اہم خبریں

کرونا وائرس کو لے کر بسنت راءے بلاک میں بی ڈی او نے علماء کرام کی میٹنگ بلائی

گڈا جھارکھنڈ/محمد سفیان القاسمی

کرونا وائرس جنگل کی آگ کی طرح تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے، اپنے ملک میں بھی متاثرین کی تعداد دن بدن بڑھتی چلی جا رہی ہے اس کو لے کر جہاں عوام میں خوف و ہراس ہے وہیں انتظامی اہل کار بھی مستعد نظر آرہے ہیں، چونکہ مسلمانوں کا بڑا طبقہ علماء کرام کی باتوں کو زیادہ ترجیح دیتا ہے اسی کے پیش نظر بسنت راءے بلاک کے بی ڈی او شیکھر سومن نے علماء کرام کی ایک میٹنگ بلائی اور ان کے سامنے بات رکھی کہ سرکاری ہدایات اور میڈیا کی رپورٹوں کے باوجود لوگ اس کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں اور جس طرح احتیاط ہونا چاہئے وہ نہیں ہو رہا ہے، کئی مسجدوں میں اچانک پہنچنا ہوا تو وہاں کافی بھیڑ نظر آئی، اس کا کیسے حل نکالا جائے، جناب سومن نے کہا کہ ہمیں عوام کی جان کی زیادہ فکر ہے، اگر کچھ لوگ عمل نہیں کریں گے تو اس کا نقصان عام جنتا کو ہوگا اور کسی کی وجہ سے عام جنتا کی جان جائے تو یہ ناقابل برداشت ہے، انھوں نے کہا کہ سر دست جب اس کا کوئی علاج نہیں نکلا ہے تو اس کا علاج احتیاط ہی ہے، اگر لوگ احتیاط نہیں کریں گے تو مریضوں کی تعداد بڑھے گی اور اس کا نقصان عام لوگوں کو ہی ہوگا لہذا احتیاطی تدابیر پر عمل کیسے ہوگا اس پر غور کیا جائے،
مولانا مبارک قاسمی امام عیدگاہ بسنت راءے نے کہا کہ ہم مسجدوں میں نمازیوں کی تعداد محدود کرنے کی تاکید کر رہے ہیں اور مزید لوگوں سے اپیل کریں گے، جہازقطعہ کے مفتی سفیان قاسمی نے کہا کہ علاقے کے علماء کرام و مفتیان عظام نے متفقہ طور پر مسلمانوں سے اس بارے میں اپیل کی ہے کہ وہ ماہرین کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی طرح کی بھیڑ سے اجتناب کریں حتی کہ جماعت میں صرف اتنے لوگ ہوں جو قانونی اعتبار سے جرم بھی نہ ہو اور جماعت بھی ہو جائے یعنی تین یا چار آدمی شریک ہوں باقی لوگ گھروں پر نماز ادا کریں مفتی صاحب نے کہا کہ علماء کرام نے لوگوں سے یہ بھی اپیل کی تھی کہ یہ احتیاط صرف سرکاری قانون کی وجہ سے نہیں بلکہ شرعی ضرورت کی وجہ سے بھی لازمی ہے کیونکہ شریعت میں جان کا تحفظ سب سے مقدم ہے، مولانا یونس کیتھ پورہ نے یومیہ مزدوری کرنے والوں کا مسئلہ اٹھایا، اس پر بی ڈی نے کہا کہ حقیقی ضرورت مندوں کی فہرست ہم تک پہنچائی جائے ہم ان کو ہر ممکن سہولت فراہم کریں گے، بھٹہ کے مولانا عبد الجبار رضوی نے بھی اپنی بات رکھی، میٹنگ میں کہا گیا کہ علماء کرام بیداری کے تعلق سے انتظامیہ کا تعاون کریں، چنانچہ علماء کرام نے کہا کہ ہم تعاون کے لئے تیار ہیں اور ہم عوامی بیداری کے لئے مزید اقدامات کریں گے، بی ڈی او جناب شیکھر سومن نے لوگوں سے اپیل کی وہ اپنے اپنے گھروں میں رہیں کسی بھی طرح کی بھیڑ سے بچیں یہ ان کے لیے بہتر ہوگا، ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ کہ گاؤں گاؤں میں مائیکنگ کے ذریعے بھی لوگوں کو آگاہ کیا جایے گا اس کے باوجود لوگ احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کریں گے تو ان پر قانونی کارروائی ہوگی، اور مسجد کے ذمہ داروں کی گرفت ہوگی، میٹنگ میں ان کے علاوہ اور بھی کئی لوگ شریک تھے، اخیر میں بلاک آفس کے کلرک شمس تبریز عالم جو دگھی بستی سے تعلق رکھتے ہیں انھوں نے تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: