اہم خبریں

کیسے مرد سے نکاح کرے

(حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ کی کتاب : رہ نمائے مسلم سے اقتباس۔ یہ کتاب پیدائش سے لے کر موت تک ایک مکمل اسلامی لائف گائڈ ہے۔)

اسی طرح اگر کوئی اپنی لڑکی کا نکاح کسی لڑکے سے کرنا چاہے، تو اس لڑکے کے اندر بھی دیند اری، خوش اخلاقی اور فیاضی کا لحاظ رکھے۔ اس لیے کہ نیک مرد ہی عورتوں کے حقوق کو خوش اسلوبی سے ادا کرسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
حقیقت میں اچھے اخلاق کے وہ لوگ ہیں، جن کے تعلقات اپنی بیویوں سے اچھے ہیں۔ (ترمذی)
اس زمانہ میں اکثر لوگ ایسے لڑکے کو پسند کرتے ہیں جو مالدار کی اولاد ہوتی ہے۔ زمین جائداد کا مالک ہوتا ہے ۔ اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کے اندر دین داری ہے یا بد دینی کا پتلا ہے ۔ اخلاق اچھے ہیں، یا بد خلقی کا مجسمہ ہے ۔ اسی لیے اس بے اعتدالی کا نتیجہ فوراً سامنے آتا ہے۔ لڑکا اپنی بد دینی کی وجہ سے غیر عورت سے آشنائی پیدا کرتا ہے اور اپنی منکوحہ کو یا تو چھوڑ دیتا ہے، یا انتہائی اذیت میں رکھتا ہے ۔ اس بے راہ روی کی وجہ سے کچھ دنوں کے بعد مفلس ابن مفلس ہوجاتا ہے ۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے ، جس کا آئے دن تجربہ ہوتا رہتا ہے ۔ اس لیے نکاح کے اندر ہر دو جانب دینداری اور خوش اخلاقی اور خاندانی خوبیوں کا بڑا خیال رکھنا چاہیے۔ ان خوبیوں کے ساتھ اگر دھن دولت کی کثرت ہو، جاہ و مرتبہ ہو، بڑی اچھی بات ہے ۔ اور اگر اصل جوہر نہ ہو، تو دولت کی ٹپ ٹاپ بیکار؛ بلکہ وہ ایک زہریلا ناگ ہے ۔ اس کو لات مارنا چاہیے۔ ؂
برے ہو اچھی صورت پربھی گر اچھے نہیں خو میں
وہی اچھا ہے گل، جو ہو رنگت میں اور بو میں
دن تاریخ
بہر کیف جب جانبین سے نکاح کا پیغام منظور ہوجائے، تو عقد نکاح کے لیے ایک تاریخ مقرر کی جائے ۔ اور اس تاریخ کے اندر اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو مدعو کیا جائے ، تاکہ نکاح کی پوری شہرت ہوجائے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
اعْلَنُوْا النِّکَاحَ ۔ (رواہ احمد و صححہ الحاکم)
نکاح کا اعلان کرو۔
اس اعلان کے لیے جمعہ کا دن اور جامع مسجد اختیار کیا جائے، تو زیادہ بہتر ہے۔ چنانچہ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ
وَاجْعَلُوْہُ فِی الْمَسَاجِدِ۔
مسجدوں میں عقد نکاح باندھو۔
ابن ہمام نے فرمایا کہ نکاح مسجدوں میں کرنا مستحب ہے، اس لیے نکاح عبادت ہے ۔ اگر جمعہ کا دن ہو تو اور بہتر ہے۔ (مرقات شرح مشکوٰۃ)
مہینے کے اعتبار سے ماہ شوال میں نکاح کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ:
مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے ماہ شوال میں نکاح کیا اور رخصتی بھی شوال ہی میں ہوئی اور میں حضور ﷺ کی سب سے زیادہ چہیتی ہوئی۔
(مسلم)
دف کا بجانا
اعلان کے لیے بغیر سُر و تال کے دف کا بجانا جائز ہے ، مسنون نہیں۔ اگر سنت ہوتا تو صحابۂ کرام نہ چھوڑتے اور نہ ہی حضور اکرم ﷺ کے کسی نکاح میں دف کا بجانا ثابت ہے ؛ البتہ حضور ﷺ نے اعلان کے لیے بجانے کی اجازت دی ہے ۔ مگر تال و سر سے بجانا درست نہیں۔ چنانچہ فتاویٰ حمادیہ میں لکھا ہے کہ حضرت معلی نے بیان کیا کہ ابوالمہاجر نے فرمایا کہ ابان ابن ایاس نے حضرت مغیرہ ابن شعبہؓ سے نقل کیا ہے کہ آں حضرت ﷺ نے فرمایا کہ
اللہ تعالیٰ نے تمھارے واسطے شراب اور جوا اور بانسری اور ڈھول اور دف مکروہ اور حرام کیا ۔ حضرت معلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوالمہاجر سے پوچھا کہ ( جب دف بجانا حرام ہے تو ) آں حضرت ﷺ کے عہد شریف میں دف کو کس طرح بجاتے تھے ؟ ابوالمہاجر نے فرمایا کہ ایک عورت تھی ، جس کسی کی شادی ہوتی، تو وہ عورت ایک چھلنی اور چوب لے کر ایک اونچے مکان پر چڑھ کر چوب کو چھلنی پر مارتی، تاکہ لوگ اس کی آواز سن کر جانیں کہ یہ شادی ہے۔
اس طرح دف بجانے کو اب بھی فقہا جائز کہتے ہیں ۔ چنانچہ تنبیہ الانام میں فتاویٰ سراجیہ سے نقل کیا ہے کہ نکاح کی رات کو نکاح کے اعلان کے واسطے صرف دف بجانا مضائقہ نہیں؛ بشرطیکہ دف میں جلاجل یعنی جھانجھ نہ لگے ہوں۔ اور اس کا بجانا کھیل اور خوشی کی نیت سے بھی نہ ہو، اس لیے کہ کھیل اور راگ دونوں ممنوع اور مکروہ ہیں ۔ اور مالابدمنہ میں لکھا ہے کہ ملاہی، مزامیر، طنبور، ڈھول اور نقارہ اور دف وغیرہ سب بالاتفاق حرام ہیں؛ مگر غازیوں کا نقارہ اور اعلان نکاح کے واسطے دف مباح ہے۔
اور ہدایہ میں لکھا ہے کہ جہاد میں نقارہ بجانا اور نکاح کو مشہور کرنے کے لیے دف بجانا؛ یہ دونوں بالاتفاق مباح ہیں۔ اگر کوئی شخص غازی کے نقارہ کو، یا نکاح کے دف کو ضائع کرے، تو اس پر بالاتفاق تاوان ہے۔
اور یہ اسی وقت تک جائز ہے جب کہ اعلان کی ضرورت سے بجایا جائے۔اگر کھیل اور خوشی کی نیت سے، یا تال و سر سے، یا جھانجھ وغیرہ لگا کر بجایا جائے، تو پھر حرام ہوگا۔ اس لیے کہ حضرت علیؓ بیان کرتے ہیں کہ
نَھَیٰ رَسُوْلُ الْلّٰہِ ﷺ عَنْ ضَرْبِ الدُّفِّ و لَعْبِ الصَّنْجِ وَ ضَرْبِ الزَّمَّارِ (رواہ الخطیب)
رسول اللہ ﷺ نے دف بجانے، اور چنگ سے کھیلنے، اور بانسری کے بجانے سے منع فرمایا ہے۔
اسی طرح دوسرے باجوں کے بجانے سے بھی منع فرمایا ہے۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
اَلْجَرْسُ مَزامِیْرُ الشَّیْطَانِ (رواہ مسلم)
گھنٹیال شیطان کا باجا ہے۔
اور آپ ﷺ نے فرمایا:
انَّ الْلّٰہَ تَعَالَیٰ حَرَّمَ الْخَمْرَ وَالْمَیْسِرَ وَالْکُوْبَۃَ وَ قَالَ کُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ ۔ قِیْل:َ اَلْکُوْبَۃُ الطِّبْلُ۔ (رواہ البیھقی)
اللہ تعالیٰ نے شراب، جوا اور نقارہ کو حرام قرار دیا ہے ۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اِسْتِماعُ الْمَلاھِیْ مَعْصِیَۃٌ، وَالْجُلُوْسُ عَلَیْھَا فِسْقٌ وَ التَّلَذُّذُ بِھَا مِنَ الکُفْرِ (قاضی خاں)
باجوں کا سننا گناہ ہے اور اس پر بیٹھنا (یعنی بیٹھ کر باجا سننا) فسق ہے اور اس سے لذت لینا کفر ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ راہ چلتے بھی باجوں کا سننا پسند نہ کرتے تھے ۔ کانوں میں انگلیاں دے لیتے تھے۔ چنانچہ حضرت نافعؓ فرماتے ہیں کہ
میں حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ راستے میں تھا ، تو آپ ﷺ نے باجے کی آواز سنی۔ آپ ﷺ نے فوراً انگلیاں دونوں کانوں میں کرلیں اور اس راستہ سے دوسری طرف ہٹ گئے ۔ پھر جب دور نکل گئے تو مجھ سے فرمایا ائے نافع! کچھ آواز سنائی دیتی ہے؟ میں نے کہا نہیں، تو انھوں نے انگلیاں کانوں سے اٹھائیں اور فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ ﷺ نے بانسری کی آواز سنی، تو حضور ﷺ نے اسی طرح کانوں میں انگلیاں دے لیں، جس طرح میں نے دیں۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں اس وقت چھوٹا تھا۔
(ابو داود)
سماع کا بیان
موسیقی کے اصول و قواعد کے ماتحت، جب کہ اشعار نہ پڑھے جائیں اور اس میں کوئی برا مضمون نہ ہو اور پڑھنے والا نہ مرد ہو نہ عورت، تو ایسے اشعار کا سننا جائز ہے۔ چنانچہ حضرت مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں کہ
رہا حضرت شارع علیہ الصلاۃ والسلام کا فعل ، سو ہر چند کہ مدعیان جواز قصہ عروسی ربیع بنت معوذ اور قصۂ غناء جاریتین فی یوم الفطر و قصۂ نذر وقت رجوع غزوہ کو اثبات مدعا کے لیے پیش کرتے ہیں اور اہل ظاہر سرسری نظر میں اس کو جواز کی دلیل بھی مان لیتے ہیں ؛ مگر انصاف یہ ہے کہ ان روایات میں غناء لغوی مذکور ہے اور اس میں کہ گفتگوہورہی ہے، وہ صرف اس کا نام نہیں کہ کوئی شعر ذرا آواز بناکر پڑھ دیا ؛ بلکہ خاص نغمات و تحریک صوت برعایت قواعد موسیقی کا نام ہے ۔ اور ان روایات میں کہیں اس کا نام و نشاں بھی نہیں۔ (حق السماع، ص؍ ۷)
مطلب یہ ہوا کہ احادیث میں جو حضور ﷺ کے گانا سننے کا ثبوت ہے وہ غناء لغوی ہے ۔ غناء لغوی یہ ہے کہ اشعار موسیقی کے اصول و قواعد کے ماتحت نہ پڑھے جائیں۔ اگرچہ بلند آواز سے قدرے آواز بناکر پڑھا جائے، ایسے غناء کے سننے میں کوئی کلام نہیں، یہ بالاتفاق جائز ہے۔کلام اس غناء میں ہے، جو موسیقی کے اصول و قواعد کے ماتحت ہو ، یہی اصطلاحی غناء ہے ۔ اسی غناء کے بارے میں احادیث میں مذمت آئی ہے۔چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اَلْغِنَاءُ یُنْبِتُ النِّفَاقَ فِی الْقَلْبِ کَمَا یُنْبِتُ الْمَاءُ الزَّرْعَ۔
(رواہ البیھقی)
گانا دل میں نفاق اسی طرح پیدا کرتا ہے، جس طرح پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔
ایک دوسری روایت حضرت انسؓ سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
اَلْغِِنَاءُ وَالْلَّھْوُ یُنْبِتانِ النِّفاقَ کَمَا یُنْبِتُُ الْمَاءُ الْعُشْبَ۔ وَالَّذِیْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ أنَّ الْقُرْآنَ وَالذِّکْرَ یُنْبِتَانِ الا8یْمَانَ فِی الْقَلْبِ کَمَا یُنْبِتُ الْمَاءُ الْعُشْبَ۔ (دیلمی)
گانا اور باجا نفاق پیدا کرتے ہیں ، جیسا کہ پانی گھاس اگاتا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی، جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے، قرآن اور ذکر دل میں ایمان پیدا کرتے ہیں جیسا کہ پانی گھاس اگاتا ہے۔
اور بھی ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:
قسم ہے اس ذات پاک کی، جس نے مجھ کو دین حق دے کر بھیجا، نہیں بلند کیا کسی شخص نے اپنی آواز کو گانے میں ، مگر مسلط فرماتا ہے اس پراللہ تعالیٰ دو شیطانوں کو ، کہ سوار ہوتے ہیں ان کے کندھوں پر اور پھر اس کے سینے پر لاتیں مارتے ہیں ، جب تک وہ خاموش نہ ہوجائے۔
(ابن ابی الدنیا، طبرانی، ابن مردویہ)۔
’’رسالہ نصیحت‘‘ میں مبسوط سے نقل کیا ہے کہ ملاہی کا سننا اور گانا؛ سب حرام ہے۔ اور محیط سے لکھا ہے کہ گانا اور تالیاں بجانا اور ان چیزوں کو سننا سب حرام ہے۔ مضمرات میں ہے کہ جس شخص نے مباح کیا غناء کو ، وہ فاسق ہوگیا۔ معلوم ہوا یہ اصطلاحی غناء امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اور ان کے متبعین کے نزدیک حرام ہے۔
رہا غنا ء ساز کے ساتھ اس کے حرام ہونے میں، تو کسی امام کا اختلاف نہیں ہے ۔ رسالہ ابطال میں حرمت آلات کو جمہور کا مذہب قرار دیا ہے ۔اوربوارق میں مزمار( بانسری) کو حرام لکھا ہے۔ ان دونوں رسالوں کے مصنف حنبلی و شافعی ہیں ۔ امام غزالی جو شافعی مذہب ہیں، احیاء العلوم میں مزامیر اور اوتاد جس میں ستار وغیرہ بھی داخل ہیں، اور طبل کو جو ڈھولک کو بھی شامل ہے ، ان سب کو حرام فرماتے ہیں ۔ احادیث کے اندر بھی اس کی بڑی مذمت آئی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
میری امت میں ایسے لوگ ہوں گے، جو خز (ریشم) اور حریر اور شراب اور معازف (باجے) کو حلال سمجھیں گے۔ (بخاری)
اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ
بعضے لوگ شراب کا نام بدل کر پئیں گے ۔ اور ان کے سروں پر معازف (گانے بجانے کے آلے) اور گانے والیوں سے ، گو ریاءً بجایا جائے گا، اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں دھنسا دے گا اور بندر اور سور بنا دے گا۔
(ابن ماجہ)
اور فرمایا رسول اللہ ﷺ نے:
ایک قوم اس امت کی آخر زمانہ میں بندر اور خنزیر بن جائے گی ۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا وہ لوگ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل نہ ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیوں نہیں، وہ لوگ نماز ، روزہ و حج سب کچھ کریں گے ۔ کسی نے عرض کیا کہ پھر اس سزا کی کیا وجہ ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ انھوں نے باجے اور گانے والیوں کا مشغلہ اختیار کیا ہوگا۔ (مسند ابن ابی الدنیا)
اسی قسم کی بہت سی حدیثیں ہیں ، جن سے گانے بجانے کی حرمت ثابت ہوتی ہے ، لہذا شادی کے موقعوں پر اس کی جرأت نہ کریں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: