مضامین

گاؤں کا وہ چراغ جس نے اک جہاں روشن کیا

مولانا سراج الدین ندوی ایک ذات نہیں ایک انجمن ہیں
محمد ذوالفقار ندویؔ
97582 19175
عام طور پریہ بات کہی جاتی ہے کہ نام کے اثرات ہوتے ہیں۔آپ کا نام جیسا ہوگا ویسے ہی آپ سے اعمال صادر ہوں گے۔یہ بات اگرچے سو فیصد درست نہیں لیکن ستر فیصد ضرور درست ہے۔کم سے کم نام سے یہ اندازہ ضرور ہوجاتا ہے کہ نام رکھنے ولا کس سطح کا آدمی ہے۔نئے زمانے میں تو گھر کے لوگ خود ہی نام رکھ لیتے ہیں۔پرانے زمانے میں محلہ کے بزرگ یا مسجد کے امام صاحب نام رکھتے تھے۔آزادی سے قبل یہ کام زمین دار صاحب اور سید صاحب کرتے تھے۔بعض متعصب زمین داروں نے اپنی رعایا کے ناموں کے ساتھ بڑا ظلم کیا۔خیر یہاں اس کا محل نہیں۔اس وقت ذکر ہے استاذ گرامی مولانا سراج الدین ندوی صاحب کا۔اللہ ان کا سایہ تادیر قائم رکھے۔مولانا کا نام جس نے بھی رکھا ہے بہت اچھا ہے۔ان کے والد کا نام امام الدین تھا۔اپنی بستی کے معزز فرد تھے۔سراج کے معنی چراغ کے ہیں۔سراج الدین یعنی ”دین کا چراغ“۔مولانا اپنے نام کی مکمل تفسیر ہیں۔ہماری ایک روایت یہ بھی ہے کہ ہم بعد از مرگ خوبیاں بیان کرنے کے قائل ہیں۔لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں ایسی شخصیات کا ان کی زندگی میں بھی تذکرہ کرنا چاہئے جنھوں نے نمایاں کام انجام دیے ہوں تاکہ عام لوگ ان سے استفادہ کرسکیں۔اسی مقصد کے تحت آج میں نے مولانا سراج الدین ندوی صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کا مختصر تعارف کرانے کے لیے قلم اٹھایا ہے۔
یہ چراغ 1953میں ضلع بجنور کے گمنام گاؤں سرکڑہ میں روشن ہوا۔ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں اور باقی تعلیم ندوۃ العلماء لکھنو میں حاصل کی اور بعد میں اردو سے ایم اے کی سند لی۔آپ کی تعلیمی اور رفاہی خدمات کو دیکھتے ہوئے کامن ویلتھ یونیورسٹی بینکاک نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کرکے تکمیل تعلیم پر مہر لگادی۔گاؤں کی مٹی سے خالق کائنات کے چاک پرتخلیق کا کیا گیا یہ چراغ 1972میں سند عالمیت کے ساتھ جب ندوہ سے واپس ہوا تو اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے علم سے نہ صرف اپنے گاؤں کو بلکہ دنیا کو روشن کرے گا۔مولانا علی میاں ؒ کی شاگردی نے اس کے اندر دنیا فتح کرلینے کا جذبہ پیدا کیا اور مولانا مودودی ؒ کی تحریروں نے اندھیروں سے لڑنے اور مخالف ہواؤں میں روشن رہنے کی طاقت عطا کی۔حسن اتفاق عملی دنیا میں پہلے قدم پر ہی پہاڑ جیسے عزم و ارادے کے حامل،نیک دل انسان عطاء الرحمان وجدی سہارن پوری سے ملاقات ہوگئی۔سہارن پور میں ایک اسکول قائم کیا،ایک رسالہ پندرہ روزہ تنقیحات جاری کیا۔مگردونوں چیزیں ایمرجنسی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔
گاؤں والوں نے توجہ دلائی کہ مولانا چراغ تلے اندھیرا کیوں ہے؟لوگ کیا کہیں گے کہ سراج الدین مولوی بن کردیار غیر میں تو اجالا کررہا ہے اور اپنے وطن کو اندھیروں کے حوالے کردیا ہے۔اس توجہ نے مادرعلمی مدرسہ احیاء العلوم کی خدمت کا موقع عنایت کیا۔چھ سال کی لگن،خلوص اور محنت نے مدرسہ کو ہندوستان بھر میں مشہور کردیا۔علی گڑھ،مرادآباد،مظفرنگر،باندہ اور دہلی تک سے تشنگان علم چھوٹے سے گاؤں میں آنے لگے اور سیراب ہوکر جانے لگے۔ مولانا کی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں درجنوں طلبہ نے فلاح،اصلاح اور یونیورسٹیز کا رخ کیا۔اسی درمیان جماعت اسلامی سے وابستہ ہوگئے۔ذمہ داران جماعت نے خواہش ظاہر کی کہ مرکزی درسگاہ اسلامی رام پور میں اعلیٰ درجات قائم کیے جائیں اور بہترین اساتذہ کی خدمات حاصل کی جائیں تو مولانا سراج الدین ندوی کے نام کا قرعہ نکل آیا اور 1983میں رام پور پہنچ گئے۔یہاں عربی ادب،فقہ و تفسیر کے استاذ ہوئے۔چھ سال بعد عربی درجات ختم کردیے گئے ۔ مولانا نے ایک بارپھر اپنے وطن کا رخ کیا اور اپنا میدان عمل ”تاجپور“کو بنایا۔یہ بستی سرکڑہ سے اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔یہاں ”جامعۃ الفیصل“ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔جو آج اپنی آب و تاب کے ساتھ قرب و جوار کو منورکررہا ہے۔اشاعت علم کے جنون نے مولانا سے پے در پے کئی تعلیمی ادارے قائم کروائے۔مدرسہ احیاء العلوم سرکڑہ،جامعۃ الفیصل تاجپور،آدم پبلک اسکول چکراجمل،ملت پبلک اسکول کانٹھ،ہادی انٹرکالج روانہ ضلع مرادآباد،شبلی انٹر کالج تاجپور،اس وقت جملہ چھ تعلمی ادارے مولانا کی زیر نگرانی کام کرررہے ہیں۔
مولانا نے رفاہی اور علمی و تحقیقی کام کے لیے تیس سال قبل ”ملت اکیڈمی“ قائم کی۔جس کے ذریعے غریب طلبہ کو وظائف،سلائی سینٹر،بنائی سینٹر قائم ہوئے،علمی اور تحقیقی موضوعات پرسمپوزیم اور سیمنار منعقد ہوئے۔تجوید و قرأت،تقریر و خطابت کے مقابلے ہوئے،ادبی موضوعات پر کانفرنسیں ہوئیں،قومی اور بین الاقوامی مشاعرے منعقد ہوئے۔مولانا نے اپنا پہلا مضمون 14سال کی عمر میں ندوہ میں لکھا تھا اور پہلی تقریر بھی وہیں کی تھی۔اس کے بعد آپ نے اپنی دونوں صلاحیتوں کو خوب صیقل کیا۔آج الحمد للہ تقریر و تحریر دونوں میدانوں میں آپ عالمی سطح پر مقبول ہیں۔آپ نے قلم کے ذریعے لال ٹین کی روشنی سے لے کر تیز ترین بلب اور سی ایف ایل کی روشنی تک میں ہزاروں مضامین لکھ ڈالے۔چاردرجن سے زائد غیردرسی کتابیں اور ایک سو دس درسی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔آپ نے جہاں بڑوں کے لیے رسول خدا کا طریقہئ تربیت،خلفائے رسول،نقوش ہدایت،آسان فقہ تصنیف کیں وہیں بچوں کے لئے ڈرامے اور کہانیوں پر مشتمل کئی درجن کتابیں تحریر کیں۔بچوں کی اخلاقی تربیت اور اردو زبان کے فروغ کے لیے ”ماہنامہ اچھا ساتھی“ جاری کیا،جسے آج تیس برس ہوگئے ہیں۔کسی گاؤں سے نکلنے والا یہ اردو کاپہلا رسالہ ہے۔اچھا ساتھی کے کئی خصوصی نمبر بہت مقبول ہوئے جس میں سب سے زیادہ قبول عام”مسلمان اور سائنس“کو حاصل ہوئی۔
مولانا سراج الدین ندوی نے دنیا کو روشن کرنے کا جو عزم کیا تھا اسے پورا کرنے میں وہ آج بھی اسی طرح لگے ہوئے ہیں جس طرح اول روز تھے۔ مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کئی بیماریوں سے لڑنے والا یہ شخص جوانوں سے زیادہ متحرک ہے۔چالیس سال سے شگر ہے،انسولین غذاکا حصہ ہے،مگر کسی طرح کی تھکن نہیں۔جب ملئے ہشاش بشاش،رات کے آخری حصے میں اٹھ کر دن بھر کام کرنے کے بعد بھی یہی شکوہ:
وقت فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نور توحید کا اتمام ابھی باقی ہے
مولانا یوں تو جامع الصفات ہیں۔لیکن سادگی،وسعت قلبی،صبراور مہمان نوازی آپ کی نمایاں خوبیاں ہیں۔کشادہ دلی کا یہ عالم کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔مخالفوں کے راز بھی اپنے سینے میں دفن کرلیے۔صبر ایسا کہ قرون اولیٰ کی یاد دلائے،تین سال قبل ایک کار ایکسیڈنٹ میں دو جوان بیٹوں کی موت کو جس طرح انھوں نے برداشت کیا وہ ہر کسی کے لیے حیرت ناک ہے۔ان میں ایک بیٹا ایم بی بی ایس تھا اورصفدر جنگ دہلی میں سروس کرتا تھا،شادی شدہ تھا۔دوسرا بیٹا انٹر میڈیٹ کاطالب علم تھا۔کوئی اور ہوتا تو اپنے حواس کھودیتا،جاری کام بھی رک جاتے۔ لیکن مولانا نے ان کی شہادت سے اپنی باقی زندگی کو غنیمت جانتے ہوئے کاموں کی رفتار تیز کردی۔مہان نواز اتنے کہ جب کئی روز تک کوئی باہرسے مہمان نہیں آتا تو گاؤں میں سے ہی کچھ لوگوں کی دعوت کردیتے ہیں۔کبھی کبھی کھانا بھی اپنے ہاتھ بناتے ہیں۔اصرار کے ساتھ کھلاتے ہیں۔اپنے شاگردوں کی دعوت کرتے ہیں۔ہمیشہ مثبت سوچتے ہیں اور مثبت عمل کرتے ہیں۔مولانا نے اپنے گاؤں کی اس قدر خدمت کی کہ آج ان کا بیٹا گاؤں کا پردھان ہے،جب کہ گاؤں میں مسلم ووٹرس صرف پندرہ فیصد ہیں۔آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ آج کے یوگی راج میں ایسا ہونا کسی عجوبہ سے کم نہیں۔لیکن مولانا کے اخلاق،ان کی بلا تفریق خدمت خلق اوران کے منصفانہ رویے نے ہر خاص و عام کا دل جیت رکھا ہے۔عام طور پر لوگ پڑھ لکھ کر بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں، مولانا کو شارجہ میں عین جوانی کے عالم میں جاب کا آفر ملا مگر مولانا نے یہ کہہ کر ٹھکرادیا کہ میں اپنے گاؤں کو ہی شارجہ بناؤں گا،اور انھوں نے ایسا کردکھایا،دوہزار ووٹرس سے بھی کم کا چھوٹا سا گاؤں ”سرکڑہ“ جسے ضلع کے لوگ بھی نہیں جانتے تھے آج بین الاقوامی شہرت کا حامل ہے اور یہاں علمی دنیا کی عظیم شخصیات تشریف لاچکی ہیں۔اللہ مولانا کو سلامت رکھے اورگاؤں کا یہ چراغ اسی طرح جہان کو روشن کرتا رہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button
Close
%d bloggers like this: