مضامین

گلشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا !

مولانا فیاض احمد صدیقی رحیمی

*{کل نفس ذآئقة الموت}*

ایسا ذی روح کون ہے جسے موت نہیں آئے گی ؟ کون ہے جو موت کا مزہ چکھے بغیر دنیا میں باقی رہے گا ؟ کون ہے جو نوشتہ تقدیر کے علی الرغم اپنی مرضی سے اپنی زندگی کو موت کے سایے سے دور کردے ؟ کسی ہوشمند سے یہ سوالات کئے جائیں تو بالیقیں اس کا جواب یہی ہوگا کہ ایسا کوئی نہیں جو موت سے بھاگ سکے ، انسان لاکھ کوشش اور جدوجہد کرلے پھر بھی موت ایک نہ ایک دن ضرور بالضرور آدبوچے گی ۔ جب موت کا وقت آتاہے تو ایک ساعت نہ پیھپے ہوتا ہے نہ ایک ساعت آگئے ۔خواہ کوئی دولت میں قارون ۔ ظلم میں ضحاک ، خوبصورتی میں یوسفؑ ، صبر میں ایوب ؒ، لسانیت میں موسیٰ ؑ ، خاموشی میں زکریا ؑ، رضا جوئی میں ابراہیم ؑ ، حکومت میں سلیمان ؑ، صداقت میں ابوبکر صدیق ؓ، حیا داری میں عثمان ؓ، شجاعت میں علی ؓ، فصاحت و بلاغت میں سحبان ، حکمت میں لقمان ، دانش میں ارسطو ، سخاوت میں حاتم ، شاعری میں فردوسی ، فلسفہ میں امام غزالی ؒ، فقہ میں امام ابوحنیفہؒ ، نشانہ بازی میں بہرام گور ، کسب حلال میں سلطان ناصرالدین ؒ، رتبہ شہادت میں امام حسین ؓ، تفسیر میں علامہ جلال الدین سیوطی ، شریعت میں منت اللہ بہاری ؒہی کیوں نہ ہو ہر ایک جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے انہيں مایہ ناز رفیع القدر نمونہ اسلاف فخر المحدثین ، مصنف کتب کثیر استاد الاساتذہ بحر العلوم حضرتِ اقدس مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری رحمۃ اللہ علیہ کی ذات گرامی تھی ، موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ ، کل ہماری باری ہے ، ٢۵/رمضان المبارک۱۴۴۱؁ھ(۱۹/مئی ۲۰۲۰؁ء)کی صبح کیسی سوگوارتھی کہ اس
کےآسمان کاسورج ابھی نکلاہی تھاکہ آسمان علم وفن کاروشن آفتاب غروب
ہوگیا ، ابھی صبح کی کلیوں نےکھلنا اور کوئل نے چہکنا شروع ہی کیا تھا کہ گلشن اسلام کا ایک پھول مرجھا گیا ، اورباغ علوم نبوت کا ایک بلبل خاموش ہو گیا ، یعنی علم وفن کا امام رئیس المحدثین حضرت اقدس مولانا مفتی سعید احمد پالنپوری شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند نے اس دنیائے فانی کو الوداع کہا ، اناللہ واناالیہ راجعون ،
اتی رہے گی تیرے انفاس کی خوشبو
گشن تیری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا
سن کر یقین نہیں ہوا مسلسل اطلاع آتی رہی پھر بھی یقین نہیں ہوا یقین کرنے کیلے احقر نے اپنے قریبی دوست سے معلوم کیا تو انہوں نے تصدیق کی جی محترم انتقال ہوگیا ہے اسکے بعد ذہن یقین کرنے پر مجبور ہوا ، اللہ رب العزت نے حضرتِ والا کو بے پناہ خصوصیات و امتیازات سے نوازا تھا ، خوش اخلاق ، بہترین قلم کار ، و خطیب ، علم مطالعہ ، سادگی ، حسن اخلاق ، حسن کردار ، ملنسار ی ، تواضع ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ، انکساری انکی ذات کا حصہ ، سرشت کا جزء لاینفک تھیں ، یہی حضرت والا کی جامع اور مانع قابل احترام شخصیت تھیں ۔ حق تعالیٰ حضرت مولانا مفتی صاحب مرحوم کو جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے ، ان کی مخلصانہ دینی خدمات کا بہتر سے بہتر بدل عطاء فرمائے خصوصاً دارالعلوم دیوبند کو ان کا نعمل البدل عطاء فرمائے اور ان کی کمی کو غیر معمولی غم والم کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے دعا گو ہیں کہ باری تعالی ان کو اعلیٰ علیین میں مقامِ کریم عطاء فرمائے اور حضرت والا کے اعزہ اقراء اور خاندان کو صبرجمیل عطاء فرمائیں ۔
*{آمین ثم آمین یا رب العالمین}*

زندگی جن کی گزرتی ہے اجالوں کی طرح:
لوگ انہیں یاد رکھتے ہیں مثالوں کی طرح:
علم والوں کو کبھی موت نہیں آتی وہ. :
زندہ رہتے ہیں کتابوں کے حوالوں کی طرح:
______
شکریہ اے قبرتک پنہونچانے والوشکریہ
اب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہم :::::::

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: