مضامین

کورونا کے قہرولوک ڈاؤن کے خوف کے سائے میں، رمضان المبارک 2020 ء کا پہلا جمعہ!

حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی جمشید پور

مذہب اسلام میں عبادت کی بہت اہمیت ہے،کلمہ پڑھنے کے بعد اسلام کے پانچ بنیادی ارکانوں میں (1)ایمان کی گواہی، (2)نماز،(3)زکوٰۃ،(4)رمضان کے روزے،(5) حج بیت اللہ۔ سب کی اہمیت قرآن وحدیث میں موجود ہے،سبھی عبادتوں کا الگ الگ تصور ونظام روزِ اول سے قائم ودائم ہے اور صبح قیامت تک جاری رہے گا۔ ماہ رمضان المبارک ہی کیا کم ہے جسکی ہر ہر ساعت برکتوں،فضیلتوں سے مالامال،پھر ماہ رمضان المبارک کا جمعہ جو مسلمانوں کی عید کا دن بھی ہے،جس کی بے شمار فضیلتیں قرآن و احادیث سے ثابت ہیں۔اِن کے ادا کرنے پر بے حد اجرو ثواب کی خوش خبری،جنت جیسی نعمت کی بشارت!۔ جمعہ نہ ادا کرنے پر سخت گناہ اور جہنم جیسے عذاب کی وعید اسلامی کتب میں موجود ہیں۔
ناچیز راقم؛مورانواں،ضلع اُناؤ،یوپی کا رہنے والا(اب جمشید پور،جھارکھنڈ۔ میں 40 سالوں سے مقیم ہوں) بچپن میں مدر سہ ضیا ء الاسلام،قصبہ،مورانواں میں ابتدائی تعلیم کے بعد حفظ قرآن کی تعلیم حاصل کی،زمانہ طالب علمی سے ہی نماز پڑھنا اور الحمدللہ! نماز پڑھانے کے لیے بھی اساتذہ کرام نے آگے بڑھایا (اور میں پڑھاتے رہا)، مورانواں کے اطراف میں کئی ٹاؤن و گاؤں میں نمازِ جمعہ پڑھانا،عیدین کی نماز پڑھانا میرا محبوب مشغلہ تھا (الحمد للہ! آج بھی یہ سعادت نصیب میں لکھی ہوئی ہے،انجام دے رہا ہوں)مورانواں کی جامع مسجد سے پنج وقتہ نمازوں سے امامت کی ابتدا ہوئی،پھر و ہیں جامع مسجد میں حضرت مولانا بر کت اللہ نانپاروی کے کہنے پر جمعہ کی نماز پڑھائی،پھر یہ سلسلہ چل پڑا گاہے بگاہے،جب کبھی جہاں ضرورت پڑی پڑھاتے رہا یہاں تک عید کی نماز بھی پڑھائی۔(مختصر تفصیل) سنجر کھیڑا، کدرا، بھونی گنج، ہلولی، (پد نا پور۔محی الدین پور) پارہ،مسنڈی،پوروہ، لکھنؤ،مدرسہ عالیہ وارثیہ،مچھلی محال میں بھی استاد گرامی قاری ابو الحسن نے جمعہ کی امامت کے لیے آگے بڑھایا،یوپی وِدھان سبھا کے پیچھے بسی بستی نرہی اُجریاوٗں، جو اب وِشال کھنڈ کے نام سے لکھنو کا پوش علاقہvip کالونیوں میں تبدیل ہو گیا ہے کی مسجد میں امامت کی۔ پھر لکھنؤ دارالشفا کے قریب حسین گنج چوراہا کے پاس مشہور ہوٹل”دیپ ہوٹل“کے پیچھے”
*مسجد باغ آئینہ بی بی* “ میں جمعہ پڑھانے کی ذمہ داری استاد محترم قاری ابوالحسن نے لگادی جمعہ وعیدین پڑھاتا رہا،ایک طویل فہرست ہے۔ کانپور میں پرم پور وہ،بساطی کے ا حاطے میں چبوترے اور ٹین کی مسجد میں تراویح پڑھائی اور جمعہ وعیدین بھی،اب اسی جگہ3 منزلہ شاندار،خوبصورت مسجد” *جوہی جامع مسجد* “ کے نام سے قائم ہے،ابھی بھی جب وطن جانا ہوتا ہے تو کانپور بھی جاتے ہیں اور الحمدُ للہ!جمعہ کا خطاب و جمعہ کی نماز پڑھانے کی سعادت نصیب ہوتی ہے(واضع ہو کہ ناچیز کو آج بھی وہاں چھوٹے حافظ جی کے نام سے جانا جاتاہے،بڑے حافظ شمعون صاحب جو آج بھی باحیات ہیں ہمارے استاد بھی ہیں بہترین یاد داشت متشابہ پر عبور حاصل ہے۔ اللہ کا شکر و اِحسان ہے کہ اب جمشید پور، جھارکھنڈ میں بھی چھوٹی بڑی 23مسجدوں و عید گا ہوں میں جمعہ کی خطابت وامامت کی خدمت کے لیے جب جہا ں ضرورت ہوتی ہے بلایا تو ناچیز جاکر دینی خدمت انجام دیتا ہے،(فی سبیل اللہ) (والدہ ماجدہ ہاجرہ بی بی کی وصیت تھی کی دین کو کارو بار نہ بنانا،)شکر خدا اس پر چل رہا ہوں۔ نوٹ:-یہ باتیں تحدیث نعمت کے طور پر لکھیں ہیں-
*خدائی قہر کورونا نے کیسادن دیکھایا؟*
اللہ توبہ:کورونا کے زہر نے ساری دنیا کو ڈسا،بڑے بڑے لاڈ صاحبوں،گور نروں،طرم خانوں، گھمنڈی حکمرانوں کو گھٹنے پر بیٹھا دیا سب کا پِتہ پانی کیا ہواہے،لوک ڈاؤن لگا کر اس کا مقابلہ کیا جارہا ہے، یہ تو حکمراں جانیں کہ یہ کامیاب ہے کہ نہیں؟ پر سوال یہ بھی ہے کہ کیا کورونا کا علاج صرف لوک ڈاؤن سے ممکن ہے؟ بھوک سے بلبلا رہی مخلوقِ خدا کا کیا حال ہے،مائیں اپنے بچوں کو لیکر ندیوں،کنوؤں میں کود کر خود کشی کرنے پر مجبور ہورہی ہیں لیکن وارے بے شرم وبے غیرت دلال وگودی میڈیا اس کو نہیں دکھا رہا ہے۔بیماری کو بھی مسلمان ہندو میں بانٹ دیا کیا ہو گا ہمارے ملک کا؟۔سچ اور حق تو یہی ہے کہ کورونا عذاب اِ لٰہی ہے،اللہ کی بار گاہ سے ہی اس سے پناہ ملے گی اور کہیں نہیں۔
لوک ڈاؤن میں بھیڑ نہ جمع کرنے اور سوشل ڈیسٹینس کے طریقہ کو لیکر عبادت خانوں پر بھی بھیڑ نہ جمع کرنے کی ہدایت پرعمل درآمد میں حر مین شریفین،حر مِ مکہ شریف میں بھی طواف کعبہ پر روک،عمرہ پر پابندی چند لوگوں کو نمازِجماعت پر حاضری کے احکام اور پھر حرمِ مدینہ شریف میں بھی پابندی،نمازِ جمعہ جیسی اہم عبادت پر تالا لگا دینا چند آدمیوں کا ہی نماز پڑھنا؟ اللہ توبہ،اللہ توبہ،اللہ توبہ،اللہ نہ کرے اور ایسے دن دیکھنے کو ملیں رب العالمین اپنی بار گاہ میں بلالے۔لوک ڈاؤن کے خوف کے سایہ میں 27 مارچ2020ء والاجمعہ پڑھایا اس کے بعد لوک ڈاؤن کی سختی کی وجہ کر4 جمعہ گھر میں نماز ظہر ادا کی دل کی کیفیت کیا لکھوں،(ایک کتاب تیار ہو جائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ بشرطِ حیات ضرور) ناچیز کا گھر ”ہاشمی منزل“۔کی دیواریں نوری مرکز سے ملی ہوئی ہیں،جہاں *مسجدقبا* ،مدرسہ گلشن حسین، خانقاہ نوریہ، موجود ہیں،گھر کے بغل میں مسجد اور گھر میں نماز جمعہ نہیں ظہر کی نماز،”اے اللہ ہم سے کیا بھول ہوئی؟ جو یہ سزا ہم کو ملی… یقینا یہ سزا اللہ کی ناراضگی کی وجہ سے ملی ہے،ہزار بار توبہ ہزار بار توبہ“اے رب کریم اپنی” *نعمت عبادت* “ کی توفیق ہم سے نہ چھین اے رب کریم کرم فر ما رمضان المبارک کی رونقیں ہمیں لوٹادے۔
*ایسا کب ہوا کی رمضان کا جمعہ ہو اور مسجدیں ویران؟*:
ہوا جنابِ عالی! دن جمعہ:7رمضان المبارک،1441ھجری،بمطابق1مئی2020عیسوی۔ تین جمعوں سے گھر پر نماز جمعہ ادا کرکے دل مضطرب تھا،جمعرات30اپریل کے دن بہت ٹینشن،فکر، اُلجھن، گھبراہٹ،حواس باختگی،بد حواسی، بوکھلاہٹ،بیقراری،بے چینی میں وقت گزرا،رات رحیم و کریم رب کی بار گاہ میں توبہ پیش کی خوب رویا گڑ گڑایا۔ارشادِالٰہی ہے:
*اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَءِنُّ قُلُوْ بُھُمْ بِذِکْرِاللّٰہِ اَلَابِذِکْرِ اللّّٰہِ تَطْمَءِنُّ الْقُلُوْبُ* ۔(القرآن،سورہ رعد:13آیت28)ترجمہ:۔(ان لوگوں کو ہدایت دیتا ہے) جو ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کی یاد سے چین پاتے ہیں،سن لو! اللہ کی یاد ہی سے دل چین پاتی ہیں۔ یعنی اللہ کی یاد سے یہ دل چین پاتے ہیں۔اللہ کی رحمت و فضل اور اس کے احسان وکرم کو یاد کرکے بے قرار دلوں کو قرار وسکون اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اسی لیے پریشان حال آدمی جب پریشانی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر ”عبادت“ کرتا ہے تو اس کے دل کو سکون مل جاتا ہے۔ اللہ کے یاد وذکر سے سکون ملا بے چینی دور ہوگئی،سحری کے وقت ہی دل نے فیصلہ لے لیا کہ کل ہر حال میں جمعہ پڑھانا ہے۔ (والدہ ماجدہ،”ہاجرہ بی بی“کے نام پر”مسجد ِ ہاجرہ رضویہ“ تعمیر کروائی ہے) دن کے 11بجے ہی پہنچ گیا،گاڑی بائیک کو بہت دور چھپاکر کھڑی کیا ارے یہ کیا مسجد میں تالا لگاہواہے بیک سائڈ سے تالا کھلواکر اندر داخل ہوا۔اللہ کے نیک بندے7لوگ پہلے سے ہی موجود ہیں،اِ مام صاحب،حضرت مولانا ناصرتابش صاحب، موذن حافظ آفتاب عالم صاحب،خزانچی مسجدِ ہاجرہ رضویہ جناب عبدا لحمید صاحب،محمد شفیق صاحب،جناب سرفراز عرف پیچی صاحب، شکیل صاحب خدمت گزار مسجد ہاجرہ رضویہ،جناب سر فراز عرف پپو صاحب(سکریٹریری مسجد ہذا) الحاج ماسٹرصابر صاحب اور لوگ بھی آرہے مسجد کے گیٹ کو پیٹ رہے ہیں سمجھا بجھا کر واپس لوٹایا جارہا ہے، یا اللہ تیرے بندے تیرے گھرکے دروازے سے مایوس ہوکر واپس جا رہے ہیں۔12/ بجے دن میں مسجد سے اعلان کر نا پڑا لوک ڈاؤن کی وجہ کر پر شاسن،حکومت کے آڈر کی وجہ کر اور علماء کے فیصلے کی وجہ کر آپ مسجد میں جمعہ ادا کرنے نہ آئیں پلیز،پلیز پلیز، جتنے لوگوں کی اجازت ہے اتنے آچکے ہیں پلیز مجبوریوں کا خیال رکھیں،12/50 میں اذان ہوئی سنتیں ادا کی اذانِ ثانی ہوئی خطبہ پڑھا،شَھْرُ رَمَضَانَ الْذِی….الخ آیت کریمہ پڑھتے ہی زور زور کا رونا آ گیا ضبط نہ کر سکا آہ و بکا کی چیخ نکلی،مسجد میں 7مقتدی بھی رونے لگے،اپنے آپ کوسنبھا لا مختصر خطبہ کے بعد نماز جمعہ اداکی سلام پھیر نے کے بعد سجدے میں گر گیا خوب رویا خوب دعائیں مانگیں تمام مقتدی بھی رورہے ہیں گڑ گڑ ارہے ہیں دعا ختم ہوئی فوراً مسجد سے باہر نکلا،دیکھتے ہیں مسجد کے باہر پچاسوں مومن اسلامی لباس پہنے ہوئے افسوس میں کھڑے ہیں میں بھی اپنے کو روک نہ سکا۔
*آؤاَپنے آنسو ؤں سے خدا کو منالیں:*
لوگوں کو تسلی اور توبہ کی ترغیب دی! پیارے پیارے اسلامی بھائیو!گزشتہ دو ماہ سے ہم سب ہی کیا ساری دنیا تکلیف دہ ایام سے گزر رہی ہے۔ نادیدہ وبا ئے عام کووڈ۔۹۱ خدائی قہر نے ہر کسی کوجھنجھوڑ کے رکھدیا ہے۔ بڑے بڑوں کے حوصلے جواب دے گئے۔ایسے میں ماہ مضان المبارک(رمضان سعید) کا آغاز ہو گیا ہے۔ اوراہلِ ایمان کے قلوب اس بابرکت لمحہ لمحہ نعمت بھرے ماہ کا استقبال خوش دلی سے اور توبہ استغفار سے کریں،ہمیں پوری اُمید سے اللہ کی بار گاہ میں دعائیں کرنی ہے رونا ہے، ہرمسلمان اس وبا کورونا کے خاتمے ونجات پانے کے لیے اللہ سے پناہ مانگے اللہ روزے داروں کی دعا ضرور ضرو قبول فر مائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔۔اللہ ہم سب کو سلامتی اور عافیت عطا فرمائے آمین، دعاکر کے آگے بڑھے ہی تھے کہ پولیس جیپ آتی دیکھی جو یقینا مسجد ہی جارہی تھی دیکھنے کہ مسجد میں کتنے نمازی ہیں۔ میڈیا کا ظلم،حکومت کا ،کالا قانون،خدا کی ناراضگی کے بیچ، جمعہ ادا کر نے کا یہ تجربہ چھوٹی سی تحریر سے یقینا آپ کادل بھی تڑپ رہا ہوگا؟ اے رب ہمیں معاف فر ما،معاف فر ما۔اپنی”نعمت“عبادت کی توفیق ہم سے نہ چھین یہ نعمت پھرسے ہمیں بخش دے،پلیزپلیز،آمین ثم آمین:-

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: