مضامین

کس نے تمہیں سکھایا ہرآن یہ گالی دینا

از قلم : *محمد ہاشم اعظمی مصباحی نوادہ مبارکپور اعظم گڈھ یو پی

لغت کے مطابق گالی بدزبانی اور فحش گوئی کو کہتے ہیں کسی بھی زبان کا بے ہودہ،غلط اور ناجائز استعمال خواہ کسی بھی شکل میں ہو”گالی کہلاتا“ہے گالی ، نا شائستہ ، نازیبا ، سخت ، کڑوے، کسیلے الفاظ کا وہ قبیح مجموعہ ہے جو کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے بولا جاتا ہے یہ ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے یہ پیمائش کی جا سکتی ہےکہ سماج یا معاشرے کے افراد کتنے تہذیب یافتہ ہیں ؟ یوں تو ” گالی ” عموماً غصّے کی حالت میں وجود پذیر ہوتی ہے لیکن آج کل گالی نکالنا تو جیسے دلیری کی علامت ہے ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی پاۓ جاتے ہیں کہ بچے کی ولادت پر ایسا لگتا ہے کہ ان کے وہاں کان میں اذان کے بجائے گالی کی گھٹی دی جاتی ہو .ایک صاحب سے گالی بکنے کی وجہ دریافت کی تو موصوف گویا ہوئے ” گالیاں نکالنے کے بہت سے فوائد ہیں جیسے کسی پڑوسی سے جھگڑا ہو جائے اور وہ آپ سے تگڑا ہو تو یہی گالیاں ہیں جس پر اکتفا کر کے آپ بدلہ لے سکتے ہیں ورنہ لڑ کر کون ہڈی پسلی ایک کروائے یعنی جہاں بس نہ چلے وہاں گالی نکال لیں” اس حوالے سے گالی کو کمزور لوگوں کا ہتھیار سمجھا جاسکتا یے کیوں کہ کم تنخواہ دار طبقہ بچے اور گالیاں کثرت سے پیدا کرتے ہیں.
ایک مسلمان ہونے کے ناطے اسلام کا نعرہ لگانا اسلام کی خاطر مر مٹنا ہر مسلمان کا اولین فریضہ ہے اور ہونا بھی چاہیے لیکن کوئی سوال کرے کہ باتیں تو آپ اسلام کی کرتے ہیں مگر زبان شیطان کی استعمال کرتے ہیں۔ یہ کون سا اسلام ہے؟ یہ آپ کس نبی کے عاشق ہیں؟ اب آئیے گالی گلوج کے وبال کے تعلق سے چند احادیث بیان کیے دیتا ہوں شاید اس سے ایمان تازہ ہوجائے : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا “گناہ کبیرہ میں یہ بھی ہے کہ انسان اپنے والدین کو گالی دے”۔ صحابہ اکرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین نے عرض کیا “یا رسول اللہ ﷺ کیا کوئی اپنے والدین کو بھی گالی دے سکتا ہے؟” آپﷺ نے فرمایا کہ “ہاں ! وہ اس طرح کہ یہ کسی کے باپ کو گالی دے اور وہ جواب میں اس کے باپ کو گالی دے یہ کسی کی ماں کو گالی دے اور وہ جواب میں اسکی ماں کو گالی دے”( بخاری ، مسلم ) ہمارے معاشرے میں گالی دینا تو جیسے فیشن بن گیا ہے بات بات میں گالی ہنسی مذاق میں گالی اللہ اکبر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ “جس نے کسی کو مذاق میں بھی گالی دی اس ایک گالی کے بدلے اسکی قبر میں ایک بچھو پیدا ہوجاتا ہے” اور ایک موقع پر سرکارِ مدینہ ،قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: ’’ مسلمان کو گالی دینا خود کو ہلاکت میں ڈالنے کی طرح ہے۔‘‘رسول اکرم اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ [مسلم: 2587] یعنی ’’ دو گالی گلوچ کرنے والے جو کچھ بھی کہیں اس کا گناہ پہل کرنے والے پر ہے جب تک مظلوم زیادتی نہ کرے۔‘‘ اگر دونوں ہی ایک دوسرے پر جھوٹ باندھیں تو دونوں گناہ گار ہیں اگر چہ پہل کرنے والا پہل کرنے کا بھی مجرم ہے. حضرت عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’المستبان شیطانان یتہا تران ویتکاذبان‘‘ [صحیح ابن حبان: 5696] یعنی ’’ آپس میں گالی گلوچ کرنے والے دونوں شیطان ہیں کہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بد زبانی کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر جھوٹ باندھتے ہیں۔ ‘‘
یاد رکھئے! اسلام میں گالی گلوج کا کوئی تصور نہیں ہے لیکن ہمارے معاشرے کا ہر فرد نہ صرف یہ کہ گالی سے واقف ہے بلکہ معاشرہ کی اکثریت اِس کبیرہ گناہ کی مرتکب ہے۔ بوڑھے،بچّے،نوجوان عورتیں سب ہی اِس میں ملوّث ہیں۔بلکہ اب نوجوانوں کی کوئی محفل بغیر گالی کے مکمل نہیں ہوتی۔جھگڑوں میں گالی،مذاق میں گالی،خوشی میں گالی،ہوٹل پر گالی،دکان میں گالی،گھروں میں گالی،راستوں پر گالی اِس قدر گالیاں دی جاتی ہیں کہ اب شریف خواتین اور سنجیدہ افراد کا راستوں سے چلنا مشکل ہوگیا ہے۔بلکہ اِس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہورہا ہے کہ بڑے لوگوں کی گالیوں کو سن کر وہ بچّے جنہیں بات کرنے کا شعور تک نہیں ہے وہ بھی ہر دو جملوں میں گندی گندی گالیاں دے رہے ہیں۔گالی گلوج کے وبال اور نقصان کو ایک مثال کے ذریعہ سے یوں سمجھیں کہ ایک لوہار کی دکان میں ایک سانپ گھس گیا اُس کا جسم وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر ہلکا سا زخمی ہو گیا اس سانپ نے پلٹ کر پوری قُوت سے اس آری کو ڈس لیا جس کی وجہ سے اس کا مُنہ بھی زخمی ہوگیا اس نے غصے میں آ کر خود کو آری کے اِرد گِرد لپیٹ لیا اور اپنا دشمن سمجھ کر اسے دبانے لگا جس کی وجہ سے وہ خود ہی مرگیا۔
اس بے وقوف سانپ کی طرح غُصیلے افراد بھی بے وقوفانہ انداز اپناتے ہیں دوسروں کو تکلیف دیتے اور نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ذرا ذرا سی بات پر گالی پر گالی دیتے ہیں بعض لوگ تو اس قدر گالیوں کی دَلدَل میں دھنسے ہوئے ہیں کہ ہر چیز مثلاً گدھے ، گھوڑے ، بکرے وغیرہ جانوروں کو بھی گالیاں دیتے ہیں دیوار سے ٹکرا گئے تو اسے گالی دروازہ نہ کھلے تو اسے گالی گاڑی اسٹارٹ نہ ہو تو اسے گالی کال نہ لگے تو نیٹ ورک کو گالی الغرض ہر چیز کو اپنی گالیوں کا نشانہ بناتے ہیں۔ بات بات پر غصہ ہوکر گالیاں دینے والا شخص اس بے وقوف سانپ کی طرح اپنی موت آپ ہی مرجاتا ہے۔ یاد رکھئے! کسی مسلمان کو گالی دینا اُس کی عزّت اچھالنا گناہ کا کام ہے۔ اللہ پاک کے آخری نبی صلَّی اللہ علیہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا : سود 70گناہوں کا مجموعہ ہے اور ان میں سب سےکم یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ماں سے بدکاری کرے اور سود سے بڑھ کر گناہ کسی مسلمان کی بے عزتی کرنا ہے۔ (موسوعۃ ابن ابی الدنیا ، 7 / 124).
گالیاں دینے والا شخص اگر سیٹھ ہے تو اس کے ملازم ، شوہر ہے تو اس کی بیوی ، استاد ہے تو اس کے شاگرد اس سے ہمیشہ تنگ رہتے ہیں ، اگر عزت بھی کرتے ہیں تو صرف اپنے مقاصد کے حصول کے لئے یا پھر اس کے شر سے بچنے کے لئے اور جس کی عزت اس کے شَر سے بچنے کے لئے کی جائے حدیثِ پاک میں اسے بدترین آدمی کہا گیا ہے۔ (دیکھئے بخاری ، 4 / 134 ) گالیاں دینے والا بہت ہی بُرا شخص ہوتا ہے جیساکہ حدیث شریف میں ہے کہ “ سَبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ “ یعنی کسی مسلمان سے گالی گلوچ کرنا فِسْق ہے۔ (مشکاۃ المصابیح ، 2 / 190 ) گالی بکنے کی عادت کو منافقت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی کہا گیا ہے لہٰذا گالیاں بکنے والا ایک طرح سے خود کو منافقوں کی لِسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ آج ہی سچّی توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ ہر اس مسلمان سے بھی معافی مانگ لیجئے جسے گالی دی ہے یا ناحق دل دکھایا ہےتا کہ دنیا و آخرت کی رسوائیوں سے بچ سکیں۔ اللہ کریم ہمیں اپنی زبان کا اچھا استعمال کرنے اور اسے گالی گلوچ سے بچا کر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ بحیثیت مسلمان ہم اِس بے حیائی کا اپنے معاشرہ سے خاتمہ کرنے کی اس طرح سے کوشش کرسکتے ہیں(1) ہم خود گالی سے بچیں گے اور دوسروں کو بھی گالی دینے سے روکیں گے۔ (2) اگر کوئی گراہک دکان پر گالی دے رہا ہے تو دکاندار اُِس کو گالی دینے سے منع کرے۔(3) ایک دوست دوسرے دوست کو گالی دینے سے روکے۔(4) ہوٹل پر یا محفلوں میں گالی دینےوالوں کومحبّت سے سمجھائیں (5) باپ اپنے بیٹے کو گالی دینے پر مارے اور سختی سے پیش آئے۔(6) عورتوں کو بھی گالیوں سے روکاجائے۔(7) معاشرہ کےسرکردہ اور بااثر افراد اپنے محلے کے چھوٹے بچوں اور نوجوانوں کو گالی دیتے دیکھ کر اُنہیں سختی سے یا نرمی سے جیسے بھی ہوسکے گالی دینے سے روکیں۔میں تو کہتا ہوں کہ گالی کے خلاف شہر میں سخت گیر مہم چلائی جائے تاکہ ہمارا مسلمان بھائی گالی جیسے گناہِ کبیرہ سے بچے اور اللہ کو راضی کرنے کی فکر میں لگ جاۓ۔
گالی کو جانتا ہے سارا جہان گندی
مت لا زباں پہ گالی ہوگی زبان گندی
Hashimazmi78692@gmail.com

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: