مضامین

کامیابی حاصل کرنے کے لیے احتجاج کے ساتھ یہ بھی ضروری

محمد یاسین جہازی

مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ دین و دنیا کے ہر مسائل کا حل نبوی فارمولے میں موجود ہے۔ اسی نظریہ کے تحت آئیے موجودہ احتجاج میں کامیابی پانے کے لیے سیرت نبوی سے روشنی حاصل کرتے ہیں۔
اسلام کی پہلی جنگ، جنگ بدر ہے۔ اس جنگ کو حق و باطل کا فیصلہ کن معرکہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں نبی اکرم ﷺ نے اپنی قلت تعداد کے باوجود جنگ جیت لی۔ اس کی کیا وجہ تھی۔ وجہ یہ تھی کہ سرور کائنات ﷺ نے دو حکمت عملی اختیار کی تھی۔
پہلی حکمت عملی یہ تھی، جو لوگ میدان جنگ میں ساتھ تھے، گرچہ وہ تعداد میں تھوڑے تھے، لیکن ان کا مقصد صرف اور صرف کامیابی حاصل کرنا تھا، خواہ فتح کی شکل میں ہو یا شہادت کی شکل میں۔ اس کے علاوہ جان بچانا یا ہار کر میدان جنگ چھوڑنا ان کا دوسرا آپشن تھا ہی نہیں۔
اور دوسری حکمت عملی یہ تھی کہ انھوں نے دنیاوی تدابیر یا سازو سامان پر بھروسہ کرنے کے بجائے خالق کائنات پر بھروسہ کرتے ہوئے فتح کا کامل یقین پیدا کیا اور اللہ سے لو لگاتے ہوئے اس عقیدے کے ساتھ رن میں اترے کہ جس کے دین کی سربلندی کے لیے ہم میدان جنگ میں اترے ہیں، وہ ہمیں بے سہارا نہیں چھوڑ سکتا، اس لیے اس کی مدد طلب کرنے کے لیے سرورکائنات ﷺ نے نہایت الحاح و زاری کے ساتھ دعا کی کہ ائے بار الٰہ! اگر اس مختصر سی جماعت کو فتح نہیں دی تو قیامت تک تیری وحدانیت کے گیت گانے والا کوئی نہیں ہوگا۔
مختصر لفظوں میں یہ کہاجاسکتا ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے ایک طرف جہاں واحد مقصد کا تعین فرمایا اور تذبذب کا کوئی دوسرا آپشن نہیں رکھا، وہیں دوسری طرف خدائی مدد کا مکمل یقین پیدا کیا۔ لہذا اگر کسی بھی لڑائی میں جیت کو ہی یقینی بنانا ہے، تو سرور کائنات ﷺ کا یہ اسوہ اس کی جیت کے لیے ضامن ہے، بشرطیکہ لڑائی کے وقت یہی دونوں طریق کارکو حرز جاں بنالیا جائے۔
آج کل پورا بھارت سی اے اے اور این آر سی کے خلاف میدان جنگ بنا ہوا ہے۔ اس میدان کے مسلم مجاہدین سر بکف میدان عمل میں کود پڑے ہیں اور انھیں یہ یقین ہے کہ یہ لڑائی ہم جیت کر ہی رہیں گے، جو نبی اکرم ﷺ کے اصول فتح میں سے ایک ہے؛ البتہ نبی اکرم ﷺ کا جو دوسر اصول ہے، یعنی رجوع الیٰ اللہ، اس اعتبار سے کہیں نہ کہیں ہمارا رشتہ کمزور ہے۔ اور یاد رکھیے، جب تک ان دونوں اصول نبوی پرکاربند نہیں ہوں گے، تب تک لڑائی اتنی معنی خیز اور جیت اتنی جلدی حاصل نہیں ہوگی۔
تو آئیے آج؛ بلکہ ابھی سے یہ عزم کریں کہ سی اے اے کے خلاف مظاہروں میں کامل ارادت مندی سے شرکت کے ساتھ ساتھ مسجدوں کی جماعت میں بھی پابندی سے حاضری دیں گے اور رجوع الیٰ اللہ کے رشتہ کو مضبوط سے مضبوط تر بنانے کی کوشش تیز کردیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کامل اسوہ نبوی پر عمل کرنے کی توفیق ارزانی کرے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: