مضامین

گودی میڈیا اور سپاڑی میڈیا سے ہوشیار

مفتی فداءالمصطفی قادری مصباحی بانی

سی اےاے کے خلاف ہورہے عالمی احتجاج سے جہاں حکومت بوکھلائی ہوئی ہے وہیں *گودی میڈیا* بھی سکتے میں ہے کیونکہ میڈیا اس وقت حکومت کا ایجنٹ بن کر کام کررہاہے،جو کام حکومت خود نہیں کرسکتی وہ میڈیا سے کروالیا کرتی ہے۔ اس ناکارہ حکومت کو برسر اقتدار لانے میں بھی میڈیا کا بہت بڑا ہاتھ رہاہے اور آج ملک کو ہلاکت کے دہانے پر کھڑا کرنے میں بھی درپردہ میڈیائی قوتیں ہی کارفرماہیں۔ *مگر وہ میڈیا جس کی مارکٹنگ کی بدولت کھیتوں میں چوہے مارنے والے لوگ آج مسلمانوں گولی کو مارنے کی بات کررہے ہیں،* وہی ہندوستانی عوام کے احتجاج کے سامنے بےبس ومجبور نظر آرہاہے، اسے روکنےکے اس کے سارے حربے ناکارہ ثابت ہورہے ہیں، ساری کوششیں بےکار وبے اثر ہوتی ہوئی نظر آرہی ہیں اور اس ناکامی نے میڈیا کو زخمی شیر کی طرح خطرناک بنادیا ہے جو کبھی بھی اور کسی وقت بھی حملہ آور ہوسکتاہے، جس احتجاج نے گودی میڈیا کا ناطقہ بند کردیاہے اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے، میڈیا ہمارے احتجاج کو روکنے کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتا اور اسی وجہ سے *سی اےاے یا حکومت کے خلاف بولی جانے والی چھوٹی سے چھوٹی بات کو اچھال کر بریکنگ نیوز بنادیتا ہے* ، اگر کوئی بند کمرے میں *سی اےاے یا این آر سی* کے خلاف کچھ بول دے تو اسے اچھال کر اس سے غیرقانونی پہلو نکالنے کی ہرممکن کوشش کی جاتی ہے مگر وہیں *حکومت کے کارندے اور وزراء برسر اسٹیج مسلمانوں کو گولی مارنے کی بات کریں تو اس پر کوئی بحث نہیں ہوتی۔* احتجاج کرنے والوں میں 25 سے زیادہ بےگناہ لوگوں کو پولیس گولی مار کر شہید کردیتی ہے تو اس پر میڈیا میں 5 منٹ بھی گفتگو نہیں کی جاتی لیکن وہیں اگر کوئی سرکاری افسر بی جے پی کے کسی کارندے کو غنڈہ گردی کرنے کی وجہ سے ایک طمانچہ ماردے تو سارے نیشنل چینلس اس پر بکھیڑا کھڑا کردیتے ہیں ایک ہفتے تک اس پر گفتگو کی جاتی ہے، باضابطہ فون کرکے اس کے خلاف رائے عامہ طلب کی جاتی ہے۔

 میڈیا کی جانب سے اس سے زیادہ غلامی اور کیا ہوسکتی ہے؟

 *حزم واحتیاط کا دامن نہ چھوٹے*

 ان مشکل حالات میں ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، ہربات سوچ سمجھ کر بولنا ضروری ہے، میڈیا سے جتنا ہوسکے دور رہنا چاہیے، اسٹیج پر گفتگو کرتے وقت خود پر پورا کنٹرول رکھنا لازم ہے، جذبات میں آکر ایسی کوئی بات نہ کہی جائے جو آگے چل کر مصیبت بن سکتی ہو، ضرورت پڑنے پرصرف پڑھے لکھے مرد یا خواتین ہی میڈیاسے بات کریں اور صرف اپنے مطلب کی بات کریں، میڈیا کے کسی سیاسی سوال کا جواب نہ دیں اور نہ دہلی کے حالیہ الیکشن پر کوئی تبصرہ کریں، حکومت کے خلاف کیے گیے سوالات کا جواب دینے سے بھی بچیں، بس اپنی بات کہیں اور ہٹ جائیں۔ سب سے بہتر یہ ہوگا کہ جتنی بھی احتجاج گاہیں ہیں وہاں دوچار زبان وبیان پر قابو رکھنے والے لوگ میڈیا سے بات کرنے کے لیے متعین کردیے جائیں کہ بوقت ضرورت صرف وہی مخصوص افراد میڈیا سے ہمکلام ہوں تاکہ ہمارا احتجاج میڈیا یا سیاست کے ہتَّھے چڑھنے سے محفوظ رہ سکے۔

 *کم عمر لڑکے لڑکیوں یا چھوٹے بچوں کو تو ہرحال میں میڈیا کی نظر بد سے دور رکھیں۔*

 *روزنامہ راشٹریہ سہارا کی مسلم دشمنی*

کئی دنوں سے مسلسل روزنامہ راشٹریہ سہارا کا

 *CEO,editor In chief Opender Rae*

اپنے ادارتی مضمون میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف خوب زہر اگل رہاہے، کبھی کہتاہے کہ یہ احتجاج نہیں بلکہ بغاوت ہے، تو کبھی کہتاہے کہ یہ سب اوپوزیشن کے اشارے پر ہورہاہے اور کبھی اسے مودی دشمنی کا نام دےکر ایک نئی جہت دینے کی کوشش کررہاہے۔

  ہمیں اس طرح کے اخبارات کا بالکلیہ بائیکاٹ کردینا چاہیے اور وہ بھی اعلانیہ بائیکاٹ، تاکہ یہ بات اخبار کے اعلی عہدیداران تک پہنچ جائے اور انہیں مسلم دشمنی کا انجام پتہ ہوسکے۔

 *شاہین باغ میں سپاڑی میڈیا کی ہرزہ سرائی*

موجودہ حکومت کے عیبوں پر پردہ ڈالنے اور دن رات واہ واہی کرنے کی سپاڑی لینے والے Znews کا *سدھیر چودھری* دودن قبل شاہین باغ پہنچا تھا مگر وہاں کے مظاہرین نے اسے ذلیل وخوار کرکے واپس لوٹا دیا۔ ان کے اس لوٹائے جائے سے *سدھیر* کو کس قدر دلی تکلیف پہنچی ہے اس کا اندازہ اس کے بعد کی رپورنگ سے بخوبی ہوتاہے۔

اس کی بعد کی رپورٹنگ سننے کے بعد بےساختہ زبان پہ شعر آجاتاہے:

 *نکلنا خلد سے ابلیس کا سنتے آئے ہیں لیکن*

 *بڑے بے آبرو ہوکر ترے کوچے سے ہم نکلے*

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close