اہم خبریں

گلنازکوانصاف ملے،اورمجرمین کو سخت سے سخت سزادی جائے:صدرجمعیۃعلماء بہار

جمعیۃعلماء بہارکی ہدایت پر جمعیۃ علماء ویشالی نے گلناز کے گھر پہونچ کر صورت حال کاجائزہ لیا _جمعیۃ علماء بہار کے جنرل سکریٹری جناب مولانا محمد ناظم صاحب نے سرکار سے مطالبہ کیاکہ گلناز کو جلد سے جلد انصاف ملے!
(پٹنہ)ویشالی ضلع کی رہنے والی گلناز پر جو کچھ بھی ہوا_ وہ ناقابل برادشت ہے_ ظلم کی شکارگلناز پرغم وغصہ اور سخت رد عمل اظہار کرتے ہوئے جمعیۃعلماء بہار کے صدرمحترم جناب مفتی جاوید اقبال قاسمی صاحب نے ان خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا_ انہوں نے اس واقعہ پر اپنے غم و غصہ کو ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف سرکار بیٹی بچاؤ کانعرہ لگاتی ہے اور دوسری طرف اس طرح کے واقعات پر خاموش رہتی ہے_انہوں نے کہا:جب تک ملک کی بیٹیاں ایسے درندوں سے محفوظ نہیں ہوں گی تب تک ’’بیٹی بچاؤ ‘‘کا نعرہ سچا نہیں ہو سکتا ہے۔
#واضح رہے کہ بہار کے ضلع ویشالی میں دیسری کے چاندپورہ تھانہ کے ایک گاؤں رسول پور حبیب کی رہنے والی ایک یتیم لڑکی گل ناز(عمر٢٠ سال )کے والد مختار کا انتقال ہوچکاہے،ماں سمنا خاتون سلائی کا کام کرکے گھر چلاتی تھی، باپ کے سایہ سے محروم گل ناز کے پیچھے گاؤں کا ہی ایک منچلااورعیاش ستیش کمار نے پڑ گیا اوراس کا جینا حرام کردیا، اس کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر کئی بار لڑکی نے لڑکے کے گھر والوں سے فریاد کی لیکن انہوں نے بجائے لڑکے پر کارروائی کرنے کے الٹا لڑکی کو ہی دھمکی دینی شروع کر دی۔اورستیش کمار بھی بے سہارا بچی کو مسلسل ٹارچر کرتا رہا اور دھمکی دیتا رہا کہ اگر تو میرے ہوس کی شکار نہ بنے گی تو جان سے ہاتھ دھونا پڑےگا۔ 30 اکتوبر کی شام5 بجے گل ناز کسی کام سے گھر کے باہر نکلی، بدمعاش غنڈہ ستیش اپنے ساتھی غنڈوں سکل دیو اور چندن کمار کے ساتھ ملکر اسے پریشان کرنے لگا، گل ناز نے مزاحمت کی، ستیش نے غصے میں آکر دونوں غنڈوں کے ساتھ ملکر گل ناز پر کراسن کا تیل چھڑکا اور زندہ جلا دیا، گل ناز 15دنوں تک زندگی اور موت کے درمیان اذیت ناک جنگ لڑتی رہی اور پھر اس کی موت ہوگئی ۔واقعہ کے 15 دنوں تک پولیس نے معاملہ کو دبائے رکھااور درندگی کی شکاروہ معصوم بچی موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہی ، جب وہ مر چکی اور اس کے گھر والوں نے لاش کے ساتھ انصاف کا مطالبہ کرنے کے لیے مظاہرہ کیا اوریہ معاملہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو انتظامیہ کی آنکھ کھلی،لیکن اصل مجرم ابھی بھی باہر ہے، پولیس ابھی بھی ڈھیل دے رہی ہے، مظلوم خاندان کو دھمکی بھی مل رہی ہے اورمجرم آزاد دندناتا پھر رہا ہے،جویقیناافسوس ناک ہے،جمعیۃ علماء بہارکے صدرمحترم جناب مولانامفتی جاویداقبال قاسمی ،اور جنرل سکریٹری جناب مولانامحمدناظم صاحب کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ویشالی کے سکریٹری آصف جمیل قاسمی،اپنی ٹیم کے ساتھ اس سے قبل گلناز کے اہل خانہ سے ملاقات کی ہے اور صبرکی تلقین کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ جمیعۃ علماء آپ کے ساتھ کھڑی ہے،اس ٹیم میں مولانا آصف جمیل قاسمی، حافظ فردوس مدنی، حافظ توصیف مبارک قاسمی، توقیر خان ولی احمد، توقیر خان،ولی احمد،حافظ توصیف،مبارک قاسمی شامل تھے،جمعیۃ علماء بہارکے جنرل سکریٹری جناب مولانامحمد ناظم صاحب نے اپنے پریس اعلانیہ میں واضح اندازمیں کہا: جب تک جرم اور مجرم کو مذہب کی عینک سے دیکھا جا تا رہے گا،بیٹیا ں یوں ہی جلتی رہیں گی اور انصاف کا خون ہوتا رہے گا۔انہوں نے حکومت بہارسے انصاف کامطالبہ کرتے ہوئے کہا: بیٹیوں کی عصمت اور ان کی جان کے دشمن درندوں پر جب تک بروقت اورانصاف کے ساتھ کارروائی نہیں ہو گی اور مذہب و ذات سے بالاتر ہو کر مجرم کو مجرم سمجھ کر سزا نہیں دی جائے گی تب تک ملک کی بیٹییاں اور بہنیں یوں ہی ظلم و ستم کا شکار ہو تی رہیں گی ۔ انہوں نے اس واقعہ کو درندگی ،حیوانیت اور انسانیت کو شرمسار کرنے والاواقعہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بڑے شرم کی بات ہے کہ ایک بیٹی کو اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی پاداش میں زندہ جلا دیا گیا اور پولیس اس واقعہ پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتی رہی ، پولیس کے اس رول کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے اور انہیں جتنی سزا دی جائے کم ہے ۔جمعیۃ علماء بہارکے ناظم تنظیم وترقی خالدانورپورنوی نے بھی غم وغصہ کااظہارکرتے ہوئے مقتولہ کے اہل خانہ کی مالی مدد کرنے او ر ان کو مناسب معاوضہ دینے کا بھی سرکار سے مطالبہ کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close
%d bloggers like this: