مضامین

ڈکٹیٹر دوم کی گرفتاری: جمعیت کا دائرہ حربیہ یا مجلس حربی قسط نمبر(17)

محمد یاسین جہازی

حضرت مفتی اعظم صاحب نے اپنی گرفتاری کے وقت حضرت مولانا بشیر احمد صاحب میرٹھی کو ڈکٹیٹر دوم مقرر فرمایا تھا۔ اس لیے مفتی صاحب کی گرفتاری کے بعد پولیس آپ کے پیچھے لگ گئی۔ آ پ کو پہلے میرٹھ سے آتے ہوئے دہلی میں گرفتار کرکے چھوڑ دیا۔ پھر میرٹھ میں آپ کو دوبارہ اپنے گھر واقع کٹھور سے گرفتار کیا گیا۔ پہلی گرفتاری کا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ
”دہلی7اپریل۔ اطلاع ملی ہے کہ حضرت مولانا بشیر احمد صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند و قائم مقام پریسیڈنٹ ڈسٹرکٹ بورڈ میرٹھ کل شب کے دو بجے دفتر جمعیت علمائے ہند میں گرفتار کر لیے گئے۔ آپ گذشتہ شب کو ساڑھے بارہ بجے ہی میرٹھ سے دہلی تشریف لا رہے تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ جس وقت آپ اسٹیشن دہلی پر پہنچے، تو اسی وقت سی آئی ڈی نے نگرانی شروع کردی۔ اور دو بجے رات کو جب کہ آپ آرام فرمارہے تھے، چودھری عبد الستار صاحب سب انسپکٹر پولیس نے لاٹھیوں سے مسلح پولیس کے ساتھ دفتر جمعیت علما پر چھاپہ مارا اور دروازہ کھولنے کا انتظار کیے بغیر کواڑ توڑ کر پولیس اند ر داخل ہوگئی۔ معلوم ہوا ہے کہ جب حضرت مولانا کو بیدار کیا گیا اور پولیس کی آمد کی اطلاع دی گئی، تو آپ نے خندہ پیشانی کے ساتھ پولیس کا استقبال کیا۔ آپ کو کوئی وارنٹ وغیرہ نہیں دکھایا گیا؛ بلکہ دریافت کرنے پر یہ بتایا گیا کہ حضرت مولانا کی گرفتاری دفعہ 3و 2امرجنسی پاور آر ڈی نینس کے ماتحت عمل میں آئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے آپ کو اسی وقت کوتوالی پہنچایا۔ (الجمعیۃ 9اپریل1932)
ڈکٹیٹر دوم کی دوسری گرفتاری
”میرٹھ۔ حضرت مولانا بشیر احمد صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند 14اپریل کو اپنے قیام گاہ پر علیٰ الصباح گرفتار کرلیے گئے۔ غالبا آ پ کی گرفتاری اس تقریر کی بنا پر ہے، جو 13اپریل کو برف خانہ کے میدان میں عظیم الشان جلسہ کے اندر کی تھی جو یوم جلیان والا کی یادگار میں منعقد کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ آپ نے اپنی جگہ جناب مولانا حفظ الرحمان صاحب سیورہاوی کو جمعیت علمائے ہند کا ڈکٹیٹر نامزد کیا ہے۔“ (الجمعیۃ 2اپریل1932)
چھ ماہ کی قید اور جرمانہ کی سزا
”میرٹھ 22اپریل۔ یوم جلیان والا کے سلسلہ میں جو اشخاص گرفتار کیے گئے تھے، آج ان کے مقدمہ کا فیصلہ سنادیا گیا۔ مولانا بشیر احمد صاحب ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند اور سینئر وائس چیئرمین میرٹھ ڈسٹرکٹ بورڈ کو چھ ماہ قید اور دو سو روپیہ جرمانہ اور چندر شیکھر اور رام سروپ ورما کو ایک ایک سال قید اور سو سو روپیہ اور پانچ سو روپیہ بالترتیب جرمانہ کا حکم دیا گیا۔“ (الجمعیۃ 28اپریل1932)
26اپریل 1932کو میرٹھ ڈسٹرکٹ بورڈ میں ایک جلسہ ہوا، جس میں مولانا بشیر احمد صاحب کو جیل میں سی کلاس میں رکھنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ اور یہ مطالبہ کیا گیا کہ مولانا کو بہترین کلاس دی جائے۔ دیکھیں الجمعیۃ یکم مئی 1932۔
ڈکٹیٹر دوم کی رہائی
آپ کو 17ستمبر1932کو میرٹھ جیل سے رہا کیا گیا۔
”میرٹھ۔ 18ستمبر۔ مولانا بشیر احمد صاحب سینئر وائس چئیرمین میرٹھ ڈسٹرکٹ بورڈ اور ڈکٹیٹر دوم جمعیت علمائے ہند کل صبح میرٹھ ڈسٹرکٹ جیل سے رہا کردیے گئے۔ آپ کو جمعیت العلما کی سرگرمیوں کے سلسلہ میں چھ ماہ کی سزا کا حکم ہوا تھا۔ آپ نے ایک نمائندے سے دوران ملاقات میں فرمایا کہ ان کو ایک ہفتہ تک سی کلاس میں اور 12یوم تک بی کلاس میں رکھا گیا اور باقی عرصہ آپ کو اے کلاس میں رکھا گیا۔ آ پ نے اے کلاس کے اسیروں کے متعلق کچھ زیادہ بیان نہیں کیا۔ نمائندہ مذکور کے یہ دریافت کرنے پر کہ دیگر اسیروں کا گاندھی جی کے عزم کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ جملہ سیاسی اسیر اس واقعہ سے بہت متفکر اور خوفزدہ ہوگئے ہیں، نیز حیرت و استعجاب کا اظہار کر رہے ہیں۔ آپ نے مزید بیان کیا کہ انھوں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ بھی 20ماہ حال کو برت رکھیں گے۔“ (الجمعیۃ 20ستمبر1932)
آپ پانچ ماہ تین دن اسیر قید فرنگ رہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: