مضامین

کثرت شاہی کے دھوکے

سکاڑ مراٹھی ترجمہ و تلخیص: ایڈوکیٹ محمد بہاء الدین، ناندیڑ(مہاراشٹرا)

جمہوریت مختلف سماج پر مبنی ہوتی ہے، جس میں مخالفین کے رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ اُن کی اچھی تجویزوں کو اپنے کاروبار میں استعمال کرنا چاہیے۔ جس کے ذریعے ہی سیاسی کارندے آگے جاتے ہیں۔ لیکن حالیہ دنوں جمہوریت کے بجائے کثرت شاہی کی ساخت ونشوونما دیکھنے کو آرہی ہے۔جس میں مخالفین کے رائے و اظہار خیال کو حقارت سے دیکھا جانے لگا ہے۔ کسی بھی بات کو قبول نہ کرنے کی فطرت حکمرانوں میں پیدا ہوچکی ہے پھر وہ کسی جماعت کی کیوں نہ ہو۔ طاقت کی بناء پر چلا کرتے ہیں۔ اس قسم کی ذہنیت کا اظہار آندھراپردیش کے وزیر اعلیٰ جگ موہن ریڈی نے صرف اپنی اکثریت کے زور پر اپنی ہی ریاست کی ودھان پریشد کو ختم کرنے کی قرارداد کامیاب کرکے دکھایا ہے۔ دستور ساز اسمبلی ہو یا ریاستی اسمبلی جہاں سینئر ارکان کا بھی ایک ہاؤس ہوتا ہے۔ جس کے پیچھے ٹھوس حقیقت یہ ہوتی ہے کہ انتخابات کی سیاست میں نہ پڑنے والے ایسے خواہشمند لوگ جو منتخب ہونے کے طور طریقے سے واقف نہیں ہوتے لیکن ان میں دانشوران، ماہرین، اداکار کی صلاحیتوں کا فائدہ ہو اُن کے لیے یہ ہاؤس ہوتا ہے۔ اور تاکہ حکومت کی پالیسیوں کو قابو اور توازن میں رکھا جاسکے۔ لیکن پچھلے کچھ دہوں سے ریاستوں میں اقتدار کی تبدیلی بار بار ہونے لگی ہے اور ودھان سبھا کی اکثریت کے بل بوتے پر سرکار بنانے والی سیاسی جماعت جس کی ودھان پریشد میں اکثریت نہیں ہوتی ایسی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے۔ آندھرا میں بس یہی کچھ ہوا۔ درمیان میں جگن موہن ذہن میں یہ بات آئی کہ ریاست میں راجدھانی کا قیام کی طغلقی نظریہ آیا۔ ودھان سبھا میں وائی ایس آر کانگریس جماعت کی اکثریت ہے۔ اور جس کی بناء پر وہ قرارداد کو منظور کروایا۔ لیکن ودھان پریشد میں اُس کی جماعت اقلیت میں ہے۔ وہاں اگر کسی کا کہا مانا جاتا ہے تو وہ سابق وزیر اعلیٰ چندر بابو نائیڈو کی تیلگودیشم کا، جس کی وجہ سے اس قرارد اد کو ودھان سبھا نے نامنظور کیا۔ اس ضمن میں کچھ افہام و تفہیم کرنے کے بجائے ریڈی نے راست طور پر ودھان سبھا کو ہی برخواست کرنے کے فیصلہ کی منظوری دے ڈالی۔
اب اس فیصلہ کی منظوری و توثیق کی ضرورت پارلیمنٹ سے ہونی ہے۔ اُس کے سوا جگن موہن ریڈی کا جو معاملہ ہے وہ تکمیل نہیں ہوگا۔ یہ چونکہ حقیقت ہے تب بھی اُس نے اپنی پارلیمانی جمہوریت کے نئی روٗ سے نئی ذہنیت بتانا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے جمہوریت کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اقتدار کی تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ مخالفین نے جو سابق میں فیصلے لیے ہیں وہ سب سرد خانے میں ڈال دیئے جائیں۔ اس قسم کا رواج پچھلے کئی برسوں سے چلا آرہا ہے۔ صحیح جمہوریت کا جو نظم و نسق ہے اس میں اس بدلے کی سیاست کی توقع نہیں ہوتی۔ سیاسی لوگ خواہ وہ کسی بھی جماعت کے ہوں انہیں ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد و اتفاق اور سب کو شامل کرکے سیاست میں اُن کے فیصلوں کو مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ آج بھی مہاراشٹر، کرناٹک، بہار، تلنگانہ اور آندھرا ان چھ ریاستوں میں ودھان پریشد ہے۔ پچھلے پانچ سے سات دہوں میں یہ دوسرا ہاؤس ”ایوان“پنجاب، پچھم بنگال اور دیگر ریاستوں میں اسے ناکام کر ڈالا اور برخواست بھی کردیا۔ لیکن اب بھی تین ریاستوں میں اس قسم کی تجویز مرکز کی منظوری کے لیے تعطل میں پڑی ہے۔ جس میں آندھرا کا بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ قانون کی حمایت نہیں ملتی، اس لیے دستوری طور پر حاصل شدہ ایوانوں کو برخواست کرنا یہ ایک قسم کا بے نظیر فیصلہ ہے۔ مخالفین کا اس معاملہ میں اختلاف ہوتا ہے۔ راجیہ سبھا کے نام سے انہیں ذمہ دار ٹھہرانے والا ایک معاملہ ہے۔ اجتماعی طو رپر پارلیمانی سیاست و جمہوریت کے نظام میں یہ ایک بدشگون ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: