مضامین

ڈکٹیٹر ششم کی گرفتاری:جمعیت دائرہ حربیہ یا مجلس حربی۔قسط نمبر(21)

محمد یاسین جہازی

۵/ اگست 1932کو دیوبند سے دہلی تشریف لاتے ہوئے مظفر نگر اسٹیشن میں آپ کو گرفتار کرلیاگیا۔ تفصیلات پیش ہیں:
”دہلی۶/اگست۔ کل حضرت شیخ الہند مولانا مولوی حسین احمد صاحب مدنی صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند، ڈکٹیٹر ششم جمعیت علمائے ہند جانشین حضرت مولانا محمود الحسن صاحب مرحوم (شیخ الہند) دہلی تشریف لاتے ہوئے مظفر نگر اسٹیشن پر گرفتار کرلیے گئے۔
تفصیلات مظہر ہیں کہ مولانا کل صبح ۴/ بجے ایک عظیم الشان جلوس کے ہمراہ اپنے مکان سے بعزم دہلی دیوبند کے اسٹیشن پر تشریف لائے۔ جلوس کئی ہزار آدمیوں پر مشتمل تھا، جس میں دارالعلوم دیوبند کے تمام طلبا اور شہر کے ہندو مسلمان شریک تھے۔ مولانا کے ہمراہ کئی سو طلبا بھی دہلی آنے کے لیے ٹرین میں سوار ہوگئے۔ اسی گاڑی سے نورالحسن مجسٹریٹ درجہ اول اور ایک انسپکٹر پولیس سہارنپور سے سوار ہوئے اور دیوبند پر مولانا کو ٹرین میں اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے درمیان سوار ہوتے دیکھا۔ خبر نہیں، دیوبند کے اسٹیشن پر مولانا کو نوٹس کیوں نہیں دیا گیا۔ آخر گاڑی دیوبند سے روانہ ہوکر روہانہ اسٹیشن پر ٹھہری، جہاں مجسٹریٹ نے مولانا کو ایک نوٹس دیا، جس میں مذکور تھا کہ ”چوں کہ مولانا حسین احمد صاحب اب ایسے کام کرنے والے ہیں، جن سے نقض امن کا خطرہ ہے، اس لیے وہ ایک ماہ تک قصبہ دیوبند میں مقیم رہیں اور دہلی تشریف نہ لے جائیں۔“ نورالحسن مجسٹریٹ نے یہ بھی لکھ دیا کہ یہ نوٹس روہانہ اسٹیشن پر تعمیل ہوا۔ اس کے بعد ایک دوسرا نوٹس مولانا کو دیا گیا کہ ”چوں کہ مولانا دہلی تشریف لے جارہے ہیں، جو اس نوٹس کی خلاف ورزی ہے، اس لیے میں حکم دیتا ہوں کہ یا تو وہ دیوبند واپس ہوجائیں، یا اپنے آپ کو گرفتار سمجھیں“۔
نوٹس کی تعمیل سے انکار
مولانا موصوف نے نوٹس کی تعمیل سے صاف انکار کردیا اور گاڑی روانہ ہوگئی۔ جب ٹرین مظفر نگر اسٹیشن پر پہنچی تو مجسٹریٹ نے مولانا کو تیسرا نوٹس دیا کہ ”چوں کہ مولانا حسین احمد صاحب مظفر نگر سے بھی آگے دہلی جانے کا قصد رکھتے ہیں، لہذا وہ اپنے آپ کو گرفتار سمجھیں“۔ مولانا نے صاف صاف فرمادیا کہ میں دہلی کا سفر ملتوی نہیں کرسکتا۔ اگر آپ کو گرفتار کرنا ہے، توکرلیجیے۔ چنانچہ مولانا کو گرفتار کرلیا گیا۔
مولانا کے ہمراہ جو طلبا دیوبند سے روانہ ہوئے تھے، انھوں نے اسی جگہ ستیہ گرہ شروع کردیا۔ چنانچہ ان میں سے 19طلبا کو گرفتار کرلیا گیا؛ مگر بعد میں ان کو رہا کردیا گیا۔ اس تمام کارروائی کے سلسلہ میں ٹرین بھی پون گھنٹہ لیٹ ہوگئی، جس وقت مولانا کی گرفتاری مظفر نگر اسٹیشن پر عمل میں آئی تھی، اس وقت اسٹیشن کے باہر پولیس کی ایک زبردست جمعیت موجود تھی۔
تمام اسٹیشنوں پر ہجوم
تمام راستوں میں مولانا کے استقبال کے لیے لوگوں کا زبردست اجتماع ہوگیا تھا۔ خصوصا مظفر نگر، میرٹھ، غازی آباد، شاہدرہ دہلی اور دہلی مرکزی اسٹیشن پر بہت زیادہ ہجوم تھا؛ لیکن جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ مولانا مظفر نگر اسٹیشن پر گرفتار کرلیے گئے، تو مایوس ہوکر واپس ہوگئے۔ شاہدرہ اسٹیشن پر پولیس کا بھی معقول انتظام تھا۔
جس وقت ٹرین دہلی جنکشن پر پہنچی تو کئی ہزار مسلمانوں نے پلیٹ فارم پر اللہ اکبر کے فلک رسا نعرے بلند کیے۔ اسٹیشن کے باہر دورویہ قطار میں کئی ہزار شہری ہندو مسلمان، علما اور طلبا کھڑے تھے، لیکن مولانا کی زیارت سے محروم ہوکر انھیں سخت مایوس ہونا پڑا۔
اسٹیشن کے باہر جلوس مذہبی اور قومی نعرے لگاتا ہوا کمپنی باغ سے چاندنی چوک کی طرف روانہ ہوا۔ پولیس نے جلوس کو کمپنی باغ میں ٹاون ہال کے قریب روک لیا اور ان کو منتشر ہوجانے کا حکم دیا، لیکن مجمع منتشر نہیں ہوا۔ آخر پولیس نے گھنٹہ گھر پر کوچہ قابل عطار کے قریب ہلکا لاٹھی چارج بھی کیا، لیکن کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ لاٹھی چارج سے متعدد لوگوں کو ہلکی چوٹیں آئی ہیں۔
حضرت شیخ الہند مولانا حسین احمد صاحب مدنی کے پیر میں پھوڑا نکلا ہوا ہے، جس کے باعث آ پ کو سخت تکلیف ہے۔“ (الجمعیۃ 9اگست1932)
گرفتاری کے وقت بیان
”حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی ڈکٹیٹر ششم جمعیت علمائے ہند نے اپنی گرفتاری کے وقت (جو مظفر نگر اسٹیشن پر عمل میں آئی) ساتواں ڈکٹیٹر مولانا مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی کو مقرر فرمایا ہے۔
گرفتاری کے وقت حضرت مولانا نے ذیل کا بیان دیا ہے۔
میں تمام مسلمانوں سے پر زور درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے فرائض کو پہنچانیں اور جہاں تک ممکن ہو مذہب، وطن اور قوم کو جملہ خرابیوں سے بچائیں۔ اور ان کی عزت کو چار چاند لگائیں۔
بالخصوص طلبا کے لیے درخواست کرتا ہوں کہ وہ قلق و اضطراب اور جزع و فزع سے بالکل کنارہ کش رہیں اور مردانہ وار بلاشورش و شغب اپنے فرائض مذہبی اور ملکی انجام دیں۔ جو کام بھی کیا جائے، محض لوجہ اللہ اور لاعلائے کلمۃ الاسلام عالی حوصلگی اور استقلال سے ہو۔ واللہ ولی التوفیق۔
ننگ اسلام
(مولانا) حسین احمد غفرلہ“ (الجمعیۃ 9اگست1932)
ڈکٹیٹر اور ڈسٹرکٹ کے مابین مکالمہ
”معلوم ہوا ہے کہ 10اگست کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ضلع سہارنپور نے حضرت مولانا حسین احمد صاحب ڈکٹیٹر ششم جمعیت علمائے ہند سے سہارنپور جیل میں ملاقات کی، جس کے دوران میں حضرت مولانا اور مجسٹریٹ کے مابین نہایت دلچسپ مکالمہ ہوا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے رسمی علیک سلیک کے بعد فرمایا
میں جناب سے ملنے کا متمنی تھا، آج مجھے ملاقات کا موقع ملا۔ آپ ایک بہت بڑے محدث ہیں۔ کیامیں دریافت کرسکتا ہوں کہ حدیث کو چھوڑ کر آپ اس قسم کے کاموں میں کیوں حصہ لیتے ہیں۔
حضرت مولانا: اس لیے کہ میں موجودہ نظام حکومت میں تبدیلی، مذہب کا انگ وجزو سمجھتا ہوں اور یہ میرا جزوایمان ہے اور میں اس کو نماز روزہ کی طرح فرض سمجھتا ہوں۔
مجسٹریٹ: میں یہ سمجھنے سے قطعی قاصر ہوں کہ حکومت کی مخالفت کی عقلی وجوہ کیا ہیں؟۔
حضرت مولانا: اگر انگلینڈ جرمنی کی غلامی کے باوجود یکسانیت تمدن، مذہب قبول نہیں کرسکتا، تو کیا انڈیا کو یہ قدرتی حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے ملک کو آزاد کرائے۔
مجسٹریٹ: انگلینڈ اور انڈیا میں فرق ہے۔ ہندستان میں مذاہب کی کثرت نے قدرتی طور پر اس امر پر مجبور کردیا ہے کہ ایک تیسری طاقت حکومت کرے، تاکہ امن عامہ قائم رہے۔
حضرت مولانا: جب تک سرکار کے قدم نہیں آئے تھے، تو ہمارے یہاں بہترین اتحاد بین الاقوام تھا(اس کے لیے حضرت مولانا نے چند شہادتیں انگریز مورخین کی پیش کیں، جس پر مجسٹریٹ صاحب بہت متعجب ہوئے)۔ آپ کے یہاں بھی پروٹسٹنٹ فرقہ رومن کیتھولک کا سخت دشمن اور خون کا پیاسا ہے اور وہ اس کا دشمن ہے۔
مجسٹریٹ: ہمارے یہاں مذہب پر سیاست غالب ہے۔
حضرت مولانا: بہرحال مآل ایک ہے۔ آپ کے یہاں سیاسی اختلاف اس قدر بڑھا ہوا ہے کہ ایک جماعت دوسرے کے جان و مال کو حلال سمجھتی ہے جیسا کہ حال کے معرکہ انتخاب سے واضح ہے۔ آپ کے یہاں سیاسی اختلاف امن عامہ کو برباد کرسکتا ہے، تو پھر کیوں تیسری طاقت کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔
مجسٹریٹ: میں تو صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ دارالعلوم دیوبند جیسے مرکزی مقام کو چھوڑ کر اور اس کی پرنسپلی سے علاحدگی اچھی نہیں معلوم ہوتی۔
حضرت مولانا: دارالعلوم تعلیمی مرکز ہے اور ضرور ہے؛ لیکن جمعیت علما کی مرکزیت سے جناب کو کیوں انکار ہے۔
مجسٹریٹ: نہیں، نہیں آپ اتنی بڑی تنخواہ کیوں چھوڑ رہے ہیں؟
حضرت مولانا: مجھے اس سے کہیں زائد تنخواہیں مل سکتی ہیں، اس کے علاوہ مجھے ان چیزوں کی قطعا پرواہ نہیں۔
مجسٹریٹ: بہرحال میرا دوستانہ مشورہ یہی ہے کہ جناب ان تحریکات کے نقصان پر غور فرمائیں۔
حضرت مولانا: میں کافی غور کرچکا ہوں۔ اب مجھ سے اس قسم کی گفتگو نہ کی جائے اور نہ کسی کو اس ارادہ سے میرے پاس آنا چاہیے۔
اس وقت مولانا کا چہرہ غصہ سے تمتما اٹھا۔ اسی حالت میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اٹھ کر چلاگیا۔ اور اس کے بعد عشرت حسین صاحب نے مقدمہ کی سماعت کی۔
دیوبند میں افواہ ہے کہ دارالعلوم دیوبند سے حضرت مولانا کو علاحدہ کیا؛ بلکہ اس کے علاوہ جتنے مدرسین اور طلبہ مولانا کے ہم خیال ہیں، سب کو علاحدہ کیا جائے۔ اب مجسٹریٹ کی اس گفتگو میں بھی اس کی جھلک موجود ہے کہ وہ اپنے خیالات پر قائم رہیں گے، تو ان کو اپنی تنخواہ چھوڑنی پڑے گی، یعنی دارالعلوم کی پرنسپلی سے ان کو علاحدہ کردیا جائے گا۔ امید ہے کہ ادارہ اہتمام اس افواہ کی تردید کرے گا، اگر اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔“ (الجمعیۃ 20اگست1932)
دارالعلوم کی علاحدگی کے تعلق سے اس افواہ کے متعلق حضرت مولانا کے ایک خط سے بھی تائید ہوتی ہے۔
”مجھ کو تعلیمی مشاغل سے فرصت نہیں ملتی، ادھردہلی جانا بخوف نوٹس غیر مناسب معلوم ہوتا ہے، حسب پروگرام وقت پر قانون شکنی کے لیے جانا ہوجائے گا۔ تلامذہ کی تعلیم کے لیے دوسرے اساتذہ موجود ہیں۔ کسی کے تڑپنے کی ان شاء اللہ نوبت نہ آئے گی۔ مولانا عبد الحلیم صاحب کو دو سال کی مہمانی کا شرف حاصل ہوگیا۔ کچھ بعید نہیں کہ کارکنان دارالعلوم دیوبند اس مرتبہ کی مہمانی جیل کے بعد میرا تعلق ہی دارالعلوم سے قطع کردیں۔ جہاں تک سنا جاتا ہے لوگ اس فکر میں ہیں کہ کسی طرح اس کا پاپ کٹے۔ واللہ اعلم۔ خیر اللہ تعالیٰ جو کچھ بہتر ہو اس کو ظاہر فرمائے، آمین۔ والسلام 17ربیع الاول1351ھ۔ ننگ اسلاف حسین احمد غفر لہ۔“ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری جلددم، ص/585)
رہائی کے ساتھ نوٹس
آپ کو 7اگست 1932کو سہارنپور جیل سے ایک نوٹس کے ساتھ رہا کردیا گیا۔
”۷/ اگست کو حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی ڈکٹیٹر ششم جمعیت علمائے ہند بعد دوپہر 2بجے یکایک رہا کردیے گئے۔ مقدمہ کی کارروائی سننے کے لیے لوگوں کا ایک جم غفیر جیل کے دروازہ پر جمع ہوگیا تھا۔ رہائی کے بعد ہی مولانا موصوف کو ایک نوٹس دیا گیا، جس میں آپ کو ہدایت کی گئی ہے کہ آپ ایک ماہ تک دہلی تشریف نہ لے جائیں۔“ (الجمعیۃ 28اگست1932)
آپ کو گرفتار کرنے کے بعد تیسرے دن ہی رہا کردیا گیا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: