مضامین

کچھ تبسم زیر لب. بیوی کیسی ہو

انس مسرورانصاری

آپ عنوان کو پڑھ کراس مغالطہ میں نہ رہیں کہ ہم اپنی بیوی سے ان کی خیریت دریافت کررہے ہیں۔ بیوی کو خیریت سے دیکھنا تو اچھی بات ہے لیکن خیریت پوچھنا اچھی بات نہیں۔ ان کا خیریت نامہ بڑادردناک اور تفصیلی ہوتاہے۔ جہاں آپ نے خیریت پوچھی کہ بس وہ مثل صادق آجائے گی کہ۔۔آبیل مجھے مار۔ اس لیے بھول کر بھی خیریت نہ پوچھئے۔ بس خیریت سے دیکھتے رہئے۔ اسی میں ہماری اور آپ سب کی خیریت ہے۔
انسان کی عائلی اور خانگی زندگی کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔اگر بیوی ہم مزاج وہم مذاق مل گئی تو گویازندگی جنت ہے۔ اگر مزاج میں تضاداورتصادم ہے تو زندگی جہنم کی بدترین مثال ہے۔
ہمارے میر دانش مند عائلی زندگی میں شریک حیات کے موضوع پر پی، ایچ، ڈی کا مقالہ لکھنے کا ارادہ رکھتے تھے مگر کوئی پروفیسر ان کی رہنمائی کے لیے تیار نہ ہوا۔
مجبوری کی حالت میں انھوں نے ارادہ ملتوی کردیا تاہم بیویوں اور شوہروں کے آپسی تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر وہ گھنٹوں لیکچر دے سکتے ہیں۔ اس موضوع پر ان کی مہارت کا اندازہ کیجئے اوران کے فرمان عالی شان سے استفادہ کیجیے۔
بقول میر دانش مند شوہروں اوربیویوں کی اقسام لاتعداد ہیں۔ طرح طرح کے شوہر اور طرح طرح کی بیویاں۔ گرم مزاج بیوی۔ نرم مزاج بیوی۔ تر مزاج بیوی۔ خشک مزاج بیوی۔
اوراسی طرح کے شوہر بھی اقسام در اقسام ۔ وہ ازدواجی زندگی کے مختلف واقعات کے آئینے میں ہمیں بہت کچھ دکھاتے ہیں اور کہتے ہیں۔
ہے دیکھنے کی چیزاسے باربار دیکھ
ایک بار میر دانش مند ہمیں شادی دفتر میں میں لے گیے۔وہ اپنے مشاہدات اور تجربات سے ہمیں مستفید کرناچاہتے تھے۔ہم نے دیکھا کہ وہاں ایک بڑے سے ہال میں بہت بڑے بڑے بورڈ لگے ہوئے ہیں۔ سب پر کچھ نہ کچھ لکھا ہوا ہے۔ سامنے کے بورڈپرہماری نظر پڑی تو جلی حروف میں لکھا تھا۔
۔ ہدایت نامہء نسواں۔
ہم ہدایات پڑھنے لگے۔ شوہر کے انتخاب میں خواتین کی آسانی کے لیے بورڈپرتحریر تھا۔
پولیس۔۔ یہ حضرات اپنی تمام تنخواہ پابندی کے ساتھ اپنی بیوی کو دیتے ہیں۔ مگر تنخواہ سے زیادہ رقم پبلک سے وصول بھی کرلیتے ہیں۔
کسٹم آفیسر۔ گھر کی ہرچیزفارن کی۔ کبھی کبھی بیوی بھی فارن کی۔
ٹیلی ویزن پروڈیوسر۔۔ بیوی چاہے جیسی ہو،ہیروئن بناسکتا ہے۔
انکم ٹیکس آفیسر۔۔ بیوی کی تمام شاپنگ مع کیش میمو چیک کرتاہے۔ اس سے بچنا بہت مشکل ہے۔
ڈاکٹر۔۔ اس پیشے سے تعلق رکھنے والے حضرات کی بیویاں ہر بہانہ کرسکتی ہیں مگر طبیعت کی خرابی کا بہانہ نہیں کرسکتیں۔ وکیل۔۔ان کی بیوی ایسی واحد بیوی ہوتی ہے جو ہمیشہ اپنے شوہر سے ہار مان لیتی ہے۔ سیاست داں۔۔ ان کے گھر میں کبھی ساس بہو کا جھگڑا نہیں ہوگا۔ جب تک یہ خود نہ چاہیں۔
کلرک۔۔ دنیا کی مظلوم ترین مخلوق۔ مگر سب سے بہترین شوہر۔ جو بیک وقت شوہر، آیا، اور باورچی کی تمام ذمہ داریاں اٹھا سکتا ہے۔
لیڈر۔۔ قسمت یاوری کرے تو منسٹر۔ قسمت ساتھ نہ دے تو گیٹ کیپر۔ قسمت آنکھ پھیرلے تو سکنڈہینڈچسٹر۔ کبھی تخت کبھی تختہ۔ کبھی کم بخت کبھی کم بختہ۔۔ قسمت کے کھیل نرالے مرے بھیا۔
بزنس مین۔۔ بے اعتماد۔خوب صورت سکریٹری رکھنے کا شوقین۔ باربار بیوی بدلنے والا۔ بیوی سے دور رہنے کے لیے دنیابھر کے بہانے بناتے والا۔
نوٹ۔۔!خواتین کی آسانی کے لیےفراہم کردہ فہرست۔۔۔ شریک حیات کا انتخاب کیجئے۔ہرطرح کے رشتہ کے لیے ہماری خدمات سے فائدہ اٹھا ئیں۔۔
۔۔معقول فیس۔
بورڈ کی تحریر پڑھنے کے بعد ادارہ کی خدمت خواتین کے ہم قائل ہوگئے۔ بہت متاثربھی ہوئے۔ایک دوسرے بورڈپرجلی حروف میں لکھا تھا۔
۔ ہدایت نامہء شوہراں۔

اس بورڈپرشوہروں کے لیے بیویوں کے انتخاب میں مدد کی گئی تھی اوربیویوں کی کوالیٹی بتائی گئی تھی۔ ملاحظہ کیجئے۔
سوال۔۔ بیوی اپنے شوہر سے کب بہت زیادہ خوش ہوتی ہے۔ من پسندکھانےتیارکرتی ہے اور بڑے پیار سے کھلاتی ہے۔؟
جواب۔۔مہینے کی آخری تاریخ کو،جب شوہر اپنی پوری تنخواہ بیوی کے ہاتھ پر لا کر رکھ دیتاہے اور اپنے خرچ کے لیے بیوی سے مہینہ بھرادھارمانگتارہتاہے۔
سوال۔۔ اگرآپ کو صرف کھانے سے دل چسپی ہواور کمانے میں کوئی دلچسپی نہ ہوتو۔؟
جواب۔۔ ایسی خاتون کا انتخاب کیجئے جو کمانے والی ہو۔ آج کل ایسی خاتون کی بڑی قدرومنزلت ہوتی ہے۔ اس کوالیٹی کی بہت ڈیمانڈ ہے۔ خواہ وہ آفس میں کام کرے یا اسکول میں یا کھیت میں۔ ہر جگہ ان کو پسند کیاجاتا ہے۔ جب سے ہمارے نوجوان اورجوان قومی غیرت کو دھو دھاکرپی چکے ہیں، کمانے والیاں ان کی محبوب خاتون ہیں۔ اس کوالیٹی کی خواتین میں سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ جہیز میں اپنی تنخواہیں لے کر آتی ہیں۔ زندگی بھر کی مزدوری ساتھ لاتی ہیں جن پرشوہرعیش کرتااورمونچھوں پرتاؤدیتاپھرتاہے۔
بیوی کی ایک اور کوالیٹی بتاتے ہوئے میر دانش مند نے اپنا مشاہدہ بیان کیا۔۔ ہمارے محلے میں حماقت شاہ نام کے ایک شخص ہیں۔ آدمی بہت سیدھے سادے ہیں۔ اپنی بیوی سے ہمیشہ ڈرتے رہتے ہیں۔
صلح کل کوپسندکرتے ہیں۔ لڑائی جھگڑا انھیں بالکل پسند نہیں۔
پچھلے ہفتہ کسی بات پر بیوی سے ان کی تکرار ہوگئی۔ اس تکرار نے انھیں ناکوں چنے چبوادیئے۔ کچھ دیر تک تو وہ میدان میں جمے رہے۔ پھر تھک ہار کر خاموش ہورہے۔ اب ایک طرفہ میدان کارزارگرم تھا۔
بیوی نے آنکھوں پرپلوڈالتےہوئے کہا۔۔۔۔
۔۔جب سے تمھارے گھر آئی ہوں، میری تو قسمت پھوٹ گئ ہے۔ کبھی سکون کاسانس لینا نصیب نہ ہوا۔ کولھو کے بیل کی طرح کام کرتی ہوں پھر بھی تمھاری نظروں میں میری کوئی وقعت اور قدر نہیں۔ میں ہی تھی جس نے تمھارے ساتھ نباہ کردیا۔ کوئی دوسری ہوتی تو پتا چلتا۔ میرے تو نصیب ہی پھوٹ گئے۔ (آسمان کی طرف منھ اٹھاکر) یاخداتو
مالک ومولاہے۔سب دیکھ رہا ہے کہ مجھ پر کیسے کیسے ظلم و ستم ڈھائے جارہے ہیں۔ پڑوس میں دیکھو تو طرح طرح کی ڈیزائن اور قسم قسم کے پرنٹ والے کپڑے، قیمتی قیمتی ساڑیاں، سلوار، جمپر پہنتی ہیں۔
پیرس کے عمدہ عمدہ پرفیوم استعمال کرتی ہیں۔ ایک میں ہوں نگوڑی ماری، کبھی سلیقے کا کپڑا نصیب نہ ہوا۔ اب تو بس خدا سے یہی دعا کرتی ہوں کہ اس جنجال سے مجھے نجات ہی دلا دے تو سکون پاؤں۔ جینے سے بیزارہوں۔ ایسی زندگی سے تواچھا ہے کہ مر ہی جاؤں۔۔۔۔۔
حماقت شاہ نے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاکربڑے خلوص کے ساتھ دعامانگی۔۔یااللہ، میری نہیں سنتاتو مت سن مگر کم سے کم اس کی توسن لے۔
اتناسنناتھاکہ بیوی آپے سے باہر ہو گئ۔ پھر تو وہ رن پڑا کہ غضب خداکا۔
اس طرح بیویوں کی بہت ساری کوالیٹیاں ہیں۔ کہاں تک بنائیں۔ کہاں تک گنائیں۔
ایک خاتون اپنی پڑوسن سے کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔
۔۔میں تو ہر کام میں اپنے شوہر کا ہاتھ بٹاتی ہوں۔ مثال کے طور پر آج ہی کی بات ہے۔ صبح کی چائے کا انتظام اس طرح ہوا کہ چائے بنانے کی تجویز میں نے پیش کی۔ بنائی انہوں نے۔ چائے میں نے پی اور برتن انھوں نے صاف کیے۔بیوی کی ایک اور قسم سے تعارف کراتے ہوئے میر دانش مند نے فرمایا۔۔۔۔ ہاکی کے ایک میچ میں حسب معمول تماشائیوں نے غل غپاڑہ مچایا۔ ٹیموں کے کھلاڑیوں پرپھبتیاں کسی گئیں۔
ریمارک کیے گئے۔ ایک موقع پر چند کھلاڑی آپس میں الجھ بھی پڑے۔ دوسری بار تماشائیوں میں ہنگامہ ہوگیا۔ تیسری بار میدان میں جانے والے چند طلباء پر پولیس نے دھاوا بول دیا۔ یہ سب کچھ ہوتا رہا۔ لیکن وہاں موجود ایک خاتون پورے میچ کے دوران ایک ہی بات کی رٹ لگائے جارہی تھی۔
۔۔ غلطی ریفری کی ہے۔ اسے مارڈالو۔۔غلطی ریفری کی ہے۔ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالو۔۔۔
خاتون کی مسلسل چیخ و پکار پر ہم نے استفسار کیا۔
۔۔آخر آپ ریفری کے پیچھے ہاتھ دھو کر کیوں پڑگئی ہیں۔۔۔؟
خاتون نے کڑے تیوروں کے ساتھ کہا۔۔۔ وہ میراشوہرہے، میں جس طرح چاہوں اس کی خبر لوں۔۔۔
غرض کہ بیویوں کی اتنی اقسام ہیں جتنی خود بیویاں۔
تمام مذاہب میں شریک حیات کے انتخاب پر کافی کچھ لکھا ہوا ہے، لکھاگیاہے اور لکھا جا رہا ہے۔
میر دانش مند کے اندرچھپا ہوا مفکر جاگ پڑا۔ انھوں نے فرمایا۔
دیکھیں شریک حیات کے انتخاب کے متعلق اسلام دھرم کیا کہتا ہے۔؟
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کے بقول اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔
۔۔ عورت سے چار چیزوں کی بنیاد پر شادی کی جاتی ہے۔
( ۱)اس کے مال کی بنیاد پر(۲) اس کی خاندانی شرافت کی بنیاد پر(۳) اس کی خوب صورتی کی بنیادپر(۴) تو تم دین دار عورت کو حاصل کرو۔ تمھارابھلاہو۔۔
(متفق علیہ_ابوہریرہ)
حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے کہ نبی صلی الله عليه وسلم نے فرمایا۔
۔۔ عورتوں سے ان کے حسن وجمال کی وجہ سے شادی نہ کرو۔ ہوسکتا ہے ان کا حسن انھیں تباہ کردے۔ اور نہ ان کے مال دار ہونے کی وجہ سے شادی کرو۔ ہوسکتا ہے ان کا مال انھیں طغیان اور سرکشی میں مبتلا کر دے۔ بلکہ دین کی بنیاد پر ان سے شادی کرو۔ اورسیاہ رنگ کی باندی جو دین دار ہو، اللہ کی نگاہ میں گوری خاندانی عورت سے بہتر ہے۔ ( متفق علیہ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔ جب تمھارے پاس شادی کا پیغام کوئی ایسا شخص لائے جس کے دین واخلاق کو تم پسند کرتے ہو،تو شادی کر دو۔ اگرتم ایسا نہ کروگے
تو زمین میں فتنہ اور بڑی خرابی پیداہوگی۔۔۔
(ترمذی)
یہ حدیث پہلی حدیث کے مضمون کی تائید کرتی ہے۔
آپ صلی الله عليه وسلم کا مطلب یہ ہے کہ شادی کے معاملے میں دیکھنے کی چیز یں دین واخلاق ہیں۔ اگر یہ نہ دیکھا جائے بلکہ مال وجائداداورخاندانی شرافت ہی دیکھی جائے تو مسلم معاشرہ میں اس سے بڑی خرابی واقع ہوگی۔ جب لوگ اتنے دنیا پرست ہوجائیں کہ دین ان کی نظر سے گر جائے اور مال وجائدادہی ان کے دیکھنے کی چیزیں بن جائیں تو ایسے لوگ دین کی کھیتی کوسینچنے کی فکر کہاں کرسکتے ہیں۔ اسی حالت کو حضورصلی الله عليه وسلم نے فتنہ وفسادکہاہے۔ ان احادیث کی روشنی میں موجودہ مسلم معاشرہ اپنی تمام تر خرابیوں کے ساتھ عریاں نظرآتاہے۔۔۔**

* انس مسرورانصاری
قومی اردو تحریک فاؤنڈیشن
سکراول، اردو بازار، ٹانڈہ۔
امبیڈکر نگر (یو، پی)
وہاٹس ایپ /9453347784

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: