مضامین

گھریلوکشیدگی اوربچوں کی نشوونما

انس مسرورانصاری

میاں بیوی میں کتنی ہی محبت اورخلوص واپنائیت کیوں نہ ہولیکن کبھی کبھی ،کسی نہ کسی وجہ سے اختلافِ رائے کے سبب توتو،میں میں ،ہوہی جاتی ہے۔کہتے ہیں کہ روٹھنے اورمنانے کے بغیرازدواجی زندگی میں حقیقی لطف ومسرت بھی تونہیں۔
میاں بیوی کے درمیان اَن بن کی صورت میں گھریلوکام کاج کے لیے سب سے اہم رول اداکرتے ہیں ننھے بچے۔یہ معصوم بچے فریقین کے درمیان ترجمانی کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ممی کوپاپاسے کوئی ضرورت آن پڑے یاپاپاکو ممی سے کوئی کام ہو توننھے میاں پکڑے جاتے ہیں۔
‘‘ببلو!ذرااپنے پاپاسے کہوکہ فلاں چیز لانی ہے۔آفس سے ذراجلدی آجائیں گے۔ہمیں کہیں جاناہے۔ببلو!اپنے پاپاسے کہوناشتہ تیارہے۔پاپاسے پوچھوکہ رات کے کھانے میں کیارہے گا۔؟میں ذراپڑوس میں بڑی آپاکے گھرجارہی ہوں۔اپنے پاپاسے کہومیزپرکھانالگادیاہے،کھالیں گے۔’’وغیرہ وغیرہ۔پاپاکوممی سے کچھ کہناہے توببلوسے کہاجائے گا۔‘‘بیٹا!ہمارے شرٹ کی بٹن ٹوٹ گئی ہے،ممی سے کہوبٹن لگادیں۔شام کوذرادیرسے واپس آؤں گا،ممی کوبتادو۔ممی سے کہوکل صبح مجھے کہیں جاناہے،ناشتہ کرکے جاؤں گا۔’’وغیرہ وغیرہ۔ایسے ہرموقع پرببلومیاں کی حیثیت بہت بڑھ جاتی ہے۔والدین کے لیے وہ بہت زیادہ اہم ہوجاتے ہیں۔انھیں ضرورت سے زیادہ پیارکیاجانے لگتاہے۔اُن کی ہرفرمائش کوفوراََپوراکیاجاتاہے۔میاں،بیوی کے درمیان وہ رابطے کاواحدذریعہ ہوتے ہیں۔ببلومیاں کوبھی حیرت ہوتی ہے کہ آخرمعاملہ کیاہے کہ انھیں کبھی اُدھربھیجاجاتاہے اورکبھی اِدھر!وہ پیغام رسانی کاکام حسن وخوبی سے انجام دیتے رہتے ہیں۔اس درمیان ببلومیاں کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے یاگھرمیں کوئی مہمان آجاتاہے یاکوئی غیرمعمولی واقعہ ہوجاتاہے تومیاں،بیوی کے درمیان کشیدگی خودبخودختم ہوجاتی ہے اورلگتاہی نہیں کہ ان میں اَن بن تھی۔
یہ گھریلوکشیدگی مہذّب اورتعلیم یافتہ گھرانوں کی ہے۔لیکن جب یہی کشیدگی ناخواندہ یانیم خواندہ گھرانوں میں پیداہوتی ہے توآخری تان گالی گلوج اورمارپیٹ پرٹوٹتی ہے۔کشیدگی اورتناؤکے درمیان اگرفریقین میں کوئی بیمارپڑجاتاہے یاکوئی بچہ علیل ہوجاتاہے یاگھرمیں کوئی غیرمعمولی واقعہ پیش آجاتاہے توگھرکی فضارفتہ رفتہ معمول پرآجاتی ہے۔پھروہی روزوشب پھروہی زندگی۔کبھی کبھی تھوڑی سی گھریلوکشیدگی کھٹّے میٹھے لمحوں کااحساس دلاتی ہے۔میاں بیوی کے تعلق کومستحکم بھی کرتی ہے اورپیارومحبت میں اضافے کاسبب بھی ہوتی ہے۔ازدواجی زندگی میں مزید خوش گواریت پیداہوتی ہے۔لیکن جب یہی کشیدگی تسلسل اورتواتراختیارکرلیتی ہے توفریقین کے آپسی اختلافات اورکشیدگی کے مضراورمنفی اثرات سب سے زیادہ بچوں پر پڑتے ہیں۔گھریلوکشیدگی سے گھرکی فضامیں ہروقت جو ایک تناؤ،سنسنی خیزخاموشی،اُداسی اورمتوقع مہابھارت کی سی کیفیت ہوتی ہے،وہ بچوں کی ذہنی وجسمانی نشوونماکے لیے زہرِقاتل ہوتی ہے۔
گھریلوکشیدگی کے اس ماحول میں بچے ہراساں،خاموش،اداس،غم زدہ اورمتفکررہتے ہیں۔ہمہ وقت اُن پرخوف ودہشت اورایک طرح کی بے چارگی و محرومی اورمایوسی طاری رہتی ہے۔والدین کے درمیان متوقع مہابھارت کی وجہ سے معصوم بچے ہروقت خائف ،گم سم اورخاموش رہتے ہیں۔چونکہ بچوں کواپنے والدین سے وہ پیار،وہ محبتیں اورشفقتیں نہیں مل پاتیں جن کے وہ مطلوب،متلاشی اورتمنّائی ہوتے ہیں اورجو ان کی ضرورت اوران کا حق ہیں۔والدین کی بے توجہی کے سبب اُن میں متعددنفسیاتی امراض پیداہوجاتے ہیں۔ہروقت چہلیں کرنا،کھیناکودنا،ہنسناہنسانابچوں کی فطرت ہوتی ہے لیکن جب فضااورماحول ناخوش گوارہوتے ہیں توبچوں کی ذہنی و فطری قوت اچھی طرح بیدارنہیں ہوپاتی۔ان میں اضافہ نہیں ہوپاتا۔صلاحیتوں کے سوتے خشک ہونے لگتے ہیں۔گھریلوکشیدگی کے درمیان خوف ودہشت،اُداسی اورخاموشی کی حالت میں پرورش پانے والے بچے ذہنی ونفسیاتی اورجسمانی امراض کی وجہ سے کبھی کوئی بڑاکارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔وہ بزدل اورڈرپوک ہوجاتے ہیں ۔مایوسی انہیں اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔اُن میں احساسِ کمتری کے جذبات شدّت کے ساتھ عودکرآتے ہیں۔اُن کے افعال اورفیصلے جذباتی ہوتے ہیں۔والدین کی توجہ سے محروم بچے ایک طرح سے ذہنی طورپرناکارہ ہوتے ہیں اوراحساسِ محرومی اُ ن کی پوری زندگی کو سانحاتی بنادیتاہے۔وہ بڑے ہوکر ایک ناکام زندگی جیتے ہیں۔
نفسیات کے ماہرین کامتفقہ فیصلہ ہے کہ ایسے کشیدہ اورناخوش گوارماحول میں پرورش پانے والے بچے زندگی میں کبھی کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکتے۔
بچوں کی جسمانی وذہنی نشوونمامیں خوش گوارگھریلوفضابہت زیادہ معاون ومددگارہوتی ہے۔اس لیے جن گھروں میں فضاکسی بھی وجہ سے کشیدہ اورمکدّرہوان گھروں کے افرادکی بڑی ذمّہ داری ہے کہ وہ نئی نسل پررحم کریں۔خاندان کی فلاح وبہبوداوربہتری کے لیے مصالحت اوردرگزرکاراستہ اختیارکریں۔بچو ں کے ساتھ شفقت اورمحبت سے پیش آئیں۔نئی نسل کوتباہ وبرباد ہونے سے بچائیں
۔ موڈکتنابھی خراب کیوں نہ ہومگرجب گھرمیں داخل ہوں تومسکراتے ہوئے چہرے کے ساتھ داخل ہوں۔اپنے بچوں کے ساتھ کچھ وقت ضرورگزاریں۔اسکول کاہوم ورک دیکھیں۔تعلیم کے معاملے میں اُن کاحوصلہ بڑھائیں۔بچوں کی ضرورتوں کاپوراخیال رکھیں۔انھیں محسوس نہ ہونے دیں کہ اُن سے غفلت برتی جارہی ہے یااُنھیں نظراندازکیاجارہاہے۔اس حقیقت کوکبھی فراموش نہ کریں کہ گھریلوماحول ہی انسان کی کردارسازی کرتاہے۔اچھایابُرابناتاہے۔اپنے بچوں کوکامیاب دیکھناچاہتے ہیں تواُن کی رہنمائی کریں اور اُن کے ساتھ پوراپوراتعاون کریں۔
٭٭

* انس مسرؔورانصاری
قومی اردوتحریک فاؤنڈیشن
سکراول،اردوبازار،ٹانڈہ۔امبیڈکرنگر224190(یو،پی)
رابطہ/9453347784/َ

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close