مضامین

ڈکٹیٹر چہارم جمعیت علمائے ہند: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر(19)

محمد یاسین جہازی

حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب کی گرفتاری کے بعد حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاری ڈکٹیٹر چہارم مقرر ہوئے۔
”جمعیت علمائے ہند کے تیسرے ڈکٹیٹر حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حفظ الرحمان صاحب نے 24اپریل کو اپنی گرفتاری کے وقت حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاری کو اپنا قائم مقام نامزد کیا۔“ (الجمعیۃ 28اپریل1932)
آپ نے ڈکٹیٹر بنتے ہی سول نافرمانی کی عملی جدوجہد شروع کردی۔ چنانچہ آپ نے ممانعت کے باوجود 29اپریل 1932کو جامع مسجد دہلی میں پرجوش خطاب کیا۔ اور حالات حاضرہ پر روشنی ڈالی۔
”دہلی29اپریل۔ آج بعد نماز جمعہ جامع مسجد دہلی میں مسلمانوں کا ایک جلسہ عام منعقد ہوا، جس میں حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاری ڈکٹیٹر چہارم جمعیت علمائے ہند نے حالات حاضرہ پر تقریر فرمائی۔ ممدوح کی تقریر کے بعد دو قرار دادیں بھی منظور کی گئیں۔ جن میں ایک قرارداد میں حضرت مولانا بشیر احمد صاحب کو سی کلادیے جانے پر احتجاج کیا گیا اور دوسری میں حضرت مولانا ابوالقاسم حفظ الرحمان صاحب ڈکٹیٹر سوئم جمعیت علمائے ہند کو ان کی گرفتاری پر مبارک باد پیش کی گئی۔“ (الجمعیۃ یکم مئی 1932)
ڈکٹیٹر چہارم کو نوٹس
آپ کی سیاسی گرمیوں کی وجہ سے آپ کو نوٹس دیتے ہوئے کہا گیا کہ آپ چوبیس گھنٹے کے اندر دہلی کو چھوڑ دیں، لیکن آپ نے حکم ماننے سے انکار کردیا۔
”دہلی6مئی1932۔ آج شب کے دس بجے سید اقبال شاہ صاحب نے انسپکٹر انچارج تھانہ فیض بازار معہ پولیس نے دفتر جمعیت علمائے ہند کے چوتھے ڈکٹیٹر حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاری کو چیف کمشنر دہلی کا نوٹس دیا، جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔
نوٹس
چوں کہ چیف کمشنر دہلی کو اس امر کا اطمینان ہے کہ آپ مولوی نور الدین صاحب بہاری کے خلاف امرجنسی پاور آر ڈی نینس ۲، 1932کی دفعہ ۴(ا) کے ماتحت کارروائی کرنے کے کافی وجوہ موجود ہیں، اس لیے آپ کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ آپ اس نوٹس کو وصول ہونے کے بعد چوبیس گھنٹے کے اندر صوبہ دہلی سے چلے جائیں اور پھر واپس نہ آئیں۔ یہ حکم کسی آئندہ نوٹس تک یا آر ڈی نینس کے اختتام تک قائم رہے گا۔ اس حکم کی خلاف ورزی پر آر ڈی نینس کی دفعہ 21کے ماتحت دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہیں۔
حضرت مولانا نے نوٹس کی تعمیل سے انکار کیا، اس لیے پولیس دفتر جمعیت علمائے ہند کے دروازہ پر نوٹس چسپاں کرکے چلی گئی۔“ (الجمعیۃ9مئی 1932)
چوتھے ڈکٹیٹر کی گرفتاری
آپ کو 11مئی بروز جمعہ 1932کو اجلاس عام میں تقریر اور جلوس کی قیادت کرنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا۔
”دہلی 12مئی۔ چوں کہ کل جمعہ کو جمعیت علمائے ہند کے پروگرام کے بموجب آر ڈی نینس ڈے منایا جانے والا تھا، اس لیے صبح سے ہی پولیس سرگرمی سے انتظامات میں مصروف تھی۔ حوض قاضی، چاوڑی بازار اور گھنٹہ گھر پر پولیس کا خاص انتظام تھا۔ سردار عبد الصمد خاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پولیس کے دیگر افسران کوتوالی میں موجود تھے۔ نماز جمعہ کے بعد جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام جامع مسجد میں مسلمانان دہلی کا ایک عام جلسہ منعقد ہوا۔ جس میں حضرت مولانا مولوی نور الدین صاحب بہاری ڈکٹیٹر چہارم جمعیت علمائے ہند نے تقریر فرمائی۔ دو بجے کے بعد جامع مسجد سے ایک جلوس مرتب کیا گیا، جس کے آگے اسلامی پرچم لہرارہا تھا۔ اس جلوس کی رہنمائی خود مولانا نور الدین صاحب نے فرمائی۔ جلوس کے ہمراہ ہزاروں کا مجمع تھا، جو اللہ اکبر کے نعرے لگاتا ہوا چاوڑی بازار کی طرف بڑھا۔ جلوس نئی سڑک سے ہوتا ہوا گھنٹہ گھر پہنچا۔ پولیس نے کوئی مداخلت نہیں کی۔ اس کے بعد جلوس فتح پوری، کھاری باولی، اور نیا بانس ہوتا ہوا فراشخانہ پہنچا، جہاں مولانا مولوی نور الدین صاحب نے اونچی جگہ کھڑے ہوکر تقریر شروع کی۔ سردار عبد الصمد خاں صاحب ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے موقع پر پہنچ کر مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ انقلابی نعرے بند کردے، تو اس سے کوئی تعرض نہیں کیا جائے گا؛ لیکن جلوس والے نعرے بلند کرتے رہے اور پولیس نے مولانا نور الدین صاحب اور ایک علم بردار کو گرفتار کرلیا۔
مولانا کی گرفتاری کے بعد جلوس نعرے لگاتا ہوا، لال کنواں، گلی قاسم جان اور بلیماران سے گھنٹہ گھر پہنچا، جہاں ایک مختصر جلسہ کیا گیا۔ جس میں مولانا موصوف کی خدمت میں ان کی گرفتاری پر مبارک باد پیش کی گئی۔ آج کی ہڑتال کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ یہ جلوس چاندنی چوک، دریبہ کلاں سے جامع مسجد پہنچا، جہاں وہ خود منتشر ہوگیا۔“ (الجمعیۃ 16مئی 1932)
دہلی سے ملتان جیل میں
مولانا نور الدین صاحب کو قید کرکے پہلے دہلی جیل میں رکھا، بعد میں 4جون 1932کو ملتان جیل منتقل کردیا گیا۔
”دہلی۔5جون۔ کل نو بجے شب کو جناب مولانا نور الدین صاحب ڈکٹیٹر چہارم جمعیت علمائے ہند، دہلی جیل سے ملتان جیل تبدیل کردیے گئے۔ مولانا موصوف کے اعزا و احباب پتہ ذیل پر خطوط بھیج سکتے ہیں، جو ان کو روزانہ مل سکتے ہیں، لیکن مولانا پندرہ روز میں صرف ایک خط لکھ سکیں گے۔
مولانا نور الدین صاحب بہاری سیاسی اسیر، بی کلاس سنٹرل جیل ملتان۔“ (الجمعیۃ9جون 1932)
رہائی
……

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: