مضامین

کیا یہی ہے نیتاجی سبھاش چند ربوس کے افکار و نظریات کا ہندوستان؟

از قلم۔محمد اشفاق عالم نوری فیضی رکن۔ مجلس علمائے اسلام مغربی بنگال شمالی کولکاتا نارائن پورزونل کمیٹی کولکاتا۔136 رابطہ نمبر۔9007124164

نیتاجی سبھاش چندربوس نے جس ہندوستان کے متعلق افکار و نظریات اور خیالات پیش کیا تھا آخر وہ ہندوستان کہاں ہے؟کیا انھوں نے ایسے ہی ہندوستان کے تعلق سے اپنا افکار و نظریات اور خیالات پیش کیا تھا کہ اس ہندوستان میں جہالت، بے کاری، بے روزگاری،فاقہ کشی ،انسانیت کشی اور فرقہ پرستی کی گرم بازاری ہو؟کیا اس عظیم مجاہد آزادینیتا جی سبھاش چندر بوس نے ایک ایسے ملک کا سپنا دیکھا تھا جہاں کامیڈیا حکومت وقت کا چمچہ بن جائے اور عدالت،اقتدار کی پشت پناہی کرنے لگے؟کیا بھارت کے اس عظیم مرد مجاہد نے ایک ایسے ملک کا خواب دیکھا تھا، جہاں انسانوں کی جانیں جانوروں کی جانوں سے بھی کم اہمیت رکھیں جائیں؟ یقینا نہیں! اورہرگز نہیں!
1947میں ملک کی آزادی کے وقت اگر نیتاجی سبھاش چند بوس موجود ہوتے تو شاید ملک کا سیاسی اور سماجی نقشہ ہی کچھ اور ہوتا مگر شاید خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ نیتاجی نے تو ایک متحد ہندوستان کا خواب دیکھا تھا مگر ہمیں جو آزاد ہندوستان ملا وہ بٹا، کٹا اورحقیقت تو یہ ہے کہ اندر سے بھی پورا کھوکھلا ہوچکا تھا۔ بھارت،پاکستان اور بنگلہ دیش کا ایک ملک کی شکل میں متحد ہونا ایک خوشنما ملک تھا مگر آج ملک ہے جس پر بھگوادھاری براجمان ہوکر پورے ہندوستان کے عوام کی نیند حرام کیے ہوئے ہیں ہر آے دن کسی نہ کسی کو اپنا نشانہ بنا کر اسکو قید و بند کی صعوبتوں میں ڈال کر انکی مستقبل کی زندگی میں قفل لگا دینا چاہتے بھلے ہی ان کا نعرہ "سب کا ساتھ سب کا وکاس” ہے لیکن معاملہ بالکل ہی اسکے بر عکس نظر آتا ہے کبھی کسی مذہب کو لو جہاد،گئوگشی،مآب لنچنگ،تین طلاق، بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر،نوٹ بندی،این آر سی ،سی اے اے جیسے قوانین نافذ کرکے اپنا دیر تک اپنا تسلط قائم رکھنا اور ہندو مسلم منافرت پیدا کرنا یہ انکا شوہ ہوچکا ہے۔ کیا ہندوستان کے تعلق سے نیتا جی سبھاش چندر بوس کے افکار و نظریات اور خیالات اسی طرح تھے ؟اگر نھیں تو پھر انکے افکار و نظریات اور خیالات سے انہیں سبق لینا چاہیے جو اپنے آپ کو نیتا جی کے افکار و نظریات اور خیالات پر چلنے کا دعویٰ کررہے ہیں اور ہر سال 23/جنوری کو نئے عزائم کے ساتھ انکا جنم دن مناتے ہیں اور دوسروں کو درس دیتے باز نہیں رہتے ۔ بدقسمتی سے1947ء میں نیتاجی موجود نہیں تھے اورایسے حالات بن گئے کہ ملک کی تقسیم عمل میں آگئی۔ حالانکہ نیتاجی سبھاش چندر بوس جیسے لیڈروں کا نظریہ ہمیشہ سے متحدہ ہندوستان کے حق میں تھا۔ سماج وادی لیڈر رام منوہر لوہیا بھی متحدہ ہندوستان کی حمایت میں رہے ہیں۔

نیتاجی کے نظریات کا قتل :
حالات کی ستم ظریفی ہے کہ سنگھ پریوار اچانک نیتاجی سبھاش چندر بوس کا ہمدرد بن گیا ہے۔”آئیکان” کی تلاش میں سرگرداں بھگواوادیوں نے آج کل ان کی تصویروں پر پھول چڑھانا شروع کردیا ہے۔سوال یہ ہے کہ کیاہندووادیوں کو واقعی ان سے عقیدت ہے؟ کیا وہ نیتاجی کے نظریات کو مانتے ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وہ واقعی نیتاجی کے نظریات میں یقین رکھتے ہیں تو پھربابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر یہ کہاں کی دانشمندی ہے اور پھر برسوں سے مندر کی سیاست کیوں کرتے رہیں؟ دھرم کی راج نیتی کیوں کرتے ہیں؟مذہب کے نام پر لوگوں کو تقسیم کرنے کا کام کیوں کرتے ہیں؟حالانکہ نیتاجی کی روح پر اس سے بڑا جبر کیا ہوگا کہ ان کے نظریات کے قاتل ہی خود کو ان کے نظریات کاحامی بتاکر ان کی مورتی پر پھول چڑھا رہے ہیں۔ نیتاجی کے نظریات کا دوسراقتل خود ان کے اپنے اہل خانہ کی طرف سے کیا گیا جب بعض لوگوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ سچ پوچھا جائے تو نیتاجی سبھاش چندر بوس کی روح تڑپ رہی ہوگی جب اسے یہ احساس ہوتا ہوگا کہ ان کے اہل خاندان ہی ان کے نظریات کا قتل کر رہے ہیں۔ وہ ایک ایسی پارٹی میں شامل ہوئے ہیں جس کے خیالات سبھاش چندر بوس سے مختلف ہیں۔ بوس جس ہندتو کے سب سے بڑے مخالف تھے، آج اسی ہندوادی پارٹی کے ممبر بن چکے ہیں ان کے پڑپوتے چندرکمار بوس اور اس خاندان کے دیگر لوگ بھی وزیراعظم سے قربت کا بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ چندر کمار بوس مغربی بنگال اسمبلی کے گزشتہ انتخابات سے قبل بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے اور اس کے ٹکٹ پر الیکشن بھی لڑا تھا۔ وہ بی جے پی کے قومی صدر امت شاہ کی موجودگی میں ہوڑہ (مغربی بنگال)کی ایک پارٹی ریلی کے دوران بی جے پی میں شامل ہوئے تھے۔چندر کمار بوس، نیتا جی سبھاش چندر بوس کے بڑے بھائی شرت چندر بوس کے پڑپوتے ہیں۔
بی جے پی میں جواہرلعل نہرو کے نواسے ورون گاندھی اوراندرا گاندھی کی بہومنیکا گاندھی پہلے سے ہیں اور اب اس نے نیتاجی سبھاش چندربوس کے پڑپوتے کو بھی شامل کرلیا ہے۔وہ ان خاندانوں کے لوگوں کو جوڑنے میں لگی ہے جن کا جنگ آزادی میں نمایاں رول رہاہے۔سنگھ پریوار کے پاس کوئی قومی ہیرو نہیں اور نہ قومی تحریک میں شامل ہونے کی کوئی تاریخ ہے،لہٰذا وہ ان قومی ہیروز پر بھی قبضہ کرنے میں لگا ہوا ہے جن کا ہندتو سے کوئی لینا دینا نہیں رہاہے۔ مہاراناپرتاپ اور شیواجی سے لے کر نیتاجی سبھا ش چندر بوس اور سردار ولبھ بھائی پٹیل تک اس کے غیراخلاقی قبضے کا شکار ہوگئے ہیں۔ نہرو بمقابلہ سبھاش کا تنازعہ نہرو اور سبھاش کا نہیں بلکہ آر ایس ایس کا ہے جو کبھی سبھاش یا نہرو کے ساتھ نہیں رہا۔ چونکہ ان کے پاس اپنے قومی ہیرو ہیں نہ قومی تحریک میں شرکت کا کوئی اتہاس لہٰذا وہ اس پرانی وراثت پرقبضہ کرنے پر آمادہ ہیں۔سنگھ پریوار کے لئے نیتا جی کو بھگوان بنا کر پوجنا اتنا ہی آسان ہے جیسے وہ فی الوقت امبیڈکر کو وشنو کا اوتار بنانے پر تلا ہواہے اور کانشی رام کو بھارت رتن دینے کی سوچ رہا ہے ۔ اب 23جنوری کو نیتاجی کی جینتی آرایس ایس بھی مناتی ہے ۔ ان نیتاجی کی تصویروں پر پھول چڑھائے جاتے ہیں جو ہمیشہ ہندتو کے خلاف رہے اور اسے ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ مانتے رہے۔ جواہر لال نہرو اور سبھاش چندر بوس دونوں سیکولر ،سوشلسٹ بھارت کاخواب دیکھتے تھے۔ دونوں، بھارت کو آزاد کرانے کی جنگ میں اہم کردار میں تھے لیکن ان کے درمیان کچھ نظریاتی اختلافات بھی تھے۔اس اختلاف کے باوجود سیکولرزم اور سماج وادپر ان کے بیچ کوئی اختلاف نہیں تھا۔

ہندتو کے خلاف تھے نیتاجی:
نیتاجی جہاں ایک طرف سامراجیت کے خلاف تھے، وہیں دوسری طرف ہندومہاسبھا کے نظریات کے بھی مخالف تھے۔ انھوں نے بنگال میں ہندومہاسبھا کو لگام دینے پر زور دیا تھا جو یہاں ہندووں اور مسلمانوں کے بیچ دنگے کرانے کی کوشش میں لگا تھا۔وہ سامراجیت اور سرمایہ دارانہ نظام سے بڑا خطرہ ہندتو کو مانتے تھے۔نیتا جی نے دو ٹوک الفاظ میں کہاتھا”مسلمان ہمارے دشمن ہیں اور انگریز ہمارے دوست ہیں، یہ ذہنیت ہماری سمجھ سے باہر ہے۔” نیتا جی نے بار بار مطالبہ کیا تھا کہ ملک کے تمام کمیونسٹ، سیکولر اور ڈیموکریٹک طاقتوں کا اتحاد بنا کر کانگریس، آزادی کا ہراول دستہ بنائے اور ہندوتو کی قیادت کے خلاف جم کر لوہا لیں۔نیتا جی کا ماننا تھا کہ مسلمانوں سے نفرت کی وجہ سے ملک تقسیم کرنے پر ہندوادی جماعتیں تلی ہیں اور کانگریس جان بوجھ کر ان قوتوں کی مددگار ہے۔ نیتا جی کامانتے تھے کہ ہندوتو سے ملک کا چپہ چپہ خطرے میں ہے جو آج بھی سب سے بڑی حقیقت ہے۔نیتاجی نے جو آزاد ہند فوج بنائی تھی وہ سیکولر خطوط پر بنائی گئی تھی اور اس میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ ان کی ایک جانب کرنل ڈھلوں اور کرنل سہگل ہوتے تھے تو دوسری طرف جنرل شہنواز ہوتے تھے۔اس خالص ہندوستانی فوج کا ہندوتو سے دور دور کا واسطہ نہیں تھا۔

موقع پرستی کی سیاست کے پرانے کھلاڑی:
آزادی کی جنگ میں گردن تو دور ناخن تک نہ کٹوانے والے آج سب سے بڑے محب وطن بن گئے ہیں اور لوگوں کو دیش بھکتی کا درس دے رہے ہیں۔ اس ملک کے لئے اس سے بڑی ستم ظریفی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟ بات ان کے خود کے تمغے تک محدودہوتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن ان لوگوں نے تواب باقاعدہ حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ بھی باٹنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے لئے انہوں نے نیتا جی سبھاش چندر بوس اور جواہر لال نہرو کو آمنے سامنے کیا ہے اور پھر دونوں کے درمیان فرضی طریقے سے درار پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یہ سوال سنگھ پریوار سے ضرور پوچھا جانا چاہئے کہ جب نیتا جی ملک سے باہر رہ کر انگریزی حکومت کی چولیں ہلا رہے تھے اور نہرو کانگریس کی قیادت میں ہندو مسلم ایکتا کے نعرے لگارہی تھی، تب یہ سنگھی کیا کر رہے تھے؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ شیاما پرساد مکھرجی اس وقت مسلم لیگ کے ساتھ مل کر انگریزوں کی سر پرستی میں بنگال میں حکومت چلا رہے تھے؟مسلم لیگ کے رہنما فضل حق صوبے کے وزیر اعلی تھے اور مکھرجی صاحب نائب وزیر اعلی۔اسی طرح سے سندھ اور شمال مغربی سرحدی صوبے (صوبہ سرحد) میں بھی اسی اتحاد کی حکومتیں تھیں۔ سندھ میں تو پہلے اللہ بخش کی حکومت تھی۔ اس سیکولر حکومت میں ہندو، مسلم اور سکھ سبھی شامل تھے لیکن انگریزوں کی مدد سے مسلم لیگ کے غنڈوں نے 1943 میں اللہ بخش کو قتل کر دیا پھر اس کے بعد سندھ میں مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کے اتحاد کی مشترکہ حکومت بنی۔ اس وقت دائیں بازو خیمے کے سب سے بڑے لیڈرویر ساورکر نے اسے عملی سیاست کی ضرورت قرار دیا تھا۔ ساورکر اس وقت ہندو مہاسبھا کے صدر تھے۔ انگریزوں سے ان کی یاری یہیں تک محدود نہیں تھی۔ انگریزی فوج میں فوجیوں کی بھرتی کے لئے ہندو مہاسبھا اور اس کے سربراہ نے باقاعدہ جگہ جگہ بھرتی کیمپ لگوائے تھے پھر انہی جوانوں کو شمال مشرقی محاذ پر سبھاش چندر بوس کی قیادت والے فوجیوں کا سینہ چھلنی کرنے کے لئے بھیجا جاتا تھا۔ ساورکر نے تب کہا تھا کہ جاپان کی دوسری جنگ میں شامل ہونے سے ہم براہ راست برطانیہ کے دشمنوں کی زد میں آ گئے ہیں۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہندو مہاسبھا کو خاص طور پر بنگال اور آسام کے ہندوؤں کو فوجی فورسز میں شامل ہونے کے لئے حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔اب غور کا مقام یہ ہے کہ جو ہندو وادی کل تک نیتاجی کی پیٹھ میں خنجر اتار رہے آج وہی لوگ زخم پر مرہم پٹی لگاکر اپنے آپ کو نیتا جی سبھاش چندر بوس کا بھگت اور حامی ثابت کرتے ہوے نظر آرہا ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: