اسلامیات

کیا سے کیا ہوگیا دیکھتے دیکھتے

فیاض احمد صدیقی رحیمی

ہندوستان آزاد ہوا، آزادی کے بعد ملک کا پہلا وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد مقرر ہوئے- کچھ عرصے تک مسلمانوں کو احساس کمتری نہیں ہوا، انہیں باعزت بھارتی مسلمان کہلانے پر فخر محسوس ہوتا رہا، سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی ٹھیک ٹھاک شرح رہی- پھر قائدین امت نے کچھ ایسے نازیبا فیصلے لیے جنہوں نے ہندوستان میں مسلمانوں کے مستقل کو پرآشوب بنا دیا- مثلاﹰ سیاست سے دور رہنے کا فیصلہ، دین اور دنیا کی تعلیم کے لیے الگ الگ اداروں کا قیام، تبلیغ اسلام سے کوتاہ دستی، اپنے حقوق کے حصول اور انصاف کی بالادستی کے لیے لائحہ عمل تیار نہ کرنا، تنظیموں اور ان کی پالیسیوں کو اپنے اپنے مسلک تک محدود کرلینا- یہ ناتجربہ کاری اور عاقبت نا اندیشی کے کچھ ایسے فیصلے تھے جنہوں نے بھارت کے مسلمانوں کو پیچھے ڈھکیلتے ڈھکیلتے اس موڑ پر لاکھڑا کیا کہ آج انہیں اپنا وجود بچانا مشکل ہوگیا ہے-
ایک وہ وقت تھا کہ بھارت کی حکومت ایک ایک مسلم قائد کی للکار سے لرز جاتی تھی اور ایک آج کا وقت ہے جب حکومت کے مسلم مخالف فیصلوں نے مسلمانوں کی نیند حرام کردی ہے اور وہ للکار بیکار ہوکر رہ گئی ہے- پہلے ہم سے پوچھ کر قانون سازی کا عمل شروع ہوتا تھا اور آج ہمارے خلاف ہی قانون بناکر ہم پر تھوپ دیاجاتا ہے اور ہماری لاکھ چیخیں بھی حکومت کے ارادوں کو مضمحل نہیں کرپاتیں-
بھارت کا مسلمان کہاں سے کہاں آگیا! دیکھتے دیکھتے کیا سے کیا ہوگیا!
لیکن اس کے باوجود افسوس کا مقام یہ ہے کہ آج جبکہ پورا ملک احتجاجی نقشہ بن کر حکومت کے غلط فیصلوں کے خلاف اپنا کردار ادا کر رہا ہے تو ایسی گھڑی میں بھی ہمارے قائدین، ہمارے علماء، ہمارے ائمہ اور اہل مدارس کا نوے فیصد عملہ سوائے زبانی جمع خرچ کے کچھ نہیں کر پارہے ہیں اور بند کمروں کی تبصرہ بازیوں سے باہر نہیں نکل رہے ہیں—-

ہندوستان کو آزاد کروانے کیلے جب آزادی کیلے تحریکیں شروع ہوئیں تب انگریزوں کے خلاف صف اول میں ہمارے آبا و اجداد تھے، یہ انہیں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے انصاف پسند عوام کو اپنے تحریروں اور ولولہ انگیز تقریروں کے زریعے اتحاد و اتفاق کا پیغام دیا اور انگریزوں کے خلاف ایک جھنڈے کے نیچے سبھی نے مل کر آزدی کیلے جد و جہد کی۔ جانوں کے نذرانے پیش کیے اس ملک کی دھرتی کو اپنے خون سے سر سبز و شاداب کیا۔ ہزاروں کی تعداد میں علماء اکرام نے پھانسی کے پھندوں کو قبول کیا نا کہ انگریزوں کی غلامی کو تسلیم کیا۔ انگریزوں سے جہاد کا فتویٰ جاری کیا جس کے بعد انہیں پابند سلاسل کیا گیا اور انہیں اس بات پر اکسایا گیا کہ وہ اپنا فتویٰ واپس لے ہم آزاد کردے گے لیکن انہوں نے جیل کی سلاخوں میں رہنا پسند کیا اور حق و صداقت پر قائم رہے۔ اس وقت ایک فرقہ پرست ٹولہ ایسا بھی تھا جو انگریزوں کے تلوے چاٹنے کا کام کرتے تھے۔ اور آپس میں پھوٹ ڈالنے کا کام کرتے تھے۔

آج اسی ٹولے نے اپنے وجود کے ۱۰۰ سال مکمل کرلیے ہیں۔ جو اپنی تنظیم کے زریعے ملک میں ہندو راشٹر کے قیام کیلے کام کرتے آرہے ہیں۔ اور انکی یہ تنظیم منظم طریقے سے اپنے ناجائز عزائم کو لیکر آگے بھی بڑھ رہی ہے۔ جو آج ہمارے سامنے ہیں دھیرے دھیرے ملک میں غیر انسانی قانون سازی کی جارہی ہے۔ انصاف کا سرے عام قتل کیا جارہا ہے۔ عدلیہ کو اپنی لونڈی بنا دیا گیا ہے۔ جمہوریت کو گنڈا راج میں تبدیل کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔ ایسے ایسے فضول اور غیر منصفانہ ظالمانہ قانون کو جبراً عوام پر مسلط کیا جارہا ہے، جس میں دودھ پیتے بچوں سے لے کر ۱۰۰ سالہ بوڑھی خواتین بھی محفوظ نہیں ہے۔ کشمیر کا خصوصی درجہ ختم کیا گیا۔ عوام کو ایمرجنسی کی صورت میں رکھا گیا، اور اب شہریت ترمیمی قانون کو نافذ کیا گیا ہے۔ اسی طرح این پی آر کے زریعے این آر سی کو پورے ملک میں نافذ کرنے کے عزائم اس فرقہ پرست حکومت کے ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں تقریباً 25 روز قبل جمہوری انداز میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کر رہے طلباء و طالبات پر پولس اور دیگر سنگھی فرقہ پرست عناصر کے زریعے بدترین ظلم و تشدد کیا گیا۔ جس میں کئی افراد زخمی ہوئے کئی گھائل ہوئے۔ ایک طرح ملک کے پردھان منتری نریندر مودی بیٹی پڑھاؤ اور بیٹی بچاؤ کا نعرہ بھی دیتے ہیں اور پھر انہیں بیٹوں پر لاٹھی چارج کی جاتی ہے۔ انہیں بدترین ظلم کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ فائرنگ اور آنسوں گیس کے گولے داغے جاتے ہیں۔ لائبریری اور مسجد میں توڑ پھوڑ کی جاتی ہے۔یہ کونسی جمہوریت ہیں۔
گزشتہ روز جے این یو میں اگزام فیس میں بڑھوتری کے خلاف احتجاج کر رہے طلباء و طالبات پر اے بی وی پی سنگھ کی فرقہ پرست ذیلی تنظیم کے گنڈوں نے لوہے کے راڈ اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ جو کہ ایک منصوبہ بند حملہ تھا۔ اس بات کا علم کیا پولس کو نہیں تھا۔ اور اگر نا بھی ہوتا تو پولس کو کال کرنے کے بعد پولس نے فوراً پہنچ کر فوراً ان گنڈوں پر کاروائی کیوں نہیں کی۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس میں حکومت کا ہاتھ ہے۔ جو اپنے اقتدار کو بچانے کیلے اب گنڈا گردی پر اتر چکی ہے۔عوام پر اپنی دہشت قائم رکھنے کیلے اور انہیں ڈرانے کیلے ایسے اقدامات کر رہی ہے۔ جسکے بعد اس کا الٹا ہی رد عمل دیکھنے مل رہا ہے۔ انصاف پسند عوام متحد ہو چکی ہے اور تمام مل کر ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔جے این یو میں ہوئے حملے کے خلاف پورے ملک میں مختلف یونیورسٹیوں میں مظلوم طلبہ کے حق میں احتجاج شروع ہو چکے ہیں۔ حکومت اپنے ہی جال میں پھنستی جارہی ہے۔ سارے وار الٹے ان ہی پر اثر انداز ہورہے ہیں۔

ہندوستان کا وقار اس نا ہنجار فرقہ پرست حکومت کے وجہ سے پوری دنیا میں داغدار ہورہا ہے۔ لیکن پھر بھی ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ ملک کے وزیر داخلہ یہ کہ رہے ہیں کہ حکومت ایک قدم شہریت ترمیمی قانون کے معاملے میں پیچھے نہیں ہٹے گی تو عوام نے بھی اور مہاراشٹر کی حکومت نے بھی ان سے کہا کہ تم پیچھے نا بھی ہٹے تو عوام اب آگے بڑھتی رہی گی۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے مسلمان انصاف پسند سیکولر عوام کو ساتھ لے کر اپنے حق کیلے آواز اٹھائے کسی بھی قیمت پر ظالموں کے سامنے نا جھکے اور ناہی ڈرے۔ بلکہ ان فرقہ پرستوں کا جمہوری انداز میں مقابلہ کریں۔ اور جیسے حالات ہوگے اسکے مطابق اپنے آپ کو مقابلے کیلے تیار رکھے۔ حالات کی تبدیلی سب اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی تھامے رکھیں اور زمینی سطح پر ہر شخص اپنی ذمے داری کو اور وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے اپنے طور جو بھی سپورٹ ہم اپنے حق کیلے اور آئین کی حفاظت کیلے کرسکتے ہیں یا جو لوگ میدان میں اتر چکے ہیں انکی ہرممکن مدد کیلے تیار رہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ ہم پر حالت آئے ہیں مسلمانوں نے اس سے بھی برے حالات کا مقابلہ کیا ہے۔ آزادی کی جنگ یونہی نہیں لڑی گئی تھی۔
آج مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے چند باتوں کو ذہن نشین کرلیں۔ ایک تو یہ کہ فضول خرچی سے بچے، کفایت شعاری سے کام لے۔ جو افراد مالدار ہے اور اللہ تعالی نے انہیں نوازا ہے تو وہ اپنے سے نیچے کے افراد کی ہر ممکن مدد کریں انہیں قدموں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ جب حالت خراب ہوتے ہیں تو آپ کا پیسہ کسی کام نہیں ہوگا۔ بلکہ اسے اللہ کی رضا کیلے آج ہی صرف کریں۔ دوسری بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لے فرقہ بندی کو بلکل بھی جگہ نہ دے۔ مسلکی اختلافات کو دفن کردیں۔ آپسی تعلقات کو مضبوط کریں۔ تیسری بات یہ کو آپسی مسائل کو اپنے علاقے کے بڑے اور ذمہ دار افراد کے سامنے رکھ کر حل کریں۔ عدالتوں کے چکر لگانے اور فضول پیسہ برباد کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے بدنامی اور انتشار کے۔ چوتھی بات یہ کہ صحت مند رہنے کی کوشش کریں گھر کے ہر فرد کو اس قابل بنائیں کہ وہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کا تحفظ و دفاع کر سکے اور حفاظت کرنے کی صلاحیت رکھے۔ ڈر و خوف کو اپنے قریب نا آنے دے۔ ملک و آئین قوم و ملت کے حفاظت کیلے نڈر ہوکر حالت کا مقالہ کریں۔ یہی حالات کا تقاضا ہے۔ ورنہ یہ فرقہ پرست عناصر غریب عوام کو غلامی میں دھکیلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپنے نسلوں کے تحفظ کیلے آج سڑکوں پر اتر کر ان نوجوانوں کے قدم سے قدم ملانے کی اشد ضرورت ہے۔ ۷۰ سالوں سے مصلحت کا لبادہ اوڑھ کر ہم نے صرف کاندھوں پر جنازے اٹھانے کے سوا کچھ نہیں کیا اور اسکا نتیجہ ہمارے سامنے ہیں‌۔ اس لے متحد ہوکر متحرک ہوجائے۔ اب قیادت کا انتظار نا کریں یہ نوجوان نسل خود اپنے اندر ایک نئی قیادت کو جنم دینے کے لائق ہوچکی ہے۔ :::::::::::
Attachments area

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button
Close
%d bloggers like this: