مضامین

ڈکٹیٹر ہفتم جمعیت علمائے ہند:جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر (22)

محمد یاسین جہازی

”حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ڈکٹیٹر ہفتم جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان اخبارات کو بغرض اشاعت بھیجا ہے، جس میں فرمایاہے کہ حکومت نے بطل حریت مجاہد ملت شیخ الحدیث حضرت علامہ حسین احمد مدنی صدر مدرس دارالعلوم دیوبند ڈکٹیٹر ششم جمعیت علمائے ہند کو گرفتار کرکے اپنی کوتاہ اندیشی کا نہایت افسوس ناک مظاہرہ کیا ہے اور اپنی اس غیر دانشمندانہ حرکت سے دنیائے اسلام کے ان ہزاروں فرزندان توحید کے قلوب مجروح کردیے ہیں، جو علامہ موصوف کے حلقہ تلمذ میں داخل ہوکر مختلف مقامات پر لاکھوں مسلمانوں کی مذہبی و ملکی رہنمائی فرمارہے ہیں۔ حضرت مولانا نے ان حالات میں ہر فرزنداسلام بالخصوص ہر مذہبی ادارہ کا یہ فرض بتایا ہے کہ وہ بے خوف ہوکر اعلائے کلمۃ الحق کے لیے آمادہ ہوجائے۔“ (الجمعیۃ 16اگست1932)
فرقہ وارانہ مسئلہ کا فیصلہ اپنی قوت سے ہوگا
مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ڈکٹیٹر ہفتم جمعیت علمائے ہند نے درج ذیل اعلان کیا:
”جن لوگوں نے اپنی قسمت کا فیصلہ برطانیہ کے سپرد کردیا ہے اور وہ اب تک منتظر تھے کہ ان کی منہ مانگی مراد دی جائے گی، اور اسی توقع پر انھوں نے ہندستان کی تحریک آزادی میں کوئی حصہ نہیں لیا تھا، یقینا انھیں یہ حق پہنچتا ہے کہ اگر ان کو اب مایوسی ہورہی ہے تو وہ برطانیہ کے خلاف اعلان جہاد کردیں، یا پھر کامل وفا شعاری کا ثبوت دیتے ہوئے جو کچھ بخشش ہو، اس کو شکریہ کے ساتھ قبول کریں۔
لیکن یہ حق تو انھیں کسی طرح نہیں پہنچتا ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے الجھ کر ملک کی فضا کو مکدر و خراب کریں۔ یہ کیا ستم ظریقی ہے کہ ناانصافی انگریز کریں اور سرپھٹول آپس میں کی جائے۔
سب سے زیادہ حیرت خالصہ جی کے رویہ پر ہے کہ جن کو صرف پنجاب میں مسلمانوں کی معمولی اکثریت پر مسلم راج کا تصور حواس باختہ کیے ہوئے ہے اور وہ اس کو برداشت نہیں کرسکتے۔، لیکن انھیں انگریزی راج پسند ہے۔ اس سلسلہ میں جس قدر باتیں وہ کہہ رہے ہیں، وہ عقل و دانش سے کوسوں دور ہیں۔ اگر وہ بہادر ہیں، تو سب سے پہلے انھیں انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے میں سب سے زیادہ قربانی کرنی چاہیے؛ مگر آج تک کسی ہندستانی نے نہیں سنا کہ انھوں نے انگریزی راج سے نجات حاصل کرنے کے لیے حلف اٹھایا ہو۔ کاش خالصہ جی وطنی تحریک میں حصہ لے کر اپنی بہادری کی داد دیتے، تو ان کے شایان شان تھا۔ اسی طرح ہم پنے مسلمان بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ان کے حقوق ان کے قدموں کے نیچے ہیں۔ آج تک جو حضرات انگریزی فیصلہ کے منتظر تھے، نہ معلوم وہ اب تک 17تاریخ کے انتظار میں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں، جب کہ اس کے بعد بھی کسی انتظار کی ضرورت باقی رہتی ہے؟
بہرحال اگر انتظار کرنا ہے تو کرلیجیے، اب ایک دن باقی ہے؛ مگر خدارا اپنی قوت اور اللہ تعالیٰ کی توفیق و نصرت پر اعتماد کیجیے۔ مسلمانوں کو تمام دنیا کی مادی طاقتوں سے بے نیاز ہوکر حق کی راہ میں گامزن ہونا چاہیے۔ لیکن ہمیں اندیشہ ہے کہ جن لوگوں نے ہماری ملت کے بہت سے افراد کو بے حس و حرکت بنادیا ہے، وہ پھر کوئی فریب کا رانہ چال چل کر گمراہ کریں گے۔ اور سب سے زیادہ پر فریب چال یہ ہوگی کہ ہر 21تاریخ کو اعلان کیا جائے گا کہ ہر کونسلوں اور اسمبلی کی تمام سیٹوں پر قبضہ کرکے مزاحمت کی پالیس اختیار کرکے حکومت کو پریشان اور دستور کو ناکامیاب کیا جائے۔ اور اس مقصد کے لیے دورہ کا پروگرام بنے گا، جس کا مقصد یہ ہوگا کہ گدے دار کرسیوں پر بدستور قبضہ رہے اور آخر کار پھر تعاون کی پالیسی جاری ہوجائے، اس لیے میں تمام مسلمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر یہ لوگ انگریزی حکومت کے مقابلہ میں براہ راست عملی جدوجہد کرنے کے بجائے اس قسم کی پر فریب چال چلیں تو ان سب سے اپنی کامل برات وبیزاری کا اظہار کریں، کیوں کہ اس کے بعد تو ہر احمق سے احمق شخص کو یقین رکھنا چاہیے کہ یہ لوگ انگریزوں کے مقابلہ میں جدوجہد کرنے اور مصائب برداشت کرنے کی ہمت ہی نہیں رکھتے۔“ (الجمعیۃ 20اگست1932)
ساتویں ڈکٹیٹر کا دوسرا بیان
”وزیر اعظم برطانیہ نے فرقہ وارانہ حقوق کا جو اعلان کیا ہے، اس پر بحالت موجودہ کوئی تبصرہ کرنا محض بے سود ہے؛ کیوں کہ برطانیہ اور ہندستان کے مابین جنگ جاری ہے۔ ہندستان کے تقریبا تمام رہنما جیلوں میں بند ہیں، یا اسیری نے ان کی صحتوں کو خراب کردیا ہے، جن کی رایوں کے شمول کے بغیر دستور ہند کا ایک شوشہ بھی ناقابل التفات ہے؛ مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر قوم کے فرقہ پرست اس ناقابل التفات اعلان کی بنا پر گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ اور مجھے اندیشہ ہے کہ اس لایعنی بحث میں الجھ کر قوم کو حقیقی نصب العین سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی۔ خاص کر سکھوں اور ہندوں کے اکثر افراد اپنی جبلی عادت کے موافق بہت زیادہ گمراہی پھیلاتے ہوئے انگریزوں کی غلامی کی دعوت دے رہے ہیں،جو انگریزوں کی سب سے بڑی خدمت اور ملک کے ساتھ انتہائی غداری ہے، اس لیے اس وقت میں چند حقائق کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں۔
(۱) ہندستان جس چیز کے لیے بے چین ہے اور جس مقصد کے لیے برطانوی حکومت سے جنگ کر رہا ہے، وہ کونسلوں کی سیٹیں نہیں ہیں؛ بلکہ برطانیہ کے جابرانہ اقتدار کا خاتمہ اور مالیا ت و فوج اور سیاست خارجہ پر ہندستان کا قبضہ ہے۔ او رعوام کی حکومت کا قیام ہے۔ اگر یہ چیزیں حاصل نہیں ہوتی ہیں، تو کونسلوں کی نیابت بے نتیجہ ہے۔ ملک و ملت کو ایسی نیابت سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا اور غلامی کی لعنت بدستور قائم رہے گی۔ غربا زیادہ تباہ و برباد ہوجائیں گے۔
(۲) اقلیتیں اور خصوصا مسلمان اپنے مفاد کی حفاظت کے لیے جن امور کو ضروری سمجھتے ہیں، وہ صرف صوبجاتی کونسلوں کی نیابت پر منحصر نہیں ہے، اس لیے صرف نیابت کے اعلان کو فرقہ وارانہ حقوق کا نام دینا انتہا درجہ کی ستم ظریقی ہے اور ہندستانیوں کو محض احمق بنانا ہے۔
(۳) اس اعلان سے ظاہر ہے کہ پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو کی پالیسی کو مزید تقویت پہنچائی گئی ہے۔ 1920کے ریفارم میں ہندووں سے سکھوں کو علاحدہ کیاگیا، اور اب مزید ٹکڑے کیے جارہے ہیں۔ اچھوت پست قوم دیسی عیسائی اینگلو انڈین یوروپین کو غیر مسلموں کے حلقہ سے نکال کر اب جداگانہ انتخاب سے علاحدہ علاحدہ نمائندگی اسی مقصد سے دی جارہی ہے، تاکہ آئندہ وہ اس استحقاق کی بنا پر ایک مستقل حیثیت حاصل کرلیں اور اس فرقہ بندی کی بنا پر انگریزوں کی ثالثی کی ضرورت کو ہمیشہ کے لیے قائم رکھا جائے۔
(۴) مجوزہ فرقہ وارانہ نمائندگی کی تقسیم بھی کسی ایک صحیح اصول پر مبنی نہیں ہے، نہ مذہبی تقسیم صحیح ہے اور نہ سیاسی۔ مثلا مذہبی تقسیم میں دیسی عیسائی اور اینگلو انڈین اور یوروپین کو ایک فرقہ میں شمار ہونا چاہیے تھا، مگر تین ٹکڑے کرکے آبادی سے زائد نیابت دے کر انگریزی حکومت کا ستون مضبوط کیا گیا ہے۔
سیاسی تقسیم میں مخصوص مفاد کے لحاظ سے صنعت و حرفت، تعلیم، زمین داری ضروری کے لیے علاحدہ علاحدہ نیابت کردی گئی ہے، حالاں کہ ان طبقوں کے لوگ بھی کسی نہ کسی مذہبی فرقہ سے وابستہ ہیں، اس لیے مذہبی تقسیم کے بعد یہ تقسیم نہایت لغو اور بے کار ہے۔ اور اگر تعلیمی اور اقتصادی مفاد کا لحاظ کرکے مخصوص نیابت کی ضرورت سمجھی گئی ہے، تو پھر اس حیثیت سے کاشتکاروں کی مخصوص نیابت کا انتظام کیوں نہیں کیا گیا، جس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی، کیوں کہ ملک کی 74فی صدی آبادی کاشتکاری سے وابستہ ہے اور نہایت قابل رحم ہے؛ مگر اس کا کچھ خیال نہیں کیا گیا ہے، جس سے ظاہر ہے کہ اصل مقصد یہ ہے کہ صنعت و حرفت کے بہانے سے یوروپینوں کو زیادہ سیٹیں ملیں۔ چنانچہ خود وزیر اعظم کے اعلان سے ظاہر ہے کہ تمام صوبجات میں اس طبقہ کو جس قدر سیٹیں دی گئی ہیں، ان میں تقریبا 60فی صدی یوروپینوں کو ملیں گی۔
(۵) حکومت کے مجوزہ اعلان میں مسلمان بنگال اور پنجاب کی نہ صرف قدرتی ترقی کو روک دیا گیا ہے؛ بلکہ موجودہ قلیل اکثریت کو اقلیت سے بدل دیا گیا ہے۔ مسلمانان پنجاب کی عملی اکثریت کا جو لوگ وظیفہ پڑھ رہے ہیں، وہ محض وہمی ہے۔ اور محض قلیل وناقابل التفات ہے۔ اگر مخلوط حلقوں سے مسلمان تین سیٹیں حاصل کرلیں، تو پورے ہاوس میں ان کی نسبت 50/8فی صدی ہوگی، حالاں کہ ان کی آبادی 56فی صدی سے زیادہ ہے۔ اور اگر وہ حاصل کرسکے تو 50/5فی صدی کی نسبت حاصل ہوگی۔ اور اگر ایک ہی حاصل کی، جس کے حصول کا اغلب قرینہ ہے، تو اقلیت میں ہوجائیں گے، جب تک وہ مجوزہ مخلوط حلقوں سے چار سیٹیں حاصل نہیں کرتے۔ اس وقت تک 51فی صدی تک بھی ان کی رسائی ناممکن ہے۔ اور اگر حاصل ہی ہوجائے تو اتنی قلیل اکثریت جداگانہ جداگانہ انتخاب سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ نہ معلوم 53-52 فی صدی کا حساب کس طرح لوگ لگارہے ہیں۔ بنگال کے مسلمانوں کو یوروپینیوں کے ہاتھ فروخت کردیا گیا ہے اور انھیں مجبور کردیا گیا ہے کہ وہ ہمیشہ کے لیے پستی میں رہیں اور انگریزوں کی غلامی کرتے رہیں۔
(۶) مجوزہ فیصلہ میں کس قدر ظلم ہے کہ ہر صوبہ کی کونسل میں سرمایہ داروں کو مزدوروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ نشستیں دی گئی ہیں، کہیں تین گنی اور کہیں دوگنی۔ کیا اس طریقہ سے جمہوریت کی حکومت کبھی قائم ہوسکتی ہے۔
(۷) مدارس، صوبہ متحدہ، بہارو اڑیسہ، صوبہ متوسط کے مسلمانوں کو مجوزہ فیصلہ میں میثاق لکھنو سے بھی کم نیابت دی گئی ہے۔ ان چند حقائق کے انکشاف کے بعد کون ہندستانی ہوگا، جو اس ذلیل فیصلہ کی کسی درجہ میں بھی حمایت کرے گا۔ بلاشبہ قابل اطمینان فیصلہ تو وہی ہوسکتا ہے، جس کو ہندستانی قومیں باہمی مشورہ سے خود طے کریں۔ مجھے امید ہے کہ ان حقائق کے انکشاف کے بعد سب لوگوں کو ہوش آجائے گا۔ اوراب آئندہ عقل و ہوش سے کام لے کر خود زندہ رہو اور دوسروں کو زندہ رہنے کے زریں اصول پر کاربند ہوکر کوئی متفقہ فیصلہ کریں گے۔ لیکن میں اس وقت ان سکھوں، ہندووں اور مسلمانوں سے جو اس کے حسن و قبح پر بحث کرکے وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اور محض اپنے فرقہ وارانہ حقوق کے لیے جنگ کی تیاریاں یا ارادہ کر رہے ہیں، یہ درخواست کرتا ہوں کہ وہ سردست اس قصہ کو تہہ کرکے رکھ دیں۔ اور حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ صاف صاف اعلان کردے کہ حقیقی فیڈریشن، صوبجات کی کامل خود مختاری، و مالیات و فوج و ریاست خارجہ کے متعلق کیا ارادہ ہے، عارضی تحفظات اور کچھ مدت وغیرہ کے پر پیچ الفاظ کے …… حصہ کی ضرورت نہیں ہے۔
میں ہندستان کی عام ملتوں اور ہر سیاسی زعما سے درخواست کرتا ہوں کہ ہم لوگ متفقہ طور پر صرف اسی ایک امر کے لیے میدان عمل میں نکل آئیں اور ہر شخص اسے اپنا فرض سمجھیں۔“ (الجمعیۃ28اگست1932)
ڈکٹیٹر ہفتم کی گرفتاری
آپ کو 9ستمبر 1932، بروز جمعہ جامع مسجد سے جلوس کی قیادت کے دوران گرفتار کیا گیا۔
”دہلی10ستمبر۔ کل چوں کہ آر ڈی نینس ڈے تھا اور اس کے ساتھ ساتھ یوم احترام مساجد بھی تھا، اس لیے دہلی کے مسلمانوں میں ایک خاص جوش نظر آتا تھااور جامع مسجد میں بھی نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔
بعد نماز جمعہ جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام جامع مسجد میں ایک جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند دہلی جو باوجود پولیس کی سخت نگرانی کے دہلی پہنچ گئے تھے، صدر منتخب کیے گئے۔
چند پرجوش نظموں کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب نے واقعات حاضرہ پر ایک نہایت مفصل و مبسوط تقریر ارشاد فرمائی۔ وزیر اعظم کے فرقہ وارانہ اعلان اور مسلم کانفرنس کے طرز عمل کو بالوضاحت بیان فرمایا۔ احترام مساجد کے متعلق شرعی نکات بیان فرمائے اور چیف کمشنر کی چٹھی و نیز جامع مسجد کی منیجنگ کمیٹی کے رویہ پر تبصرہ فرماتے ہوئے مولانا نے فرمایا کہ جب چیف کمشنر نے اپنے بیان میں یہ ظاہر کردیا ہے کہ جامع مسجد کمیٹی سے یہ دریافت کیا گیا تھا کہ حکومت اس کو ایسی کیا امداد دے سکتی ہے، جس سے وہ ان سیاسی جلسوں کو جامع مسجد میں ہونے سے روکے، جن کی وجہ سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ تو اب وہ چٹھی پرائیویٹ کب رہی اور بالخصوص جب کہ جلسہ شوری بھی اس چٹھی کی بنا پر طلب کیا گیا، تو پھر چٹھی شائع کرنے سے منیجنگ کمیٹی کیوں گریز کرتی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بات کچھ اور ہی ہے۔ حضرت مولانا کی تقریر تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ اس کے بعد حضرت مولانا نے چند تجاویز پیش کیں، جو باتفاق رائے منظور کی گئیں۔
پہلی تجویز: مسلمانان دہلی کا یہ پبلک جلسہ حکومت اور اس کی خود ساختہ کمیٹی کے اس طرز عمل کو جو اس نے احترام مساجد اور معاہدہ 1862کے پردہ میں جامع مسجد کی آزادی کو سلب کرنے کے متعلق اختیار کیا، مذہبی مداخلت قرار دیتے ہوئے انتہائی نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اور حکومت پر اس امر کو واضح کردینا چاہتا ہے کہ اگر اس نے یا اس کی کسی خود ساختہ کمیٹی نے عملا کسی ایسے امر کا ارتکاب کیا، تو اس کے نتائج کی تمام ذمہ داری حکومت اور اس کی خود ساختہ کمیٹی پر عائد ہوگی۔
دوسری تجویز میں جناب مولانا محمد میاں صاحب ناظم جمعیت علمائے مرادآباد کی گرفتاری پرجو گذشتہ جمعہ کو گرفتار کیے گئے تھے، جناب موصوف کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کیا گیا۔
ڈکٹیٹر ہفتم جمعیت علما کی گرفتاری
تیسری تجویز میں مولانا صغیر احمد اور مولانا منت اللہ و نیز ان کے چھ رفقا کو ان کی گرفتاری پر مبارک بادی دی گئی اور جن حضرات کو دہلی سے خارج البلد کیا گیا ہے، ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا گیا۔
اس کے بعد حضرت مولانا کی قیادت میں جامع مسجد سے ایک جلوس نکلا، جس میں آگے جمعیت علمائے ہند کا جھنڈا، اس کے پیچھے ایک شاندار موٹو تھا، جس پر ”مساجد آزاد ہیں اور آزاد رہیں گی“ لکھا ہوا تھا۔
اس کے بعد رضا کار جمعیت کا بیج ڈالے ہوئے قطار میں تھے، ان کے پیچھے پبلک کا بہت زبردست ہجوم تھا، جلوس جامع مسجد سے لال کنواں کی طرف مختلف نعرے لگاتا ہوا روانہ ہوا اور پولیس کی ایک بھاری جمعیت مع سٹی مجسٹریٹ کے جلوس کے ساتھ روانہ ہوئی۔ جس وقت جلوس بڑشاہ والا پر پہنچا، تو سٹی مجسٹریٹ نے حضرت مولانا کو بلایا اور پبلک میں جوش بڑھ گیا۔ اس پر حضرت مولانا نے رضاکاروں اور پبلک کو بیٹھ جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ مجمع فورا بیٹھ گیا۔ اس کے بعد مولانا نے مجمع کو ہدایت فرمائی کہ مجھے گرفتار ہوجانے دیجیے اور اگر آپ کو مجھ سے محبت ہے، تو میرے کام کو جاری رکھیے۔ اس مختصر تقریر کے بعد مجمع میں کچھ سکون ہوا اور حضرت مولانا بخندہ پیشانی پولیس لاری میں اللہ اکبر کے نعروں کے درمیان سوار ہوگئے۔ اس کے بعد جلوس فتحپوری کو روانہ ہوگیا۔ کئی جگہ پولیس نے جلوس منتشر کرنے کی معمولی کوشش بھی کی؛ لیکن جلوس اپنی ترتیب پر مسجد فتح پوری میں پہنچ گیا اور شرکائے جلوس نے جلسہ کیا، جس میں پرجوش تقریروں کے بعد حضرت مولانا کی گرفتاری پر ہدیہ تبریک پیش کیا گیااور جلسہ و جلوس دونوں کو منتشر کردیا گیا۔“ (الجمعیۃ 13ستمبر1932)
رہائی
……

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: