اہم خبریں

گروگرام میں غربیوں کے مسیحا بنے مفتی سلیم بنارسی

جمعیۃ علما کے بینر تلے سولہ ہزار پانچ سو لوگوں کو پہنچا چکے ہیں راشن

نئی دہلی ۲۶ اپریل
گوڑ گاؤں یعنی اب کا گروگرام پچھلے پانچ سالوں سے فرقہ وارانہ منافرت کے لیے جاناجاتا ہے، جہاں مسلمانوں کے ساتھ نصف درجن بار ماب لنچنگ ہوچکی ہے۔ لیکن کرونا وائرس نے اس گوڑگاؤں کو متحد کردیا ہے۔
جمعیۃ علماء گروگرام کے صدر مفتی سلیم بنارسی نے بلا تفریق انسانیت لوگوں کی خدمت جاری رکھی ہے۔جب وہ جے پورہائی وے پر دہلی جانے والے لوگوں کے لیے کھانا لے کر کھڑے تھے، تو اسی وقت دہلی کے ٹی وی چینلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی زہر گھولی جارہی تھی، لیکن دہلی جانے والے پانچ ہزار نفوس جن کو انھوں نے کھانا بانٹا، وہ ہندو بھی تھے، مسلمان بھی، سکھ اوردلت بھی۔یہ حقیقت ہے کہ جانوں کا مذہب نہیں ہوتا اور پیٹ کا کوئی دھرم نہیں، کیوں کہ انسانیت ہی کچھ لوگوں کا سب سے بڑا دھر م ہوتا ہے اور ایسے ہی لوگ ملک کو جوڑتے ہیں مفتی سلیم بنارسی، انہیں لوگوں میں سے ہیں
گوڑگاؤں میٹروسٹی ہے، پورے ملک کے غریب غرباء، مزدور یہاں رہتے ہیں۔ان کی ضرورتیں ہیں، لاک ڈاؤن میں ان کی ضرورت کون پوری کرے گا۔ ممکن ہے کہ مفتی سلیم بنارسی کی محنت سبھوں کے لیے کافی نہ ہو، لیکن سبھوں کو جوڑنے والا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ پورے شہر میں ضرورت مند لوگوں کو ایک ایک مہینہ کا راشن پہونچانے کا کام جاری ہے، اب تک سولہ ہزار پانچ سو لوگوں کو راشن دیا جا چکا ہے –
اور ۲۲۔ اپریل کو کمشنر آفس سے سات سو جُھگی والوں کی فہرست ملی جسکو ۳۲ – اپریل کو پورا کردیا گیا۔ موقع پر جب جمعیۃ عُلماء گُرو گرام کی ٹیم پہونچی تو وہاں تقریباً: بیس ہزار لوگوں کی آبادی تھی اور سارے ہی ضرورت مندتھے۔فوری طور پر کمشنر آف پولیس“ محمد عقیل“ صاحب سے ملاقات کرکے حقیقت حال سے باخبر کیا گیا۔ اور الحمد للّٰہ جمعیۃ گُرو گرام کی فکر پر: ایم سی جی گُرو گرام کی طرف سے ۳۲۔ اپریل ہی کو بیس ہزار لوگوں کے راشن کا انتظام کرا دیا گیا۔
اور جمعیۃ علماء گُرو گرام اپنے راشن تقسیمی پروگرام میں اکثر کسی قومی ذمہ دار (وِدھایک، پارشد) کو شامل کرتی ہے۔ فی الحال رمضان کِٹس کا سلسلہ جاری ہے اور یہ سلسلہ ان شاء اللہ جب تک ضرورت ہے ایسے ہی چلتا رہے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: