا تھا۔ عدالت دیکھے کہ یہ چیز کہاں تک ثابت ہوئی ہے۔
اس کارروائی کے بعد عدالت نے فیصلہ کے لیے 19مارچ کو تاریخ مقرر کردی۔“ (الجمعیۃ 20مارچ1932، ص/4)
ان سوالات و جوابات کے بعد یہ فیصلہ دیا گیا کہ
”حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند کے مقدمہ کا آج مسٹر پول ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فیصلہ سنا دیا۔ آپ کو نوٹس کی خلاف ورزی کے الزام میں اٹھارہ ماہ قید سخت کی سزادی گئی۔
مجسٹریٹ نے مولانا کو اے کلاس دینے کی سفارش کی ہے۔ حضرت علامہ مجسٹریٹ کو دیکھ کر مسکرائے اور فیصلہ کو نہایت اطمینان اور سکون کے ساتھ سنا۔“ (الجمعیۃ 20 مارچ1932)
دہلی جیل سے تبادلہ
”حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کو دہلی جیل سے آج (21مارچ)بجے شب بذریعہ بھٹنڈہ اکسپریس ملتان جیل تبدیل کردیا گیا۔ ایک انسپکٹر دو سب انسپکٹر اور مسلح گارڈ کے درمیان حضرت علامہ پونے نو بجے اسٹیشن دہلی پر تشریف لائے۔
حضرا لعلامہ کی روانگی اس قدر مخفی رکھا گیا تھا کہ باوجودیکہ آج ہی شام کو آپ سے اعزا نے جیل میں ملاقات کی تھی؛ مگر کسی تبادلہ کی اطلاع نہیں دی گئی۔ اتفاقا مولانا حفیظ الرحمان صاحب آصف معہ اپنے دو رفقا کے اسٹیشن پر موجود تھے۔ جب آپ نے حضرت العلامہ کو تشریف لاتے دیکھا تو حیرت ہوئی۔ چند مسلمان اتفاق سے حضرت العلامہ کے اس ڈبہ کے پاس پہنچ گئے، جس میں موصوف کو سوار کرلیا گیا تھا، تو یہ دیکھ کر ان کو بے حد افسوس ہوا کہ عالم اسلامی کے اس سرتاج کو تیسرے درجے میں سفر کرایا جارہا ہے۔ ایک سب انسپکٹر پولیس اور چار کانسٹبل آپ کے ہمراہ گئے اور پولیس کی باقی جمعیت گاڑی کی روانگی پر واپس آئی۔“ (الجمعیۃ 24مارچ1932)
رہائی
حضرت مفتی اعظم کو 6مئی 1933کو ملتان جیل سے رہا کیا گیا۔ کارکنان جمعیت نے دہلی میں آپ کے استقبال کا زبردست انتظام کیا۔ اس موقع پر درج ذیل اشتہار شائع کیا گیا تھا:
”حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند تقریبا ڈیڑھ سال کے بعد 6مئی 1933کو ملتان جیل سے رہا کردیے گئے ہیں۔ اور 8مئی 1933یوم دو شنبہ کو صبح کے وقت، ساڑھے سات بجے کی گاڑی سے (وایا بھٹنڈہ) دہلی تشریف لا رہے ہیں۔ امید ہے کہ اہالیان شہر دہلی، حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کی زیارت سے بہرہ اندوز ہونے کے لیے بتعدادکثیر اسٹیشن پر مجتمع ہوں گے۔ چوں کہ حضرت مفتی صاحب کی صحت جیل میں اکثر خراب رہی ہے اور مسلسل و پیہم امراض کے باعث بہت زیادہ ضعف ہوگیا ہے، اس لیے ان تمام حضرات سے جو استقبال کی غرض سے جمع ہوں، درخواست کی جاتی ہے کہ مصافحہ اور معانقہ کی بالکل کوشش نہ کریں اور نہ اس پروگرام میں کسی تبدیلی کی خواہش ظاہر کریں، جو پہلے سے مقرر کردیا گیا ہے۔ حضرت صدر محترم اسٹیشن پر حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد براہ راست اپنے دولت خانہ پر تشریف لے جائیں گے۔“ (الجمعیۃ13مئی 1933)
ڈکٹیٹر اول کا زبردست استقبال
”حضرت العلامہ مفتی اعظم مولانا محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی تشریف آوری کے موقع پر دہلی نے 8مئی کو انتہائی جوش و خروش اور ناقابل اظہار عقیدت و وارفتگی کے جو رقت آمیز مناظر دیکھے، وہ ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ علیٰ الصبح نماز فجر کے بعد ہی دہلی جنکشن پر لوگوں کا زبردست ہجوم شروع ہوگیا اور شہر کے مختلف محلوں اور بازاروں سے بے شمار انسانوں کے گروہ جوق در جوق روانہ ہونے لگے۔ 8بجے تک (جو بھٹنڈہ اکسپریس کے پہنچنے کا صحیح وقت تھا) تمام پلیٹ فارم بھر گیا اور تل رلھنے کی جگہ باقی نہ رہی۔ اس کے علاوہ اسٹیشن کے باہر فرسٹ و سکنڈ کلاس کا تمام ہال موٹروں اور گاڑیوں کا اسٹینڈ اور تمام اسٹیشن کا احاطہ بھی آدمیوں سے کچھاکھچ بھر گیا اور کمپنی باغ تک آدمی ہی آدمی نظر آنے لگے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ انسانوں کا بحر ذخار ہے جو امنڈتا ہوا چلا آتا ہے۔ شہر کے سر برآوردہ ہندو مسلمان، مدارس عربیہ کے اساتذہ اور طلبا، قومی کارکن، نمائندگان پریس، اخبارات کے ایڈیٹر، مزدور پیشہ، صناع؛ غرض آبادی کا کوئی طبقہ ایسا باقی نہیں بچا تھا، جو مفتی صاحب کی زیارت کا والہانہ جذبہ لیے ہوئے اسٹیشن پر موجود نہ ہو اور انتہائی اضطراب و بے چینی کے ساتھ ٹرین کا انتظار نہ کر رہا ہو۔جن نمایاں حضرات کو نامہ نگار الجمعیۃ دیکھ سکا، ان میں حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند، مسٹر آصف علی بیرسٹر، مسٹر فرید الحق انصاری بیرسٹر، مسٹر کھنہ، مسٹر پردھان سنگھ، لالہ منگت رائے، مسٹر پوتھن جوزف، ایڈیٹر ہندستان ٹائمس، مسٹر دھرمپال ایڈیٹر تیج، سید محمد جعفری ایڈیٹر ملت، ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر الجمعیۃ، مولانا عبدالماجد صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی، مولانا حفیظ الرحمان صاحب، مولانا سلطان محمود صاحب صدر مدرس مدرسہ فتحپوری، مولانا ضیاء الحق صاحب مدرسہ امینیہ، مولانا عبد اللہ، لالہ جگن ناتھ، کرنل محمد اسحاق، غازی محمد عثمان صدر جمعیت شبان المسلمین، شیخ عبد الحق، شیخ انوار الحق، حافظ وحید الدین صاحب امین بیل والے، شیخ شجاع الحق صاحب گوٹے والے، مفتی حبیب المرسلین صاحب، شیخ ابوالحسن صاحب سوداگر صدر بازار، مسٹر پنا لال، مسٹر نرائن داس، حاجی محمد یونس صاحب قابل ذکر ہیں۔
رضاکاران جمعیت کا انتظام
جمعیت علمائے ہند کے کئی سو رضاکاران اسٹیشن کے اندر اور باہر انتظام کی غرض سے متعین تھے، لیکن پبلک کا ہجوم اس قدر تھا کہ منتظمین کو سخت دشواریاں پیش آرہی تھیں۔ اور کئی موقعوں پر تھانہ کا انتظام نا ممکن ہوگیا۔ اور جو حلقہ بنایا گیا، وہ مجمع کے دباؤ سے ٹوٹ گیا۔ پلیٹ فارم کے باہر مدارس عربیہ کے ہندستانی اور ولایتی طلباکی دو رویہ قطاریں مستحکم دیواروں کی طرح کھڑی ہوئی تھیں اور پلیٹ فارم پر بھی لوگوں نے پہلے حلقہ بنالیا تھا، مگر جیسے ہی کہ گاڑی اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے درمیان پلیٹ فارم پر پہنچی اور حاضرین کی متجسس نگاہوں نے اس درجہ کو متعین کیا، جس میں حضرت مفتی صاحب تشریف فرما تھے، تمام مجمع اس درجہ کی طرف ٹوٹ پڑا اور رضاکاروں کے لیے حلقہ کو قائم رکھنا بالکل ناممکن ہوگیا۔ بڑی دیر تک یہی کشمکش جاری رہی اور ان مخلص کارکنوں اور عقیدت مندوں نے جو حضرت مفتی صاحب کا خیر مقدم کرنے کے لیے روہتک اور بہادر گڑھ تک گئے تھے، یا کشن گنج کے اسٹیشن سے گاڑی میں سوار ہوگئے تھے۔ یہی مناسب خیال کیا کہ جب تک مجمع کی کشمکش اسی طرح قائم رہے، اس وقت تک حضرت مفتی صاحب پلیٹ فارم پر تشریف نہ لائیں، خود اس ڈبہ کے اندر میں حضرت مفتی صاحب تشریف فرما تھے۔ آنے والوں کا اس قدر مجمع ہوگیا تھا کہ دم گھٹ رہا تھا۔ اس لیے حضرت مفتی صاحب کو دوسری سمت کے دروازہ سے اتار کر دوسرے خالی ڈبہ میں بٹھایا گیا، تاکہ لوگ ٹرین کے اندر سے حضرت ممدوح کی زیارت کرسکیں۔ اس موقع پر مجمع میں یہ افواہ اڑگئی کہ حضرت مفتی صاحب دوسرے راستہ سے اتر کر گیٹ کی طرف چلے گئے۔ اور وہ مجمع، جس کی وجہ سے ۸ نمبر کے پلیٹ فارم پر حضرت مفتی صاحب کااترنا بھی سخت دشوار تھا، متشر ہوکر دوسرے پلیٹ فارموں پر جانے لگا۔ مگر اکثریت کو کسی طرح یہ یقین نہ آتا تھا کہ حضرت مفتی صاحب گاڑی میں نہیں ہیں۔ اتنے ہی میں لوگوں نے دیکھا کہ دوسرے ڈبے کی کھڑکی میں حضرت مفتی صاحب تشریف فرما ہیں اور مفتی اعظم زندہ باد کے نعروں سے پلیٹ فارم گونجنے لگا۔
انسانوں کا سیلاب عظیم
نہایت مشکل کے ساتھ حلقہ بنایا گیااور بڑی احتیاط سے حضرت مفتی صاحب پلیٹ فارم پر تشریف لائے۔ جن حضرات نے پوری قوت کے ساتھ مجمع کے سیلاب کوروکا، ان کی ہمتیں قابل داد ہیں۔ گاڑی کے پہنچنے کے تقریبا ایک گھنٹہ بعد حضرت مفتی صاحب گیٹ تک پہنچے۔ گیٹ پر بھی ریلوے ملازمین کوئی نظم قائم نہ رکھ سکے۔ دو دروازے پوری طرح کھول دیے گئے اور مجمع بڑی دیر تک دروازوں سے گزرتا رہا، جو دو رویہ قطاریں کھڑی ہوئی تھیں، ان سے مجمع کو روکنے میں بہت آسانی ہوئی؛ لیکن اس پر بھی جب حضرت مفتی صاحب موٹر کے قریب پہنچے تو ایک زبردست ریلا آیا اور کئی آدمی موٹر کے قریب زمین پر گر گئے، جن کو فورا رضاکاروں نے اٹھالیا۔ پلیٹ فارم سے موٹر تک پھولوں کی بے حساب بارش ہوتی رہی اور پھولوں کے ہار برابر مفتی صاحب کے ڈالے جاتے رہے۔ موٹر میں مسٹر آصف علی حضرت مفتی صاحب کا انتظار کر رہے تھے، جیسے کہ حضرت مفتی صاحب موٹر میں داخل ہوئے اور مسٹر آصف علی نے ایک سنہری ہار مفتی صاحب کی گردن میں ڈالا، مفتی اعظم زندہ آباد کے فلک شگاف نعروں سے اسٹیشن کی فضا گونجنے لگی۔
مجمع کے لیے ہدایات
حضرت مفتی صاحب کی رہائی اور دہلی میں تشریف آوری کے متعلق حسب ذیل پوسٹر شہر میں کارکنان دفتر جمعیت علمائے ہند کی جانب سے شائع ہوچکا تھا
”حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند تقریبا ڈیڑھ سال کے بعد 6مئی 1933کو ملتان جیل سے رہا کردیے گئے ہیں۔ اور 8مئی 1933یوم دو شنبہ کو صبح کے وقت ساڑھے سات بجے کی گاڑی سے (وایا بھٹنڈہ) دہلی تشریف لارہے ہیں۔ امید ہے کہ اہالیان شہر دہلی حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کی زیارت سے بہرہ اندوز ہونے کے لیے بہ تعداد کثیر اسٹیشن پر مجتمع ہوں گے۔ چوں کہ حضرت مفتی صاحب کی صحت جیل میں اکثر خراب رہی ہے اور مسلسل و پیہم امراض کے باعث بہت زیادہ ضعف ہوگیا ہے، اس لیے ان تمام حضرات سے جو استقبال کی غرض سے جمع ہوں، درخواست کی جاتی ہے کہ مصافحہ و معانقہ کی بالکل کوشش نہ کریں اور نہ اس پروگرام میں کسی تبدیلی کی خواہش ظاہر کریں، جو پہلے مقرر کردیا گیا ہے۔ حضرت صدر محترم اسٹیشن پر حاضرین کا شکریہ ادا کرنے کے بعد براہ راست اپنے دولت خانہ پر تشریف لے جائیں گے۔“
اس پوسٹر کے مضمون کا لحاظ رکھتے ہوئے لوگوں نے مصافحہ اور معانقہ کی بہت کم کوشش کی؛ مگر اس پر بھی جوش عقیدت کا یہ عالم تھا کہ لوگ موٹر پر گرے پڑتے تھے اور بہت سے حضرات جوش مسرت سے بے اختیار رو رہے تھے۔
اظہار تشکر
حضرت مفتی صاحب نے موٹر پر کھڑے ہوکر مجمع کو خاموش رہنے کی ہدایت کی اور اس کے بعد ایک مختصر و جامع تقریر میں حاضرین کا شکریہ ادا فرمایا۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ ”میں آپ تمام حضرات کا جو اس قدر تکلیف برداشت کرکے میرا استقبال کرنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں، شکریہ ادا کرتا ہوں اور ان حضرات کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں، جو میرے خیر مقدم کے لیے دہلی سے آگے کے اسٹیشنوں پر تشریف لے گئے تھے اور وہاں سے میرے ہمراہ یہاں تک آئے ہیں۔ میں نے جو کچھ کیا، وہ میرا ایک ملی و وطنی فرض تھا۔ میں حق تعالیٰ کا شکر بجالاتا ہوں کہ اس نے آج پھر یہ موقع عطا فرمایا کہ ڈیڑھ سال کی مفارقت کے بعد آپ حضرات سے بخیر وعافیت ملاقات ہوئی۔ آپ بھی حضرت حق جل مجدہ کا شکریہ ادا کیجیے اور اس کی درگاہ میں دعا کیجیے کہ جس طرح آج آپ یہاں مجتمع ہوکر میرے استقبال پر اظہار مسرت کر رہے ہیں، اسی طرح ایک دن وہ بھی آئے کہ تمام ہندستانی اسی جو ش وخروش کے ساتھ ہندستان کی آزادی کا خیرمقدم کریں اور اسی طرح ہر طرف اظہار مسرت کیا جائے۔ ان الفاظ کے بعد میں آپ حضرات سے درخواست کرتا ہوں کہ اب آپ منتشر ہوجائیں۔ آج اگرچہ مجھے ابھی تک اختلاج قلب کا دورہ نہیں پڑا ہے؛ مگر اس دوران میں کئی موقعوں پر میری طبیعت بگڑ چکی ہے اور میں اختلاجی کیفیت کے قریب تک پہنچ چکا ہوں“۔ اس حکم کو سنتے ہی مجمع منتشر ہوگیا اور موٹر میں حضرت مفتی صاحب قبلہ، مولانا احمد سعید صاحب اور مسٹر آصف علی کے ہمراہ اپنے دولت خانہ پر تشریف لے گئے۔
اخبارات کے لیے بیان
حضرت مفتی صاحب اپنے دولت خانہ پر سامان سفر کا جائزہ لینے کے بعد حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند کے دولت خانہ پر تشریف لے آئے، جہاں شام تک برابر لوگوں کا مجمع رہا۔ اور حضرت مفتی صاحب کے عقیدت مند و ارادت کیش شرف ملاقات حاصل کرنے کے لیے برابر آتے جاتے رہے۔ اسی سلسلہ میں ایسوشی اٹیڈ پریس اور دیگر اخبارات کے نمائندوں نے بھی حضرت مفتی صاحب سے ملاقات کی اور ایک بیان دینے کی خواہش ظاہر کی۔ حضرت مفتی صاحب نے حسب ذیل بیان بغرض اشاعت مرحمت فرمایا:
”میں ایک عرصہ کے بعد ابھی جیل سے آرہا ہوں۔ملکی سیاسیات کے مدوجزر کی جیل کی چار دیواری میں رہنے والوں کو کوئی خبر نہیں ملتی۔ میں نے جیل جاکر اپنا ملی و وطنی فرض ادا کیا ہے۔ اب باہر آکر حالات معلوم ہونے کے بعد اپنی رائے کا اظہار کرسکوں گا۔ اس قدر ضرور کہدینا چاہتا ہوں کہ اہل ہند کی اپنے حقوق کے لیے قربانیاں رائیگاں نہ جائیں گی اور خدا نے چاہا تو وہ ضرور تخلیق وطن کی سرفروشانہ مساعی میں کامیاب ہوں گے۔
مولانا فضل الرحمان صاحب کٹکی کے متعلق جن کی حالت اولڈ سینٹرل جیل میں نہایت نازک ہے، دریافت کرنے پر حضرت مولانا نے فرمایا:
مولوی فضل الرحمان صاحب کو میں نے اولڈ سینٹرل جیل میں ملتان میں جاکر دیکھا، وہ ہڈی چمڑے کا ایک ڈھانچہ ہوگئے ہیں اور بمشکل دو چار لفظ ان کی زبان سے نکل سکے۔ اٹھنے اور اپنی حوائج ضروریہ کو پورا کرنے کی مطلقا ان میں طاقت نہیں رہی ہے اور ان کی حالت خطرناک اور مخدوش ہے، افسران جیل کا انسانی فرض ہے کہ وہ دہلی کی حکومت کو ان کی خطرناک حالت سے جلد از جلد آگاہ کریں اور حکومت کی دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ وہ ان کو فورا رہا کردے۔ مسلمانوں سے درخواست ہے کہ مولوی صاحب موصوف کے لیے صحت و عافیت کی دعا کریں۔
دعوت عام
جامع مسجد مٹیا محل چتلی کوچہ چیلاں کے مسلمانوں نے حضرت مفتی صاحب کی تشریف آوری کے موقع پر جھنڈیاں لگانے یا آرائش کے دروازوں سے بازاروں کو سجانے کے بجائے یہ فیصلہ کیا تھا کہ جیل سے حضرت ممدوح کی بخیر و عافیت واپسی پر اللہ تعالیٰ کی درگاہ میں اظہار تشکر کے طور پر ایک دعوت عام دی جائے۔ چنانچہ گزشتہ شب سے اس مکان میں جہاں مولانا محمد علی مرحوم کے ہمدرد و کامریڈ کا دفتر تھا، کھانے پک رہے تھے۔ اور بہت بڑے پیمانہ پر انتظامات کیے گئے تھے۔ صبح کو جب حضرت مفتی صاحب دولت خانہ پر تشریف لے آئے، تو منتظمین دعوت حضرت مفتی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ممدوح سے استدعا کی کہ دعوت کا افتتاح فرمادیں۔ حضرت مفتی صاحب، حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند کی حیثیت میں تشریف لے گئے اور سب سے پہلے اپنے دست مبارک سے ایک پلیٹ میں کھانا نکالا۔ اس کے بعد عام دعوت شروع ہوگئی۔ تمام مدارس عربیہ کے طلبا نے خصوصیت کے ساتھ اور مسلمانان علاقہ اور دوسرے حضرات نے جو یکے بعد دیگرے آتے رہے، کھانا تناول فرمایا۔ اور یہ سلسلہ شام کے ۴/ بجے تک برابر جاری رہا، جو شخص بھی آیا، اسے کھانا دیا گیا۔ دو ہزار سے زائد آدمیوں نے کھانا کھایا۔
حضرت مفتی صاحب کی صحت
حضرت مفتی صاحب کی رہائی 6مئی کو صبح 9بجے نیو سنٹرل جیل ملتان سے ہوئی۔ ایک دن حضرت مفتی صاحب نے ملتان میں قیام فرمایا۔ اور اولڈ سنٹرل جیل میں مولانا فضل الرحمان صاحب کٹکی سے ملاقات کی اور دوسرے دن 7/ مئی کو ملتان سے عازم دہلی ہوگئے۔ لاہور میں حضرت مولانا احمد علی صاحب اور دیگر حضرات نے ایک روز کے لیے اترنے پر اصرار کیا؛ مگر حضرت مولانا نے عذر فرمادیا۔ اور مقرر شدہ پروگرام کے مطابق بھٹنڈہ اکسپریس نے ۸/ مئی کو صبح ۸ بج کر ۵منٹ پر دہلی پہنچ گئے۔ جیل میں حضرت مفتی صاحب کی خرابی صحت کے متعلق جو اطلاعات آتی رہتی تھیں، ان کی تصدیق خود ممدوح کی زیارت کے بعد ہوگئی۔ حضرت مفتی صاحب کے چہرہ سے ضعف کے آثار نمایاں ہیں اور بہت دبلے معلوم ہوتے ہیں۔“۔ (الجمعیۃ13مئی1933)
مفتی اعظم صاحب 11مارچ 1932کو گرفتار ہوئے تھے اور 6مئی 1933کو رہا ہوئے۔ اس اعتبار سے 13ماہ 27دن آپ جیل میں اسیر فرنگ رہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: