مضامین

کیا سی اے اے اور این آر سی پر حکومت نے احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے؟

محمد سفیان قاسمی گڈا جھارکھنڈ

بعض لوگوں کو لگ رہا ہے کہ حکومت نے این آر سی اور سی اے اے پر احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ تسلیم کر لیا ہے لہذا احتجاج کرنے والوں کو اپنا احتجاج ختم کر دینا چاہیے جبکہ بعض لوگ کہ رہے ہیں کہ حکومت نے کوئی مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے اور نہ ہی سرکار کی جانب سے کوئی آفیشل بیان سامنے آیا ہے لہذا احتجاج جاری رہنا چاہیے، ان دو طرح کی باتوں سے عام لوگوں کو کنفیوژن ہے کہ آخر ان دونوں میں سے کون سی بات صحیح ہے، اس کا پتہ لگانے کے لئے ہم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ احتجاج کرنے والوں کا مطالبہ کیا ہے اور جس چیز کو تسلیم کیا گیا ہے وہ مطالبہ ہے یا احتجاج ختم کرانے کے لئے ایک دھوکہ ہے

چنانچہ جب ہم احتجاج کرنے والوں کے مطالبے کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے تین مطالبات سامنے آتے ہیں سی اے اے واپس لیا جائے این آر سی نافذ نہ کی جائے اور این پی آر سے اضافہ کردہ شقوں کو بھی واپس لیا جائے کیونکہ یہ این آر سی کا چور دروازہ ہے.

حکومت نے ان میں سے ایک بھی مطالبہ تسلیم نہیں کیا ہے. البتہ پارلیمنٹ میں صرف اتنا کہا ہے کہ این آر سی ابھی نافذ کرنے کا ارادہ نہیں ہے. اس کو بعض لوگوں نے سمجھا کہ مطالبہ تسلیم کر لیا گیا ہے. لہٰذا سر دست احتجاج ختم کر دیا جائے پھر جب این آر سی نافذ کیا جائے گا اس وقت دوبارہ احتجاج کیا جائے گا .

لیکن یہ حکومت کی طرف سے دھوکہ ہے، ابھی سے مراد کتنا عرصہ ہے ایک سال دو سال پانچ سال دس سال، اس کی تعیین ہونی چاہئے، اس کی وضاحت ہونی چاہئے.

دوسری بات یہ ہے کہ این آر سی سے زیادہ خطرناک سی اے اے ہے، اگر سی اے اے نہ رہے اور این آر سی نافذ ہو تو مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلم این آر سی سے باہر ہوں گے جس کی تازہ مثال آسام ہے. چنانچہ اگر سی اے اے کے بغیر این آر سی نافذ کیا جائے تو اس کی مخالفت مسلم سے زیادہ غیر مسلم کریں گے اور اگر سی اے اے موجود رہے تو پھر این آر سی سے زیادہ نقصان مسلمانوں کا ہوگا کیونکہ غیر مسلموں کو تو سی اے اے سے فائدہ ہو جائے گا لہذا جب تک سی اے اے واپس نہیں لیا جائے تب تک احتجاج جاری رکھنا ضروری ہے. یا پھر سی اے اے میں ترمیم کی جائے کہ صرف پانچ مذہب کے لوگ نہیں بلکہ جو بھی مظلوم ہو اور وہ مذہبی یا سیاسی کسی اعتبار بھی سے مظلوم ہو تو ہندوستان اس کو شہریت دے گا

یہاں تک کہ اگر عدالت یہ کہ دے کہ سی اے اے آئین کے خلاف نہیں تب بھی احتجاج ختم نہ کیا جائے کیونکہ آئین کے خلاف نہ ہونا احتجاج نہ کرنے کی دلیل نہیں ہو سکتی اس کی مثال یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے کسی چیز پر ٹیکس زیادہ رکھنا یا کم رکھنا یہ آئین کے خلاف نہیں ہے لیکن اگر عوام کو لگے کہ کوئی ٹیکس ان کے لیے پریشان کن ہے تو آئین کے خلاف نہ ہونے کے باوجود وہ احتجاج کر سکتے ہیں، یہ عوام کا آئینی حق ہے

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: