مضامین

کورونا وائرس کا قہر اور شرعی نقطہ نظر

مفتی عبدالرزاق بنگلوری

ساری دنیا وبائی مرض "کورونا وائرس” سے دوچار ہو رہی ہے، نہ چاہتے ہوئے بھی لوگ اس مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں، یوں تو مریضوں کی تعداد دنیا بھر میں ان گنت ہے، مگر الیکٹرانک میڈیا ایک محدود تعداد کا ذکر کر رہی ہے، بالیقین یہ عذابِ الہی کی ایک ہلکی سی جھلک ہے، جس کو خود آسمان والا ہی روک سکتا ہے، مگر اس بیماری کو کسی ایک مذہب کے ساتھ خاص کرنا نادانی اور بیوقوفی ہے، اب تک دنیا بھر میں سینکڑوں لوگ اپنی زندگی سے محروم ہوگئے، جو لوگ اس بیماری کی لپیٹ میں آ کر دنیا سے رخصت ہوگئے وہ کسی ایک مذہب کے لوگ نہیں تھے، پھر کیوں مذہب اسلام کو اس مرض کے پھیلنے کا نشانہ بنایا جارہا ہے، یوں تو ہر زمانے میں مسلمانوں کے خلاف باطل فرقہ پرست طاقتوں کی طرف سے برابر طوفان آیا ہے ، فتنہ و فساد کا سیلاب آیا ہے، مگر حق پرستوں کی جاں باز قوم نے ان باطل طاقتوں کا رخ ہمیشہ کے لئے موڑ دیا، اور آج "کرونا وائرس” کے بہانے سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں، اسلام کے خلاف تحریک چلائی جارہی ہیں، مسلمانوں کو ہر جگہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، الیکٹرانک میڈیا کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، اس کے ذریعے سے مسلمانوں کی ہمتیں پست کی جارہی ہیں، یہ ٹکراؤ ہر دور میں ہوتا آرہا ہے، مسلمانوں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں، کیونکہ یہ حق و باطل کا معرکہ ہے، نور و ظلمت کا معرکہ ہے، توحیدوشرک کا معرکہ ہے، کفروایمان کا معرکہ ہے، جو تاقیامت جاری رہے گا، اس معرکے کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی اسلحہ کی ضرورت نہیں ہے، بس اتحاد کی ضرورت ہے، اور اجتماعیت کی ضرورت ہے، اور ہمارا عقیدہ ہے کہ کوئی بھی بیماری کسی ایک مذہب کے ساتھ خاص نہیں ہوتی، اور بیماری دینے والا اور شفا دینے والا اللہ تعالی ہی ہے، کسی بندے کے پھیلانے سے بیماری نہیں پھیلتی، جس کو اللہ بیماری دینا چاہے اسے ساری دنیا مل کر روک نہیں سکتی، اور جسے خدا تعالی بیماری سے نجات دینا چاہے اسے ساری دنیا مل کر بیماری میں مبتلا نہیں کرسکتی، کیونکہ بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،

*ایک غلط فہمی کا ازالہ*
"کورونا وائرس” جیسے وبائی امراض کے بارے میں مشہور ہے کہ ایک کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے، یعنی یہ بیماری امراض تعدیہ میں سے ہے، جس کی وجہ سے آج کل لوگ ماسک لگوا کر باہر نکلتے ہیں، اور ایک جگہ حدیث میں آتا ہے "لاعدوی ولا طیرۃ” (بخاری شریف ٨٥٧/٢) کوئی بیماری متعدی نہیں ھوتی، اور ایک دوسری حدیث میں آتا ہے "فرمن المجزوم کما تفر من الأسد” (بخاری شریف ٨٥٠/٢)کہ جذامی سے ایسے بھاگو جیسے شیر سے بھاگتے ہو، ایک جگہ کہا جارہا ہے کہ کوئی بیماری متعدی نہیں ھوتی، اور دوسری جگہ مرض تعدی کا ذکر ہے، تو کیا ان دونوں میں تطبیق کی کیا شکل ہو سکتی ہے؟ از روئے شرع مرض تعدی کا کیا حکم ہے؟
اس کاجواب یہ ہے کہ کوئی بیماری اپنی ذات اور اصل کے اعتبار سے متعدد نہیں ہوتی، اور یہ تصور سراسر جاہلانہ ہے کہ بیماریاں خود اپنی ذاتی تاثیر سے دوسروں کو لگتی ہیں، اسی جاہلانہ عقیدے کی تردید "لاعدویٰ ولاطیرۃ” جیسی احادیث سے کی گئی ہے، مگر دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ اللہ تبارک وتعالی بعض اسباب میں تعدیہ کی تاثیر پیدا کر دیتے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ تبدیلی موسم کی وجہ سے بخار کا آجانا، یا خوردونوش میں بے احتیاطی کی وجہ سے کسی اور بیماری کا لاحق ہو جانا، اس کا ظاہری سبب موسم یا غذا نظر آتی ہے، اسی طرح متعدی امراض کا بھی حال ہے، جس کو بھی وہ مرض لاحق ہوگا وہ بلاشبہ اللہ ہی کے حکم سے ہوگا ازخود نہیں ہوسکتا، لیکن چونکہ اس کا سبب ظاہر بحکم خداوندی مذکورہ مریض سے میل جول ہو سکتا ہے، اس لیے عقیدے کے تحفظ کی خاطر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ہدایت فرمائی کہ جہاں وبائی امراض پھیلیں وہاں سے لوگ ادھر ادھر نہ جائیں، اسی طرح کوئی ایسا بیمار کسی تندرست شخص کے ساتھ نہ اٹھے بیٹھے، اور تندرست لوگ بھی ایسے بیماروں سے بالقصد دور رہیں، الغرض یہ ہدایات بطور احتیاط عقیدے کی خرابی سے تحفظ اور ظاہری اعتبار سے مرض سے بچنے کے لیے ہی ہیں، ان کا لحاظ رکھنا ہی عین شریعت ہے –

حرف آخر
مذکورہ بالا وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ امراض سبب ظاہری کی وجہ سے متعدی ہوتے ہیں، اب اس مرض سے بچنے کے لئے صحیح سبب اختیار کیا جائے، جیسا کہ دور موجود میں” کورونا وائرس” سے بچنے کے لئے خود کو صاف ستھرا رکھیں، اپنے آس پاس صفائی کا خیال رکھیں، دوسروں سے میل جول سے اجتناب کریں، اشد ضرورت پر ماسک لگوا کر گھر سے باہر نکلا کریں، بلاضرورت سیر و تفریح سے گریز کریں، کیونکہ بیماری کا کوئی مذہب نہیں ہوتا،
اللہ تعالی ساری دنیا کو اس وبائی مرض سے محفوظ رکھے، اور عافیت کے ساتھ اس وبائی مرض میں مبتلا مریضوں کو شفا عطا فرمائے. (آمین)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: