مضامین

کچھ کچھ ہوتا ہے دل تڑپتا ہے

مولانا الطاف جمیل ندوی

انسانی زندگی بقیہ زندگیوں سے مختلف ہے انسان اظہار اظہار غم و خوشی کرنے پر قادر ہے پر بقیہ ایسا نہیں کرتے ہاں کبھی کبھار جب ان کا جی چاہئے تو یہ زندگیوں کے مالک جانور بھی اپنے درد و کرب خوشیوں کے اظہار کرنے میں لیت و لعل نہیں کرتے پر انسانی فطرت ہے کہ وہ اظہار کئے بنا رہتا ہی نہیں
سوچئے دل کا معاملہ ہے صاحب
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میت پر رونے سے منع کیا ہے پر جب ان کے بیٹے کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بھیگ گئی صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی نے پوچھا آپ تو میت پر رونے سے منع کرتے ہیں پھر آپ کیوں آنسو بہا رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو اظہار ہے میری محبت کا جس پر میرا قابو نہیں یہ دل کا درد ہے پر میں تھوڑی ہی چلا رہا ہوں یا بین کر رہا ہوں

پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں انتہائی محبت کیا کرتے تھے اور معصوم بچوں سے لگاؤ بھی تھا یوں ہی ایک بار حسنین کریمین کو چوم رہے تھے ایک بدوی نے کہا کہ میں تو بچوں کو کبھی یوں پیار نہیں کرتا تو فرمایا کہ تیرا دل گر محبت شفقت سے نا آشنا ہے تو اس میں میں کیا کر سکتا ہوں
تو بات یہ ہے
دل پر جب بھی چوٹ لگئے تو یہ دل اداس ہوجاتا ہے اور اس اداسی کی تمام شکنیں چہرے پر بکھر جاتی ہیں ایسا نہیں ہے کہ کوئی شخص انتہائی تکلیف میں ہوں اور اس کے چہرے پر خوشیوں کا تصور دکھتا ہو نہیں ایسا نہیں ہوتا بلکہ غم و خوشی کا اظہار خواہ کوئی کرے یا نہ کرے پر اس کا عکس دکھتا ہے وہ کس قسم کا غم ہے یا خوشی یہ الگ بات ہے جہاں خوشی کے شادیانے بج رہے ہوں وہاں کوئی ماتم کرتے ہوئے سینہ پیٹنا شروع کرے تو اسے ہر کوئی منحوس کہئے گا یا غم کی جگہ پر کوئی مسکرائے کھل کھلا کر تو اسے بھی منحوس ہی کہا جاتا ہے مطلب ہر دو لفظوں کی اپنی حدود قیود ہیں پر جب ہم خوشی و مسرت کے ساتھ جی رہے ہوں تب اداس راہوں کے مکینوں کا تصور رکھنا ان کی دل جوئی کرنا کمال ہے جیسے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی تپتی دھوپ میں مشرکین مکہ کے ستم سہہ رہے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں خوشیوں کے آنے کی نوید سناتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی غمگین ہیں مکہ کی وادیوں کا جبر دیکھ کر تو انہیں مختلف زاویوں سے خوشیوں کے آنے کی نوید سنائی جاتی ہے یہ امید کہلاتا ہے کہ کسی کو امید دلانا وہ بھی تب جب وہ بکھر گیا ہو کمال کا ہنر ہے ورنہ وہ جھلستی آگ میں جلتا رہتا ہے اپنی لاچاری و بیکسی کے آنگن میں آئے ستم پر امید دلائے نہ کہ نا امیدی اک افسانہ صحیح پر آپ کرکے دیکھیں سکوں ملے گا
دوسروں کو حوصلہ دیں
دو مریض ہسپتال کے بستروں پر لیٹے ہوئے تھے
ایک شخص بیٹھنے کے قابل تھا،اس کابستر کمرے میں موجود کھڑکی کے پاس تھا
جب کہ دوسرا شخص پورا دن اپنے بستر پر لیٹ کر گزارتا تھا
کھڑکی والا شخص بیٹھ کر اپنے پڑوسی کو سب بتاتا جو اسے کھڑ کی سے نظر آتا تھا
دوسرا شخص وہ سب سننے کا انتظار کیاکرتا تھا
کھڑکی سے ایک باغ نظرآتا تھا،جس میں خوبصورت نہر بھی تھی
اس نہر میں بچے کھلونا کشتیاں چلاتےتھے، منظر بہت دلفریب تھا
کھڑکی کے نزدیک والا برابر لیٹے ہوئے شخص کو تمام تفصیلات بتاتا اور لیٹا ہوا شخص تصور کی دنیا میں کھو جاتا تھا
ایک دن نرس کمرے میں داخل ہوئی اور کھڑکی والے شخص کو مردہ پایا
دوسرے شخص نے اپنا بستر کھڑکی کے پاس لگانے کی فرمائش کی،نرس نے ایسا ہی کیا اور کمرے سے چلی گئی
اس شخص نے کہنیوں کے بل بمشکل اٹھنے کی کوشش کی تاکہ کھڑکی سے جھانک سکے
لیکن اسے صرف دیوار نظر آئی
اس شخص نے نرس کو بلایا اور پوچھا کہ یہاں موجود مریض وہ سب کیسے دیکھ لیتا تھا جو وہ مجھے بتایا کرتا تھا؟
نرس نے بتایا وہ شخص نابینا تھا اور یہ دیوار تک دیکھنے کے قابل نہیں تھا
وہ شاید دوسرے مریض میں زندگی کی لہر دوڑانا چاہتا تھا،اسے خوشی دینا چاہتا تھا
اپنی تکلیف بھول کر دوسروں کو خوشی دینے سے بڑھ کر دوسری کوئی خوشی نہی
خوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے
آپ بھی دنیا میں تھوڑی سی خوشی کی وجہ بن کر اس دنیا کو مزید بہتر بنائی

مایوسی اور امید
مایوسی اور امید درحقیقت انسان کے دو مختلف خیالات کا نام ہے۔ بلکہ متضاد خیالات کا نام۔ امید کا تعلق رحمت کے قبیل سے ہے جبکہ مایوسی شیطان کا ہتھیار۔ مایوس انسان اصل میں شعوری یا لاشعوری طور پر اس بات کا انکاری ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ حالات کو بہتر کرنے پر قادر ہے جبکہ پُرامید شخص کی نظریں مسلسل عنایتِ رب تعالیٰ پر لگی رہتی ہیں۔ اس طرح بندے کا اللہ تعالیٰ سے امید کا یہ تعلق بھی عبادت ہی کہلاتا ہے اور ترکِ عبادت ایک گناہ ہے۔

امید اور مایوسی اصل میں دن اور رات کی طرح ہیں۔ ایک کا اُتار تو دوسرے کا چڑھاؤ۔ پُرامید انسان روشنی کا چمکتا ستارہ اور مایوس انسان اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ روشنی میں ہر راستہ دکھائی دیتا ہے جبکہ اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سُجھائی نہیں دیتا۔ پُرامید انسان کے پاس جینے کا حوصلہ اور آگے بڑھنے کا جذبہ ہوتا ہے جبکہ مایوس انسان اپنی زندگی کے خاتمے کے طریقے سوچتا ہے۔

یہ کائنات اللہ تعالیٰ کی ریاست ہے اور اس ریاست میں وہی ہوتا ہے جو اللہ چاہتا ہے۔۔۔ اور جیسے چاہتا ہے!! انسان اللہ کا بندہ ہے اور بندے کا کام اپنے معبود کی بندگی کرنا ہے۔ مالک کے اختیار میں ہے کہ وہ اپنے بندے کو اچھے، برے یا جیسے چاہے حال سے گزارے۔ وقت اللہ تعالیٰ کی گرفت میں ہے اور ہر شے اپنے اوقات میں اپنی حالت بدل رہی ہے۔ اول پہر میں طلوع ہونے والے سورج کی چمک دوسرے پہر سے ملتے وقت اپنے عروج پر ہوتی ہے پھر یہی سورج تیسرے سے چوتھے پہر میں داخل ہوتا ہوا آخر کار اندھیروں میں ڈوب جاتا ہے۔ پھر اسی طرح رات کے پہر بھی بدلتے جاتے ہیں۔۔۔اور پھر اک نئی صبح اور پھر اک نئی شام۔

دن اور رات کی طرح انسان کی زندگی کے پہر بھی بدلتے ہیں، اوقات بدلتے ہیں جن میں بندے کی اپنی اوقات بھی بدلتی رہتی ہے۔ انسان اپنے حالات پر کتنا بھی پہرے دار بن جائے مگر پھر بھی پہر بدل ہی جاتے ہیں۔ اور ان پہروں کا بدلنا ہی انسان کو بتاتا ہے کہ انسان کا خود پر اور حالات پر کتنا اختیار ہے؟ زندگی کا یہ پہر کبھی طلوع آفتاب کی طرح خوشنما اور کبھی دوپہر کی تپتی دھوپ کی طرح جھلسا دینے والا بن جاتا ہے۔ پہر پھر اگلے پہر میں بدلتا ہے اور ذرد دوپہر، سرخ شام میں ڈھلنے لگتی ہے۔ اس طرح دھوپ چھاوں اور اتار چڑھاؤ کا یہ کھیل جاری رہتا ہے۔ یہ سب مالک کے کام ہیں۔ جن میں بندے کے پاس صرف اس کا خیال اور عمل ہے جسے وہ ان پہروں کے بدلنے میں اپنے اللہ کے حضور پیش کرتا رہتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جو اللہ دھوپ کو تپش عطا کرتا ہے وہی چھاوں کو ٹھنڈک بخشتا ہے۔ اور وہی انسان کو اس دھوپ اور چھاوں کے درمیان دوڑاتا بھی رہتا ہے۔

دھوپ چھاؤں کی یہ دوڑ زندگی کا حصہ ہے۔ جیسے اگر دل کی دھڑکنوں کو ناپنے والی ای – سی – جی مشین کو دیکھا جائے تو اس کی سکرین پر دکھائی دینے والی لکیر جو تسلسل کے ساتھ اوپر اٹھتی اور پھر نیچے گرتی نظر آتی ہے۔ اس اوپر اٹھتی اور نیچے گرتی لکیر کا مطلب ہی زندگی ہے کیونکہ ای – سی – جی مشین کی یہی لکیر جب بالکل سیدھ اختیار کر لے تو اس سیدھ کا سیدھا مطلب بندے کی موت ہے۔

موت یعنی زندگی کا اختتام۔ اونچ نیچ، اچھائی برائی، بلندی پستی سب ختم۔ اب آگلی حالت میں اس زندگی کے اعمال کا فیصلہ ہے۔ پل صراط کی سیدھی لکیر ہے اور بندے کے پاس کیا ہے؟ امید۔۔۔ ان اعمال کے اچھے نتیجے کی امید۔۔۔ رحمت کی امید۔۔۔ فضل کی امید۔۔۔
واللہ ذو الفضل العظیم۔

فضل کی امید کا سلسلہ یہیں اسی زندگی میں آج سے شروع ہوتا ہے۔۔۔ آنے والے ہر کل کے لیے! کیونکہ ہمیں کل کبھی نہیں ملتا۔ ہم ہر کل کو آج ہی کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

ہم آج کا شکر ادا کرتے ہیں اور اچھے کل کی امید لگاتے ہیں۔ آج کا شکر اور اچھے کل کی امید۔۔۔ یہی عمل ہمارے اعمال نامہ میں درج ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بندہ ایک روز اپنے مالکِ حقیقی کے سامنے پہنچ جاتا ہے۔ مالکِ حقیقی سے فضل کی امید ہی تو انسان کا اثاثہ ہے۔

غم نے نڈھال کر دیا

ہزاروں لوگ ہمارے آس پاس ایسے دیکھنے کو ملیں گئے جو غم کے مارے ہوتے ہیں تو ہمارا حق یہی بنتا ہے کہ انہیں امید دلائیں ان خوشیوں کی جن کی امید پر یہ اپنا طرز زندگی بدل سکے اور دنیا میں جی پائے ہم رب سے جو کچھ مانگتے ہیں اس کا دائرہ بھی تو یہی ہے کہ ہمیں امید ہے کہ ہماری مدد کی جائے گئی ہماری دعا قبول ہوگئی جیسے فرمان الہی ہے کہ مانگتے ہیں امید اور خوف کے ساتھ خوف اپنی سیاہ کاریوں کا اور امید رب الکریم کی رحمت و درگزر پر اسی لئے یہ جو دل میں کچھ کچھ ہوتا ہے اس پر مایوسی طاری ہونا لازمی ہے پر قوت مدافعت بڑھائے تو امید بنی رہتی ہے گر خدا نا خواستہ امید ٹوٹ گئی تو بکھرنے میں دیر نہیں لگتی اور پھر وہی خود کشی کرنے کا ارادہ کرلینا
ارے سوچئے حسین زندگی خوب صورت آنکھوں مچلتے خواب کیوں یوں ہی دفن ہوجائیں جو پل ملے ہیں انہیں آپسی محبت و مسرت کے ساتھ جی لیں کیا فائدہ کہ دل کو اس قدر اداس اور غم کو اتنا سر پر چڑھا لیں کہ دو پل کی ملی خوشیوں کو بھی نہ ہم بھانٹ سکیں یا دو پل زندہ دلی سے جی نہ سکیں
زندگی زندہ دلی کا نام ہے
مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں
جی لو جی بھر کرکے جن آلام پر ہم آنسو بہاتے ہیں آس پاس دیکھ لیں ہم سے زیادہ کچھ لوگ اداس اور مجبور ہیں پر اپنی مسکان کو جانے نہیں دیتے
الطاف جمیل ندوی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: