اہم خبریں

کیاہمارے نیروبھی اپنی بانسری ہی میں مست رہیں گے؟

ڈاکٹرراحتؔ مظاہری

رُوم جل رہاتھااو’نیرو،مزے کے ساتھ اپنے باغ میں بانسری بجارہاتھا۔ شاید،اس صدیوں پرانے محاور کوسن کر ہماری نوجوان نسل یہ سوچتی ہوگی کہ ایساکونسا بیوقوف راجہ تھا؟،جوملک کو جلتادیکھ کربھی اپنی بانسری ہی میں مست رہا،تواس نئی نسل کواب مزیدسوچنے اورپریشان ہونے کی ضروت نہیں کہ اب ایسے نیروخودہمارے ہی ملک میں پیداہونے لگے ہیں جس کی تازہ ترین مثال اپنے وطن عزیزپیارے ہندستان میں ’رنگا، بِرلاکی حکومت کے ذریعہ بنائے گئے نئے قانون ”CAA،، کے بعداس کے خلاف چلتے ہوئے ملک گیر احتجاجوں اورلمبے مظاہروں پرنظرڈالئے کہ جہاں اس منحوس قانون کے پاس ہوجانے کے بعداس کی مخالفت میں اکیلے اتّرپردیش ہی میں /2درجن سے زایدلوگ شہید اورکم و بیش 300 سوزخمی اور 2یاڈھائی ہزارپولیس کی بربرتااورتشدد کے بعد جیل کی کال کوٹھریوں میں قیدہیں مگررنگا،برلاہیں کہ ان مظلوموں کی چیخ پکار، ان کی آواز اورملک گیر مہنگائی جیسے گمبھیرمسائل پردھیان دینے کے بجائے مزید آگے بھی نئے ظالمانہ ارادوں کے ناپاک پٹارے کھولنے کی دھونس دے رہے ہیں جبکہ اس کالے قانون کی زدمیں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ہندستان کادستوراساسی، اس کی جمہوریت اوردیگراقلیتیں بھی برابرکچلی جائیں گی، جیساکہ ملک کے سیاست داں، مؤرخین، سماج سیوی،اورانصاف پرست ہندوبھی اس کابرملاخدشہ برابرظاہرکرنے پرہیں مگریہ دونوں مست ہاتھی اپنی حکومت کے طاقت کے نشّہ میں مدہوش ہیں۔جبکہ اس میں ملک والوں کے ساتھ ان کی ایک نئی طاقت یعنی لڑکیاں اورخواتین نے توباقاعدہ ہی اس ظالم حکومت کے خلاف مضبوط مورچہ تان رکھاہے، اللہ نظربدسے بچائے اوران کے وقار، جان، مال، عزت اورآبروکی حفاظت فرمائے۔
لیکن مسلمانوں کوبھی گھبرانے کی ضرورت نہیں کہ قرآن کریم میں دیکھیں تواس سے زایدہ برے اورنازک حالت انبیائے کرام پرآچکے ہیں جیساکہ ”ام حسبتم ان تدخلوالجنۃ….(142/3) ترجمہ:کیاتمہارایہ خیال ہے کہ تم کوجنت یونہی مل جائے گی ’جبکہ تم کوابھیتواللہ نے تمہارایہ امتحان بھی نہیں لیاکہ تم میں کون لوگ جہادکرنے والے اورکون صبرکرنے(ڈٹے رہنے) والے ہیں؟اسی طرح…کیاتم یہ گمان کربیٹھے ہو کہ کہ جنت میں چلے جاؤگے؟حالانکہ اب تک تم پروہ حالات نہیں آئے جوتم سے پہلے لوگوں پرآئے تھے، انہیں بیماریاں اورمصیبتیں پہنچیں اوروہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اوراس کے ساتھ کے ایمان والے پکاراٹھے کہ اللہ کی مددکب آئیگی؟توسنئے کہ اللہ کی مددقریب ہے(214/2)
توقرآن کی اسی پیشین گوئی کی شکل میں ہمارے ساتھ الحمدللہ والمنّۃ منجانب اللہ خدائی مددکی شکل میں ملک کے دوسرے طبقات بھی روزافزوں شریک ہونے پرہیں جیساکہ’بھیک آرمی کے چیف چندرشیکھرآزاد، دلت نوجوان لیڈر کنہیاکمار، رکانگریس پارٹی،ممتابنرجی،پپوویادوکے علاوہ پنجاب کے سکھ وغیرہ بھی میدان میں آگئے ہیں۔اسی کے ساتھ اولیں مرحلے میں CAA, NRC, NPR کے حامی رہے,نتیش کمارکے بھی پچھتاوے کی دستک بھی سنائی دینے لگی ہے۔
اوریوپی کے وزیراعلیٰ یوگی نے تو اپنی ظالم پولیس کے ساتھ مسلمانوں کے قتل عام کے لئے بانہیں سونت رکھی ہیں کہ یوگی اوران کی پولیس کے ظالم اقدامات، گولی باری، مظاہرین پرجبرواستبداد کے پہاڑاس طرح دھائے جارہے ہیں کہ جیسے یہ اپنے ملک کے باشندوں اورکسی مظاہرہ میں شامل عوام کوبس میں کرنے کے لئے نہیں بلکہ ہندستان کے باڈرپرکسی ملک دشمن فوج کونیست ونابودکرنے کی ڈیوٹی پرتعینات ہیں کہ جس کے گواہ درجنوں آڈیو، ویڈیو اورفوٹوزہیں جن کونکارانہیں جاسکتا۔جبکہ انتظامی امورمیں یوگی مکمل طورپرناکام ثابت ہوئے، راجستھان کے ہاسپٹل میں بچوں کی موت پراشوک گہلوت، کانگریس اورپرینکاکاگھرنے کے جال ڈال رہے ہیں جبکہ خوداپنے مٹھ کے شہر گورکھپورمیں بچوں کی موت پرچپی سادھ گئے تھ اوررتیرمارابھی توکہاں ماراایک بے قصور مسلم ڈاکٹر کفیل کوسسپینٹ کردیا، سوامی چمیانند ایک قانون کی طالبہ کااستحصال،شادی کے بہانے برسوں اس کی عصت دری کرتارہا، اورجب لڑکی نے اپنے حق کامطالبہ کیاتوسوامی اوریوگی نے اسی کوالٹارنگداری کے مقدمے میں پھنساکرجیل بھیج دیا، ملزم اپنے ٹھاٹ سے عیش میں اورمدعی جیل میں۔
دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء وطالبات، سیلم پور شاہدرہ، نیزیوپی کے بجنور، مظفرنگر، سنبھل،رامپورشہروں میں مظاہرین پربے دردی کے ساتھ لاٹھی برساتے، پتھرزنی کرنے اورگالی گلوچ کرتے آرایس ایس کے غنڈوں کی علاحدہ ہی شناخت ہورہی ہے جس پر ان فرقہ پرست اورملک دشمن حکومتوں سے کوئی جواب نہیں بن پڑرہاہے۔نیزشاید آپ کویہ بھی علمہوکہ حکومت کی طرف سے یوپیکیشِکشامتّروں (علم دوست)کی طرح پولیس میں بھی نیم فوجی دستے قائم کئے گئے ہیں جن کو’پولیس مِتّر(پولیس دوست)کانام دیاگیاہے، وہ ایسے ہنگاموں میں مظاہرے کے وقت توسامنے نہیں آتے بلکہ داہنے بائیں ہی رہتے اورجب مظاہرہ کااختتام قریب ہوتاہے تومسلم بھیڑمیں شامل ہوکرپولیس کی طرف گولی باری،پتھرزنی اورآگ زنی کی واردات انجام دیتے ہیں اورجب پولیس مظاہرین پرآنسوگیس کے گولے، داغتی، ڈنڈے برساتی تویہ پولیس کے ساتھ شامل ہوکے مسلم بھیڑ کومارتے، پیٹے اورلوٹنے لگتے ہیں اورجب ہنگامے کے بعدشہروں میں کرفیوجیسی صورت حال پیداہوجائے تو یوپی پولیس والے مسلم ماں بہنوں پربری نظرڈالتے، ان کی نقدرقم، زیور، گہنے لوٹنے لگتے اور گھرکے فرنیچر، سامان کوتوڑپھوڑکے بربادکردیتے ہیں جیساکہ نہٹورمیں رقیہ کی شادی کے صرف اٹھائیس دن ہی پہلے اس کے بوڑھے دادااورچچاکیپٹائی کے بعد دوشیزہ رقیہ کی آنکھ پرچوٹ، اوراسکے جہیزکاٹوٹاپھوٹاسامان منھ بولتے گواہ ہیں۔ اب سوال پھروہی ہے کہ یہ ہمارے نیروبھی بانسری ہی بجاتے رہیں گے؟ یانیروکی طرح ہی ہندستان کوآگ کے شعلوں کی نذرکرکے رخصت ہونگے؟

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: