اسلامیات

کیسی عورت سے نکاح کرے

(حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ کی کتاب : رہ نمائے مسلم سے اقتباس۔ یہ کتاب پیدائش سے لے کر موت تک ایک مکمل اسلامی لائف گائڈ ہے۔)

سرکار دوجہاں ﷺ نے عورت کو دنیا کا بہترین سرمایہ کہا ہے۔ ارشا د ہے کہ:
اَلدُّنْیَا کُلُّھَا مَتَاعٌ وَ خَیْرُ مَتَاعِ الدُّنْیَا اَلْمَرْأۃُ الصَّالِحَۃ.ُ(مسلم)
پوری دنیا ایک سرمایہ ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دنیا کی تمام نعمتوں سے بڑھ کر عورت ہے ، لیکن ہر عورت نہیں؛ بلکہ وہ عورت جو نیک ہو۔ صالحہ ایک ایسی صفت ہے، جو تمام خوبیوں کو اپنے اندر داخل کرلیتی ہے ۔ زنِ صالحہ وہی ہوسکتی ہے، جو خدا کی فرماں بردار ہو۔ نماز روزے کی پابند ہو۔ اخلاق جمیلہ سے آراستہ ہو۔ شوہر کی تابعدار ہو۔ بچوں کی شفیق ماں ہو۔ گھر کی منتظمہ ہو۔ پڑوسیوں کے حقوق کی رعایت رکھتی ہو۔ زبان اس کے قابو میں ہو۔ کسی کو ایذا و تکلیف نہ دیتی ہو۔ اپنے پر دوسروں کے آرام کو مقدم رکھتی ہو۔ پاک دامن ہو۔ عزت و آبرو کی حفاظت کرنے والی ہو۔ اور بھی دوسری اچھی باتوں سے آراستہ ہو۔ ابن ماجہ کی ایک حدیث میں نیک عورت کی یہ تعریف آئی ہے کہ جب اس کو حکم دیا جائے، تو اس کی تعمیل کرے ۔ جب خاوند اس کی طرف دیکھے، تو اس کو خوش کردے۔ اور اگر کبھی اس کو قسم دی جائے، تو اس کو پوری کردے۔ اگر خاوند کہیں چلا جائے، تو خاوند کے پیچھے اپنی عصمت اور خاوند کے مال کی حفاظت کرے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ’ نیک عورت رات کا تارا اورصبح کا ہیرا ہے‘۔ ؂
عورت اگر ہے نیک تو جنت میں ہے مقیم
کونین کی دولت لیے رہتی ہے وہ نعیم
اگر نیک کے ساتھ حسین بھی ہو تو اور بھی بہتر ہے۔ ؂
زنِ خوب فرماں برو پارسا
کند مرد درویش را بادشاہ
صلاحِ دنیا و دین ست صحبت زنِ نیک
زہے سعادت آں کس کہ زن حسین دارد
نیک عورت کی صحبت دین و دنیا کی بناؤ ہے ۔ اس شخص کی کیا ہی نیک بختی ہے جو حسین عورت رکھتا ہے۔ یعنی نیک عورت سے دین و دنیا دونوں بنتی ہے ۔ اگر اس پر حسین ہو، تو اس شخص کی خوش قسمتی کا کیا کہنا۔ ؂
ز ہمنیشنِ نکو کام دل تواند یافت
کسیکہ طالع فرخندہ ہم چنیں دارد
جوشخص مبارک قسمت رکھتا ہے ، وہی اچھی عورت سے دلی مقصد حاصل کرسکتا ہے ؛ لیکن اگر عورت نیک نہیں، بد خصلت و نافرمان ہے، تو موذی مار آستین ہے ۔ گو وہ کتنی ہی حسین کیو ں نہ ہو، مرد کے لیے وبال جان ہے ۔ ؂
بری عورت بھلے انسان کے گھر
سزا دوزخ کی ہے دنیا کے اندر
بچا ائے رب بری عورت سے ہم کو
ہمیں کر تو عطا اک نیک ہمسر
اس لیے نکاح کے اندر اس کا بڑا خیال رہے کہ عورت نیک، خوش اخلاق ہو، پاکدامن ، سمجھد ار ہو، گو حسن و جمال میں یکتائے روزگار نہ ہو۔ ؂
سیرت کے ہم غلام ہیں صورت ہوئی تو کیا
سرخ و سفید مٹی کی مورت ہوئی تو کیا
باپ سے کہیں زیادہ ماں کے اخلاق و کردار کا بچوں کے اندر اثر ہوتا ہے ، اس لیے دھن دولت کا قطعا خیال نہ کریں، جیسا کہ اس زمانہ میں کیا جاتا ہے ؛ بلکہ سیرت اور کردار کا پُتلا تلاش کریں ، چاہے جہاں ملے۔ پیغمبر خدا ﷺ نے فرمایا کہ عورتوں میں چار باتیں تلاش کی جاتی ہیں :
مال ۔ نسب۔ جمال اور دین۔لیکن ائے مخاطب!
فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّیْنِ تَرِبَتْ یَدَاکَ۔ (بخاری و مسلم)
تو دین والی کو اختیار کر۔ تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ
اذَا خَطَبَ اِلَیْکُمْ مَنْ تَرْضَوْنَ دِیْنَہُ وَ خُلُقَہُ فَزَوَّجُوْہُ۔
(ترمذی)
جب تم کو نکاح کا پیغام ایسا آدمی دے، جس کی دینداری اور عادت تم کو پسند ہو تو اس سے نکاح کرلو۔
اس لیے کہ نکاح سے جو مقصد ہے ، ایسی عورت سے بحسن و خوبی انجام پاسکتا ہے۔ شوہر کی اطاعت، بچوں کی خدمت ، عزت و آبرو کی حفاظت ، حسن معاشرت، مال کی حفاظت، دکھ تکلیف پر صبر ایسی ہی عورت کرسکتی ہے۔
اگر دینداری اور خوب سیرتی نہیں تو مال کا غرور، حسن کا غرور، خاندانی غرور آئے دن جنگ برپا کرے گا اور خادم مخدوم بننے کی کوشش کرے گا ، جس سے مرد، یا تو غلام بن کر رہے گا، یا پھر نفاق کی خندق اس قدر وسیع ہوگی کہ پھر اسے پاٹ نہ سکے گااور تفرقہ کی نوبت آئے گی ۔ اسی لیے حضور پر نور ﷺ نے فرمایا :
ایک کالی نکمی مگر دین دار عورت زیادہ بہتر ہے بد دین خوب صورت عورت سے ۔ (ابن ماجہ)
کسی شاعر نے کہا ہے ۔ ؂
سیرت نہیں ہے جس میں وہ صورت فضول ہے
جس گل میں بو نہیں ہے وہ کاغذ کا پھول ہے
حسن صورت چند روزہ حسن سیرت مستقل
اس سے خوش ہوتی ہیں آنکھیں، اس سے خوش ہوتا ہے دل
البتہ اگر یہ خوبیاں کسی شریف خاندان کی عورت میں ہوں، تو بہت خوب۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ
تَخَیَّرُوْا لِنُطَفِکُم، فَا8نَّ النِّسَاءَ یَلِدْنَ أشْبَاہَ ا8خْوَانِھِنَّ وَ أخْوَاتِھِنَّ (ابن عدی وابن عساکر)
اپنے نطفوں کے لیے عمدہ محل پسند کرو، اس لیے کہ عورتیں اپنے بھائیوں اور بہنوں کے مانند بچے جنتی ہیں۔
یعنی خاندانی اثرات بچوں میں ہوتے ہیں، اس لیے اچھے خاندان کے اچھے اثرات بچوں میں آئیں گے۔ اچھے خاندان وہی ہیں، جس میں دینداری اور اخلاق مندی ہیں۔
نکاح سے جہاں مقصد تعلقات کی خوشگواری کے ساتھ اپنے دین اور شرمگاہ کی حفاظت اور گھر کا انتظام ہے ، وہاں نکاح سے اہم مقصد حصول اولاد بھی ہے ۔ اس لیے اس خاندان کی عورت سے نکاح کرنا چاہیے، جس خاندان کی عورتیں اولاد کثیر جنتی ہوں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا :
دوست رکھنے والی، کثیر اولاد جننے والی عورت سے نکاح کرو۔ میں امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔ (ابو داود و نسائی)

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: