اسلامیات

کیا کرونا وائرس کی وجہ سے چار آدمی مل کر جمعہ پڑھ سکتے ہیں؟

ثمیر الدین قاسمی، مامچیسٹر، انگلینڈ

چھٹی قسط
الجواب
، حنفیہ کا مسلک تو یہی ہے کہ شہر کی جامع مسجدمیں جمعہ ہے۔ لیکن اس وباء عام کے وقت میں امام شافعی ؒ کے مسلک پر فیصلہ دیا جا سکتا ہے، میں حدیث پیش کر رہا ہوں فیصلہ آپ خود کریں، یا اپنے یہاں کے مفتیان کرام سے پوچھ کرکر یں
اور یہ ممکن نہ ہو سکے تو گھر پر جمعہ کے دن ظہر کی نماز چار رکعتیں پڑھ لیں، کیونکہ اس وقت بہت مجبوری ہے، ہر جگہ لوک ڈون ہے، اس کی خلاف ورزی نہ کریں

اس حدیث میں ہے کہ امام کے تین آدمی ہو تو جمعہ کی نماز پڑھ سکتا ہے
۔ عن ام عبد اللہ الدوسیۃ قالت سمعت رسول اللہ ﷺ یقول الجمعۃ واجبۃ علی اھل کل قریۃ وان لم یکونوا الا ثلاثۃ ورابعھم امامھم۔ (دار قطنی، باب الجمعۃ علی اہل القریۃ ج ثانی ص ۷ نمبر ۸۷۵۱/ ۴۹۵۱/ سنن بیہقی، باب العدد الذین اذا کانوا فی قریۃ وجبت علیھم الجمعۃ، ج ثالث، ص ۵۵۲، نمبر ۶۱۶۵)
ترجمہ: حضرت ام دوسیہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے حضور ؐ سے سنا ہے کہ، آپؐ نے فرمایا ہر گاوں والوں پر جمعہ واجب ہے اگر چہ تین آدمی ہوں، اور چوتھا آدمی امام ہو
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ امام کے ساتھ چار آدمی ہوں تب بھی گھر میں جمعہ پڑھ سکتے ہیں
اس وبا کے موقع پر چار آدمیوں کے ساتھ گھر میں جمعہ پڑھیں، یا ظہر کی نماز چار رکعت پڑھیں، اور اس میں بھی یہ خیال رکھیں وہ سب دور دور کھڑے ہوں
ثمیر الدین قاسمی، مانچیسٹر، انگلینڈ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: