اہم خبریں

کیا ہوگا آسامی عوام کی شہریت؟

این آر سی کا کٹ وف یار کیا ہوگا؟ لٹکا ہوا ہے فیصلہ ملک کے عدالت عظمی میں

نئی دلی، 10 جنوری، منگلبار : آج ملک کے عدالت عظمی میں آسام کی تیار شدہ nrc کو لیکر جو مقدمات چل رہے ہیں ان پر سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی Constitutional Banch میں سنوائی ہوئی. 2009 سے چل رہے ان مقامات کو Constitutional Banch میں سنوائی کرنے کے لئے IA no. 20/2015 فائل کیا تھا. اس وقت کے دو ججوں کی ڈوزنل بینچ نے 2016 میں اس سلسلہ کے تمام مقدمات کو کنسٹٹوشنل بینچ کو بھیجا. ان تمام مقدمات میں سے اہم مقدمات پر ابھی سنوائی شروع ہو چکی ہے WP(C) 562/2012 (آسام میں شہریت کا آخری تاریخ 1951 ہوگا یا 1971) WP(C) 274/2009, (NRC Monitorin) اور WP(C) 876/2014 (آسام معاہدہ 1985 کا دفعہ نمبر 6A کے جواز) وغیرہ پر لگاتار سنوائی چل رہی ہے. جن کے اندر جمعیت علماء ہند کے صدر حضرت مولانا محمود اسعد مدنی اور جمعت علماء آسام کے صدر حضرت مولانا بدرالدین اجمل کی طرف سے دئے گئے WP (C) No. 1092/2019, IA no. 5/2013, Dairy no. 21214/2018, Diary no. 21377/2018 اور IA no. 8/2012 وغرہ مقدمات بھی شامل ہے.

پچھلے دنوں پانچ رکنی کنسٹٹوشنل بینچ نے nrc کے تمام معاملات کو سمیٹ کر 13 موضوع پر سوالات قائم کرنے کا فیصلہ دیا تھا. پھر آج تمام وکیلوں کے مشورے کے مطابق ان 13 موضوعات کو پھر سمیٹ کر اولا صرف آسام معاہدہ 1985 کے دفعہ 6A پر سنوائی لینے کا فیصلہ لیا جس پر ہر فریق کے وکلاء اتفاق تھے. 14 فروری سے لگاتار باقاعدہ اسکی سنوائی شروع ہو جائیگی.

مسلمان تنظیموں کی طرف سے سینیئر ایڈووکیٹ دشینت داوے، ایڈووکیٹ کپل سبال، ایڈووکیٹ سلمان خورشید، ایڈووکیٹ اندرا جئسنگھ، ایڈووکیٹ محمد شمشاد، ایڈووکیٹ منصور علی، ایڈووکیٹ مصطفیٰ خدام حسین وغرہ کے ساتھ ساتھ جمعیت علماء کی طرف سے ریاستی جمعیت علماء آسام کے اڈیشنل جنرل سکریٹری مولانا فضل الکریم قاسمی موجود تھے.

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: