مضامین

کیا قرآن میں ترکہ تقسیم غلط ہے

مفتی ظہیر احمد قاسمی ایل ایل ایم. ﴿شریعة اینڈ لاء﴾ کانپور یوپی انڈیا

ایک صاحب نے ترکہ کی تقسیم میں غلطی ثابت کرکے دعویٰ کیا تھا کہ قرآن مخلوق ہے. تو

اس کا جواب درج ذیل ہے ؛۔
فرض کریں ایک ایک شخص لواحقین میں ایک بیوی، دو بیٹیاں اور والدین چھوڑ کر فوت ہو جاتا ہے
اور اسکے ترکے میں قرضوں وغیرہ کی ادائیکی کے بعد ستائیس ہزار روپے بچتے ہیں
چلیں اب ہم آسانی سے سمجھنے کیلئے کل ترکے کو﴿24000﴾ کی بجائے﴿27000﴾ سے مسئلہ کو قرآن کے حکم کے مطابق تقسیم کر کے دیکھتے ہیں۔
اور مسئلہ اب ہم اس طرح بنائیں گے۔

بیٹیوں کا دو تہائی = 27000 X 2/3
= 16000

والد کا چھٹا حصہ = 27000 X 1/6
= 04000

والدہ کا چھٹا حصہ = 27000 X 1/6
= 04000

بیوی کا آٹھواں حصہ = 27000 X 1/8
= 03000

دراصل اس مسئلہ میں علم فرائض کی اصطلاح میں عول واقع ہو گیا ہے عول کہتے ہیں جب مخرج کم پڑ جائے اور وارثین کے حصص بڑھ جائیں تو ایسی صورت میں مخرج میں کچھ اضافہ کر لیا جاتا ہے اس اضافہ کو اہل فرائض کی اصطلاح میں عول کہتے ہیں جیسے مزکورہ بالا مسئلہ میں اصل مخرج چوبیس تھا اور وارثین کے حصص ستائیس ہو گئے تو اب ہم مخرج میں اضافہ کر کے مسئلہ چوبیس کی بجائے ستائیس سے بنایئں گے اس طرح مجموعی طور پر مخرج ثمن سے تسع یعنی آٹویں سے نواں ہو گیا اس طرح ہر ایک وارث کا حصہ بھی اسی تناسب سے کم ہو جائے گا ۔ یعنی پہلے ہر ایک وارث کو اسکا حصہ چوبیس سے مل رہا تھا اب وہ تھوڑا کم ہو کر ستائیس سے ملے گا اس لئے سمجھانے کے لئے ہم نے ترکے کو ستائیس ہزار فرض کیا ہے۔
اور اگر ہم ترکہ ﴿24000﴾ ہی فرض کرتے ہیں تو قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ اس طرح ہوگا۔

بیٹیوں کا دو تہائی = 24000 X 2/3
=14222.22 2/9

والد کا چھٹا حصہ = 24000 X 1/6
= 3555.55 5/9

والدہ کا چھٹا حصہ = 24000 X 1/6
= 3555.55 5/9

بیوی کا آٹھواں حصہ = 24000 X 1/8
= 2666.66 6/9 (2/3)

= Total: 24000

اس طرح ہر ایک وارث کے حصہ میں ثمن سے تسع یعنی آٹھویں سے نویں حصہ کے تناسب سے کمی واقع ہو جائیگی۔ یعنی بیٹیوں کو ﴿16000﴾ کی بجائے 14222.22 تقریباً اور والد اور والدہ کو ﴿4000﴾ کی بجائے 3555.55 تقریباً اور بیوی کو ﴿3000﴾ کی بجائے 2666.66 روپئے تقریباً دئیے جائیں گے۔

جیسا کہ کبھی قرض خواہوں کا قرض مقروض کی رقم سے بڑھ جاتا ہے یعنی قرضہ زیادہ ہوتا ہے اور ادائیگی کے لئے رقم کم ہوتی ہے تو پھر ان کے مابین ان کے قرضوں کے تناسب سے رقم سے ادائیگی کی جاتی ہے مثلاً ایک شخص کا قرضہ پچاس ہزار روپئے اور دوسرے کا ایک لاکھ روپئے ہے اور مقروض کے پاس رقم ادایئگی کے لئے صرف پچھتر ہزار روپئے ہے تو پچاس ہزار والے قرض خواہ کو پچیس ہزار روپئے اور ایک لاکھ والے کو پچاس ہزار روپئے دئیں جایئں گے۔ یعنی ان کے قرضوں کے تناسب سے﴿یعنی ثلث اور ثلثان﴾ ادائیگی ہوگی۔
اسی طرح کبھی مخرج کو کم بھی کر دیا جاتا ہے اس کو اہل فرائض کی اصطلاح میں رد کہتے ہے یعنی مخرج کے مقابلہ میں وارثین کے حصص کم ہوتے ہے تو بچے ہوئے حصص کو وارثین کو ان کے حصہ کے تناسب سے رد ﴿لوٹا﴾ کر دئیے جاتے ہے۔ مثلاً کسی نے اپنے ورثاء میں صرف دو لڑکیوں کو چھوڑا تو یہاں پر تین کی بجائے مسئلہ دو سے بنایا جائے گا۔ یعنی ان دونوں لڑکیوں کو ثلث۔ ثلث کی بجائے سدس ۔ سدس کا اضافہ کرکے نصف ۔ نصف دیا جائے گا۔ اس طرح کبھی مخرج میں اضافہ کر دیا جاتا ہے ﴿جسکا نام عول ہے﴾ اور کبی مخرج میں کمی کر دی جاتی ہے ﴿جسکا نام رد ہے﴾ اور علم فرائض میں عول اور رد کی بیشمار مثالیں ہیں۔ اور ان کے قواعد اور ضوابط تفصیل سے درج ہیں۔
اس لئے قرآن پاک میں بتائے ہوئے حصص میں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں۔ وارثین کے احوال کے مختلف ہونے سے ان کے حصص اور سہام میں بھی اختلاف ﴿کمی ۔ زیادتی﴾ ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ اختلاف ﴿کمی ۔ زیادتی﴾ ان کے قرآن و حدیث میں دئے ہوئے حصص کے تناسب سے ہوتی ہے جو شریعت کے خلاف نہیں ہے۔ جیسا کہ اوپر مثالوں سے واضح کیا جا چکا ہے۔ امید کہ مسئلہ تھیک سے سمجھ میں آ گیا ہوگا۔
واللہ اعلم بالصواب
والسلام

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: