مضامین

کیاہم زندہ ہیں؟

محمد یاسین جہازی

اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ کیا آپ زندہ ہیں؟ تو بالیقین اس سوال پر آپ تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے کہ بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہے۔ ہم آپ سے محو کلام ہیں، کیا یہ زندہ ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت نہیں ہے!۔ لیکن اس کے جواب میں یہ سوال کرلیا جائے کہ اس زندگی پر انسان و جانورمیں پھر کیا امتیاز ہوگا؟ تو یقینا سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ کیا واقعی ہم زندہ ہیں؟ اور ہمارا تعلق ایک زندہ قوم سے ہے؟
آئیے ایک فرد اور ایک قوم ہونے کی حیثیت سے زندہ ہونے کی علامات کی روشنی میں اپنے ضمیرسے کچھ سوالات کرتے ہیں۔ اگر ان سوالوں کے جوابات مثبت ہوں گے، تو ہمیں خود کو اور اپنی قوم کو زندہ ہونے پر فخرکا احساس کرنا چاہیے اور اگر ان کے جوابات ہمیں نفی میں ملتے ہیں، تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمیں زندہ رہنے کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
پہلا سوال
الحمد للہ ہم مسلمان ہیں اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہیں، تو اس اعتبار سے پہلا سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا ایمان محفوظ بھی ہے یا صرف رسمی مسلمان ہیں۔ اگر ہمارا ایمان محفوظ ہے، تو آئیے تحفظ ایمان کے پیمانے پر اپنے ایمان کو جانچ کردیکھتے ہیں اورمعلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کتنے حقیقی مسلمان ہیں اور کتنے رسمی مسلمان۔
”ہمارا ایمان محفوظ ہے“ اس کو جانچنے کے لیے قرآن و احادیث میں مختلف پیمانے بیان کیے گئے ہیں، ہم محض ایک دو پیمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
(۱) ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم (الزمر، آیۃ نمبر ۳۲)
اس آیت کا خلاصہ یہ ہے یہ کہ جب لوگوں کے سامنے کلام الٰہی کی تلاوت کی جاتی ہے، تو کتاب اللہ سن کر اللہ کے خوف اور اس کے کلام کی عظمت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، اور بدن کے رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور بدن اور روح دونوں پر ایک خاص اثر پیدا ہوجاتا ہے۔
اب خود کا جائزہ لیجیے کہ قرآن کی شکل میں ایمان میں اضافہ اور مضبوطی پید اکرنے کے لیے جوکلام الٰہی ہمیں دیا گیا ہے، ہم اس کی کتنی تلاوت کرتے ہیں۔ اور اگر تلاوت کرتے ہیں، تو کیا ہمارے دل پر اس کلام کی عظمت کا رعب پیدا ہوتا ہے؟۔ ہم ہر نماز میں امام صاحب کی قرات کے توسط سے کلام الٰہی سنتے ہیں، اسے سن کر کیا ہمارے دل و ذہن پر کوئی خاص کیفیت پیدا ہوتی ہے؟ اگر آپ کا ضمیر اس کا جواب ہاں میں دے، تو آپ کہیے الحمد للہ، سبحان اللہ کہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی فضل و کرم آپ کے ساتھ ہے۔ اور اگر خدا نخواستہ اس کا جواب”نہیں“ہے، تو سمجھ لیجیے کہ ہمارا ایمان کمزور ہے، ہم صرف نام کے مسلمان ہیں، ہمارے اندر ایمان کی کوئی طاقت موجودنہیں ہے۔ ہم ایمان کے اس طاقت سے محروم ہیں، جس کے سامنے پہاڑ کی بلندی اور دریاوں کی طغیانی تھم جایا کرتی تھی اور جسے دیکھ کر شیطان اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہوجایا کرتا تھا۔
(۲) دن رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں، یہ سب جانتے ہیں، لیکن ہماری آبادی کے تناسب سے مسجد میں مرد نمازیوں کی اور گھروں میں عورت نمازیوں کی تعداد کتنی ہے؟ ہم صرف اپنے اپنے گھر کا جائزہ لیں، تو یہ کہنا خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ ایک پرسنٹ بھی نمازی نہیں ہے۔ اس جائزہ میں اگر آپ خود کو اور اپنے گھر کو اس معیار پر پاتے ہیں کہ آپ کے گھر میں سبھی مرد و عورت پنج وقتہ نمازی ہیں، تو آپ کہیے کہ الحمد اللہ، سبحان اللہ، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی انعام و اکرام آپ کے ساتھ اور آپ کے اہل خانہ کے ساتھ ہے۔ اور اس بنیاد پر آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں بحیثت فرد ابھی ایک زندہ شخصیت کا حامل ہوں، لیکن اگر خدا نخواستہ معاملہ اس کے برعکس ہے، اور آپ خود اور گھر کے سبھی حضرات نماز کی توفیق سے محروم ہیں،تو یاد رکھیے آپ کو زندہ شخص کہلانے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اور آپ کا تعلق جس قوم سے ہے، اس قوم کی اکثریت کا یہی حال ہے، تو وہ قوم بھی زندہ کہلانے کا حق نہیں رکھتی۔
دوسرا سوال
ہمیں صاحب ایمان اس لیے کہا جاتا ہے کہ ہم مذہب اسلام کے فالوور ہیں، لہذا اسی سے دوسرا سوال یہ نکلتا ہے کہ ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے اسلام کے لیے کیا کرتے ہیں؟
اس سوال پر اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ ہم اسلام کے لیے کر کیا سکتے ہیں،تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہندستان میں اسلام کے تحفظ کے لیے پانچ بڑے ادارے ہیں: (۱) مدارس و مکاتب۔ (۲) مساجد۔ (۳) خانقاہیں۔ (۴) ملی تنظیمیں۔ (۵) تبلیغی جماعت۔تو ہندستان میں اسلام کے تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ ایمان کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے، ان پانچوں اداروں سے اپنی وابستگی اور جان مال اور وقت کی قربانی پیش کریں۔
تو اب آپ اپنے ضمیر سے سوال کریں کہ آپ ان اداروں سے کس درجہ قلبی لگاو اور تعلق رکھتے ہیں اور ان کے تقاضے کو پورا کرنے کے لیے جانی و مالی اور وقت کی کتنی قربانی پیش کرتے ہیں۔ اگر آپ کا جواب یہ ہے کہ الحمد اللہ میں ان سبھی اداروں سے وابستہ ہوں، میں نے خود یا میرے بچے نے مدرسہ میں بھی وقت لگایا ہے، مسجد سے بھی رشتہ مضبوط ہے، جماعت میں بھی وقت لگاتا ہوں اور ملی اداروں کی آواز پر جان مال وقت سب کچھ قربان کرتا رہتا ہوں، کبھی کسی ادارے کو نہ تو چندے سے محروم رکھتا ہوں اور نہ ہی کسی دوسرے تقاضے کے وقت پیچھے ہٹتا ہوں، تو آپ کو کہنا چاہیے کہ الحمد اللہ میں ابھی زندہ ہوں۔ اور اگر پوری قوم کی یہی حالت ہے تو آپ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ الحمد اللہ میری پوری قوم زندگی کی اس صفت سے متصف ہے، لہذا ہم ایک زندہ قوم ہیں۔
لیکن اگر ضمیر کا جواب یہ ہوتا ہے کہ نہ تو میں خود اور نہ ہی میرے بچے مدارس و مساجد اور خانقاہوں سے جڑے ہیں اور نہ ہی کبھی جماعت میں وقت لگایا ہے، جب بھی جماعت والے کہتے ہیں کہ بھائی رکیں، دین کی بات ہوگی، تو ہم اس جملہ کو سنتے ہیں اپنی جگہ سے شیطان کے بھاگنے کی طرح بھاگتے ہیں، اور کسی ملی تنظیم سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے، تو پھر آپ زندہ کہلانے کا حق نہیں رکھتے۔ اور اگر آپ کی پوری قوم کی یہی کیفیت ہے، تو وہ قوم بھی زندگی کی نعمت سے محروم ہے۔
تیسرا سوال
اللہ تعالیٰ نے سیکڑوں ممالک میں سے ہندستان کو ہمارے لیے منتخب کیا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمارا یہ ملک گوناگوں خصوصیات و امتیازات سے لبریز ہے۔ ہمیں اس سیکولر ملک میں بہت سے ایسے اختیارات حاصل ہیں، جو بہت سے اسلامی ملکوں میں بھی مسلمانوں کو حاصل نہیں ہے، اس لیے ہمیں اس پر خدائے بررگ و برتر کا بے حد شکر گزار ہونا چاہیے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس ملک میں پیدا فرمایا ہے، جہاں غیر مسلموں کی اکثریت ہے، تو اس تعلق سے داعی امت کا فرد ہونے کی بنیاد پر ہمارے اوپر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں، جس میں ایک فرض یہ بھی ہے کہ اس ملک کے تحفظ اور سالمیت کے لییاپنا بہترین کردار ادا کریں۔
یہاں یہ بات عرض کرتا چلوں کہ جمہوریت میں کسی بھی قوم اور پارٹی کا وقار جماعتی طاقت میں مضمر ہوتا ہے۔ اگر کوئی قوم یا پارٹی اجتماعیت کی طاقت سے محروم ہے، تو اس کا نام ونشان مٹ جانا طے ہے، اس لیے ہندستان میں مسلمانوں کے تحفظ کا واحد ذریعہ یہی ہے کہ مسلم قوم ہونے کی حیثیت سے کسی متحد و مشترک پلیٹ فارم سے وابستہ ہونا ضروری ہے، اس کے بغیر ڈیڑھ اینٹ کی عمارت بنانے سے کوئی وجود بننے والا نہیں ہے۔ اس حقیقت کے مد نظر تیسرا سوال یہ ہوگا کہ ہم ہندستان کی تعمیر و ترقی کے لیے کیا کردار ادا کرتے ہیں؟۔
اگر آپ کا ضمیر یہ جواب دیتا ہے کہ ملی تشخص اور اسلامی امتیازات کو تحفظ فراہم کرنے والی ملی جماعتوں سے میں وابستہ ہوں اور ان کی آواز پر ہمہ وقت پابہ رکاب رہتا ہوں، خواہ وہ جمعیۃ علماء ہند ہو، یا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہو، یا پھر کوئی اور ملی تنظیم ہو، ان کے قائدین کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مردانہ وار عملی میدان میں کود پڑتا ہوں، تو آپ کو کہنا چاہیے کہ الحمد اللہ، میں ابھی زندہ ہوں۔ اور اگر آپ کی پوری قوم کی اجتماعی شعور کا یہی عالم ہے،تو آپ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ الحمد اللہ میری پوری قوم زندہ ہے۔ لیکن اگر معاملہ اس کا الٹا ہے، آپ کسی بھی جماعت سے وابستہ نہیں ہے، آپ تنہائی کے شکار ہیں، یعنی آپ کے اندر قومی اتحاد اور ملی اجتماعیت کا شعور نہیں ہے، تو یاد رکھیے کہ پھر آپ بھی زندہ نہیں ہیں اور آپ کی قوم بھی مردہ ہوچکی ہے۔
چوتھا سوال
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پوری امت مسلمہ فرد واحد کی طرح ہے۔ پوری دنیا میں بسنے والی قوم الگ الگ جغرافیائی حدود میں تقسیم ہونے کے باوجود جسم واحد کی طرح ہے، اور یہ اتحاد ہمارے کلمہ کی تلقین ہے، لہذا اگر دنیا کے ایک کونے میں بسنے والے کسی مسلم بھائی کے پیر میں کانٹا بھی چبھے، تو دنیا کے دوسرے کونے میں بسنے والے مسلم بھائی کے دل میں اس کا ٹیس محسوس ہونا ہماری ایمانی نسبت کی روح ہے۔ اس تناظر میں چوتھا سوال یہ ہے کہ آج پورے عالم اسلام میں مسلمان ظلم و زیادتی کے شکار ہیں، ان پر بموں کی برسات ہورہی ہے، ان کے خون کی ندیاں بہائی جارہی ہیں، فلسطین کا قضیہ آپ کے سامنے ہے۔ مصر کے حالات سے بھی آپ بہ خوبی واقف ہیں اور آج شام میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ آپ کی نگاہوں کے سامنے ہے؟ تو ان ناگفتہ بہ حالات میں مسلم بھائیوں کے لیے آپ کیا کر رہے ہیں؟ کیا ان کے جسم سے نکلنے والے خون کے پھوارے سے آپ کا خون گرم ہوتا ہے؟ کیا معصوم بچوں اورمظلوم عورتوں کی چیخیں آپ کے لیے صدائے درد بنتی ہیں؟ کیا بوڑھوں کی درماندگی آپ کے ذہن و دماغ کی چولیں ہلارہی ہے اور آپ یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ آخر یہ سب کب تک؟ اب آگے کچھ اور نہیں ہونے دوں گا۔ اگر آپ کا ضمیر آپ کو جھنجھوڑتے ہوئے یہ کہتا ہے کہ لبیک یا فلسطین، لبیک یا سیریا، ائے روئے زمین کے مظلمو! ہم ابھی زندہ ہیں۔ اور میرے جیتے جی ظلم کا سلسلہ اب اور آگے نہیں بڑھ سکتا، تو آپ کو کہنا چاہیے کہ الحمد اللہ ابھی آپ کا ضمیر زندہ ہے، آپ کے اندر انسانیت کی رمق باقی ہے اور آپ ایک زندہ شخص ہیں۔ اور اگر پوری قوم کی یہی کیفیت ہے تو آپ کا یہ دعویٰ حقیقت کا اعلان ہوگا کہ آپ کی قوم بھی زندہ ہے۔ لیکن اگر معاملہ ایسا نہیں ہے، ظلم کی خبریں سن کر ہمارے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، مظلوموں کی چیخوں سے ہمارے اوپر کوئی اثر نہیں ہوتا، خاک و خون میں غلطاں و پیچاں معصوموں کو دیکھ کر میری آنکھیں نم نہیں ہوتیں۔ خون کے پھوارے چھوڑتے جسموں کا منظر میرے شعور کو دعوت عبرت نہیں دیتا، تو آپ تسلیم کریں یانہ کریں، آپ کے اندر زندگی کی کوئی علامت موجود نہیں ہے۔ اور اگر پوری قوم اسی لاشعوری میں محو خواب ہے، تو وہ قوم بھی مردہ ہوچکی ہے۔
تاریخ شاہد عدل ہے کہ جب کوئی قوم زندہ ہوتی ہے، تو دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت اس کا بال بیکا نہیں کرسکتی، وہ جہاں سے گذرتی ہے،عروج اور اقبال مندی اس کے قدم چومنا فخر سمجھتی ہے۔ایسی قوم کو نہ تو زیر کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی غلامی کی زنجیریں اسے روک سکتی ہیں،پھر ہوتا یہ ہے کہ وہ ہوائے حریت کی طرح پورے عالم پر چھا جاتی ہے۔ روئے زمین پر بسنے والی سبھی مخلوق اس کے زیر نگیں ہوتی ہے، اس کے حمد و ثنا کے پھریرے اڑتے ہیں اور اس کی ہر ادا کی تقلید شرافت و نجابت کا معیار قرار پاتی ہے۔
لیکن جو قوم مردہ ہوجاتی ہے، تو محکومیت ہی اس کا نصب العین ہوتی ہے، اس کی حیثیت فٹ بال کی مانند ہوتی ہے، جو جب چاہتا ہے لات ماردیتا ہے، اور اسے لات کھانا پڑتی ہے، لیکن زندگی کا حق پھر بھی رکھتی ہے، کیوں کہ وہ صرف جسم کے اعتبار سے غلام ہوتی ہے، لیکن فکری غلامی بھی مسلط ہوجائے، تو پھر اس قوم کو ہلاکت و بربادی سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچا سکتی، کیوں کہ فکری غلامی اور مایوسیت کا کوئی علاج ہی نہیں ہے۔
اس لیے ہمارے قائدین اور اکابرین بار بار ہمیں تلقین کرتے ہیں کہ حالات سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر چہ زندہ ہونے کے جتنے سوالات ہیں، ان سب کے جوابات نفی میں ہیں، لیکن پھر بھی اگر ہم ہمت نہ ہاریں، ہم قنوطیت کے شکار نہ ہوں، اور مایوسی کو اپنے دل کے اندر جگہ نہ دیں، تو ان شاء اللہ ہمیں کوئی بھی قوم اور پارٹی نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ یہ الگ بات ہے کہ وقتی طور پر حالات آسکتے ہیں، لیکن ہم ہمیشہ کے لیے اپاہج ہوجائیں، یہ نا پہلے ہوا تھا اور نہ ابھی تک ہوا ہے اور ان شاء اللہ نہ ہونے دیں گے۔ ہم عزم و حوصلے سے جینے کا وہ سلیقہ رکھتے ہیں، جسے دیکھ کر مردہ شخص بھی زندہ ہوجاتا ہے، تو پھر یہ عارضی حالات کچھ بھی نہیں ہیں، ہم اسے ٹھوکروں سے اڑا سکتے ہیں۔ اور پھر ان شاء اللہ وہ صبح ضرور آئے گی، جب ہماری عظمت رفتہ ہماری قدم بوسی کے لیے ہمارے منتظر ہوگی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: